ہم معاشی ترقی کیسے کر سکتے ہیں؟

zeeshanکارل مارکس کے اس خیال سے تاریخ کا کوئی طالب علم شاید ہی اختلاف کر سکے کہ معاشی، سیاسی اور سماجی ارتقاء میں ذرائع پیداوار کا کردار مرکزی ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوار سے ،جسے ہم شکار کا عہد کہتے ہیں، نجات اس وقت حاصل ہوئی جب ہم نے زراعت کو بطور معیشت قبول کر لیا ۔ اسی زرعی معیشت نے زرعی معاشرت کی آبیاری کی جس نے ثقافت کے تمام پہلوؤں کو بدل ڈالا ، سماج کا تصور اخلاق بدل گیا ، قبیلہ کی جگہ خاندان کو بطور سماجی اکائی کے حیثیت ملی ،اور ایک بہت بڑی حد تک انسان بقا کی جدوجہد میں خود مختار ہوا ، اب اسے رزق تلاش نہ کرنا پڑتا تھا بلکہ اب وہ رزق کی پیداوار میں فطری قوتوں کی مدد لینے لگ گیا۔۔۔ انجن کی ایجاد نے جہاں ایک طرف صنعتی انقلاب کو جنم دیا، وہیں اس کے پہلو باپہلو پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے علم کی دنیا میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔۔۔ یہاں ایک پہلو بہت اہم ہے ، تاریخ اور تمدن کے ماہرین کے درمیان یہ اختلاف موجود ہے کہ دور جدید کی بنیاد انجن کی ایجاد نے رکھی یا پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے۔۔۔ میں دونوں کی اہمیت کو مرکزی مانتے ہوئے انجن کی ایجاد کو فوقیت دیتا ہوں ۔۔۔ بقول مارکس مشینی ذرائع پیداوار نے صنعتی عہد کو جنم دیا، اور یہ صنعتی عہد ہی دور جدید کا اصلی جوہر ہے۔
ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ زراعت سے پہلے کے زمانے میں ہم اوہام اور جادو پرستی کا عروج دیکھتے ہیں ، جو زرعی دور میں نسبتاً کم ہو گیا اس کی جگہ دو علوم کو زیادہ اہمیت ملتی ہے : ایک محدود پیمانہ پر زمینی حقائق کا علم ، جیسے حساب (جس کو ترقی زرعی پیداوار کے حساب کتاب اور شماریات سے ملی ) ، محدود پیمانہ کی بائیالوجی (طب ) وغیرہ ، اور دوسرا خالص نظریاتی فلسفہ اور فلسفیانہ اسطور کے حامل مذاہب ۔۔۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عہد ماقبل زراعت کے مذاہب سادگی اور سحر و بت پرستی میں زیادہ ڈوبے ملتے ہیں تو زرعی عہد میں جہاں ایک طرف دنیاوی حقائق سے انکا رشتہ استوار ہوتا ہے تو دوسری طرف انکی اسطور زیادہ فلسفیانہ اور منطق پر مبنی (علم الکلام ) ہو جاتی ہے ۔ عہد زراعت میں ہمیں دور جدید کا اہم ترین ذریعہ علم ؛ تجزیاتی طریقہ اگر کہیں اکا دکا ملتا ہے تو وہ شہری ریاستیں ہیں جن کی معیشت کا انحصار تجارت پر تھا ، جیسے ایتھنز میں ارسطو کے ہاں۔
یہ تجزیاتی اسلوب مطالعہ بھی صنعتی عہد کی ضرورتوں کا حاصل ہے جس میں ہمارا زور منطق کے لاحاصل جھگڑوں کے بجائے مشاہدہ ، تجربہ ، اور نتیجہ خیز سائنس پر زیادہ ہے، ہمارے عہد میں فلسفہ سے زیادہ ریاضی و فزکس کا کردار ہے ، ہم انسانی نفسیات و سماجی حرکیات کو ’تخیل اور منطقی مباحثوں ‘ سے نہیں ، بلکہ انسانی کردار کے مختلف پہلوؤں کی تجرباتی اور شماریاتی تحقیق سے سمجھتے ہیں ۔ جدید تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ’جدت پسندی‘ اور ’سائنسی اسلوب مطالعہ‘ وہاں پیدا ہوا ہے جہاں صنعتی تمدن موجود ہے ۔ صنعتی ترقی سے جہاں شہریوں کا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے، وہیں بہتر مستقبل کے امکانات کی راہیں زیادہ سے زیادہ وسیع ہوتی جاتی ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشی ترقی کا راستہ سیاسی اور سماجی زندگی کی ترقی میں اہم ترین محرک کا کام کرتا ہے ، اس سلسلے میں اہل مغرب اور مشرقی ایشیائی ممالک کی تاریخ ہمارے لئے ان گنت سبق رکھتی ہے۔
معیشت تین اجزاء کا مجموعہ ہوتی ھے، پیداوار ، پیداوار کی تقسیم اور معیار زندگی ۔ اس کا اہم ترین حصہ پیداوار ہے جبکہ باقی دو شعبوں کا عمل شروع ہی اس وقت ہوتا ہے جب پیداوار موجود ہو ، اگر پیداوار ہو گی تو اس کی تقسیم (منصفانہ یا غیر منصفانہ) بھی ہو گی اور وہ خرچ بھی ہو گی۔ بغیر پیداوار کے نہ تقسیم پیداوار (دولت ) کا سوال پیدا ہوتا ھے اور نہ شہریوں کے پیداوار کو خرچ کرنے کا۔ یاد رہے کہ ایک سماج کی کل پیداوار ہی اس سماج کی آمدن ہوتی ہے ، دنیا میں آج وہی معاشرے ترقی یافتہ ہیں جن کی پیداوار ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ہے اور حجم میں بہت زیادہ ہے۔ دور جدید کی سب سے بڑی قدر بھی پیداوار ہے۔ ہر وہ عمل اچھا ہے جس سے پیداوار میں اضافہ ہو ۔ ایسا اضافہ جو لوگوں کی ضرورت پوری کرے اور انہیں راحت پہنچائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک معاشرہ اپنی پیداوار میں کیسے اضافہ کرے کہ نہ صرف اس سماج کی ضروریات پوری ہو ں بلکہ وہ اردگرد کے دوسرے معاشروں کے لیے بھی بہتری کا سامان کر سکے ؟ دیکھئے، باوجود اس کے کہ ہم اس وقت تیسرے صنعتی انقلاب سے گزر کر چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو رہے ہیں اور ہمارے پاس اعلیٰ درجے کی جدید ترین مشینری ہے جس نے پیداوار کے عمل کو انتہائی تیز رفتار اور کوالٹی میں شاندار بنا رکھا ہے مگر اس کے باوجود معاشی عمل کا کلی انحصار تمام معاشی ایجنٹس (ایک سماج کی معیشت میں کام کرنے والے تمام افراد) کے معاشی فیصلوں اور معاشی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ پیداوار میں اضافہ یا معاشی ترقی کا حقیقی سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب تمام افراد میں محنت ، مثبت معاشی فیصلوں اور سرگرمیوں کی تحریک پیدا کی جائے گی۔ یاد رہے کہ ہم انسان اپنی ہر سرگرمی کو سرانجام دینے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ اس عمل سے مجھے فائدہ ہو گا یا نقصان؟ سڑک پار کرتے ہوئے سوائے پاگلوں کے ہر شخص دائیں بائیں اس لئے دیکھتا ہے کہ کہیں سڑک پار کرتے ہوئے کوئی گاڑی اسے کچل نہ دے ، حقیقت یہ ہے کہ ذاتی فائدے کی جستجو تمام انسانوں کی فطرت کا لازمی جزو ہے۔ ایک سماج اس میں بسنے والے تمام افراد کا مجموعہ ہے اور اگر تمام افراد اپنے مفادات کی جستجو کریں گے تو یقیناً اس کا حاصل بھی پورے سماج کا فائدہ ہو گا۔ ہر فرد اپنا بہترین ذمہ دار خود ہے ، اور اس کے علاوہ کوئی اور طاقت (ریاست، معاشرہ ، خاندان ) اس دنیا میں اس کی بہتر ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی ... معاشی عمل میں تیز رفتاری اور ترقی اس وقت آتی ہے جب تمام افراد کو اس سے فائدہ حاصل ہو اور تمام افراد اس کا حصہ ہوں۔ فائدے کا حصول مزید فائدے پر اکساتا ہے اور نقصان سے عمل میں سستی اور جذبوں میں مایوسی آتی ہے۔ اگر پاکستان تیز رفتار اور مستقل ترقی چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہریوں کو معاشی عمل میں شامل کیا جائے ۔ معیشت میں تمام افراد کے مفادات کو ترجیحی بنیادوں پرشامل کیا جائے اور لوگ معاشی عمل میں تیز رفتاری اور مستقل مزاجی کو اپنا کر اسے مزید بہتر سے بہتر بنائیں ۔ معاشی عمل میں تمام افراد کی شمولیت اور فائدے کے بنیادی محرک کے بغیر معاشی ترقی کا خواب کبھی عملی تعبیر نہیں پا سکے گا چاہے ہم جتنے بھی بڑے پروجیکٹ لگا لیں یا قرضے لیتے پھریں۔
پیداوار میں اضافہ کے لئے ضروری ھے کہ ہم مقابلہ کی ثقافت کو فروغ دیں اس میں تمام انسانوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے بہتر نتائج، پیداواری صلاحیت، ذہانت اور دریافت و ایجاد کے منصفانہ انعام کو یقینی بنائیں۔ یقیناً محنتی اور باصلاحیت معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں اجارہ داری کو ناممکن بنا دیا جائے ، بھیک مانگنے کے عمل (چاہے یہ بھیک افراد سے لی جائے یا ریاست و حکومت سے ) کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے اور تخلیق و دریافت (پیداوار) کو سب سے بڑی قدر سمجھا جائے۔ ہمارا اصل انعام ہماری اپنی محنت ہے اور اگر کوئی مجھ سے زیادہ محنت کرتا ہے اور محنت کا زیادہ انعام حاصل کر رہا ہے تو ایسی ثقافت میں مجھے اس سے نفرت نہیں بلکہ آگے بڑھنے اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
آج دنیا کی ترقی یافتہ معیشتیں وہ ہیں جو پیداواری صلاحیت اور پیداواری عمل میں سب آگے ہیں ۔ مثال کے طور پر امریکہ سالانہ ساڑھے سترہ ہزار ارب ڈالر کی اشیا اور خدمات پیدا کرتا ہے، چین جاپان اور جرمنی بالترتیب ساڑھے دس ہزار ارب ڈالر ، ساڑھے چار ہزار ارب ڈالر اور چار ہزار ارب ڈالر کی اشیاء و خدمات پیدا کرتے ہیں اسی لئے امریکہ دنیا کی نمبر ایک ، چین دوسری ، جاپان تیسری اور جرمنی چوتھی بڑی معیشت ہے ۔ اس کے برعکس میں ملاوی ، برونڈی ، سینٹرل افریکن ریپبلک ، گیمبیا ، اور نائجر روغیرہ دنیا میں سب سے کم اشیاء و خدمات پیدا کرتے ہیں اس لیے ان کا ترقی یافتہ ممالک کی درجہ بندی میں سب سے کمتر مقام ہے۔ یاد رہے کہ جتنی زیادہ فی کس پیداوار ہو گی اتنا ہی اس معیشت کے افراد کا معیار زندگی بلند تر ہو گا۔
اس سلسلے میں ہم چین کی مثال لیتے ہیں ، چین میں 1979ء سے پہلے سوشلسٹ معیشت تھی ، جس کا زور آزاد پیداواری قوتوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں فروغ دینے کے بجائے پیداوار کی مصنوعی اور نظریاتی تقسیم پر تھا حالانکہ جب پیداوار ہی نہیں ہو گی تو تقسیم کاہے کی ۔ جس کا نتیجہ ہر سال کے قحط تھے جن میں صرف ایک بڑے قحط 1958۔61 ء میں ساڑھے تین کروڑ اموات ہوئیں۔ 1979ء میں چین مارکیٹ معیشت کی طرف منتقل ہوا اور آہستہ آہستہ اپنی مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ آزاد اور خود مختار کر رہا ہے۔ اس دوران چین نے اپنا رجحان زیادہ سے زیادہ پیداوار کی طرف مرتکز رکھا ،جس کے نتیجے میں پینتیس برس میں چین نے دس فیصد سالانہ سے ترقی کرتے ہوئے اپنی معیشت میں بتیس گنا اضافہ کرکے اسے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا دیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان پینتیس برسوں میں چین کے کسی ایک صوبہ میں بھی قحط نہیں آیا اور لوگوں کے معیار زندگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ آج چین کا ساری دنیا میں نمایاں مقام اسکی مارکیٹ معیشت کی وجہ سے ہے ، جس کی پیداواری صلاحیت نے چین کو سیاست اور ثقافت میں بھی نمایاں مقام دیا ہے۔
بالکل یہی داستان مشرق ایشیا کی ہے ، جاپان ، جنوبی کوریا ، سنگاپور ، تائیوان وغیرہ نے صنعتی میدان میں پیداواری قوتوں کی مدد سے ہی معاشی ترقی کر کے اقوام عالم میں ایک باعزت اور قائدانہ کردار حاصل کیا ہے ، ہمارے پڑوس میں بھارت بھی پیداواری قوتوں میں مسلسل اضافہ کے سبب سالانہ پانچ فیصد سے ترقی کر رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان کی معاشی ترقی کو جب ایشیا کے لئے ایک بہترین مثال سمجھا جاتا تھا ، اس وقت ہماری معیشت بھی قرضہ، عالمی امداد اور تارکین وطن کے بھیجے جانے والے پیسوں کی بجائے صنعتی پیداوار ہی پر انحصار کرتی تھی۔ پاکستان چین پر اپنا معاشی انحصار روز بروز بڑھا رہا ہے ، ہم 1951ء سے 2011ء تک 68 بلین ڈالر کی امداد لے چکے ہیں ، ہم اپنے بجٹ کا تقریبا چالیس فیصد تقریبا سات ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہے ہیں ، اور سالانہ تارکین وطن پاکستانی پندرہ ارب ڈالر سے زائد پاکستان میں بھیج رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم ایک اوسط سے بھی کمتر درجہ کی معیشت ہیں ، آخر کیوں ؟ ہمیں اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ آیا ہم ہمیشہ ایک ضرورت مند معیشت کی طرح جینا چاہتے ہیں یا ہم دوسری اقوام بشمول چین کی طرح اپنا مقام آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ یقیناًہماری مددگار ہو سکتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *