اجوکا تھیٹر کے تیس سال

asgharدنیا میں تھیٹر مقبول اور مشکل آرٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے فن کار فلم کو ایک معمولی میڈیم اور تھیٹر کو اپنے اظہار کا اعلیٰ ترین میڈیم سمجھتے ہوئے پوری زندگی تھیٹر کے نام کر دیتے ہیں۔ اسی طرح تھیٹر دیکھنے والے بھی اسے سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں۔ تھیٹر نے دنیا میں تبدیلی کے لیے اور انقلاب کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا۔ تھیٹر کا رشتہ ادب، شاعری، موسیقی، رقص اور اداکاری سے جڑا ہوتا ہے۔ سیاسی اور سماجی شعور کے ساتھ نظریاتی لڑائی میں تھیٹر نے براہِ راست حصہ لیا اور دنیا میں تھیٹر کے لکھنے والوں اور ڈائریکٹ کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انڈیا میں تھیٹر کی ایک پرفارمنس ’ہلہ بول‘ کے دوران بہت ہی ذہین اور مقبول رائٹر صفدر ہاشمی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ نئی دلّی میں ایک انتہائی اہم مرکزی شاہراہ کو صفدر ہاشمی کے نام پر صفدر ہاشمی مارگ کا نام دیا گیا۔
ہمارے ہاں ایسا بامعنی اور سماجی تبدیلی کے لیے بڑا تخلیقی تھیٹر بہت معمولی عرصے کے لیے دکھائی دیا۔ جس کی ترویج میں کمال احمد رضوی، سرمد صہبائی، انور سجاد، راحت کاظمی، انتظار حسین، اطہر شاہ خان اور انور مقصود شامل تھے۔ کچھ عرصے سے ’’ناپا‘‘ نے ضیاء محی الدین کی سربراہی میں تخلیقی روایت کو زندہ کر دیا ہے۔ لیکن میں آج اُس تحریک کی بات کرنا چاہتا ہوں جو پہلے صرف ایک لڑکی نے تن تنہا شروع کی۔ وہ لڑکی خاتون بنی اور ساتھ میں اپنے شریک حیات کو اس سفر میں شامل کر لیا۔
ضیاالحق کے مارشل لاء نے بہت سے تخلیق کاروں کو بیدار کر دیا۔ افسانہ نگاروں، شاعروں ، ڈرامہ نگاروں اور تھیٹر کی دنیا میں بھی مزاحمت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اسی زمانے میں مدیحہ گوہر نام کی خاتون لیکچرر انگریزی ادب پڑھانے کے لیے روزانہ راوی پُل سے گوجرانوالہ کے لیے بس پکڑتی تھی۔ اُس کی خوش لباسی اور دلکش شخصیت کی وجہ سے بس کا انتظار کرنے والوں کا وقت اچھا گزر جاتا تھا۔ اُن میں میں بھی شامل تھا جسے ملتان سے پہلے شکر گڑھ تبدیل کیا گیا اور بعد میں شیخوپورہ لایا گیا۔ مدیحہ گوہر نے تھیٹر کے میڈیم کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری ملازمت کو خیر باد کہہ کر ’’اجوکا تھیٹر‘‘ کی بنیاد رکھی۔ بعد میں شادی کے بعد شاہد ندیم اُن کے ساتھ شامل ہوئے۔ ’’اجوکا تھیٹر‘‘ نے اس برس اپنے قیام کے تیس سال مکمل کر لیے ہیں۔ یہ تیس برس پاکستان کی تاریخ کے انتہائی اہم سیاسی، سماجی اور تہذیبی سطح پر تشکیلی نوعیت کے سال ہیں۔ ان تیس برسوں میں ایک خوفناک مارشل لأ نافذ رہا جس نے علم و ادب، انسانی آزادی، فکری آزادی، سیاسی و سماجی اداروں اور پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کو تقریباً نیست و نابود کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
ان تیس برسوں میں کیسی کیسی جمہوریت لائی گئی۔ کیسے کیسے جہادی فلسفے تراشے گئے۔ خارجہ معاملات میں کس طرح پاکستان کے مفادات کو کچلا گیا۔ پاکستان اور اُس کے شہریوں کو کس طرح عالمی تنہائی کا شکار کیا گیا اور کیسے کیسے مافیا اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئے۔ ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا، ٹمبر مافیا، نظریہ پاکستان مافیا، اسلحہ مافیا اور مذہبی اور لسانی بنیادوں پر کاروبار کرنے والوں کا مافیا ایسے میں قابل ذکر ہیں۔
مدیحہ گوہر اور شاہد ندیم نے تھیٹر کے ذریعے مارشل لاء کے حبس، گھٹن اور سخت قسم کے جبر میں جکڑی ہوئی سنسان شاموں کو عام شہریوں کے لیے آزاد کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے تھیٹر کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ تھیٹر خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔ پوری ایک ٹیم اپنی فنی صلاحیتوں کے ساتھ مل کے کسی ڈرامے کو سٹیج تک لاتی ہے۔ جس میں موسیقی، لباس، سیٹ ڈیزائن، لائٹ، ساؤنڈ اور کوریو گرافی شامل ہوتے ہیں۔ مدیحہ گوہر نے تھیٹر کی ان ضرورتوں کو نئے ٹیلنٹ کے تربیت سے پورا کیا۔ اور آج سے تیس سال پہلے ایک کھیل ’’جلوس‘‘ تیار کیا۔ مارشل لأکی وجہ سے کسی پبلک تھیٹر یا ہال میں اسے پیش نہیں کی جا سکتا تھا۔ مدیحہ گوہر نے اپنی والدہ کے گھر کے لان میں ا سے سٹیج کیا۔ خدیجہ گوہر انسانی حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف رہیں۔ اس کے بعد مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک دوست اختر قزلباش کی کوٹھی کے لان میں لاہور کے باذوق علم اورانسان دوست احباب جمع ہوئے جہاں اجوکا تھیٹر کا دوسرا کھیل پیش کیا گیا۔ ظاہر ہے تھیٹر کو عوامی جذبات کی ترجمانی کے لیے فنی تقاضوں کے ساتھ استعمال کیا گیا جس میں ہلکی پھلکی تفریح کا عنصر غالب رہا۔
شاہد ندیم پی ٹی وی سے اُسی زمانے میں اپنے خیالات کی وجہ سے نکالے گئے اور لندن پہنچے۔ چند سالوں بعد مدیحہ گوہر سے ان کی ملاقات وہاں ہوئی اور دونوں کی شادی نے ’’اجوکا تھیٹر‘‘ کو مستقل بنیاد فراہم کر دی۔ لکھنے کا شعبہ شاہد ندیم نے سینما اور پروڈکشن مدیحہ کی ذمہ داری ٹھہری۔ برصغیر میں تھیٹر ابتدأ ہی سے فیملی بزنس چلا آ رہا ہے۔ خیر ’’اجوکا‘‘ نے اب تک بے شمار متنوع موضوعات پر کھیل تیار کیے۔ کچھ عرصہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ میں جب مبارک علی وہاں ہوتے تھے تو اجوکا نے کھیل پیش کیے۔ ان کھیلوں کے موضوعات میں آمریت کے جبرکے خلاف جمہوری قدروں کی بحالی کی جدوجہد کے ساتھ انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا۔ان تیس سالوں میں جو سماجی، سیاسی اور انسانی مسائل ڈوبتے ابھرتے رہے ، ان کو موضوع بنایا جاتا رہا۔ مثلاً عورتوں کے حقوق، آدھی گواہی سے لے کر کاروکاری، ونی، وٹہ سٹہ جیسی رسومات کے خلاف اس میڈیم کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے دیہی سماج میں جاگیر دارانہ روایات کے خلاف کھُل کر بات کی گئی۔ پنجاب میں جب عوامی تہواروں خاص کر بسنت پر پابندی لگائی گئی تو اسے عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا ایک جبری طریقہ سمجھا گیا۔ ان موضوعات کے علاوہ صوفیاء کی تعلیمات پر اُن کی زندگیوں کو موضوع بنا کر کھیلوں کے ذریعے ان کی بنیادی فلاسفی اور فکر کو سامنے لایا گیا۔ جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی تو پاکستان میں مسلسل جاری رہی ہے۔ اس لیے لکھنے والوں کو طرح طرح کے موضوعات ملتے رہے ہیں۔ ’’اجوکا تھیٹر‘‘ نے سعادت حسن منٹو، غلام عباس اور انتظار حسین کے افسانوں کی ڈرامائی تشکیل بھی کی۔ جو انسانی اور تاریخی سطح پر ہماری اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوئے۔
لاہوتھیٹر کا مرکز رہا ہے۔ لیکن فنونِ لطیفہ پر بُرا وقت آیا۔ ہماری فلمیں اپنی موت آپ مر گئیں۔ تھیٹر روز بروز ہر طرح کی تخلیقی بصیرت اور جمالیاتی اوصاف سے محروم ہوتا چلا گیا۔ عورت کے رشتوں کی توہین اور بد ذوقی نے اُسے زوال پذیرکر دیا۔ ایسے میں ’’اجوکا تھیٹر‘‘ نے عروج حاصل کیا۔ دیکھنے والوں کو معنی اور حساس موضوعات پر سوچنے کا موقع ملا۔ ’’اجوکا‘‘ کے ساتھ ’’رفیع پیر پرفارمنگ آرٹس فیسٹیول‘‘ نے کئی برسوں تک مسلسل بین الاقوامی سطح پر فلم، موسیقی، تھیٹر، رقص اور پُتلی تماشہ کے شعبوں میں ناقابل فراموش کارکردگی دکھائی۔ جس کی وجہ سے یہاں فنون لطیفہ عالمی سطح پر متعارف ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے امن عامہ کی صورت حال کا بہانہ بنا کر اس سلسلے کو روک دیا گیا۔ جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے تو ڈرنے والوں کے لئے کوئی بھی بہانہ کا رگر ثابت ہو سکتا ہے۔
’’اجوکا تھیٹر‘‘ پر بھی اعتراض ہوئے لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ اسی سفر کے دوران انڈیا کے تھیٹر فیسٹیولز میں اپنی جگہ بنائی۔ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور تھائی لینڈ کے ساتھ مل کے کئی ڈرامے اشتراک کے ساتھ پیش کیے۔ اس دوران کتنے فن کاروں، تکنیک کاروں اور تھیٹریکل آرٹس کے شعبوں میں نوجوانوں کی تربیت ہوئی ہو گی۔ یہاں سے تربیت کے بعد کچھ نوجوانوں نے اپنی الگ الگ ڈرامہ کمپنیاں بھی بنائیں۔ جن میں اسلم راؤ اور سرفراز انصاری کی کمپنی بہت با صلاحیت ہے اور اپنی خطوط پر کام کر رہی ہے۔ مجھے سرکاری سطح کی امداد کا تو علم نہیں ہے لیکن الحمرأ آرٹس کونسل نے ’اجوکا تھیٹر‘ کو مسلسل سپورٹ کیا۔ اجوکا اور الحمرأ مل کر کام کر رہے ہیں۔ مدیحہ گوھر اور شاھد ندیم پروڈکشن میں کسی کی معاونت کے محتاج نہیں ہیں۔ لیکن تھیٹر کو سٹیج تو چاہیے ہوتا ہے۔ سٹیج کے ساتھ ناظرین بھی ہوتے ہیں، یہاں الحمرأ ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تھیٹر کے لیے سب سے ضروری صرف ایک شے ہوتی ہے، اور وہ ہیں ناظرین۔ اجوکا نے ان تیس سالوں میں اپنے ناظرین پیدا کیے۔ یہ سفر کٹھن ہے اور جاری ہے۔ اپنی ایک نظم سے چند سطروں کی گواہی پیش کرتا ہوں جو اُسی زمانے میں لکھی گئی جب مارشل لاء کے ردِعمل میں ’’اجوکا تھیٹر‘‘ قائم ہوا۔
اتنے بہت سے انسان
اور اُن کے اتنے بہت سے خواب
کیسے ایک نظم میں سما سکتے ہیں
کہ نظم تو ایک قیدی کی تنہائی جیسی ہوتی ہے۔
لیکن کبھی کبھی ایک نظم اتنی طاقتور ہو جاتی ہے
کہ ایک ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔
خود نہیں مرتی، اُسے مار دیتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *