گناہ و ثواب کی امپورٹ ایکسپورٹ

shahid Malikاگر کسی نے رینالہ خورد میں پھلوں کی اسکوائش بنانے کی فیکٹری دیکھی ہو تو وہ مالکان کی ایک کاروباری چالاکی کی داد ضرور دے گا۔ چالاکی یہ ہے کہ فیکٹری والوں نے پھل کے پھوک ، چھلکوں اور رس کشیدہ بیجوں کو پھینک دینے کی بجائے برسوں پہلے تخلیقی سوچ سے کام لیا اور اس مواد کو جام ، مرمالیڈ اور مربوں میں تبدیل کر کے بیچنے لگے۔ آج حالت یہ ہے کہ کسی بھی پھل نچوڑ کارخانے کا نام لے لیں ، دھیان اسکوائش اور جوس کی بوتلوں کی طرف تو جاتا ہے ، لیکن ساتھ ہی اچار اور چٹنی کی شیشیاں آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہیں۔ اکنامکس کی اصطلاح میں اس اضافی مگر کم خرچ پیداوار کو بائی پراڈکٹ کہتے ہیں۔ میرا آج کا کالم رمضان المبارک کی ایک چھوٹی سی بائی پراڈکٹ کے بارے میں ہے ، جس کے لئے اعتکاف کی ریاضت میری بیوی نے کی اور میں ثواب میں خوامخواہ حصہ دار بن گیا۔ بات کا مزا لینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اکنامکس کے علاوہ ملٹری سائنس سے بھی واقفیت رکھتے ہوں۔ ان معنوں میں نہیں جیسے جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں ایک دوست کو ایڈریس سمجھاتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارا گھر جیل روڈ کے بائیں ہاتھ ہے بشرطیکہ آپ کا منہ چھاؤنی کی طرف ہو۔ ’بھائی جان ، موجودہ حالات میں ہم سب کا رخ سارا وقت چھاؤنی کی طرف ہی ہونا چاہئیے‘ دوست نے کہا تھا۔ میرا مقصد اتنا ہے کہ آپ جنگی کارروائیوں کے دوران ہونے والے کولیٹرل ڈیمیج یا ضمنی نقصان کے تصور سے آشنا ہوں۔ جیسے بمباری تو کی جاتی ہے طالبان کے ٹھکانوں پر ، لیکن اس میں سول آبادی کا بھی نقصان ہو جاتا ہے۔ تو کیا میرے ساتھ بھی یہی ہوا ؟ جی نہیں ، میری کہانی نقصان کی نہیں ، کولیٹرل روحانی فائدے کی کہانی ہے ، جس کی بدولت خود کو نیک نیک محسوس کر رہا ہوں۔
دراصل ، ایک تو میں آدمی ہوں پرانے فیشن کا ، جب لوگوں پہ مالی دہشت ڈالنے کے لئے فائیو اسٹار عمرے نہیں کئے جاتے تھے۔ پھر یہ بھی نہیں تھا کہ عید میلاد النبی اور محرم کے جلوسوں کو غیر مسلموں کی بجائے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے ہو۔ محلے کی مسجد کے دروازے پر ’بے نمازو ! کیا غضب کرتے ہو تم‘ درج تو تھا ، مگر فجر کی جماعت میں شریک ہونے والوں کی تعداد چھ سات سے اوپر کبھی نہ دیکھی۔ عالم دین تو احسن عمل کے طور پہ اجتماعی عبادت کی فضیلت بیان کیا ہی کرتے ہیں۔ پر ابتدائی بچپن میں اپنی آنکھ جب بھی کھلی ، گھر کے صحن میں دادا کی پر سوز تلاوت سے کھلی۔ آپ نجانے کیا کہیں ، لیکن یہ اضافی سوز حجازی یا مصری قرات کی بدولت نہیں ، اس پنجابی لہجہ کی بدولت تھا جسے فوک لٹریچر کی طرح قرآن پڑھنے کا لوک انداز کہنا چاہئیے۔ خلوص ہی خلوص ، بغیر نمائش کے۔ نمائشی تقوی کو چھوڑ کر تازہ اعتکاف کا ذکر چھیڑوں تو یہ بہر حال ایک نجی عبادت ہے اور اگر خاتون ہوں تو بہت ہی نجی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کو میرے ذاتی مسئلہ پہ غور کرنا پڑے گا۔ میری مراد ہے کہ جس گھر کی تمام حاضر سروس آبادی صرف دو افراد پر مشتمل ہو ، وہاں تو بیوی کا اعتکاف شروع ہوتے ہی ، شوہر خود بخود اعتکاف میں پہنچ جاتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا۔ ٹھیک ہے تکنیکی لحاظ سے تو آپ میری کیفیت کو عبادت نہیں کہہ سکتے۔ پر کیا یہ اس ریاضیاتی اصول کے تحت ایک کولیٹرل اعتکاف نہیں کہ ’ ایک جمع ایک دو ، اور دو منفی ایک برابر ہے ایک ‘۔ دو کی آبادی یوں کہ اس اعتکاف کے دوران نچلی منزل میں نوے سالہ والد کے ساتھ کچھ کوالٹی ٹائم تو گزارا ، مگر بزرگوار کی کمزور سماعت کے باعث ہمارا مکالمہ زیادہ تر مسکراہٹوں کے تبادلے تک ہی محدود رہا۔
خانہ دار طبیعت رکھنے والی ڈاکٹرنی نے روحانیت کے تالاب میں غوطہ لگانے سے پہلے بظاہر تمام لا جسٹکس مکمل کر لی تھیں۔ سحر و افطار کی تیاری کے لئے خادم اعلی حفیظ خان کو احکامات ، گیس ، پانی ، بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور ائر کنڈیشنر کی بھر پور سروسنگ کہ عبادت کے خشوع و خضوع میں فنی خلل پیدا نہ ہو جائے۔ ٹی وی چینل پہ اعتکاف کی خبروں کے ٹکر تو نہ چلے مگر واٹس ایپ پر عزیز و اقارب کو تنبیہ کر دی گئی کہ خبردار جو ان دنوں رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ کولیٹرل اعتکاف والے بندے کے لئے بھی یہ ہدایت نامہ ء4 خاوند جاری ہو گیا کہ کمرے کے باہر خالی برتنوں کی ٹرے صبح و شام چیک کرتے رہو ، کیونکہ اگر اشد ضروری سمجھا گیا تو ہنگامی ایکشن کے لئے پرچی اسی میں سے ملے گی۔ اللہ کی مہربانی سے پرچی کی نوبت تو نہ آئی ، پر پہلی ہی رات ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ ناگزیر ہو گیا۔
اب کہنہ مشق صحافی کے طور پر ، جسے دوسروں کو کہنیاں مارنے کی بھی خاصی مشق ہے ، خبر کو دلچسپ بنانے کے لئے یہ ٹوسٹ دینے کو جی چاہ رہا ہے کہ ابا جان کے معاملہ میں کوئی ایمرجنسی پیدا ہو گئی تھی۔ ایسا کہوں تو یہ سراسر گپ ہو گی۔ ابا کی صحت اس دوران نہ صرف معمول سے بہتر رہی بلکہ اعتکاف کا سن کر انہوں نے تبسم فرمایا اور کہا ’نبیلہ ہمارے خاندان کا سب سے نیک بچہ ہے ‘۔ اس پر مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ مجھ سمیت پنجاب کے اکثر مرد اپنی خواتین کی تکریم کی خاطر ان کی تانیث کو تذکیر سے بدل دیتے ہیں ، ورنہ کیا جواز ہے کہ بچی کو بچہ اور بیٹی کو بیٹا کہا جائے۔ خیر ، جو ایمر جنسی پیدا ہوئی وہ تھی تو والد کی ادویات سے متعلق ، مگر جس رجسٹر میں ہر دوا کی مقررہ خوراک درج کر رکھی تھی ، اگر میں اسے ڈھونڈ نہ سکا تو اعتکاف کرنے والی ہستی کا کیا قصور؟
جن لوگوں کو ہم جیسے گنہگاروں کے اعمال میں پروسیجرل غلطیاں تلاش کرنے کا شوق ہے ، وہ تو دوا کی خوراک پوچھنے کے لئے بیوی کو ٹیکسٹ میسج بھیجنے والی میری حرکت اور اس کے جواب پر کوئی نہ کوئی شرعی یا مسلکی رپھڑ ضرور ڈالیں گے۔ اس پر میری دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ بھئی غصہ نہ کرو ، نئے دور کا موبائل پیغام پرانے وقتوں کی پرچی ہی تو ہے ، سو اس میں کیا حرج ؟۔ کوئی پھر بھی نہ مانے تو اس صورت میں مجھے شاعر مشرق کے مرشد مولانا روم سے منسوب ایک قصہ دہرانا پڑے گا۔ کہتے ہیں ان کے پاس مسلمانوں کے تمام فرقوں کے علماء آئے اور شریعت کا ایک مسئلہ دریافت کیا۔ مولانا نے فرمایا ’میں آپ سب سے متفق ہوں‘۔ علما ء نے حیرا ن ہو کر کہا ’اگر آپ سب سے متفق ہیں ، پھر تو آپ کافر ہوئے‘۔ مولائے روم نے کہا ’میں اس سے بھی متفق ہوں‘۔
آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہاں پہنچ کر بیگم صاحبہ کا اعتکاف مکمل ہو گیا اور میری بھی آنکھ کھل گئی۔ جی نہیں ، اس عظیم روحانی تجربہ کے آخری دن ایک حادثہ اور بھی ہوا جس سے نمٹنے کے لئے نہ تو مولانا روم سے رجوع کیا ، نہ زیر اعتکاف خاتون کو میسج بھیجنے کی ضرورت پڑی۔ حادثہ بھی ا یسا کہ تائید ایزدی شامل حال نہ ہوتی تو ہم اچھے خاصے نیوز بلیٹن کا ٹیل پیس بن جاتے۔ بس یوں سمجھیں کہ گھر کے برآمدے میں نصب ایک عظیم الشان سر کٹ بریکر اور اس سے جڑے ہوئے تاروں نے اپنی جان پر کھیل کر ہماری دیوار کو زندہ بجلی کی یلغار سے بچا لیا۔ فیض احمد فیض لوٹس میگزین کی ایڈیٹری کے دنوں میں بیروت کی رہائشی عمارت میں بم کا دھماکہ سن کر دوبارہ کروٹ بدل کے سو گئے کہ صبح دیکھیں گے کیا ہوا ہے۔ میں نے یہی حرکت کی اور اگلے دن موقع ملاحظہ کیا۔
عید سر پہ تھی۔ اس پر بھی خاتون خانہ کے مشورے کے بغیر الیکٹریشن سے رابطہ ، برقی سازو سامان کی خریداری اور نکاسی کے تنگ پائپ میں پھنسی ٹینس بال نکالنے کا عمل جس نے چھت پر ایک ایک فٹ پانی کھڑا کر کے بجلی کی ڈی بی کو نیاگرا آبشار میں بدل دیا تھا۔ تعمیر و مرمت کی اس کارروائی کے دوران ایک تو بارش کی وجہ سے درجہء حرارت کم رہا ، دوسرے یو پی ایس نے عبادت گزار لوگوں کو اصل خرابی کا پتا نہ چلنے دیا۔ کو لیٹرل اعتکاف والا خوش تھا کہ چاند دکھائی دیتے ہی اگر رویت ہلال والے مفتی منیب الدین نہیں تو اس کی اپنی بیگم تو شوہر کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا اعتراف سب کے سامنے کریں گی۔ بیوی نے کہا تو یہ کہ اتنے خرچے میں تو سیکنڈ ہینڈ موٹر بائیک خرید سکتے تھے۔ اس پر بندے نے بدلہ لینے کی سوچ لی ہے۔ سو ، اگلے سال اعتکاف میں وہ خود بیٹھے گا اور نظم و نسق سنبھالیں گی اس کی بیگم۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *