طوفانی بارشوں سے دریا بپھر گئے: متعدد علاقے زیر آب

floodطوفانی بارشوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث چترال میں بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد بحالی کے کاموں کے لیے آرمی کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پراونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے چترال کی انتظامیہ کو خوراک اور ادویات فوری پہنچانے کی ہدایات بھی دی گئیں ہیں۔ مختلف علاقوں میں سڑکوں کو بھی عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ خیا رہے کہ کئی روز سے مسلسل بارش نے چترال میں تباہی مچا دی تھی۔ سیلابی ریلے سے درجنوں دیہات اور سینکڑوں گھر بہہ گئے۔ مقامی افراد کے مطابق 150 سے زائد مکان، 33 رابطہ پل، 2 ہائیڈل پاور اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ مواصلاتی نظام سمیت پینے کے پانی اور آبپاشی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ زمینی رابطہ نہ ہونے کے باعث چترال میں غذا اور ادویات کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں سیلاب سے وادی ہوشے کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جس سے غیر ملکی سیاح چھ روز سے پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ان کا پاکستانی مزدور لاپتہ ہوچکا ہے۔ ڈپٹی کمشنرگانچھے کے مطابق سیاحوں کا تعلق امریکا، برطانیہ ، جاپان اور ہندوستان سے ہے جنہیں نکالنے کی ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ عید الفطر سے تین دن پہلے شروع ہونے والی بارش کے باعث چترال کے علاقے کوراغ، گرم چشمہ ، بروز، اورغوچ، بمبوریت، رمبور، پھستی ، پرئیت اور ریشن میں زیادہ تباہی ہوئی۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں اور سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ وارننگ کے مطابق صوبے کے بالائی علاقوں میں اگلے 3 دن انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں جس میں بارشوں سے برساتی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی ا?نے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دریاؤں اور برساتی نالوں کے کنارے آبادی کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ پنجاب کے علاقے لیہ میں 100 سے زائد گاؤں پانی میں ڈوب گئے۔ مقامی افراد بچے کھچے سامان اور مویشیوں کے ساتھ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے متاثرین کے لئے ریلیف کیمپ قائم کردیئے ہیں۔ سیلابی ریلوں سے میانوالی، کالا باغ، کمر مشانی، چھینہ پوڑہ اور کچے کے علاقے بھی زیر آب آگئے ہیں۔ راجن پور کے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے اور لوگ نقل مکانی شروع کر چکے ہیں۔ مظفر گڑھ میں جتوئی کے مقام پر بھی درجنوں دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب میں بھی طغیانی ہے۔ شدید بارشوں کے بعد پانی ناروال کے بھی کئی دیہاتوں میں داخل ہوگیا۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ڈائریکٹر علی عنان قمر نے کہا ہے کہ صوبے میں دریاؤں کی صورتحال زیادہ خطرناک نہیں لیکن دریائے سندھ کے سیلاب نے لیہ، راجن پور، مظفر گڑھ، میانوالی اور بھکر کی آبادیوں کو متاثر کیا ہے۔ سندھ میں گھوٹکی کے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا۔ مکینوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔ دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث گھوٹکی کے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور دیہاتی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی سطح مزید بلند ہوگی۔ سیلاب کی اطلاع دینے والے مرکز کے مطابق دریائے کابل میں ورسک اور نوشہرہ، دریائے سندھ میں کالا باغ چشمہ، تونسہ اور گڈو پر درمیانے جبکہ سکھر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا پر درمیانے اور رسول کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں قادر آباد اور دریائے راوی میں بلوکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دیگر مقامات پر دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ملک کے بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد 3 لاکھ 49 ہزار 200 اور اخراج 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 15 سو 25 کیوسک تک پہنچ گئی ہے جو بلندترین سطح سے 25 فٹ کم ہے۔ حکام نے تربیلا سے اضافی پانی کے اخراج کے لیے اسپل ویز بھی کھول دیئے ہیں۔ منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد 69 ہزار اور اخراج 64 ہزار 3 سو 51 کیوسک ہے۔ منگلا میں پانی کی سطح 12 سو 34 فٹ کیوسک ہو چکی ہے جو بلند ترین سطح سے صرف آٹھ فٹ کم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *