بجلی بحران کی وجوہات اور حل ؟

zeeshanاس وقت جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے ، پاکستان کے بیشتر علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں - جون جولائی میں گرمیوں کی شدت اس وقت دو گنا ہو جاتی ہے ، جب چلتے پنکھے رک جائیں ، اور شہری علاقوں کی تنگ گلیوں میں چھوٹے چھوٹے گھروں کے مقیم کھڑکیوں اور دروازوں کو لپکیں تو ہوا کا گنجان آبادی میں داخلہ بند ہو ، گھر کے صحن کی دھوپ بدن کو جھلسا ڈالے اور کمرے کی حبس دماغ کے تارو پود ہلا ڈالے ...اسی طرح کی کیفیت جب رات میں ہو ، بجلی چلی جائے ، آپ کمرے میں سو رہے ہو ، اور گرمی و گھٹن سے رات گزرنا مشکل ہو جائے ، آپ ساری رات بے آرامی میں گزاریں ، تو صبح یقینا آپ چڑچڑے پن کا شکار ہوں گے ، اور آپ کی دفتر و کاروبار میں کارکردگی انتہائی کم ہو گی ، یہ سراسر ذہنی تشدد ہے جو اہل پاکستان کافی برسوں سے بھگت رہے ہیں اور ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ، جو اس مسئلہ کو حل کردے

دوسری طرف معیشت کے میدان میں بھی اس کا برا اثر پڑ رہا ہے ، قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں گروتھ کی شرح اس کی وجہ سے دو فیصد کم ہے ، ورلڈ بنک جاری سال کے لئے پاکستان کے لئے معاشی گروتھ ریٹ چار عشاریہ چار کی پیش گوئی کر رہا ہے ، اگر بجلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا تو اس وقت ہماری ترقی کی شرح چھ عشاریہ چار فیصد ہوتی ، جو یقینا ایک بہترین معاشی ہندسہ ہوتا ..... بجلی کے بحران کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کا پیداواری خرچ (پروڈکشن کاسٹ ) بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ دنیا میں مزید مہنگی ہو گئی ہے ، یہی سبب ہے کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ایک چوتھائی صنعتیں بند پڑی ہیں ، جس سے لوگوں کے روزگار پر منفی اثر پڑا ہے - اب سوال یہ ہے کہ آخر اس بحران کی وجوہات کیا ہیں ، اور آخر کیا وجہ ہے کہ تقریبا تین حکومتیں اسے حل کرنے میں ناکام رہی ہیں - آئیے اس کے بنیادی سبب گردشی قرضہ یعنی (سرکلر ڈیبٹ) کو سمجھتے ہیں، جن پر ہمارا سالانہ خرچہ ہماری جی ڈی پی کے تقریبا تین سے چار فیصد کے برابر ہے جو گورنمنٹ کے تعلیم و صحت پر کل خرچ کے تقریبا برابر ہے ....آئیے اسے تفصیل سے سمجھتے ہیں
پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی سرکاری و پرائیویٹ کمپنیاں جنہیں مجموعی طور پر "جینکو" کہا جاتا ہے ، مقامی اور انٹرنیشنل تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں سے تیل خریدتی ہیں اور بجلی پیدا کر کے اسے بجلی خریدنے والے قومی ادارے "سی پی پی اے " کو فروخت کر دیتی ہیں ، یہ ادارہ بجلی کو پورے ملک میں تقسیم کرنے والے قومی اداروں جنہیں ہم مجموعی طور پر "ڈسکوز " کہتے ہیں کو فروخت کر دیتا ہے ، یہ ڈسکوز اسے پھر صارف کو بیچتا ہے ، صارف اسے خرچ کرتا ہے ، بل کی ادائیگی کرتا ہے ، وہ بل ڈسکوز اکٹھے کرتے ہیں ، اپنے روزمرہ کے اخراجات نکال کر باقی کے پیسوں سے "سی پی پی اے " کو ادائیگی کرتے ہیں ،جو آگے جینکو کو ادائیگی کرتا ہے ، اور پھر جینکو ان پیسوں سے تیل خرید کر مزید بجلی پیدا کر کے اسے سی پی پی اے کو بیچ دیتا ہے ، یوں یہ سائیکل چلتا رہتا ہے
پاکستان میں بجلی کے بحران کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بجلی کو تقسیم کرنے والے اداروں کو صارفین کی طرف سے صرف اتنی ہی رقم اکٹھی ہوتی ہے کہ ان پیسوں سے ان اداروں کا خرچہ ہی چلتا ہے ، یوں یا تو یہ "سی پی پی اے " کو ادائیگی ہی نہیں کرتے ، اور اگر کرتے بھی ہیں تو اتنی محدود کہ اس سے سی پی پی اے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو انتہائی کم ادائیگی کرنے کے قابل ہوتا ہے ، جو پھر آگے تیل کی کمپنیوں کو مطلوبہ پیسے نہ دینے کے باعث تیل کی سپلائی لینے سے محروم رہ جاتے ہیں اور یوں بجلی پیدا کرنے کا عمل ہی رک جاتا ہے یا کم پڑ جاتا ہے ، اسے آپ ذیل میں دی گئی شکل سے بھی سمجھ سکتے ہیں ، اس عمل کو پھر سے چالو کرنے کے لئے حکومت سبسڈی دیتی ہے جو کہ دو ہزار بارہ میں جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر تھی ، اور صرف دو ہزار چودہ کے لئے یہ گردشی قرضے تقریبا چار ارب ڈالر کے برابر تھے
ان گردشی قرضوں کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل حقائق بھی غور طلب ہیں
اس وقت پاکستان میں بجلی کی ترسیل (ڈسٹربیوشن) کا جو نیٹ ورک موجود ہے وہ اتنا بوسیدہ ہے کہ صرف پندرہ ہزار میگاواٹ اس میں سے گزر سکتا ہے ، اگر حکومت بجلی کی پیداوار کو تین سے چار گنا بھی بڑھا دے تو یہ پندرہ ہزار کا ہندسہ عبور ہوئے ہی پاور ٹرانسمیشن لائنز کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور پورے ملک میں بجلی کا بریک ڈاو¿ن ہو جاتا ہے جو ہم نے دو تین مرتبہ دیکھا بھی ہے ... جیسے جنوری دو ہزار پندرہ میں پورے ملک میں، اور گزشتہ ماہ پورے کراچی میں بجلی کا بریک ڈاو¿ن....... اس کے علاوہ یہ پاور ٹرانسمیشن لائنز اتنی ناکارہ ہیں کہ بجلی کی کل پیداوار کا تقریبا ایک چوتھائی ان میں electricityضائع ہو جاتا ہے-
گورنمنٹ پرامید ہے کہ دو ہزار سترہ تک وہ بجلی کا مسئلہ حل کر لے گی ، اس سلسلہ میں امید کے تین بڑے ذرائع ہیں : پاک چین معاشی راہداری ، ترکمانستان افغانستان اور پاکستان گیس پائپ لائن اور بجلی کی ترسیل (امید ہے کہ اس سے دو ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی ) ، اور پاک ایران گیس پائپ لائن (جس کی امید بعض فنی وجوہات کے باعث کافی کم ہے) ، ان پروجیکٹس سے یہ تو ممکن ہے کہ بجلی کا مسئلہ کافی حد تک کم ہو جائے ، مگر مستقل بنیادوں پر حل ہوتا نظر نہیں آتا-
بجلی کے مسائل کو حل کرنا ہر حکومت کے لئے کٹھن رہا ہے ، اس مسئلہ کے ساتھ ووٹ منسلک ہے ، جو یہ مسئلہ حل کر دے وہ فاتح ہے ...مگر اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کو حل کیسے کیا جائے ؟ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ ہمارے ٹرانسمیشن سسٹم کی آخری حد پندرہ ہزار میگاواٹ ہے ...اب کیا ممکن ہے کہ حکومت پورے ملک کی تمام لائنز ، اور سارے کے سارے سسٹم کی جگہ نیا سسٹم انسٹال کرے ؟ یہ ایک مہنگا اور غیر ضروری عمل ہو گا - ....ضروری یہ ہے کہ ہم دنیا سے سیکھیں کہ ترقی یافتہ ممالک بجلی کے انتظام کو کیسے بہتر چلا رہے ہیں ... اس سلسلے میں درج ذیل چند تجاویز ہیں، جن پر غور کرنا اہم ہے -
گھریلو استعمال کے لئے شمسی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے آلات کو ڈیوٹی فری رکھتے ہوئے اس بات کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ ہر گھر شمسی ذریعہ سے بجلی کی پیداوار میں تقریبا خود کفیل ہو - شمسی توانائی محفوظ ، ماحول دوست ، اور کم لاگت کا بہترین انتظام ہے ....اس سلسلہ میں ہم اگر "سڈنی، آسٹریلیا" کی مثال لیں تو وہاں گورنمنٹ ہر گھر کے لئے شمسی بجلی پیدا کرنے والے آلات پر پچاس فیصد کی سبسڈی دے کر ہر گھر کو بجلی کی پیداوار اور خرچ میں تقریبا خود کفیل کر رہی ہے ، اگر ہم گھریلو بجلی کا مسئلہ تقریبا حل کر لیتے ہیں تو صنعتی استعمال کے لئے بجلی وافر مقدار میں موجود ہو گی ..... اور یہ فنی طور پر ممکن نہیں کہ صنعتیں شمسی توانائی پر مکمل طور پر منتقل ہو سکیں ، اس سلسلے میں ایک تحقیق کے مطابق اگر صنعتی یونٹ شمسی توانائی پر انحصار کرنا بھی شروع کر دیں تو اس سے محض ستاسی میگاواٹ کی بچت ہو گی
ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پرائیویٹ سیکٹر کو اس شعبہ میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جائے ، جس کے لئے شرط یہ ہے کہ پورے سیکٹر کو غیر ضروری اداروں کے جال سے چھٹکارا دے کر اسے عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگ کیا جائے اور کسی ایک ادارے سے اسے باضابطہ بنایا جائے - پورے سسٹم کی مرکزیت کو ختم کیا جائے ، اور علاقاعی بنیادوں پر پیداوار و تقسیم کا نظام قائم کیا جائے ، جیسا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہا ہے-
ایٹمی بجلی گھر نسبتا محفوظ علاقوں میں لگائے جائیں ، جو یقینابجلی کا سستا اور طویل مدتی ذریعہ ہے
بجلی تقسیم کرنے والے اداروں "ڈسکوز " کا مسئلہ ایک تو پرانا اور کمزور انفراسٹرکچر ہے تو دوسرا ضرورت سے زائد عملہ ہے ، یوں ان کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے .... بجلی چوری سنگین مسئلہ ہے ، اور سرکاری ملازمین کو بجلی کے بلوں پر استثنیٰ غیر ضروری ہے ....ان سب مسائل کو حل کرنا ضروری ہے
حکومت تین سے چار فیصد جی ڈی پی کے برابر خسارہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی، باوجود اس کے بجلی کا مسئلہ پھر بھی روز بروز بگڑتا جا رہا ہے - اس سلسلے میں سنجیدہ اور طویل مدتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے

ذیشان ہاشم zeehashim پہ ٹوئٹر) (twitterکرتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *