یاسر پیرزادہ اوسلو میں

yasir pirzada‘‘علم سیاسیات کے پروفیسروں سے پوچھا، مولویوں سے دریافت کیا، خود سر کھپاتے رہے لیکن سمجھ میں نہیں آیا کہ ناروے کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کی مدد سے انہوں نے زمین پر یہ جنت بنا رکھی ہے؟ ایسی جنت پاکستان میں کیوں نہیں بن سکتی؟ ‘‘
یہ کلمات پاکستان کے معرورف کالم نگار یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم ‘‘ ذرا ہٹ کے ‘‘ میں ‘‘ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ‘‘ کے عنوان سے تحریر کردہ کالم کے آغاز میں لکھے ہیں۔ وہ آج کل اپنی اہلیہ کے ہمراہ ناروے کے نجی دورے پر ہیں۔ انہیں اوسلو کی معروف سماجی شخصیت چوہدری مختار احمد نے مدعو کیا ہے۔
یاسر پیرزادہ نے اپنے تفصیلی کالم میں ناروے کے سماجی ، سیاسی اور فلاحی ڈھانچہ اور یہاں کے اداروں کے بارے میں نہایت خوبصورت انداز میں قارئین کو معلومات فراہم کی ہیں۔ بدھ 29 جولائی کو ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ اس کا اہتمام سینٹرم کرکٹ کلب کے تنویر چوہدری اور SINSEN کرکٹ کلب کے امتیاز وڑائچ اور سجاد حسین شاہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔
اس موقع پر یاسر پیرزادہ کے چہرے کی شفافیت میں ان کے خیالات کی سچائی کا عکس نمایاں تھا۔ چوہدری مختار احمد نے ان کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ پیرزادہ سے ان کی جان پہچان ان کے کالموں کے ذریعے ہوئی۔ جس بات نے متاثر کیا وہ ان کی تحریروں میں تحقیق کا عنصر تھا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کی مواصلت کے بعد میں نے یاسر پیرزادہ کو ناروے آنے کی دعوت دی تاکہ وہ یہاں کے نظام کا مشاہدہ کر سکیں اور یہ دیکھا جا سکے کہ کیا پاکستانی کمیونیٹی ان جیسے لوگوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں بہبود اور بہتری کا کوئی کام کر سکتی ہے۔
یاسر پیرزادہ پاکستان کے معروف شاعر، ادیب اور کالم نگار اور ناروے میں پاکستان کے سابق سفیر عطا الحق قاسمی کے صاحبزادے ہیں۔ تنویر چوہدری نے یاسر پیرزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور سے یہاں آ کر تنہائی محسوس نہیں کرتے ہونگے کیونکہ یہاں کی فضا میں قاسمی صاحب کی محبت کی خوشبو موجود ہے۔ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ان کی محبت مثالی تھی۔ لہٰذا اس حوالے سے یہ شہر اور یہاں کے لوگ آپ ہی کے ہیں۔
تنویر چوہدری نے ادب اور ادبی لوگوں کے ساتھ اپنی وابستگی اور لگاؤ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ میں قلم ہے۔ یہ لوگ قابل عزت و احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر آنے والے سیاستدانوں کی نسبت ہمیں ان کا زیادہ خیال کرنا چاہئے کیونکہ یہ احساس کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں اور اور دردِ دل رکھنے والا طبقہ ہے۔
ناروے کے معروف پاکستانی نڑاد سیاستدان شہباز طارق نے یاسر پیرزادہ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ متجسس شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کی شخصیت میں قول و فعل کے تضاد کی بجائے تجسس اور تحقیق کا عنصر موجود ہے۔ ان کا کالم ‘‘ ایسا پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا ‘‘ ا س بات کا شاہد ہے۔ ان کی تحقیقی اور تجسس پسندانہ اپروچ نے ناروے کے سماجی ، سیاسی اور فلاحی نظام کا جس انداز سے تجزیہ کیا ہے ، وہ ان کی شخصیت کے ان پہلوؤں کی عملی مثال ہے۔
کاروان کے مدیر سید مجاہد علی نے پاکستان میں صحافت اور میڈیا کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صحافتی رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسر پیرزادہ نے اپنی محنت ، مشاہدے، تجربے اور عزم کے بل بوتے پر صحافت میں اپنا مقام بنا یا ہے۔ ہم پاکستان میں صحافت کی بہتری کے لئے بات چیت کرتے ہیں لیکن نئی نسل کے نمائندہ کے طور پر یاسر پیرزادہ امید کی کرن ہیں۔ وہ عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاسر پیرزادہ نے اپنی گفتگو میں ناروے کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے اور ان کا پاکستان کے حالات سے تقابلی جائزہ لیا۔ گفتگو کے آغاز میں ہی ان میں عطا الحق قاسمی کی جھلک محسوس ہوئی۔ انہوں نے اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کیا: ‘‘ جتنی میری تعریف یہاں پر کی گئی ہے وہ تو عام طور سے مرنے کے بعد ہوتی ہے ‘‘۔ پیرزادہ نے کہا کہ اس دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ملتا خواہ وہ تعریف ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا جو ملتا ہے وہ سمیٹ لینا چاہئیے۔
یاسر پیرزادہ نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ یہاں پر لوگ مجبوری اور خوف کی وجہ سے قانوں پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن اب عملاً دیکھا ہے کہ یہ ان لوگوں کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ ہے۔ جبکہ پاکستان میں 18 کروڑ لوگوں کی اخلاقی تربیت کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ یہاں پر پاکستانی لوگوں کے دلوں میں اپنے وطن کے لئے بہت درد ہے جبکہ پاکستان میں لوگوں کے دلوں میں کاغذی محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ مثلاً سوات کے علاقے میں امن و امان قائم ہؤا ہے۔ عدلیہ آزادی کی طرف گامزن ہے۔ 2013 کے انتخابات میں 50 فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں میں بہت صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں صحیح انداز سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں حالات تبدیل ہونے سے ان صلاحیتوں سے پاکستان ضرور مستفید ہو گا۔
عشائیے کا پروگرام نہایت پروقار انداز سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اوسلو کے ممتاز لوگوں کو اس دعوت میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور آپس میں تبادلہ خیال بھی ہؤا۔ لذیذ کھانے اور دلچسپ گفتگو کے ساتھ یہ تقریب رات گئے اپنے اختتام کو پہنچی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *