روس نے پاکستانی زرعی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگا دی

Agriروس نے پاکستان سے تمام زرعی مصنوعات کی درآمد پر غیرمعینہ مدت کے لئے پابندی عائد کردی ہے ۔ روس کی فیڈرل سروس فار ویٹرنری اینڈ فائیٹوسینٹری سرویلینس کے مطابق پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی اور روسی قرنطینہ اصولوں کی خلاف ورزی سے روس میں زرعی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے جس کی روک تھام کے لئے پاکستان سے ہر قسم کی پلانٹ پراڈکٹس کی درآمد پر عارضی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق روس پاکستانی آلو اور کینو کی بڑی منڈی ہے ، روس کو سالانہ 150سے 170ملین ڈالر کا کینو اورآلو برآمد کیا جاتا ہے اور مذکورہ پابندی لگنے سے پاکستانی پھل اور سبزیوں کی 625ملین ڈالر کی برآمدات میں 150سے 170ملین ڈالر کمی کا سامنا ہوگا ۔ انہوں نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ اور وزارت تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر روسی حکام کی جانب سے لگائی گئی پابندی کا نوٹس لیا جائے اور اس مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھاکر پابندی فی الفور ختم کرائی جائے ۔ پاکستان سے کینو کی برآمد کا آغاز یکم دسمبر سے کیا جائے گا جبکہ روس کو آلو کی برآمد جنوری سے شروع ہوگی، پابندی کی اطلاعات کے بعد ایکسپورٹرز میں بے چینی پھیل گئی ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی قرنطینہ ڈ یپارٹمنٹ کی جانب سے ایکسپورٹرز کو اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *