مشرق وسطیٰ میں نئے کھیل کا خاکہ

naveed chطویل عرصہ تک امریکہ کی گود میں بیٹھ کر عرب ممالک فریب خوردہ شاہیں ہو چکے تھے اور رہ ورسم شاہبازی بھول چکے تھے۔ دولت گویا آسمان سے برس رہی تھی۔ رفاہ عامہ کے بھی کئی کام ہوئے لیکن تعلیم و تحقیق کے میدان میں پیشرفت نہ ہو سکی۔ جنگجو نسل کے طور پر درخشاں تاریخ اور کارنامے قصہ پارینہ ہو چکے تھے۔ عرب ہونے کا مطلب ہی یہی ہوتا تھا کہ مال و دولت کی فراوانی اور تن آسانی کے ساتھ فضول خرچی میں کسی طور پیچھے نہ رہا جائے۔ عیاشی کی داستانیں تو عام تھیں ہی لیکن امریکہ اور یورپ کے بڑے بڑے جوئے خانے بھی انہی کے دم سے آباد رہے۔ تمام عرب ممالک سے قدرے ہٹ کر سعودی عرب کا دنیا اور خطے کی سیاست میں اہم کردار بہر طور موجود رہا۔ افغانستان میں روسی جارحیت کے بعد جہاد شروع ہوا تو کئی سعودی نوجوانوں نے لڑائی میں عملی طور پر شرکت کی۔ یوں تو دیگر عرب ممالک سے بھی مجاہدین کی آمد ہوئی مگر یہ نوٹ کیا گیا کہ جہاد کے حوالے سے سعودی نوجوان غیر معمولی جوش و خروش رکھتے تھے۔ 2001 ء میں خود امریکہ ان مجاہدین کی زد میں آیا تو معلوم ہوا کہ ٹوئن ٹاورتباہ کرنے کے منصوبے میں شامل 18 میں سے 16 نوجوانوں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔
سعودی حکومت نے بھی دیگر عرب ممالک کی طرح امریکہ کو ہی اپنا سب سے اہم اور مخلص دوست قرار دے رکھا تھا۔ 1979 ء کے انقلاب ایران کے بعد عرب ممالک کا خصوصاً دفاعی حوالے سے امریکہ پر انحصار پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور امریکہ خطے میں اپنا کھیل کھیلنے کیلئے سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا۔ 1990 ء کی دہائی کے آخر میں وہ وقت بھی آیا کہ جب کئی فورمز پر یہ بحث کھلے عام ہونے لگی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ دونوں ممالک چاہے اگر دوسرے کے خلاف کتنے ہی اشتعال انگیز بیانات یا دھمکیاں کیوں نہ دیتے رہیں جنگ کی نوبت کبھی نہیں آئے گی۔ یہ سال 2000 ء کی بات ہے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کسی اور موضوع پر ہونے والے سیمینار سے قبل ایک انتہائی سینئر مدیر نے ایک جواں سال ایڈیٹر سے کہا کہ آجکل امریکی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں، صورتحال بے حد خطرناک ہوتی جارہی ہے آپکا کیا خیال ہے کہ امریکہ، ایران پر کب حملہ کرے گا۔ ’’ایسا کبھی نہیں ہو گا‘‘ جواں سال ایڈیٹر نے پورے اعتماد کے ساتھ بلند آواز میں جواب دیا۔ توجیہ یہ پیش کی گئی اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے اسے برباد کردیا یا پھر محض اندرونی خلفشار کا شکار کر دیا تو پھر عرب ممالک کے سروں پر لٹکانے کیلئے کونسی تلوار باقی رہ جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ نے طے کر رکھا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹم بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسکے سوا باقی تمام معاملات پر یا تو صرف نظر کا مظاہرہ کیا گیا یا پھر خفیہ انداز میں غیر معمولی رعایتیں دی گئیں ۔آج جب جوہری معاملے پر امریکہ اور ایران میں معاہدہ ہو چکا ہے تو اوبامہ کا یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ حملے کا آپشن اس لیے استعمال نہیں کیا گیا کہ اس سے جنگ چھڑ سکتی تھی۔ یہ امریکہ ہی تھا کہ جس نے اسرائیل کو شہ دے کر عراق کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرائیں اور پھر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بے بنیاد کہانی عام کر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی۔
عرب ممالک کو خاصی تاخیر سے سہی لیکن آہستہ آہستہ معاملے کے پراسرار پہلوؤں کا اندازہ ہونے لگا۔ پھر یہ سوال بھی اٹھائے جانے لگے کہ طالبان، القاعدہ، داعش اور اس طرح کی دیگر تنظیموں کے حوالے سے امریکہ زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرتا ہے اور دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے ’’ خون کی پیاسی‘‘ حزب اللہ ہو یا اسکے معاون گروپ انکی جانب میلی نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاتا ،اسامہ کو پاکستان میں ڈھونڈ کر مارا گیا۔ ملا عمر روپوش، ابوبکر بغدادی پے در پے حملوں کے بعد زیر زمین چلے گئے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری نہ جانے کہاں ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ہیرو بن کر ابھرنے والے مقتدیٰ الصدر ہو ںیا پھر لبنان میں بیٹھ کر امریکہ اور اسرائیل کیلئے براہ راست خطرہ بننے حسن نصراللہ جو آئے روز ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطاب بھی کرتے ہیں۔ امریکہ نے آخر کس کھاتے میں انہیں نظر انداز کر رکھا ہے۔
عراق، لبنان، شام اور یمن میں ایرانی مداخلت کے مسلسل واقعات نے بالآخر عرب ممالک کو اپنی پالیسی میں ترمیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ حوثی باغیوں کے ذریعے یمن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اطلاعات کے بعد یمن میں حوثی باغیوں کیلئے جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ عسکری تربیت کا سلسلہ 2004 ء سے ہی شروع کر دیا گیا۔ ایک لاکھ کی بڑی تعداد میں جدید اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ حوثی جنگجوؤں کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ان باغیوں کو حیلوں بہانوں سے جدید امریکی اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا تھا۔ امریکہ کا منصوبہ یہی تھا کہ پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ایک خطے پر قبضہ کرنے کیلئے حوثیوں کی پشت پناہی کی جائے،پھر یہ بھی کہ دنیا بھر کو تیل کی فراہمی کے اہم ترین مرکز باب المندب پر حوثیوں کا جھنڈا گاڑ کر سعودی حکومت کو معاشی حوالے سے بھی لاچار کیا جائے۔ اس سارے خطے کے متعلق امریکی عزائم کی بھنک سعودی قیادت کو پہلے ہی پڑ چکی تھی۔ شاہ عبداللہ مرحوم کے دور میں ہی جب کبھی امریکی حکام بلکہ صدر اوبامہ ریاض آئے تو ملاقاتوں میں گرمجوشی نہ ہونے کے برابر تھی۔ بعض مواقع پر تو واضح طور پر دیکھا گیا کہ اعلیٰ امریکی شخصیات کے ساتھ موجود سعودی حکومت کے اکابرین کے چہروں سے بیزاری ٹپک رہی تھی۔ محض بیزار ہی نہیں، عرب اس مرتبہ چوکنا بھی تھے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کیلئے عرب ممالک کا فوجی اتحاد حرکت میں آیا تو خود امریکہ میں کھلبلی مچ گئی۔ امریکی کانگریس میں ارکان نے اس حوالے سے اوباما پر کڑی تنقید کی،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جائے کہ دوست ملک سعودی عر ب نے اس حملے کے حوالے سے امریکہ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ امریکی انتظامیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف بظاہر یہ بیان بازی کر کے عرب ممالک کے سامنے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی تھے۔ ایک ایسے موقع پر کہ جب پاکستان نے بھی مدد کرنے سے معذرت کر لی تھی اور سعودی عرب خود کو سنگین خطرات میں گھرا محسوس کررہا تھا امریکہ نے یمن میں بمباری جاری رکھی لیکن یہ حوثیوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہاں موجود القاعدہ عناصر کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔ عرب ممالک کے اتحاد خصوصاً سعودی فضائیہ نے شاندار جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑائی کا پانسہ پلٹ دیا۔ اس پوری لڑائی کے دوران ایران کی مذہبی ،سیاسی اور فوجی قیادت نے کئی بار سعودی عرب پر براہ راست حملے کی دھمکیاں دیں لیکن کسی نے کوئی اثر نہ لیا۔ سمندری حدود میں سعودی اور مصری جنگی بیڑے ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے نہ صرف موجود رہے بلکہ اسکا علانیہ اظہار بھی کرتے رہے۔ حوثی باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کیلئے جب کبھی بھی کوئی دھونس نما پیغام آیا تو بمباری مزید شدید کر دی گئی۔ یہ سب اس امر کی واضح علامتیں ہیں کہ خطے میں کسی بھی ایڈونچر کی صورت میں سعودی عرب اور اتحادی ممالک بھرپور حملہ کر کے جواب دینگے۔ یمن بحران کا فائدہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کو عوامی طور پر بھی پہنچا۔سعودی شہری اس بات پر مسرور پائے گئے کہ ان کے فوجی افسر اور اہلکار محض خوشنما تمغوں والی وردیاں زیب تن کر کے گھوم پھر نہیں رہے بلکہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہو کر لڑائی کے جوہر دکھارہے ہیں۔ بعض شہری تو اسقدر پرجوش پائے گئے کہ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اب ہمیں شام کے عوام کو اسدی آمریت سے بچانے کیلئے دمشق پر حملہ کر دینا چاہیے۔
امریکی عزائم آشکار ہونے پر سعودی حکومت نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنے کی پالیسی بھی ترک کر دی۔ فرانس کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوہری معاہدہ کے فوری بعد فرانس کے صدر نے کھل کر اپنے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ایران تجارتی پابندیوں کے خاتمے کے بعد حاصل ہونے والی رقوم کو دوسرے ممالک میں عدم استحکام کیلئے استعمال نہ کر سکے۔ جدید اسلحہ، لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی معاملات کے حوالے سے معاملہ اب صرف فرانس تک محدود نہیں۔ سعودی حکومت نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے وزیر دفاع محمد بن سلمان جو سعودی شاہ کے صاحبزادے اور نائب ولی عہد بھی ہیں کو خصوصی مشن پر روس بھجوایا۔ صدر پیوٹن نے روسی حکومت کے تمام بڑوں کے ہمراہ سعودی حکام کا پرجوش استقبال کیا اور بات چیت میں براہ راست شریک ہوئے۔ ان مذاکرات میں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول پر بھی بات کی گئی۔(دیگر عرب ممالک کا بھی مطالبہ ہے کہ انہیں ایران کے مساوی ایٹمی تنصیبات کی اجازت ملنی چاہیے) ۔
امریکہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کرنے میں اس لیے جلدی کی کہ اسے خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے تشویش لاحق ہو چکی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا شور و غوغا تو کجا کانگریس کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔ مشترکہ مہم تحت مختلف ممالک میں کی جانے والی کارروائیاں بھی منصوبے کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہیں۔ یمن میں میدان حوثیوں کے پیروں سے کھسک رہا ہے۔ عدن اور دیگر کئی اہم مقامات کے بعد اب کسی بھی وقت صنعا کے حوالے سے بھی ایسی خبر آسکتی ہے۔ حوثیوں کا گڑھ صعدہ اتحادی طیاروں کی بمباری کا خصوصی ہدف بن چکا۔ باقی آدھے ملک پر تو پہلے ہی سے القاعدہ قابض ہے۔ شام کے معاملے میں بھی پسپائی یقینی ہوتی جارہی ہے۔ اب تو بشار الاسد خود تسلیم کررہے ہیں کہ فوج کی تعداد بہت کم رہ گئی۔ تمام قوتیں ایک شہر سے ساحلی پٹی کو بچانے پر صرف کی جارہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں شاید یہ بھی ممکن نہ رہے۔ عراق میں سرکاری فوج، ایران نواز ملیشیا اور امریکی فضائیہ کی مشترکہ کارروائیوں کے باجوود رمادی جیسے قصبے کا قبضہ نہیں چھڑایا جا سکا۔ حالات کشیدہ ہی نہیں بلکہ خطرات پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ بحرین کی صورتحال پر سعودی حکام کی براہ راست نظر ہے۔ اس لیے چند سال قبل وہاں ہونے والے ہنگاموں کو کچلنے کیلئے سعودی فوج مختلف شہروں میں داخل ہو گئی تھی۔ یوں کہیے کہ مشرق وسطیٰ کے نئے کھیل میں پورا خطہ جنگی ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اب تمام سٹیک ہولڈروں کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہونگے۔
امریکہ کسی کا دوست ہے نہ آئندہ ہو گا۔ ایک سرکش اور گھمنڈی عالمی طاقت ،منافقت پر مبنی سفارتکاری کے تحت صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول اور پوری دنیا کو مستقل تابع کرنے کے مشن پر ہے۔ یاد رہے کہ پابندیاں اٹھ جانے کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ امریکہ کسی صورت ایٹم بم نہیں بنانے دے گا۔ اندرونی تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا اس وقت خود حکومت ایران کی مجبوری بن چکی ہے۔ قدامت پسندوں اور اعتدال پسندوں کی کشمکش کے کئی مناظر سامنے آ چکے۔ ایرانی عوام بیرونی دنیا سے میل جول اور آزادی کے خواہاں ہیں۔ ایران کیلئے بھارت اہم تجارتی پارٹنر ہے تو چین بھی اپنے لیے ایسا ہی مقام چاہتا ہے۔ پڑوسی پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن سمیت کئی معاملات پر پیش رفت سے دونوں ممالک بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی سرگرمیاں تجارتی اور اقتصادی مواقع تک محدود رکھنا ہوں گی۔ انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی شاید اب نہ چل سکے۔ پھر بھی ایسا کیا گیا تو عرب ممالک کے ساتھ ٹکراؤ کے امکانات بڑھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلقات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ مانا کہ اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ ایران کی جانب ہے لیکن ملکی مفادات پر ضرب لگتے دیکھی تو پالیسی بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ پاکستانی اشرافیہ آنے والے دنوں میں بھی ہر فیصلہ امریکی منشا کے مطابق کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *