ٹینک مین کی تلاش

آج کل لندن کے ویسٹ اینڈ تھیٹرڈسٹرکٹ میںIrfan Hussain Chimerica کے ٹکٹ سب سے زیادہ فروخت ہورہے ہیں۔ ناقدینِ فن اس کی بہت تعریف کررہے ہیں۔ چناچہ جب میں اسے دیکھنے Harold Pinter Theatre گیا تو وہاں ھاؤس فل شو تھا۔ اس کھیل، جسے لوسی کرک ووڈ نے چھے سال کے عرصے میں تحریر کیا جبکہ لنڈسے ٹرنر (Lyndsey Turner) نے اس کی سٹیج ہدایات دیں، کی کہانی لندن اور بیجنگ کے درمیان گھومتی ہے۔ اس کی انتہائی متاثر کن کہانی سیاست ، خبط اور گزشتہ تین دھائیوں کے درمیان چین کی برق رفتار ترقی اور اس کے کچھ منفی اثرات کا احاطہ کرتی ہے۔
اس کھیل میں سب سے متاثرکن اور دیرتک ذہن پر اپنا تاثر چھوڑ جانے والا منظر وہ ہے جب بیجنگ کےTiananmen Squareمیں پانچ جون 1989 کو ایک تنہا آدمی اچانک وہاں سے گزرنے والے ٹینکوں کی صف کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس منظر کے گواہ بتاتے ہیں کہ سب سے آگے جانے والا ٹینک اس سے ایک طرف ہو کر گزرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ آدمی جلدی سے اُس کے آگے ہوکر اس کا راستہ روک دیتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ٹینک اسے ڈاج دیتے ہوئے گزرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ آدمی مستعدی سے اُس کے آگے کود جاتا ہے۔ چند منٹ تک ’’چوہے بلی ‘‘ کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ آخرکار وہ آدمی، جسے تاریخ میں ’’ٹینک مین ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ٹینک کی باڈی پر چڑھ گیا اور اس میں موجود کمانڈر سے مختصرسی گفتگو کا تبادلہ کیا۔ جب وہ نیچے اترا تو سول کپڑوں میں ملبوس دو افراد نے اُسے دبوچا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد کسی کو نہیں معلوم کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا؟چینی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ اُس آدمی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی، لیکن بہت سوں کو یقین ہے کہ اُسے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کچھ کا خیال ہے اُسے اُس کے دوسرے ساتھی ، جو احتجاج کر رہے تھے، وہاں سے بھگا کر لے گئے۔
اس واقعہ سے ایک دن پہلے Tiananmen Square میں احتجاج کرنے والے سینکڑوں نہتے شہریوں کا قتلِ عا م کیا گیا تھا۔ اُن میں سے زیادہ تر طلبہ تھے اور وہ کئی ہفتوں احتجاج کررہے تھے ۔ اُن کا احتجاج مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی کے خلاف تھا۔ جب حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اس نے احتجاج کرنے والوں سے چوک کو خالی کرانے کے لیے تین لاکھ فوجی بھیج دیے۔ اس قتلِ عام میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد کا تاحال کسی کو علم نہیں لیکن کچھ ناقدین کا اندازہ ہے کہ ان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی تھی۔ چونکہ اُس ملک پر ایک پارٹی کی مضبوط گرفت ہے ، اس لیے ایسے واقعات کو تاریخ کے صفحات سے آسانی سے مٹایا جاسکتا ہے، چناچہ آج نوجوان نسل میں سے بہت کم کو اس واقعہ کا علم ہے۔ درحقیقت ایک ربعہ صدی سے اس واقعہ کا جو واحد امیج دستیاب ہے، وہ اس ٹینک مین کا ہی ہے۔
اس گمنام ہیرو کی تلاش ہی اس کھیل کا موضوع ہے۔ کھیل میں سٹیفن کیمبل مور نے امریکی فوٹوگرافر صحافی جو سکفیلڈ کا کردار بہت عمدگی سے ادا کیا ہے۔ اس نے اپنے ہوٹل کی کھڑکی سے ٹینک مین کا منظر فلمایا اور اس سے پہلے کہ سیکورٹی والے آکر اُسے گرفتار کریں، اس نے اس فلم کو ٹوائلٹ میں چھپا دیا۔ بیس سال بعد وہ ایک امریکی اخبار کا نمائندہ بن کر دوبارہ بیجنگ گیا۔ وہاں اُس کی ملاقات پرانے چینی دوست ذھانگ لن(Zhang Lin) سے ہوتی ہے( اس کا کردار بینی ڈکٹ وھنگ نے ادا کیا ہے)۔ یہ شخص بیس سال پہلے ہونے والے احتجاج میں شامل تھا۔ جو سکفیلڈ نے یہ معلوم کرنے کی بہت کوشش کی کہ اُس ٹینک مین کا کیا انجام ہوا؟ اس کوشش میں اُسے بہت سے چینی افراد ملے جو چین سے فرار ہو گئے نیویارک آگئے تھے۔ اس نے بہت سی متفرق اور بکھری ہوئی معلومات حاصل کیں یہاں تک کہ اُس کے ایڈیٹر نے اُسے اُس کہانی سے ہٹا دیا۔
جس دوران جو ٹینک مین کی تلاش کے خبط میں مبتلا تھا، ہم اُس کے اخبار کے مدیر، ایک امریکی سینٹر اور چند ایک چینی تارکینِ وطن سے ملتے ہیں جو غیر قانونی طور پر امریکہ آئے تھے۔ جب ایک موقع پر جو کو سرکاری مدد درکار تھی تاکہ وہ 2008 کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن کے چینی ڈونر کو تلاش کرسکے تو اُس نے خفیہ ریکارڈز سے ایک ڈیموکریٹ سینٹر کے بارے میں معلوما ت حاصل کیں تاکہ اُسے بلیک میل کرکے اُس چینی ڈونر کا پتہ چلا سکے ۔ جب جو کے ایڈیٹر کو اس کاروائی کا علم ہوا تو اُس نے جو کو ملازمت سے نکال دیا۔
جہاں اس کھیل میں چینی حکومت کے جابرانہ رویوں کو آشکار کیا گیا ہے، وہیں یہ افسوس ناک حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ دنیا کا حافظہ بہت کمزور ہوتاہے اور بہت بڑے بڑے اور تکلیف دہ واقعات بھی اس کی یادداشت سے محو ہوجاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے لاکھوں افراد غربت کے شکنجے سے رہائی پا چکے ہیں، لیکن یہ ابھی بھی ایک پولیس اسٹیٹ ہے۔ ایک منظر میں جب ذھانگ اپنے علاقے میں آلودگی کے خلاف گمنام رہتے ہوئے ایک آرٹیکل لکھتا ہے تو حکومتی ادارے اُس کا ای میل ایڈرس کی مدد سے کھوج لگا لیتے ہیں۔ غالباً امریکی کی انٹر نیٹ سروس نے اُس کی معلومات چینی سیکورٹی حکام کو دے دیں(ڈرامے میں نام نہیں بتایا گیا لیکن غالباً گوگل ایسا کرتا ہے)۔ پھر ذھانگ کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد امکان ہے اُسے دوبارہ کبھی ملازمت نہیں ملے گی۔
اس کھیل میں چین اور امریکہ کے درمیان بہت ہی پیچیدہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس ڈرامے کا نام Chimerica چین اور امریکہ کے ناموں کے ادغام سے بنایا گیا ہے۔ جو کا ایک دوست مل (Mel )مسلسل شاقی رہتا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہزاروں امریکی ملازمتیں چینیوں کو دے دی گئی ہیں۔ وہ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ امریکہ کی معاشی قوت زوال کا شکار ہے۔ وہ جو کو یاد دلاتا ہے کہ چینی تارکینِ وطن لندن اور پیرس کی بجائے نیویارک کا رخ کررہے ہیں۔ اس کھیل کا متاثر کن اثر اس وجہ سے بھی ہے کہ اس کی سٹیج پرفارمنس بہت عمدہ ہے۔ اس میں ایک بڑی کیوب استعمال کی گئی ہے جس کو حرکت دینے سے سٹیج کا منظر تبدیل ہوجاتا ہے۔ ان تبدیل ہوتے ہوئے مناظر سے ہم کبھی نیویارک اور کبھی بیجنگ کے مناظر دیکھتے ہیں۔ ناظرین بہت جوش محسوس کرتے ہیں کہ وہ ابھی امریکہ میں تھے اور اگلے ہی لمحے وہ چین میں ہیں۔ اس ٹیکنک سے کھیل کی رفتا ر بہت تیز ہوجاتی ہے۔ موسیقی اور اعلانات کے ذریعے ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا تاثر ملتا ہے کہ وہ بھی اس کھیل کا حصہ ہیں۔
اس وقت عالمی افق پر چین نے امریکہ کو صنعتی پیداوار میں مات دے دی ہے۔ بہت جلد اس کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے جارہی ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا خوشنما نہیں ہے کیونکہ چین دنیا میں آلودگی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ کرہ ارض کی 23 فیصد کاربن ڈائی اکسائیڈ چین سے اٹھ کر فضا میں شامل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے چینیوں کا خیال ہے کہ ان کے ملک پر آلودگی پھیلانے کی وجہ سے عالمی سطح پر جو تنقید کی جاتی ہے ، اس کی وجہ یہ کہ حریف ممالک ان کی ترقی کی رفتار کم کرنا چاہتے ہیں۔ چین میں ماحولیات پر ان کے اثر کی پروا کیے بغیر ڈیم تعمیر کیے جارہے ہیں۔ مغرب کے ساتھ مسابقت کی جلدی میں چین نے وسیع علاقے اور وہاں پر آباد افراد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس پر گاہے بگاہے احتجاج بھی ہوتا رہتا ہے۔ بیجنگ ، جو چند عشرے پہلے تک بائیسکلوں کا شہر ہوتا تھا، ا ب کاروں اور موٹر سائیکلوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس وقت چین کے زیادہ تر باشندوں کی مالی حالت باقی دنیا سے بہت بہتر ہے لیکن یہ کھیل ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے لیے چینی باشندوں نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے... اور کررہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *