لندن ڈرامہ کا آخری ایکٹ

naveed ch2013 ءکے عام انتخابات میں منظم دھاندلی تو ثابت نہ ہو سکی، دھرنوں سے حکومت گرانے کا پلان لیکن انتہائی منظم تھا۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد تحریک انصاف کو جس صورتحال کا سامنا ہے اسکی ذمہ دار وہ خود ہے ،کسی اور کی لڑائی میں آلہ کار بن کر جاگتی آنکھوں سے تخت نشین ہونے کا خواب دیکھنا حماقت کے سوا کچھ نہ تھا۔ تحریک انصاف اور اسکی قیادت اس سارے معاملے سے کوئی سبق سیکھے نہ سیکھے دونوں صورتوں میں اسکے مضمرات سے خود کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔

نواز شریف حکومت گرانے کیلئے لندن پلان بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ سول انتظامیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں کئی معاملات پر اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بظاہر آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو ہر معاملے میں فری ہینڈ دئیے رکھا اسکے باوجود کئی تنازعات پیدا ہوئے۔ حکومت کو لاحق خطرات کے پیش نظر آصف زرداری نے زیادہ تر بیک فٹ پر جانے کی پالیسی اختیار کی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں ایک مکمل میعاد ملازمت( تین سال) کیلئے توسیع دی، پھر بھی معاملات مکمل طور پر سیٹل نہ ہو سکے۔ ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا کو توسیع دینے سے معذرت کر لی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کیس سمیت کئی معاملات میں غیر معمولی ”پھرتیاں“ دکھانے والے پاشا اپنی ملازمت کے اختتام پر بھی خفیہ طور پر بڑے بڑے منصوبے بنارہے تھے، ویسے یہ کچھ ایسے خفیہ بھی نہیں تھے، انہی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ مسلم لیگ ن کو کٹ ٹو سائز کرنا تھا،یہ ایک مکمل اور تفصیلی موضوع ہے کہ تحریک انصاف کو آگے بڑھانے کیلئے پاشا نے کیا کیا پاپڑ بیلے۔ دلچسپ بات مگر یہ ہے کہ ایک موقع پر مسلم لیگ (ن) کی مخالف دیگر جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کو بھی پاشا کی کارروائیاں بہت لطف دے رہی تھیں۔ پی پی اور ق لیگ وغیرہ کی آنکھیں تب کھلیں جب انہیں انداز ہ ہوا کہ پاشا کی کارروائیاں اپنے اصل ہدف ن لیگ کے بجائے خود انکی جماعتوں کیلئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ عام انتخابات سے کافی پہلے ہی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ق لیگ سمیت کئی جماعتوں نے اس حوالے سے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے پاشا کا بار بار نام لیا۔
2013 ءکے عام انتخابات کے حوالے سے جب غیر جانبدار ملکی و غیر ملکی اداروں کے سروے سامنے آنا شرو ع ہوئے تو کئی کان کھڑے ہونا شروع ہو گئے۔ قرائن سے لگتا ہے کہ ان انتخابات کو متنازعہ بنانے کا فیصلہ پولنگ سے پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ہوم ورک کرانے والوں میں شجاع پاشا پیش پیش تھے۔ انتخابی نتائج سامنے آئے تو پولنگ ایجنٹوں کے ذریعے براہ راست حاصل کیے گئے رزلٹ پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں کامیابی پر ن لیگ کو باقاعدہ مبارکباد بھی دے ڈالی۔ مگر اسکے چند روز بعد چوں چاں شروع ہو گئی۔ عمران خان نے دھاندلی کے الزامات لگائے تو پیپلز پارٹی کہ جس کی شکست نوشتہ دیوار تھی وہ بھی بول پڑی۔ آصف زرداری نے دھاندلی کا الزام ریٹرننگ افسروں کے سرپرتھوپ دیا، کچھ اور جماعتیں بھی لب کشائی کرنے لگیں، الیکشن کو متنازع بنانے والی قوتوں نے ثابت کر دیا کہ ہر جماعت میں اسکے ہرکارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ بڑے بڑے سیاستدانوں کو گمراہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار سنبھالتے ہی وزیراعظم نواز شریف نے اپنے انداز میں حکومت چلانے کی کوشش کی، کہا جاتا ہے کہ ایک سے زائد مواقع پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ ہماری ’گائیڈ لائن‘ پر چلیں لیکن انہوں نے کان نہیں دھرا۔ اسی دوران جنرل کیانی بھی 6سال اپنے عہدے سے لطف اندوز ہونے کے بعد رخصت ہو گئے۔ سول و ملٹری تعلقات مگر زیادہ ہموار نہ ہو سکے۔ اختلافات یوں تو کئی امور پر تھے لیکن مشرف پر مقدمہ چلانے کی جسارت نے تو گویا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر دکھایا۔ نواز شریف اپنے اقتصادی ویژن کے حوالے سے اس بات کا پکا یقین رکھتے تھے کہ ملک میں جلد خوشحالی کا واحد راستہ بھارت سے تجارت ہے۔ تصفیہ طلب امور پر بات چیت جاری رکھتے ہوئے دونوں ممالک کو اقتصادی تعلقات بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔ انہی دنوں ایک نجی محفل میں وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ عوام کو غربت سے نکالنے کیلئے بھارت سے تجارت کے سوا اورراستہ ہی کیا ہے۔ اسی آف دی ریکارڈ نشست میں یہ تاثر بھی ملا کہ طالبان سمیت تمام شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کو صرف فوجی قیادت کا فیصلہ قرار دینے والوں کو گراں تو گزرے گا لیکن سچ یہی ہے کہ سول حکومت کی اپنی سوچ بھی یہی تھی۔
دوسری جانب اس بات پر غور کیا جارہا تھا کہ متنازع امور کے حوالے سے حکومت کو ’راہ است ‘ پر لانے کیلئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اسی دوران کراچی میں حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ اس کا براہ راست الزام اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی پر لگایا گیا۔ یہ معاملہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اسقدر اچھلا کہ حکومت اسے کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی چنانچہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کے ساتھ میڈیا گروپ کو بھی اپنے نشانے پر لے لیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دھرنوں سے حکومت گرانے کا منصوبہ شجاع پاشا اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے مل کر بنایا۔ گویا سابق اور حاضر سروس ایک ہو کر آگے بڑھے۔ کہا جاتا ہے کہ لندن پلان کیلئے چودھری برادران کو روانگی کا حکم ملا تو انہوں نے اس حوالے سے کچھ مہلت مانگی۔ حکم آیا ہر گز نہیں فوراً کوچ کرو۔اسی طرح کینیڈا میں مقیم طاہر القادری بھی بعض وجوہات کی بنا پر متامل تھے لیکن حکام بالا کی تاب نہ لا سکے اور لندن جانا پڑا۔ عمران خان تو گویا موقع کے انتظار میں تھے۔
یہاں یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہیے کہ دھرنوں کے دوران اور اس سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی اور 4 اہم کور کمانڈروں کو توسیع دینے کے مطالبات بھی سامنے آ گئے۔ سول حکومت کو بخوبی علم تھا کہ اس کھیل کے پیچھے کون ہے اور اسکے مقاصد کیا ہیں۔ کسی بڑے تصادم سے بچنے کیلئے وزیراعظم نواز شریف نے دھرنوں کی تاریخ سے دو دن قبل 12اگست 2014 ءکو ٹی وی پر آ کر انتخابی نتائج کی عدالتی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان کیا جسے فوراً ہی مسترد کر دیا گیا۔ 14اگست کا اصل منصوبہ یہی تھا کہ دس لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد پر دھاوا بول کر ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، پارلیمنٹ ہاﺅس اور دیگر تمام اہم سرکاری مراکز کے اندر گھس کر قبضہ کر لیا جائے۔ ایسا ہوتا تو فوجی مداخلت کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہتا۔ بعد کے حالات سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ دھرنا دینے والوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ ہنگامہ آرائی کے دوران حکومت کا کوئی بڑا لیبیا کے سابق صدر قدافی والے انجام سے دو چار کر دیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ کھیل مگر پہلے روز ہی بگڑ گیا۔ مطلوبہ تعداد سے بہت کم لوگ اسلام آباد پہنچے۔ مزید یہ کہ بعد کے دنوں میں بھی اتنا بڑا اجتماع نہ ہو سکا کہ جو ہر شے پر قبضہ کر لیتا۔ جاوید ہاشمی گواہ ہیں کہ اس حوالے سے کنٹینر میں شدید پریشانی پائی جاتی تھی ،یہ کہا جارہا تھا کہ سکرپٹ رائٹر برہم ہے کہ ہم مطلوبہ تعداد میں لوگ جمع نہیں کر سکے۔ دوسرا ٹارگٹ کم از کم 200 لاشیں گرانے کا تھا۔معصوم کارکنوں کو بہکاکر کفن پہنائے گئے ،قبریں کھودی گئیں، پولیس پر پل پڑنے کا حکم دیا گیا ، مگر ”شمع سیاست “ پر جان قربان کرنے والے 200پروانے میسر نہ آ سکے۔ کھیل میں اس وقت نیا موڑ سامنے آگیا جب پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں حکومت کو بچانے کیلئے نہ صرف اکٹھی ہو گئیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو سنگین نتائج کی جوابی دھمکیاں دی گئیں۔ سکرپٹ رائٹر نے حکومت گرانے کے حوالے سے یوں تو تمام تر انتظامات کر رکھے تھے۔ زیر عتاب جنگ ،جیو گروپ کے سوا ملک کے تقریباً تمام میڈیا چینلز کو ان کے دفاتر کے باہر بیٹھے افراد کنٹرول کر رہے تھے۔ وہ اودھم مچایا گیا کہ خدا کی پناہ۔ میڈیا جو کچھ کررہا تھا ویسے تو وہ ایک کھلا راز ہے لیکن اس حوالے سے ایکسپریس ٹربیون کی سابق ایڈیٹر نیہا انصاری نے آرٹیکل لکھ کر وہی کام کر دکھایا جو باغی جاوید ہاشمی نے کنٹینر کے اندر کی حقیقت باہر بیان کر کے کر دکھایا تھا۔ سکرپٹ رائٹر پورے ملک کا نظام عارضی طور پر ہی سہی مگر معطل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دو سو ارب سے زیادہ کا معاشی نقصان، چینی صدر کے تاریخی دورے کا التوائ، ملک کی عالمی سطح پر بدنامی........
پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے مکمل طور پر آمنے سامنے آنے کے بعد سنگین خطرات پیدا ہو چکے تھے۔ دھرنے میں شامل بعض گروپوں کے باعث معاملے کو فرقہ واریت کا رنگ بھی چڑھنا شروع ہو چکا تھا۔ بعض مذہبی گروپوں کا کہنا تھا کہ حکومت ، پولیس، سکیورٹی ادارے (فوج) بیچ میں سے ہٹ جائیں تو ہم خود ہی دھرنے والوں کی دوڑ لگوا دیں گے۔ پیپلز پارٹی سمیت کئی ایک جماعتوں نے کھل کر کہا کہ اگر حکومت کا غیر آئینی طریقے سے خاتمہ کیا گیا تو پھر وفاق کو اکٹھا رکھنے کی کوئی ضمات نہیں دی جا سکتی۔ زبردست کشیدگی کی اس فضاءمیں جوش پر ہوش غالب آگیا تو ریٹائرڈ ہونے والے افسروں کو توسیع کی حسرت دلوں میں لیے گھروں کو جانا پڑا۔ مشرف کے خلاف مقدمے کو لپیٹنے کا معاملہ بھی طے پا گیا۔ بھارت سے تجارت کے ذریعے پاکستانی عوام کی بھلائی کا خواب دیکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بھی اپنی حدود کا اندازہ ہو گیا۔ خارجہ پالیسی سمیت کئی امور پر اسٹیبلشمنٹ براہ راست ہدایات دینے کی پوزیشن میں آ گئی۔ معاملات طے پانے لگے تو طاہر القادری نے بھی موقع پاتے ہی کینیڈا واپسی کی راہ لی۔ عمران خان دھرنوں کے حوالے سے جس رومان کا شکار تھے وہ ریحام خان سے شادی کی صورت میں سامنے آ گیا۔ آرمی پبلک سکول کے سانحے کا بہانہ ملتے ہی بے مقصد دھرنے سے جان چھڑالی گئی۔ یمن بحران پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی آڑ ملتے ہی اسمبلیوں میں پھر سے واپسی ہو گئی۔
لڑائی کسی اور کی تھی شکست کوئی اور کھارہا تھا، فتح کے شادیانے مگر وہاں بلند ہورہے تھے کہ جس کو کچھ بھی نہیں ملنے والا تھا۔ سکرپٹ رائٹر کے ہاتھوں استعمال ہونے والوں کو خود عقل ہونا چاہیے تھی کہ کیا یہ سارا کھیل ان کو تخت نشین کرانے کیلئے کھیلا جارہا تھا، ہر گز نہیں۔جوڈیشل کمیشن کے واضح اور غیر مبہم فیصلے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ لندن ڈرامے کا آخری ایکٹ بھی ختم ہو گیا۔ اس سے یہ مطلب قطعاً اخذ نہ کیا جائے کہ اب کوئی نیا ڈرامہ نہیں لگ سکتا۔ ایک بات مگر سب کو پلے سے باندھ لینا چاہیے کہ خدانخواستہ اب یا آئندہ جب بھی کسی نے غیر جمہوری طریقے سے اقتدار پر شب خون مارنے کی کوشش کی تو وہ پورے ملک کی سلامتی کو داﺅ پر لگانے کا مجرم گردانا جائے گا۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ پاکستان کے طاقتور طبقات آج بھی قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ورنہ جوڈیشل کمیشن کی انتخابی نتائج سے متعلق رپورٹ کے بعد ایک اور کمیشن بنا کر دھرنے کے محرکات کا پتہ چلایا جاتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ان کے بھی چھکے چھوٹ جاتے جو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے ہر کسی کے چھکے چھڑانے پر لگے رہتے ہیں۔
چلتے چلتے ایک خبر ....ملک کے ایک انتہائی باخبر صحافی نے بتایا کہ سول حکمرانوں اور سیاستدانوں کی قسمت کا اپنے طور پر فیصلہ کرنے والی قوتوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے کاغذوں میں زرداری اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی مائنس کر دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *