کیا ملک اسحاق کا ماورائے قانون قتل ایک اچھی مثال ہے ؟

zeeshanبعض لوگ یہ درست سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا لشکر جھنگوی لوگوں کو آئین و قانون کی رو سے شہید کرتی ہے جو ملک اسحاق کو ہلاک کرتے ہوئے قانون و آئین کی پاسداری کی جاتی ؟.... یقینا لشکر جھنگوی اور ملک اسحاق پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث تھے ، اور انہوں نے اہل پاکستان کو بہت دردناک اور نہ بھلا سکنے والے زخم دیئے ہیں -

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک اسحٰق اور ان کے ساتھیوں کو ماورائے آئین ہلاک کرنے سے پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کم ہو جائے گی ؟ لشکر جھنگوی میں ملک اسحاق پہلا فرد نہیں ،اس سے پہلے بھی بہت سے سرکردہ لوگوں کو مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کیا جا چکا ہے ، مگر اس کے باوجود ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا ہے .... سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ؟
دیکھئے ، ریاست اور ایک دہشت گرد گروپ میں جوہری فرق ہے .... دہشت گرد انصاف و ظلم کی تمیز کئے بغیر،اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر راستہ اختیار کرتے ہیں جب کہ ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں آئین و قانون کی پاسداری کرے ، وگرنہ اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھتی ہے.... ریاست کے پاس معاشرہ میں قانون و انصاف کے لئے بطور ایک انتظامی ادارہ ہونا ہی سب سے سب سے بڑا جواز ہے - اگر ہم ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں امتیاز و تفریق کی ہر قسم ( چاہے وہ مذہبی ہو ، نسلی یا لسانی ) کا خاتمہ کرتے ہوئے انصاف کی بنیادیں اپنے سماج میں مضبوط کرنا ہوں گی ورنہ اس طرح کی عسکری کارروائیوں سے کوئی تبدیلی ممکن نہیں
بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں ، کہ ملک اسحاق کا ’ لدھیانوی‘ متبادل ریاستی اداروں کو زیادہ پسند آ گیا ہے ، اسی لئے اسے مضبوط کرنے کے لئے ملک اسحاق کو راستے سے ہٹایا گیا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گرد عسکری گروہوں کو ریاست کے مخصوص اداروں سے ماورائے آئین و قانون مدد ملتی رہی ہے ۔ ان عناصر کی سرپرستی کی بدولت ہی آج یہ ناسور پاکستانی شہریوں سے زندہ رہنے کا بنیادی حق بھی چھین رہا ہےا¿ اگر پشت پناہی اور اسٹرٹیجک اثاثوں کا کھیل اب بھی چل رہا ہے تو یہ قتل صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے سنگین تر ہی بنائے گا کہ فساد سے فساد ہی جنم لیتا ہے۔ کانٹوں کی فطرت تکلیف دینا ہے اور یہ پتھر ہمارے قومی وجود پر سنگ باری کرتے ہی رہیں گے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی سمت بدلے ، مہم جوئی کی بجائے شہریت کی مساوات ، انصاف ، اور آزادی کا بول بالا کرنے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں اور قاتلوں و دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر بہتر مثال قائم کی جائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *