نظم

"امتیاز گورکھپوری"

پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے

اِس قدر مصروفیت  

آج کل تم کہکشاں سے   

رنگ بدلتے بادلوں سے

یعنی دنیا کی رُتوں سے

دور کیوں ہو اس قدر ؟ 

آج کل تم ہو کہاں پر !! 

نہ یہاں پر ، نہ وہاں پر 

آن لاین بھی نہیں ہو 

واٹس ایپ پر،  نہ فیس بک پر

کیوں نظر آتے نہیں ہو

ایپ سارے کس لیے ان انسٹال کر دیے ہیں  

اور سوشل میڈیا کے سب  مراکز 

  ایک بحر بیکراں سا ، مشتعل سا  ہے  ہجوم دوستاں 

دن بدن تعداد بڑھتی جا رہی ہے محفلوں کی

اُن سے کیوں ہو دور آخر

مسئلہ کچھ تو  بتاؤ

کیا کسی نے کچھ کہا ہے؟

یا کسی کے عشق میں تم مبتلا ہو؟

کچھ وجہ تو ہوگی آخر ؟

اِن سوالوں پر مرا بس  مختصر سا یہ ہے کہنا

اب مجھے  کومنٹس ،  لائکیز  کی کوئی پروا  نہیں ہے 

ایسی جدت سے بہت ہی دور ہوں  

عشق ہے مجھکو زباں سے

انسیت ہے  اردو داں سے

ہے کتابوں سے محبت

دور ہوں رنج و فغاں سے 

 میرے  پیارو ! 

یہ کتابیں ہیں وراثت

ہیں یہی میری محبت

error: