خیال ہی سے موت ہے، خیال ہی سے زندگی؟

(عطاء الحق قاسمی)A_U_Qasmi_converted

میں نے اپنے دوست احمد حسن حامد کی وفات کے حوالے سے اپنی اس الجھن کا ذکر کیا تھا کہ انہوں نے اپنی موت کی بالکل صحیح تاریخ کئی روز پہلے بتا دی تھی، اس کی کئی روحانی وجوہ بیان کی جا سکتی ہیں لیکن میں اس کی مادی توجیہہ جاننا چاہتا تھا، اس ضمن میں بہت سے دوستوں سے بات ہوئی تاہم میری تسلی نہیں ہو سکی۔ حامد صاحب کوئی ولی اللہ نہیں تھے۔ میرے اور آپ جیسے ایک عام انسان تھے کہ انہیں القاء ہوتا۔ تاہم اس محیرالعقول واقعہ کی جو توجیہہ میرے ذہن میں آئی ہے، اس کے مطابق ایک تو یہ کہ وہ کافی عرصے سے بیمار چلے آ رہے تھے اور زندگی سے ان کی کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی۔ ان کی وفات سے تقریباً ایک ماہ پیشتر میں نے ان سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی تو بات صرف ایک دو جملوں تک محدود رہی۔ ایسی صورت میں جب انسان جیتے جی زندگی سے اپنا تعلق منقطع کر چکا ہو اس جہان سے کوچ کی گھڑیاں گننے لگتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے وہ طے کر لے کہ اس نے فلاں تاریخ کے بعد زندہ نہیں رہنا۔ خیال اور ارادہ ایک بے حد طاقتور چیز ہیں انسان جس خیال میں زندہ رہنا شروع کر دے، وہ ہو کر رہتا ہے جو اس نے سوچا ہوتا ہے۔ جوگی جہلمی کا ایک پنجابی شعر ہے
زندگی تے سوت جوگی ؔ دونویں کوئی چیز نئیں
خیال نال موت اے، خیال نال زندگی
یعنی زندگی اور موت دونوں کوئی چیز نہیں ہیں، زندگی اور موت دونوں کا تعلق آپ کے خیال (ارادے) سے ہے!
سو ایک ممکنہ وجہ تو یہ ہو سکتی ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے۔ دوسری وجہ ایک اور بھی ممکن ہے۔ انسانی دماغ کا صرف دس فیصد حصہ ابھی تک فعال ہے۔ کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ اس کا وہ خلیہ کام کرنے لگتا ہے جس کے نتیجے میں محیر العقول واقعات سامنے آتے ہیں اور اس کا تعلق نہ کسی مذہب سے ہے اور نہ روحانی ریاضت سے۔ میں لندن میں ایک بارہ سالہ سکھ بچے سے ملا تھا، جو ذہنی طور پر معذور بچوں میں سے ایک تھا۔ وہ ماضی کی ایسی باتیں آپ کو بتا دیتا تا۔ جو صرف آپ ہی جانتے ہیں۔ چنانچہ ممکن ہے میرے عزیز دوست احمد حسن حامد بھی اس صورتحال سے گزرے ہوں اور بہرحال یہ سب باتیں اٹکل پچو ہی کی ذیل میں آتی ہیں۔ میں تو آپ کو اس موضوع پر ایک خط پڑھانا چاہتا ہوں۔ جو جڑانوالہ سے نفسیات کے ریٹائرڈ پروفیسر انور صادق صاحب نے مجھے ارسال کیا ہے۔ انہوں نے اس سارے واقعہ کو ایک بالکل دوسرے رخ سے دیکھا ہے، ان کا یہ عالمانہ خط ذیل میں درج ہے:۔
جب ہم صوفیائے کاملین کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو زیادہ تر اُن کے باطنی مشاہدے اور قلبی وارداتوں کا مجموعہ ہوتی ہیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے اس کائنات کو تین عالموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک تو یہ عالم اجہاد یا عالم شہادت ہے جس کو عالم اسباب یا عالم خلق کا نام بھی دیا جاتا ہے، دوسرا عالم عالم ارواح ہے جسے وہ عالم غیب یا عالم امر سے بھی موسوم کرتے ہیں جبکہ تیسرے عالم کو عالم مثال کہتے ہیں جو پہلے اور دوسرے عالم کے درمیان برزخ کا کام دیتا ہے۔ علاوہ ازیں صوفیائے کاملین ہماری خارجی کائنات کو عالم کبیر جبکہ انسان کو عالم صغیر سے تعبیر کرتے ہیں ان کے نزدیک جس طرح ہماری خارجی کائنات عالم خلق اور عالم امر کا مجموعہ ہے اور خدا کا عرش ان دونوں کے درمیان برزخ ہے اسی طرح انسان بھی ان دونوں عالموں کا امتزاج ہے اور اس کا دل یا قلب برزخ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان یا عالم صغیر کا رابطہ کائنات یا عالم کبیر سے کیسے قائم ہوتا ہے اس سوال کا جواب اقبال کے الفاظ میں یہ ہے کہ ’’یہ رابطے علم کی بدولت قائم ہوتے ہیں‘‘ اب صاف ظاہر ہے کہ خدا نے انسان کو حواس احساس اور عقل کی صورت میں اپنے اور کائنات کے بارے میں علم حاصل کرنے کے تین ذرائع عطا کر رکھے ہیں جو اس کی مدد سے ہم عالم اجہاد میں موجود مادی اشیاء کا صرف خارجی مشاہدہ کرتے ہیں اور انہیں آپس میں مربوط کرنے والے قوانین دریافت کرتے ہیں جبکہ احساس یا دوسرے الفاظ میں دل یا وجدان کی بدولت ہم عالم اجہاد کے علاوہ عالم مثال کی اشیاء سے بھی ہم آہنگ ہونے اور ان کا باطنی مشاہدہ کرتے ہیں اس طرح احساس کی صورت میں جو علم ہمیں حاصل ہوتا ہے اسے ہم اپنے الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں اس کے برعکس انسانی عقل چیزوں کا خارجی مشاہدہ کرتی ہے اور نہ باطنی مشاہدہ بلکہ وہ غور و فکر کی بنیاد پر اشیاء کے تعلقات قائم کرتی ہے اور یوں وہ کائنات کو ہمارے لئے قابل فہم بناتی ہے کائنات کے بارے میں فلاسفہ کی نظریہ سازی اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس وقت انسان کے پاس علم حاصل کرنے کے جتنے بھی ذرائع موجود ہیں وہ سب ناقص اور محدود ہیں وہ اپنے حواس اور عقل کی بنیاد پر ایک حد سے آگے حسی مشاہدہ کر سکتا ہے اور نہ کچھ سوچ سکتا ہے لیکن خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس نے دور بین خورد بین اور خلائی آلات کی بدولت حسی مشاہدے اور علم منطق کی وساطت سے عقل کی صلاحیت اور وسعت میں کافی حد تک اضافہ کر لیا ہے۔ اب وہ لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر موجود سیاروں اور ستاروں کا حسی مشاہدہ بھی کر سکتا ہے اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم حواس اور عقل کی طرح اپنے دل یا وجدان کی قوت میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ راقم کے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے لیکن اسے بیان کرنے سے پہلے دل یا وجدان کی تعریف کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے چنانچہ اقبال کے الفاظ ہیں۔
’’قلب کو ایک طرح کا وجدان یا اندرونی بصیرت کہیے جس کی بدولت ہم حقیقت مطلقہ کے ان پہلوئوں سے اتصال پیدا کر لیتے ہیں جو ادراک بالحواس سے ماورا ہیں قرآن مجید کے نزدیک قلب کو قوت دید حاصل ہے اور اس کی اطلاعات، بشرطیکہ ان کی تعبیر صحت کے ساتھ کی جائے کبھی غلط نہیں ہوتیں۔‘‘
اقبال کے نزدیک دل یا وجدان علم حاصل کرنے یا علم حاصل ہونے کا وہ ذریعہ ہے جس میں عقل اور حواس کا کوئی دخل نہیں ہوتا اس لئے جب ایک انسان دل یا وجدان کو اپنا ذریعۂ علم بنا لیتا ہے تو نہ صرف اس پر کائنات کے اسرار و رموز منکشف ہونے لگتے ہیں بلکہ وہ بعض اوقات عالم مثال میں رونما ہونے والے واقعات کو بھی قبل از وقت معلوم کر لیتا ہے جیسا کہ پروفیسر موصوف کو اپنی وفات کا علم دو ماہ پہلے ہو گیا تھا راقم کے نزدیک ایسے واقعات کی عقلی توجیہہ ممکن نہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم عام انسانوں میں یہ صلاحیت کیوں نہیں پائی جاتی؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت مجدد الف ثانی کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا دل دراصل ایک آئینہ ہے، اگر اس کا رخ دنیا کی طرف رکھا جائے تو وہ اس قدر مکدر ہو جاتا ہے کہ بیان سے باہر ہے اور اگر حق تعالیٰ کی طرف رکھا جائے تو سب سے زیادہ مصفا اور زیادہ خوش نما ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں۔
’’جب تک انسان کا دل پراگندہ تعلقات سے آلودہ ہے تب تک محروم اور مہجور ہے دل کی حقیقت جامع کے آئینے سے ماسوائے اللہ کی محبت کے زنگار کو دور کرنا ضروری ہے اور دل سے زنگار کو دور کرنے والی بہتر چیز حضرت محمد ﷺ کی بزرگ و روشن سنت کی تابعداری ہے جس کا مدار نفسانی عادتوں کو رفع کرنے پر ہے۔‘‘
دل یا وجدان کی ماہیت بیان کرنے کے بعد اب عالم مثال کی تھوڑی سی وضاحت کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں رونما ہونے والے پراسرار واقعات کی تفہیم کا عمل اپنے منطق انجام کو پہنچ جائے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی کے خیال میں عالم مثال تمام عالموں (عالم اجہاد اور عالم ارواح وغیرہ) سے زیادہ فراخ ہے۔ جو کچھ تمام عالموں میں ہے اس کی صورت عالم مثال میں ہے معقولات و معانی سب وہاں صورت رکھتے ہیں عالم مثال عالم اجہاد اور عالم ارواح کے درمیان برزخ کا کام دیتا ہے۔ عالم مثال ان دونوں عالموں کے معانی اور حقائق کے لئے آئینہ کی طرح ہے کہ اجہاد اور ارواح کے معانی اور حقائق عالم مثال میں لطیف صورتوں کی طرح ظہور پاتے ہیں۔ عالم مثال میں فی ذاتہٖ صورتیں ہئیتیں اور شکلیں نہیں ہیں بلکہ شکلیں اور صورتیں اس میں دوسرے عالموں سے منعکس ہو کر ظاہر ہوتی ہیں جس طرح آئینہ میں عالم مثال صرف دیکھنے کے لئے ہے نہ کہ رہنے کے لئے رہنے کی جگہ عالم ارواح ہے یا عالم اجہاد عالم مثال ان دونوں عالموں کے لئے آئینہ کی طرح ہے اور بس۔
اب میں آپ کو مشہور صوفی بزرگ حضرت ابراہیم بن ادہم بن منصور کی داستان حیات سے ایک واقعہ سنا کر اپنا بیان ختم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہتے ہیں کہ آپ نے بلخ کی حکمرانی چھوڑ کر درویشی اختیار کر لی تھی ایک روز جب آپ اکیلے دریا کے کنارے بیٹھے سوئی دھاگے سے اپنے کرتے میں پیوند لگا رہے تھے بادشاہ وقت کا وہاں سے گزر ہوا۔ دیکھا تو وہ آپ کے پاس آ بیٹھا اور کہنے لگا! یہ آپ نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے؟ ایک وقت تھا پورے ملک میں آپ کا حکم چلتا تھا۔ اب یہاں بے یارومددگار بیٹھے ہیں یہ سن کر ابراہیم بن ادہم نے آنکھ اٹھا کر بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا! پہلے میرا حکم صرف انسانوں پر چلتا تھا اب چرند پرند بھی میرے حکم کی تعمیل کرتے ہیں یہ کہہ کر اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور مچھلیوں کو سوئی لانے کا حکم دیا چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی اور کئی مچھلیاں سونے چاندی سے بنی سوئیاں اپنے اپنے منہ میں لے کر خدمت میں حاضر ہو گئیں آپ نے کہا انہیں میری لوہے سے بنی سوئی لائی جائے تھوڑی دیر کے بعد ایک بزرگ مچھلی نے آپ کی مطلوبہ سوئی پیش کر دی جس میں دھاگہ بھی تھا یہ منظر دیکھ کر بادشاہ وقت حیران رہ گیا۔
اسی طرح وجاہت مسعود، منصور آفاق، لاہور کے ایک ایڈووکیٹ اور میں نے سونے چاندی سے بنی سوئیاں پیش کر کے آپ کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش تو کی ہے لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ ابراہیم بن ادہم کی طرح آپ کی تسلی صرف اپنی اصل سوئی پا کر ہی ہو گی جو میرے خیال میں اس وقت پروفیسر پرویز ہود بھائی کے پاس لگتی ہے وہ آپ کی مطلوبہ سوئی کب واپس کرتے ہیں! اس کا آپ بھی انتظار کریں اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *