کچھ سیلاب کے بارے میں

roshan laalپاکستان میں سرکاری طور پر 15جون تا 15 اکتوبر کے عرصہ کو ہر برس کے کے لیے سیلابی موسم قرار دے دیا گیا ہے۔ سیلابی موسم کا آغاز تو 15 جون سے ہوتا ہے مگر قومی و صوبائی حکومتیں اس تاریخ کی آمد سے بہت پہلے سیلاب سے ممکنہ تحفظ کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لیتی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف اجلاس بلائے جاتے ہیں انتظامی امور طے کیے جاتے ہیں، حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں فنڈز کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ،اس تخمینے کے مطابق فنڈز مختص کیے جاتے ہیں اور فنڈز کے اجراء کا نظام وضع کیا جاتا ہے۔ سیلابی موسم تو ملک میں 15 جون سے شروع ہو چکا مگر صوبہ سندھ میں اس کا سامنا کرنے کے لیے اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت 24 جو لائی کو منعقد ہوا۔اس حوالے سے سندھ حکومت یا بلاول بھٹو زرداری کی کارکردگی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ جان لیجئے کہ عوام کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ رفراہم کرنے کی غرض سے جو کام سندھ میں اس برس 24 جولائی کو کیا گیا وہی کام 2014ء میں 23 اپریل کو کر لیا گیا تھا۔ 23 اپریل 2014 ء کو بلاول بھٹو کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں سیلاب سے متعلقہ تمام صوبائی محکموں کے وزیروں اور سیکریٹریوں کے علاوہ خصوصی طور پر محکمہ موسمیات کے چیف میٹرالوجسٹ کو بھی بلایا گیا تھا تاکہ ان سے سندھ میں متوقع بارشوں کے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔ اگر سندھ حکومت اس برس سیلاب سے بچاؤ کے لیے بروقت پیشگی انتظامات کرنے سے قاصر نظر آئی تو اسے غفلت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکے گا۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت کو غافل کہنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر غور کیا جاسکتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سیلاب جیسا اہم معاملہ سندھ حکومت کی مناسب توجہ حاصل نہ کر سکا ۔ اس کے لیے یہ دیکھنا ہو گا کہ جس دوران سندھ حکومت نے ممکنہ سیلاب کو نظر اندز کیے رکھا اس وقت اس کی توجہ کس طرف مبذول رہی؟
گزشتہ برس جن مہینوں میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے حفاظتی انتظامات کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی رواں برس اس عرصہ کے دوران سندھ حکومت کے لیے حالات مکمل طور پر تبدیل شدہ تھے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ گذشتہ تین چار مہینوں کے دوران سندھ کے حالات کس ڈگر پر چل رہے ہیں۔ کراچی کو دہشت گردی اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی و نیم فوجی اداروں کو خصوصی اختیارات سے لیس کیا گیا تھا۔ کراچی کے بعد ان اختیارات کا دائرہ صوبے کے تمام تر شہری و دیہی علاقوں تک پھیلا دیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے ضمن میں عسکری اداروں کی کاروائیوں کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے کہ صوبے کی دو بڑی سیاسی جماعتیں کراچی کا امن تباہ کرنے والوں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ اعلیٰ عسکری حکام کی طرف سے تسلسل کے ساتھ اس طرح کے بیانات سامنے آنے کے ساتھ ساتھ گرفتاریوں کا بھی آغاز ہو گیا۔ مذکورہ انکشافات اور گرفتاریاں ٹی وی چینلوں کے مباحثوں کا اہم موضوع بن گئیں۔ جس طرح کبھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوازم کے زمانے میں ٹی وی چینلوں کے ٹکروں اور ا ن کی طرف سے لیے جانے والے ازخود نوٹسوں میں ایک خاص تعلق ہوا کرتا تھا اس طرح کا تال میل مبینہ کرپشن کے الزامات کے تحت ہونیوالی گرفتاریوں اور ٹی وی چینلوں پر جاری تبصروں میں بھی نظر آنے لگا۔اس سلسلے میں حد تو یہ ہوئی کہ ایان علی کی گرفتاری کے چند گھنٹوں کے بعد ایک معروف اینکر پرسن پر یہ منکشف ہو گیا کہ معروف ماڈل گرل سے برامد ہونے والے ڈالر رحمن ملک کے ہیں۔ جو بات اینکر پرسن پر نازل کی گئی اسے انہوں نے آناً فاناً برسر عام کر دیا۔ ظاہر ہے دستیاب مختصر ترین وقت اتنی بڑی خبر کی تصدیق کے لیے کافی ثابت ہوا ہو گا۔ آخر فرائض کی ادائیگی کے لیے اینکر پرسن صاحب نے احتیاط برتنے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی حد خود پر بھی ضرور لاگو کی ہو گی۔ اس طرح کی خبریں پے درپے نشر ہونے کے بعد آصف علی زرداری کی طرف سے اینٹ سے اینٹ بجادینے والا بیان جاری ہوا۔ جن خبروں اور تبصروں پر احتجاج کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے بیان دیا تھا اس کے بعد ان کے پس منظر میں ہونے والی کارروائیوں اور پیش منظر میں جاری تبصروں میں مزید تیزی آگئی۔ اس تیز رفتاری کی زد سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے سندھ حکومت کی کئی اہم شخصیات سمیت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی دبئی روانہ ہوگئے۔ ان کے دبئی پہنچے کے فوراً بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ دونوں باپ بیٹا کسی وقت بھی امریکہ جاسکتے ہیں۔ بلاول اور آصف علی زرداری نے قادری اور عمران خان کے دھرنے سے کچھ عرصہ پہلے بھی امریکہ کا خصوصی دورہ کیا تھا جس کے بعد اعلان ہوا تھا کہ اب کوئی دھرنا پاکستان میں قائم جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دورے کا ہی اثر تھا کہ بعد میں ایمپائر کی انگلی کھڑی نہ ہو سکی۔ کچھ لوگوں نے زرداری اور بلاول کے اعلانیہ دورے کے متوقع مقاصد کو بھی ان کے گذشتہ دورہ امریکہ کے نتائج کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا تھا۔ پھر اچانک اس دورے کی منسوخی کی خبریں سامنے آئیں۔ اس کے ساتھ ہی بلاول کی دوبارہ کراچی آمد کے بعد بلاول ہاؤس پھرسے ان کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ حالات پھر سے معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بہت دیر سے سہی لیکن حالات معمول پر آتے ہی بلاول نے گذشتہ برس کی طرح اس برس بھی سیلاب سے تحفظ کے لیے انتظامات کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جو انتظامات اپریل میں ہوجانے چاہئیں تھے انہیں اگر جولائی میں اس وقت کیا جارہا ہے جب سیلاب سندھ کے دروازے پر دستک دے چکا ہے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں غلطیاں سامنے آنے کا بھر پور امکان موجود ہے۔
اس تحریر کا مقصد کسی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہر گز نہیں۔ اصل مقصد یہ باور کرانا ہے کہ کسی بھی غلط یا صحیح فعل کے سرزد ہونے میں معروضی حالات کے عمل دخل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ جن لوگوں پر کسی خاص کردار کی ادائیگی فرض ہو ان کی توجہ اگر کسی وجہ سے بٹ جائے تو ان کے لیے کام کرنا یقیناًمشکل ہو جاتا ہے۔ اس امر کی واضح مثال عمران خان کی ذات ہے۔ عمران کے دھرنوں اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے صرف دوسروں کی توجہ ہی منقسم نہیں ہوئی بلکہ خیبر پختونخواہ میں وہ خود بھی ان کاموں کی طرف متوجہ نہ ہوسکے جن کا انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔ عمران خان کے اس عمل کی وجہ سے آج سیلاب سے بدترین تباہی اس صوبے میں نظر آرہی ہے جہاں وہ خود حاکم ہیں اور انہوں نے عوام کو نئے پاکستان کے قیام کے خواب دکھائے تھے۔ یاد رکھا جائے کہ نامساعد حالات رونما ہونے میں عدم توجہی کے ساتھ ان معروضی حالات کا دخل بھی ضرور ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی کی توجہ منقسم ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *