خُدا کے جاہِل شاگرد

aftab hussainلکھنے والے کے لیے ہمارے ہاں عام طور پر تخلیق کار یا تخلیقی فن کار کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اِس سلسلے میں اِدھر کچھ عرصہ سے پنجابی لفظ لکھاری کا چلن بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ اُدھر ہندی والے اور شاید ہندی ہی کے زیرِاثر مشرقی پنجاب میں لکھاری کے ساتھ ساتھ لیکھک بھی مستعمل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آخر الذکر سبھی الفاظ لکھنے کے عمل سے یا لکھنے کے اوزار، لیکھنی سے مشتق ہیں۔ ہاں، ایک لفظ قلم کار بھی تو ہے۔ لیکن شاید یہ لفظ اِدھر کچھ ٹکسال باہر ہوتا جا رہا ہے۔تاہم دیکھا یہی گیا ہے کہ لکھنے والا، خاص طور پر اگر وہ شعر کہتا ہو، اپنے لیے تخلیق کار اور اپنی لفظی پیداوارکے لیے تخلیق کے الفاظ کو زیادہ پسند کرتا ہے۔شاعروں کی یہ خواہش یا رویّہ اپنے آپ کو مکّھن لگانے والا کام تو ہے ہی، اِس کے پیچھے یہ خیال بھی کارفرما رہتا ہے کہ بھئی، یہ شعر گوئی کوئی عام،معمولی سر گرمی، کوئی پیشہ ویشہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریضہ ہے جو صرف برگزیدہ ہستیوں ہی کو تفویض کیا جاتا ہے۔

کوئی پوچھے کہ صاحب ، کسی موچی کو کیوں نہ تخلیق کار کہا جائے اور ایک عمدہ جوتے میں تخلیقی شان کیوں نہیں ہو سکتی!۔تو اِس سوال ہی کو پوچھنے والی کی بد ذوقی پر محمول کیا جائے گا۔ بھلا کہاںنازک خیالات کی ترسیل کے لیے لفظوں کی ترش خراش اور کہاںجوتے بنانے کا گھٹیا کام! لیکن جناب، کمھار کو تو، جسے شاعری کی زبان میں کوزہ گر کہا جاتا ہے، خود آپ ہی تخلیق کار مانتے (رہے)ہیں۔
خیر اب اس کو کیا کہا جائے کہ ہماری شعری روایت میں کمھار کی تو ایک گونہ رومانی تجلیل ہوئی ہے، بے چارہ موچی، موچی ہی رہا۔ چنانچہ شاعراگرکبھی شعری عمل کا موچی کے کام سے کچھ تال میل بناتا بھی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتا ہے کہ موچی والا کام گھٹیا ہے:
گانٹھتے ہیں پھٹے ہوئے جذبات
ہو کے سیّدبنے سلیم چمار
شعر کے تیور صاف بتا رہے ہیں کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی!
یہ الگ بات یہ ہے کہ اس شعرسے اردو شاعری میںدَ لِت شعور پر تحقیق کرنے والوں کو موادفراہم ہورہا ہے۔لیکن بے چارے سلیم احمد ہی کیوں!ہماری شعری روایت تو اِس طرح کی مثالوں سے پٹی پڑی ہے۔غالب جیسا بڑا شاعر اپنے ادبی حریف ابراہیم ذوق کے مُبیّنہ خاندانی اُسترے کے سامنے اپنی موروثی تلوار لہراتادکھائی دیتا ہے۔
ع : سو پشت سے ہ ہے پیشہءآبا سپہ گری
اگرچہ مولانا جامی بتاگئے ہیں:
کہ درین ابنِ فلاں ، ابنِ فلاں چیزی نیست (عشق میں شجرہ وَجرہ نہیں چلتا)
اور بعد میں اپنے حالی صاحب نے بھی تومصرع اُٹھایا تھا ۔
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
لیکن ہماری شاعری میں حسب نسب والا چکّر چلتا ہی رہا، خود ہمارے زمانے میں بھی چل رہا ہے۔
لیکن خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ بات تو تخلیقی فن کار کی ہو رہی تھی۔لکھنے والے ، خاص طور پر شاعر میں ماورائی قوّت کی موجودگی کا تصّور بہت پُرانا ہے۔ افلاطون اپنی مثالی ریاست سے شاعروں کو نکال باہر کرنے کی بات تو کرتا ہے لیکن وہ اُن کی تکریم بھی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ دیوی دیوتاﺅں کے زیرِ اثر لکھتے ہیں۔اورچونکہ شاعر ں کے خیالات اور تصوّرات فہمِ عامّہ سے ماوراءہوتے ہیں لہٰذا یہ لوگ عامةالنّاس کی معاشرتی زندگیوں میں خلل اور خلفشار کا موجب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی مجوّزہ مثالی ریاست سے اُنکے اِخراج کی تجویز پیش کرتا ہے۔شعری تحریک (انسیپیریشن) کا یہ تصّور مغرب میں بہت دیر تک قائم ریا اور اسی تصّور کے زیرِ اثر شعرا کو تخلیق کار یا معمار (میکر) کہا گیا ہے۔ رومانیت کی تحریک نے اس تصّور کو مزید مستحکم کیا لیکن اس تحریک کے زوال کے بعد رفتہ رفتہ یہ تصّور بھی باطل ہوتا چلا گیا۔اب کوئی بھولا بھٹکا اور بے خبر شخص بھلے ہی جہاں تہاں تخلیق، تخلیقیت اور تخلیق کار کی اصطلاحیں استعمال کر جاتا ہو۔عمومی طور پر اس طرح کا طرزِ اظہار ناپید ہی سمجھیے۔تخلیق کار کیا،ساختیات اور مابعد ساختیات والوں نے توخودلکھنے والے کے وجود ہی پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب نقّاد تو نقّاد خود شاعر اپنے شاعری کو محض شاعری یا شعری متن ہی کہتا ہے۔ اگرچہ مصنف کی موت کے اعلان کے باوجود خود مصنف کی اصطلاح غائب نہیں ہوئی لیکن بہرحال، ظاہر ہے کہ اِس لفظ میں تخلیق کار کی سی تعلّی نہیں۔ سو ،جہاں مصنف یا لکھنے والے کے کام کی صراحت مقصود ہوئی ، شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، ناول نگار استعمال کر لیا۔ اللہ اللہ ، خیرسلّا!
لیکن اِدھر، ہمارے ہاںلکھنے والے ، خاص طور پر شاعر کے لیے تخلیق کار کے تصّور کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ قائم و دائم ہے بلکہ اِس میں روزافزوں ترقّی ہوتی جارہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مشرق میں، بالخصوص عربی عجمی ادبی روایت میں اس تصّور کی پشت پر الشّاعرُ تِلمیذ الرّحمٰن ( شاعر خدا کا شاگرد ہوتا ہے) کا نظریہّ کارفرما ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعری ایک عطیّہءخداوندی ہے، کوئی اکتسابی عمل نہیں۔ مغرب میں شاعر کے بوہیمیئن ہونے کا تصوّر بھی نا پید ہو چکا ہے۔ آپ کو شاذ ہی کہیںکوئی ایسا شخص دیکھنے کو ملے گا جو محض اپنے حُلیہ یاہییتِ کذائی کی بنیاد پر اپنے آپ کو شاعر وغیرہ ثابت کرانا چاہتا ہو جبکہ ہمارے ہاں بفضلِ تعالیٰ ساغر صدّیقی کی ذُریّت نہ صرف یہ کہ ایک طمطراق کے ساتھ موجود ہے بلکہ پورے تُزک و احتشام کے ساتھ پھل پُھول رہی ہے۔لباس، وضع قطع اور مجموعی رویّوں کی بوالعجب ترتیب کے پیچھے بھی یہی فکر کارفرما نظر آتی ہے کہ بھئی ، ہم عامة النّاس سے الگ ہیں ، مختلف ہیں اور دوسرے لفظوں میں برتر ہیں۔ یہ طرزِ فکر، بلکہ کہنا چاہیے طرزِاحسا س، ہمارے شعراءمیں زیادہ پایا جاتا ہے۔ شاعری کو ادب کی ملکہ سمجھتے ہوئے بیشتر شاعر اِس زُعم میں مبتلا دکھاتی دیتے ہیں کہ ادب کی دیگر اصناف سے وابستہ لوگ کسی نہ کسی طرح ماتحت سرگرمیوں سے متعلّق ہیں۔ نقّاد اور مترجمین کو تو نہ صرف باہر کا آدمی ،مشقّتِ محض کرنے والا بلکہ بھاڑے کا ٹّٹو ہی خیال کیا جاتا ہے۔ کافی عرصے کی بات ہے یورپ میں مقیم ایک صاحب کہ اردو شاعری اورفکشن کے نام پر خدا جانے کیا الا بلاگھسیٹتے رہتے ہیں، ایک بار مجھ سے کہنے لگے: ’ دیکھیے نا بھائی! اب مَیں تو تخلیقی آدمی ہوں۔ وہ، فلاں صاحب ہیں نا.... ٹھیک ہے، کچھ افسانہ وفسانہ بھی لکھتے ہیں۔وہ بھی ادب کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن بنیادی طور پر تو مترجم ہی ہیں نا۔۔۔!‘ مَیں اُنھیںپلٹ کر کچھ جواب دیناچاہتا تھا لیکن پھر تھوڑاسوچ کر چُپ ہو گیا۔ اور وہ یہ کہ حضت کم سے کم عمر کے لحاظ سے تو مجھ سے سینئر ہیں۔ یعنی بزرگ بھلے نہ ہوں، پیرِ نابالغ تو ہیں ہی۔دوسرا یہ کہ کہولت کی اِس منزل تک پہنچ کر بھی اگرموصوف کو اپنی بے تہی کا اِدراک نہیں ہو پایا تو جیسے تیسے کر کے دو چار برس اور بھی گزار ہی لیں گے۔ مَیں اُن کے گزر جانے کا سبب کیوں بنوں!
تو خیر بات شاعر کی وہبی صلاحیت یا الوہی تحریک کی ہو رہی تھی۔ مغربی ممالک میں شاعر کے ساتھ ایک لطیف اور کسی حد تک رومانی شخص کی شبیہ بھلے ہی اُبھرتی ہو، خودشاعرمعاشرتی عمل میں شمولیت یا عملی زندگی میں شراکت کے حوالے سے کسی نوع کی کوئی رعایت نہیں لیتا۔مزید برآں، وہ اپنے آپ کو شاعر ہونے کی نرگسیت میں مبتلا رکھنے کے بجائے ادب کے دیگر شعبوں اور علوم کے دوسرے سررشتوں سے اپنا تعلّق جوڑے رکھتا ہے۔اور اِدھرہمارے بیشتر شعرا،خاص طور پر غزل میں طالع آزمائی کرنے والوں کیایک فوجِ ظفر موج اپنے آپ کو تلمیذالرحمٰن کے درجے پر متمکّن سمجھتے ہوئے یہ خیال کیے بیٹھی ہے کہ شعر اورعِلم نہ صرف دو الگ الگ بلکہ اَنمِل اور بے جوڑ چیزیں ہیں۔یہ رویّہ فلسفہ، نفسیات یا دیگر علوم تو در کنار، اکثر اوقات تو خوداپنی شعری روایت کے بنیادی سرچشموں اور مختلف دھاروں تک سے آگاہی کو بھی کارِ لاحاصل گرادنتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہمارے ہاں’تخلیقی ‘آدمیوں کی تعداد توبڑھتی جارہی ہے،شاعر کم ہوتے جا رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *