چیف تیرے جانثار ....

wajahat-masood-blogلو بھائی، بالآخر ایک اچھی خبر آئی۔ ہمارے ہر دلعزیز چیف موسوم بہ محمد افتخار چوہدری کوئٹہ میں جلوہ افروز ہوئے۔ 2013ءکے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر شاداں تھے کہ رپورٹ نے انہیں دھاندلی کے الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔ خورشید ہال کوئٹہ میں صحافیوں کو درشن دیا، لولوئے حکمت بکھیرے اور یہ خوش خبری بھی دی کہ جلد ہی اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کرکے قوم کی رہنمائی کا بوجھ اٹھائیں گے۔ سچ پوچھئے تو اس خبر سے دل کا بوجھ ہٹ گیا۔ تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی۔ دسمبر 2013ءمیں ایوان عدل سے محترم افتخار چوہدری کا کوچ نقارہ بجنے کے دن آئے تو ادھر ادھر سے پرندے خبر لائے کہ حضرت ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ برا ہوا خبار نویسوں کا کہ یکے بعد دیگرے کالم لکھ لکھ کر ممدوح محترم کو اس خیال سے باز رہنے کے مشورے دیے۔ قوم کی دل بستگی کا ایک شاندار موقع جاتا رہا۔ تب یہ پارٹی بن جاتی تو ایسی کون سی قیامت آجاتی۔ ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی، انسان کو رکھتیں دکھیارا۔ افسوس کہ ان خدائی فوج دار قلم کاروں کی مداخلت بے جا سے قوم چند نہایت عمدہ کالموں سے محروم ہو گئی۔ آپ تو جانتے ہیں گزشتہ دو تین برس سے ایک نورانی صورت، فرشتہ صفت بزرگ موزوں موسم میں کینیڈا سے تشریف لایا کرتے ہیں ۔ 2012کے اواخر میں جب اس مشق دل پذیر کا آغاز ہوا تو پیپلز پارٹی کے حکومت کا چل چلاﺅ تھا۔ اعلیٰ حضرت کی آمد میں ’کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہو گا‘کا ڈرامائی منظر تھا۔ لانگ مارچ کے اکتارے پر ایک تان ایسی اڑائی کہ سب کے دل دہل کر رہ گئے۔ معلوم ہوتا تھا سیاست کا بولورام ہونا ٹھہر گیا ہے۔ ایک کالم برادرم عطا الحق قاسمی نے لکھا اور تشبیب کے طور پر دو کالم نذیر ناجی نے زیب قرطاس کیے۔ عطاالحق قاسمی ڈھیل کے پیچ لڑاتے ہیں ۔ ان کے ستم گزیدہ کو گھر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ جیب بھی کٹ گئی اور ناک کا بھی نشان نہیں ملتا۔ نذیر ناجی کھینچ کے کھلاڑی ہیں۔ ایک ہاتھ مارا اور حریف منہ دیکھتے رہ گئے۔ شیخ الاسلام کی ہوا میں اٹھی تنبیہ الغافلین انگلی وہیں ٹھہر گئی۔ آنکھیں تو کھلی رہ گئیں پر مر گئی بکری۔ شیخ الاسلام کے اس افتتاحی دھرنے سے اردو صحافت کو تین تاریخی کالم نصیب ہوئے۔ خیال تھا کہ افتخار محمد چوہدری سیاسی جماعت بنائیں گے تو ایک دو رس دار کالم نصیب ہوں گے۔ مشاورتی کالم نویسوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔ خیر برسوں پروٹوکول کا لطف اٹھانے کے بعد اپنی مزعومہ ذہانت کا جو نشہ چڑھتا ہے، صحافت کی ترشی سے دور نہیں ہوتا۔ ریٹائرمنٹ ماندگی کا ایک وقفہ ہے۔ سو حضرت افتخار محمد چوہدری دم لے کر آگے چلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ حلقہ احباب میں ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ قوم کو ایک سیاسی مسیحا کی سخت ضرورت ہے ۔ نیز یہ کہ سیاست دانوں نے ملک کو پستیوں میں دھکیلا۔

بریخت کے کھیل گلیلیومیں ایک طالب علم کہتا ہے۔ ’بد نصیب ہے وہ دھرتی جہاں ہیرو پیدا نہیں ہوتے‘۔ بوڑھا گلیلیو جواب دیتا ہے۔ ’نہیں آندرے! بد نصیب ہے وہ دھرتی جسے ہر روز ایک ہیرو کی ضرورت پیش آتی ہے‘۔ ہیرو کی پرستش ذہنی انفعالیت، احساس کمتری اور ناقابل عبور مشکلات کے مقابلے میں شکست خوردگی کے جذبے سے جنم لیتی ہے۔ ہیرو ایک مافوق الفطرت کردار ہے جو اپنی یگانہ روزگار صلاحیتوں کی مدد سے تمام مشکلات حل کر سکتا ہے۔ کسی قوم میں ہیرو کا تصور ذہنی عدم بلوغت کی نشانی ہے۔ حضرت افتخار محمد چوہدری قریب سات برس قاضی القضاة رہے مگر ان لبو ں نے نہ کی مسیحائی۔ بھیل کوہلی حیدر آباد کے پریس کلب کے سامنے بیٹھے بیٹھے دنیا سے رخصت ہو گیا، رنکل کماری انصاف لینے آئی تھی۔ اسلام آباد کے صحافی اس مقدمے کا کیف و کم جانتے ہیں۔ گورنر سلمان تاثیر اسلام آباد میں شہید ہوئے۔ مئی 2010ءمیں لاہور میں احمدی فرقے کے افراد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ آپ کی حس انصاف رنجک چاٹ گئی۔ سید حماد رضا ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ 14 مئی 2007 ءکو شہید کیے گئے۔ افتخار چوہدری 2009 ءسے 2013 ءتک دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر متمکن رہے۔ حماد رضا کے خون ناحق سے آ پ کی زنجیر عدل میں جنبش پیدا نہ ہوئی البتہ عتیقہ اوڈھو کے بیگ میں مائع طرب انگیز کی دو بوتلوں سے آپ بلبلا اٹھے۔ لال مسجد کے ہتھیار بند جتھوں کی دل آسائی کی آپ کو فکر لاحق رہی۔ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار آپ نے منتخب وزیراعظم کو عدالت کے ذریعے گھر بھیجا۔ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم پر مجبور کر کے مقننہ کی حدود میں دخل اندازی کی۔ پسندیدہ صحافیوں کو ساتھ بٹھا کے انصاف کی زلفوں سے کھیلتے رہے۔ سٹیل مل کی نج کاری میں رخنہ اندازی کر کے معیشت کی گاڑی پٹری سے اتار دی۔ آپ کی مسیحائی اخبارات کی سرخیوں میں جلوہ آرائی کا شوق رکھتی تھی۔خانیوال کا وہ پولیس افسر آج تک آپ کے نام کی مالا جپتا ہے جس نے اپنے منصبی تقاضوں سے ہٹ کر پروٹوکول دینے سے انکار کیا تو اسے آپ کی متورم انا کی کماحقہ تسکین کے لئے لاہور کے سرکٹ ہاﺅس میں طلب کیا گیا۔ کتاب قانون میں عورتوں اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین موجود رہے مگر آپ کو انسانی حقوق کا سیل بنانے میں دلچسپی تھی۔انسانی حقوق، آزادیوں اور استحقاق کی ادارہ جاتی ضمانت کا نام ہے ۔ اس کا نمائشی زنجیر عدل سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت کی سبک دوشی کے بعد دہشت کے سوداگروں نے ملک میں بہت خون بہایا۔ افتخار چودھری نے جھوٹے منہ قاتلوں کی مذمت نہیں کی۔ فرمایا تو یہ کہ سیاست دانوں نے ملک کو پستیوں میں دھکیلا۔ لگے ہاتھوں یہ تصریح بھی کر دیتے کہ جسٹس منیر نے گورنر جنرل غلام محمد کی پارلیمنٹ شکنی اور پھر جنرل ایوب خان کی بغاوت کو نظریہ ضرورت کی بیساکھیاں دے کر قوم کے راستے میں زمرد اور یاقوت جڑ دیے تھے۔ صاحبان انصاف نے جنرل یحییٰ خان کو غاصب قرار دینے کے لیے 1972ءکا انتظار کیا تو اس سے متحدہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہوئی تھیں۔ چیف جسٹس یعقوب علی نے 22ستمبر 1977ءکو جو بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا تھا ، اسے جسٹس انوارالحق نے اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا کر ضیاالحق کی بغاوت کو باجواز قرار دیا اور انہیں آئین میں ترمیم کا اختیار سونپا ۔ عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنا کر انصاف کا ایسا بول بالا کیا کہ دنیا ہمیں آج تک رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ جنرل مشرف رات کی تاریکی میں جہاز سے اتر کر سوئے قوم آئے اور اک مژدہ جاں فزا ساتھ لائے تو جسٹس ارشاد حسن کی معیت میں خود ممدوح محترم جناب افتخار چوہدری نے انہیں تین برس تک اقتدار کا اختیار سونپا نیز آئین میں جراحت کی سند عطا کی۔ سیاسی عمل اور سیاسی قیادت کی مذمت ہمارا پسندیدہ قومی شغل بھی ہے اور ہماری تمدنی پسماندگی کا استعارہ بھی۔
کسی غیر سیاسی شعبے سے شہرت پا کر سیاست میں گھسنے کی روایت ہمارے ہاں نئی نہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان کے سیاسی جہاز نے رن وے سے اٹھ کر نہیں دیا۔ سیاسی جوڑ توڑ کے تجربے سے حوصلہ پا کر جنرل اسلم بیگ نے ’فرینڈز ‘کی بنیاد رکھی مگر انہیں ریٹائرڈ کرنل غلام سرور کے سوا کوئی فرینڈ نصیب نہ ہوا۔ ارادے تو حمید گل کے بھی بلند تھے مگر ان کی سیاست دوسروں کا ہاتھ پکڑ کر ہوا میں بلند کرنے تک محدود رہ گئی۔ ٹیلی ویژن سکرین سے سیاست گری کا لپکا طاہر القادری نے مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد سے پایا تھا۔ سیاست اور ریاست دونوں موجود ہیں، طاہر القادری کی کوئی خبر نہیں۔ عمران خان کرکٹ سے سیاست کے کوچے میں آئے ۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد اپنے رفیقوں سے پوچھتے ہیں ”سیاست کی پچ پر نندی پور کی مٹی کیوں کام نہیں دیتی“۔ محسن پاکستان قدیر خان نے بھی ایک جماعت بنائی۔ معلوم ہوا کہ سیاست کا نسخہ ہالینڈ کی لیبارٹری سے نہیں ملتا۔ عبدالستار ایدھی براہ راست سیاست میں تو نہیں آئے مگر جمہوریت کی دریدہ پشت پر کفش کاری کا شوق ضرور پوراکرتے رہے۔ اس فہرست میں اب غالباً افتخار محمد چوہدری کا نام ایزاد ہو گا۔ وہ شخصی اعتبار سے جاہ پسند ہیں۔ یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ ان کی سیاست بھی کسی سیاسی بیانیے کی بجائے شخصی مقبولیت پسندی کے گرد گھومے گی۔ سرمد نے تو کسی اور کیفیت میں کہا تھا ’بیا بیا کہ تو بہرصورتے می آید، من ترا خوب می شناسم‘۔ ہمارے پس منظر میں نعرہ حق کی صورت غالباً یہ ہو گی۔ ’چیف تیرے جانثار ، ٹانویں ٹانویں اور بے کار‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *