ہم سخن فہم ہیں

PO15_BS_People_3D__2107311gچار شادیاں رچانے کے باوجود یا شاید اسی وجہ سے خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے مشہور امریکی مصنف اَرنسٹ ہیمونگ وے کا کہنا ہے کہ کالم نگار گیدڑ ہوتے ہیں اور کوئی گیدڑ بھی گھاس وغیرہ نہیں کھاتا کیونکہ وہ گوشت خور ہوتے ہیں۔ ہاں ، دیکھنا یہ ہے کہ ان کے لیے شکار کون مارتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ امریکی منصف نے بھان متی کے اس کنبے کے لیے قدرے سخت بات کہہ دی۔ گوشت خوری طبیعت پر موقوف، کوئی حرج نہیں، لیکن اس بکھیڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت کہ شکار کس نے مارا، حصہ کس نے چھوڑا، یا زیادہ اہم کہ کیوں چھوڑا اور کتنا چھوڑا؟ شکار چیتے نے کیا تھا یا شیر نے؟ شیر کا ذکر کالم میں نامناسب، گیدڑ کی بات بہتر ، اور تسلیم کرنے میں کیا حرج کہ ہم بھی غالب ہی کے طرف دار ہیں۔

کالم نگار موضوع کی تلاش میں ہر کس ناکس کو موزوں بناڈالتا ہے، اُس کا حق ہے اور اگر حق ِ نعمت بھی موجود ہو تو کیا کہنے۔ تاریخ کو رگید ڈالیے، ترکی کے حوالے دیجیے، انقلاب ِروس کی نوید سنائیے، بالکل درست، ایک ہنگامے پر گھر کی رونق موقوف دیکھنے والی آنکھ کو تسلسل اور جمود دکھائی دے گا۔ دینا بھی چاہیے کیونکہ ریچھ بھوک سے کمزو ر ہوکر بھی خرگوش نہیں بن جاتا۔ کبھی زرداری کے پانچ سال بیلنے میںبازو کے مترادف تھے تو اب موجودہ حکومت اور اس کی سڑکیں سینے پر روڈ رولر کی طرح مونگ دل رہی ہیں۔ واہ، کیا کہنے آپ کی بے تابی کے! لفظ کی دنیا کے معتبر ٹھہرے، لیکن صبر کو رفیق راہ منزل کرلیتے تو اچھا تھا، زیادہ نہیں تو شرر کی مصاحبت جتنا ہی سہی، کچھ افاقہ تو ہوتا۔
ورجینا وولف کے ناول ”ٹو دی لائٹ ہاﺅس“ کے کردار مسٹر رمسے ( Mr. Ramsay) نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر دنیا میں شیکسپیئر نے جنم نہ لیا ہوتا تو کیا فرق پڑتا۔ کیا یہ دنیا اسی طرح کی نہ ہوتی، اس سے مختلف ہوتی؟واقعی، سوال تو بنتا ہے کہ اگر فکشن کی دنیا کنگ لیئر، میکبتھ، اوتھیلو، ہیملٹ، شائی لاک اور سب سے بڑھ کر لیڈی میکبتھ سے ناواقف ہوتی تو کیا سمندروںسے بخارات نہ اٹھتے، کار ایجاد نہ ہوتی، دوردراز کے دیہات میں موبائل فون ٹاورز لہلہاتے دکھائی نہ دیتے ، جہاز اُڑانیں نہ بھرتے اور عالمی مالیاتی اداروںسے قرض لیے بغیر بھی ملکی بجٹ بن جاتا؟ کیا ایک شہزادے کے قتل پر پہلی جنگ ِ عظیم یا آٹھ کروڑ پھول جیسے انسانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی دوسری جنگ ِ عظیم نہ لڑی جاتی؟ ملکہ الزبتھ کے دور سے منسوب، عظیم ڈرامہ نویس کی عدم پیدائش واقعات ِعالم کا دھارا کس طرح بدل سکتی تھی؟ کہنے دیجیے، صریر ِخامہ نوائے سروش ہو تو ہو، مبادیات عالم نہیں بدل سکتا۔ سچی بات ہے کہ اگر باتوںسے سدھار آسکتا تو بارود ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر ہمارے ہاں تین درجن کے قریب نیوز چینل نہ ہوتے اور بقول عطاالحق قاسمی، پاکستان کا ہر دوسرا شخص کالم نگار بننے پر نہ تلا ہوتا تو کیا ہم آج سیلابوںسے نمٹ چکے ہوتے یا سارا سال پانی کی کمی کا بندوبست ہوچکا ہوتا؟
اس سوال کی معقولیت اپنی جگہ پر ، لیکن ’ طبیعت غزنوی، قسمت ایازی‘ کہہ کر آگے بڑھ جائیں ۔ جمہوریت کے بڑے بڑے چمپئن، لبرل ازم کے دعویدار، انسانی حقوق کی تقدیم کے نغمہ خواں، ووٹ کی تقدیس کے داعی اور مقتدر اداروں کی مداخلت کو جمہوریت کا خون کہنے والے آج عملیت پسندی کا مظہر بنے محض عوام کی بہتری چاہتے ہیں۔ اچھی بات ہے، ضروری ہے کہ عوام کے حالات بہتر ہوں، لیکن اس سے بھی ضروری کہ ”چلے بھی آﺅ کہ گلشن کا کاروبار چلے“۔ تو بھائی معاملہ کسی کی فعالیت سے بڑھ کر اپنے التباسات کا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، جب شیخ صاحب کی کینیڈا آمد سے مرتعش ہونے والا انقلاب وجد آفریں تھا۔ پھردھرنے اور معرکہ زیست کا ہنگام کار، اسلام آباد کا رومن محاصرہ اور پھر کیوبا کا فیدل کاسترو، فرانس کا ڈی گال اور ترکی کے کمال کے کمالات کا دیسی ظہور! لیکن جب ہیرو یوسفی کرتے کرتے زلیخائی پر اتر آئے ،غزنوی کی تڑپ اور زلف ِ ایاز کا خم سب ایک ہی صف میں، بلکہ کنٹینر پر، کھڑے دکھائی دیںاورکفن پوش شہادت کے متلاشی سرفروش اپنی دیہاڑی پوری کرنے اور ضبط کیے ہوئے شناختی کارڈز کی واپسی کے لیے الجھنے لگیں توصاحب غلطی مان لینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ نہیں مانی تو کوئی بات نہیں، آج تو غلطی نہ دہرائیں۔ بڑے پن کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں، خوئے تسلیم بری، لیکن غلطی تسلیم کرنا عظمت، مان لیں کہ کسی کے شکار پر نظر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *