کراچی سٹاک ایکسچینج کے قواعد میں ترمیم

kseقواعد کے تحت بروکروں کے نَیٹ کیپٹل بیلنس،لازمی اور سسٹم آڈٹ کی ذمہ داری ان آڈیٹرز کو سونپی جاسکے گی جو سٹیٹ بینک کی کیٹگری اے یا بی سے تعلق رکھتے ہوں

ترمیم سے مبالغہ آمیز این سی بی کا سلسلہ رک جائے گا بلکہ ان سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ بھی ہوگا جنہیں غلط معاشی اعداد وشمار سے دھوکہ دیا جاتا تھا، ایس ای سی پی اسلام آباد (اے پی پی)سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ایس ای سی پی نے کراچی سٹاک ایکس چینج کے قواعد میں ترمیم کردی ہے ۔ ترمیم شدہ قواعد کے تحت بروکروں کے نَیٹ کیپٹل بیلنس (این سی بی)،لازمی آڈٹ اور سسٹم آڈٹ کی ذمہ داری صرف ان آڈیٹرز کو سونپی جاسکے گی جو سٹیٹ بینک کے پینل کی کیٹگری اے یا بی سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایس ای سی پی کے بیان کے مطابق اہل کاروں کو بروکریج فرموں کے معائنوں کے دوران متعلقہ قوانین اور قواعد کی ان خلاف ورزیوں کا پتہ چلا تھا۔ مثلاً این سی بی سے متعلقہ قانونی تقاضوں کی غلط تشریح و تو ضیح کی جارہی تھی۔ یہ صورت حال سرمایہ کاروں کے مفادات کے لئے خطرنا ک تھی۔این سی بی کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار سے بروکرز کے لئے اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر حصص کی خریداری کے معاملے میں رسک لینا آسان ہوجاتا تھا۔ اس طرح یہ رسک ایکس چینج ٹریڈنگ سسٹم کو منتقل ہوجا تا تھا۔ اس ترمیم سے نہ صرف مبالغہ آمیز این سی بی کا سلسلہ رک جائے گا بلکہ ان سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ بھی ہوگا جنہیں غلط معاشی اعداد وشمار سے دھوکہ دیا جاتا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *