قدرتی آفات کا انسانی پہلو

khadimنامور ماہر اقتصادیات امر تیاسین نے جب یہ حقیقت دریافت کرلی کہ قحط قدرتی،فطری اور طبعی عمل نہیں بلکہ انسان کا پیداکردہ عمل ہے تو پوری دنیا میں پائیدار ترقی سے وابستہ حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔اسکے بعد انیس سو اسی کی دہائی سے لے کر اب تک کئی ایک ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلیوں ،سیلاب اور وبائی امراض میں سماجی رویوں اور ریاستی پالیسیوں کے کردار پر سیر حاصل تحقیقات کرلی ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ آسمانی آفات سے لوگوں کو بروقت آگاہ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی بھی وجودمیں آئی ہے۔آفات میں فوری امدادکے اداروں اور تعمیر نو کا مربوط نظام بھی دنیا کے اکژممالک میں مرتب اور منضبط کیا گیا ہے۔
یہ سارے اقدامات مگر اُن ممالک نے کئے ہیں جہاں انسانی زندگی اور فلاح کو وقعت دی جاتی ہے۔پاکستان میں صورتحال اسکے باالکل برعکس ہے۔عالمی بنک کے ایک حالیہ تجزیئے کے مطابق پاکستان کے صرف ایک صوبہ سندھ میں 2009کے ایک سال میں ماحولیاتی خطرات کے باعث تقریبا پینتالس ہزار اموات واقع ہوئی ہیں۔ پاکستان حکومت نے 2012 میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی جانچ کیلئے ایک قومی پالیسی وضع کی تھی ۔بعد میں جس کاذکر بھی حافظے سے محو ہو گیا۔ماحولیاتی تبدیلی کی وفاقی وزارت کے مطابق 2039 تک عالمی سطح پر جو ماحولیاتی تبدیلیاں واقع ہوں گی پاکستان پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔اس پس منظر میں حالیہ سیلابوں پر غورکیجئے ۔یہ سطریں لکھنے تک پنجاب میں حالیہ اور علی پور اور خیبرپختونخواہ کا پورا ضلع چترال سیلابی پانی کی زد میں ہے ۔چترال میں تقریبا 26 دیہات کو سیلابی پانی بہا کر لے گیا ہے۔ تقریبا تین لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ بالائی اور زہریں چترال کا رابطہ کٹ چکاہے۔تاریخی وادی کلاشہ (بمبوریت) کو بقاء کا خطرہ درپیش ہوچکاہے۔خیبر پختونخواہ کا محکمہ موسمیات اپنی بے چارگی کا اعلان کرتے ہوئے بتاچکاہے کہ اسکے پاس فوری خبرداری کے لئے مطلوبہ تیکنیکی آلات موجود نہیں ہیں۔اگرچہ پہاڑی علاقوں میں آفات کے متعلق فوری طور پر خبردار کرنے کیلئے جو ٹیکنالوجی ایجاد ہوئی ہے اُس ذریعے تین گھنٹے پہلے سیلاب کی اطلاع دی جاسکتی ہے میدانی علاقوں میں کئی گھنٹے پہلے فوری اطلاع ممکن ہو چکی ہے۔
چترال کی مقامی ضلعی انتظامیہ بھی اپنی بے بسی کا اظہار کرچکی ہے،انتظامیہ کے مطابق چونکہ مختلف راستے اور پل بہہ گئے ہیں اسلئے اکثر دیہات تک رسائی ممکن نہیں۔ فوجی دستوں نے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے سیلاب میں گھرے ہوئے سینکڑوں خاندانوں کو نکال لیاہے اور فضائی پروازوں کے ذریعے خوراکی اور غیر خوراکی اشیاء پھینکنا شروع کر دیا ہے۔ ضلع چترال میں فوری مسئلہ گھرے ہوے خاندانوں کو نکالنے اور اُن تک ضروری اشیاء پہنچانے کا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے تقریبا ایک ہفتے بعد چترال میں سیلابی آفت کی طرف توجہ کی ہے۔ابتدائی اعلان میں صوبائی حکومت نے فوری امداد کیلئے دس لاکھ روپے مختص کر لئے اور بعد میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے دباؤ میں تیس لاکھ رو پو ں کا اعلان کردیا۔ ضلع چترال کے تین لاکھ متاثرہ لوگوں کیلئے یہ رقم اُ نکے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
دوسرا فوری مسئلہ لوگوں کو بیماریوں سے بچانے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا ہے۔ اگر خوراک اور صحت کی سہولیات فوری طور پر مہیا نہیں کی گئیں تو ہزاروں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتاہے۔ تیسرا فوری مسئلہ کٹے ہوئے علاقوں کو شہر کے ساتھ ملانے کا ہے یہ اسلئے ضروری ہے کہ گھرے ہوئے لوگوں کو بحفاظت محفوظ مقامات تک منتقل کیا جاسکے۔
اس فوری مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ تعمیر نو کا پیش آئے گا۔تعمیر نو کے مرحلے میں بے گھر خاندانو ں کیلئے مناسب رہائش کا بندوبست ، صحت اور تعلیمی مراکزکی تعمیر نو، مواصلاتی نظام کی بحالی اور تباہ شدہ کاروبارکو کھڑا کرنا جسے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیا خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے متعدد ادارے اورپاکستان کی مرکزی حکومت کے لاتعداد ادارے فوری امداد پہچانے اور تعمیر نو کے مراحل کو بخیر و خوبی سرانجام دے سکیں گے ؟
چترال انسانی تحفظ کے حوالے سے سماجی، ریاستی اور حکومتی ترجیحات کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ پاکستان میں 2010 سے مسلسل سیلابی ریلوں کا خطرچلاآرہا ہے۔ ان پانچ برسوں میں ہم نے تین حوالوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ پاکستانی ریاست اور حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے آبادی پر اثرات کو اب تک سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ وزارت ماحولیات اور ماحولیات سے متعلقہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے متعدد اداروں نے نہ تو تحقیقی مراکز قائم کئے ، نہ ماحولیاتی تبدیلی سے آگہی کیلئے کوئی قابل ذکر مہم چلائی اور نہ ہی بروقت اطلاع کیلئے کوئی ٹیکنالوجی حاصل کرلی۔ ماحولیات کا انسانوں پر منفی اور مثبت اثرات کا بیا نیہ ابھی تک ریاست کے انسانی تحفظ کے بیانیئے کا لازمی حصہ نہیں بنا ہے۔ اس دلیل سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی تحفظ کے بیانئے کے لازمی اجزاء ابھی تک پاکستانی ریاست کے بیانئے میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔
دوسرا حوالہ فوری امداد کے اداروں کی فعال کارکردگی کا ہے۔ قدرتی آفات کے انتظام کے صوبائی اور وفاقی ادارے سرخ فیتے کے سامراجی دور سے ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں ۔ ہیاں ان اداروں میں صلاحیتوں کا فقدان بھی نظر آتاہے اور وسائل کی کمی کا بھی مشاہدہ کیا جاسکتاہے۔ اسلئے پچھلے کئی سال سے قدرتی آفات کے انتظام کے فوری مرحلے میں بے بہا انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور ناقابل یقین مادی وسائل ضائع ہو جاتے ہیں ۔ قدرتی آفات کے انتظام کیلئے جب تک ایک مربوط اور فعال نظام قائم نہیں ہو گا اُس اقت تک یہ ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا۔
تیسرا مرحلہ بحالی اور تعمیر نو کا ہے ۔ یہاں بھی صلاحیتوں کے فقدان اور سیاسی قوت ارادی کے ساتھ ساتھ غیر فعالیت اور غیر شفافیت کی وجہ سے معصوم انسانوں کی آبادیاں سالہا سال تک بے یار ومدد گار رہتی ہے چاہے زلزلوں کی قدرتی آفات ہوں یا سیلابوں کی ۔کاروبار ، رہائش ، سماجی خدمات اور معمول کی زندگی کی بحالی سراب بن جاتی ہے۔
اگر ہمیں ایک مہذب معاشرے اور فعال ریاست کے طور پر اپنی اجتماعیت قائم کرنی ہے تو انسانی تحفظ کا بیانیہ ریاستی بیانئے کی بنیاد گرداننا ہوگا۔ ہمارے ہاں یہ بھی عجیب نفسیات ہیں کہ جب بھی سیلاب آتے ہیں تو حکومتی ، ادارتی اور ریاستی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے کچھ عاقبت نا اندیش لوگ بڑے ڈیموں کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔یہ موقف سائنسی، ماحولیاتی، سیاسی اور سماجی تمام حوالوں سے شکست خوردہ اور کبح فہم ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب پوری دنیا کے ما ہرین چھوٹے ؑ ڈ یموں کی اہمیت اور بڑے ڈیموں کے سماجی اور ماحولیاتی نقصانات واضح کرچکے ہیں اور جب پاکستان میں دو صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قراردادیں کالاباغ ڈیم مستردکرچکی ہیں تو پھر اسکے چھیڑنے کا ایک ہی مقصد ہو سکتاہے اور وہ یہ ہے کہ متنازع مسائل چھیڑکر پاکستانی عوام کی توجہ اصل حقائق سے ہٹائی جائے۔ عمران خان نے یہ متنازع موضوع چھیڑ کر دراصل خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کی بد انتظامی اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کو شش کی ہے۔

Email : [email protected]
Twitter : khadimhussain

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *