برطانیہ میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت

sibte Hasanسماجی خرابیاں گھر کے صحن میں اُگ آنے والے ببول اور خار دار جھاڑیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو پہلے پہل راستہ دشوار ہوتا ہے پھر ایک دن گھر گھر نہیں رہتے جنگل بن جایا کرتے ہیں۔اس کا عملی تجربہ ہم پاکستانیوں سے بڑھ کراور کسے ہو گا؟۔ مغرب کی پچھلے پانچ سو سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فرقہ واریت سے بڑھ کر کوئی سماجی برائی نہیں ہوتی۔ مغرب نے بہت مشکل سے اس خار دار فصل سے اپنی زمین اور سماج کو پاک کیا۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی آپس کی لڑائی نے سینکڑوں نہیں ہزاروںانسانوں کی جان لی۔ بہت دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ اور انسانیت برباد ہوتی رہی۔ بدقسمتی سے ہم گزشتہ چار دہائیوں سے اس انسانیت سوز صورت حال کا شکار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں کا حساب لگائیں تو جو حساب بیٹھتا ہے۔ اس کو دیکھ کر اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔کم از کم ایک لاکھ سے زائد انسان اس عفریت کا لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ طرح طرح کی سماجی نا انصافیوں سے تنگ آکر ہم لاکھوں پاکستانیوں نے اپنا وطن چھوڑا۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کی جلاوطنی کے عذاب ِمسلسل کا طوق اپنے گلے میں ڈالا۔انسانیت دوست جمہوریتوں کا فیض تھا کہ ہمیں وہ بنیادی انسانی حقوق ملے جن کا وطن میں ہم نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ جن سے آج بھی ہمارے آبائی ممالک کی غالب اکثریت محروم ہے۔ مذہب کے باب میں ہمیں وہ آزادیاں اور سہولتیں میسر آئیں جن کے عشرِ عشیر کو بھی ہم ترستے تھے۔بس یہیں سے خرابی نے بھی جڑ پکڑی۔ بہت سارے لوگ واعظ کے بھیس میں سماج کے اندر گھس گئے۔وہ فرقہ واریت جس سے ہم پیچھا چھڑا کر بھاگے تھے۔ یہاں بھی ہمیں آ دبوچنے میں کامیاب ہوئی۔پہلے پہل مشترکہ مساجد تعمیر ہوئیں پھر ان کا فرقہ وارانہ بٹوارا ہوا۔ پھر دیکھتے دیکھتے جنازے الگ ہونے لگے۔ ایک دو عیدوں کے تیوہار ایسے تھے جہاں سب مل بیٹھتے تھے۔ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نہ سہی گلی محلوں ، پارکوں اور گھروں میں ہی سہی۔لیکن ان سماج دشمن ظالموں کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔اب ہر’ مسجد‘ کی پیشانی پر خدا کی جگہ فرقے کا نام لکھا ہے۔ شک پر بھی دوسرے فرقے کے مرے ہوئے انسان کی لاش بغیر نماز جنازہ پڑھے اُٹھا دی جاتی ہے۔ ابھی کوئی تین ہفتے قبل بریڈ فورڈ میں ایک بڑے مگر اقلیتی فرقے کی عبادت گاہ کی بیرونی دیوار پر’ کافر‘ کا نعرہ لکھا گیا۔ جس پر مختلف اداروں اور ذرائع ابلاغ کے کان کھڑے ہوئے۔ شاید ایسا نہ ہوتا اگر اس شہر سے ایک خاندان نے کچھ دن پہلے شام کا رخ نہ کیا ہوتا۔جس پر اکانومسٹ جیسے معروف بین الاقوامی جریدے نے ایک مفصل رپورٹ لکھی۔ایک ویب سائٹ جو ایسے معاملات پر دھیان رکھتی ہے۔ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال ایک ایسا ہی اشتہار تقسیم کیا گیا جس میں اس فرقے کوخارج از اسلام بتایا گیا۔مذہبی ٹی وی چینل تو اس ’ کارِ خیر‘ میں دن رات مصروف ہیں ہی۔ جہاں ہر فرقہ سوائے’ ایک‘کے سب کو واضح اور دبے لفظوں میں کافر قرار دے رہا ہوتا ہے۔ اور وہ ’ ایک‘ وہ خود ہوتا ہے۔پچھلے ہفتے ایسٹ لندن کی ایک معروف اور مصروف ہائی سٹریٹ پر ایک فرقے کو اسکی مذہبی رسوم منانے کی اجازت دی گئی۔وہاں پر پاکستان سے تبلیغ کی خاطر تشریف لائے ایک ’ بہت بڑے مبلغ‘ کے خطاب کا پہلے ہی سے اعلان کیا گیا تھا۔ وہ جب خطاب کے لیے اُٹھے تو چھوٹتے ہی اپنے ’عقیدے‘ سے جزوی انکار کرنے والوں کو بھی وہ گالی دی جو ہر معاشرے میں عموماًً اور بالخصوص عرب اور برصغیر کے معاشروں میں غلیظ ترین سمجھی جاتی ہے۔جو متحمل ترین انسان کو بھی آسانی سے مائل بہ غضب کر سکتی ہے۔ مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب انہوں نے اسے ’ حدیث‘ قرار دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی شعلہ بیانی کو مزید ہوا دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ ہمیں اور ہمارے مذہبی رہنماوں کو تم جیسے مسلمان نہیں چاہیں جو اپنے بیٹوں سے جائدادوں اور گاڑیوں سے محبت کرنے والے ہوں۔اب ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جو سرفروش ہوں۔ اپنی جان اپنے عقیدے پر قربان کرنے والے ہوں۔جب وہ اپنا’خطاب‘ مکمل کر کے پنڈال سے باہر تشریف لائے تو میں نے آگے بڑھ کر اس حدیث کا حوالہ مانگا جس میں غلیظ ترین گالی کو محبت کی نشانی قرار دیا گیا تھا۔ یہ سن کر ان کے قوت ایمانی سے تپتے ہوئے چہرے پر کئی بل آئے۔ فرمایا کہ یہ تو کئی کتابوں میں موجود ہے۔ میں نے انکی آسانی کے لیے کسی بھی فرقے کی مگر معتبر حدیث کی کتاب کے حوالے پر اصرار کیا تووہ کوئی جواب دئے بغیر مجھے غصے سے گھورتے ہوئے رخصت ہوئے۔اب میرا سوال اس فرقے اور ہر دوسرے فرقے کے امن پسند پاکستانی سے ہے۔ کیا انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عین ان کی ناک کے نیچے یہ کیا ہو رہا ہے؟۔ یا انہیں اس بات کی کوئی خبر ہی نہیں ہے کہ فرقہ واریت کی یہ لمحہ بہ لمحہ پھیلتی ہوئی آگ ان کے گھروں کے بہت قریب آ پہنچی ہے۔وہ شر پسند عناصر جو ہمارے آبائی ملک پاکستان کو فرقہ واریت کا جہنم بنا چکے ہیں۔ اب امن و آشتی کے تعاقب میں یہاں بھی آپہنچے ہیں۔ وہ نام نہاد کمیونٹی لیڈر کہاں ہیں ؟ جو اپنی ذاتی نمودو نمائش کا کوئی موقع ضائع کرنا گھاٹے کا سودا سمجھتے ہیں۔اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ممبران میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اس کا نوٹس لے؟ اور اربابِ اختیار سے پوچھے کہ اس طرح کے مبلغین جو دراصل مفسدین فی الارض ہیں۔ یہاں اتنی آسانی سے کیسے پہنچ رہے ہیں ؟اور آخر میں ان علما سے ایک سوال جو اسلام کو امن و آشتی کا دین اور فرقہ واریت کو اسلام دشمنی سمجھتے ہیں۔ کب بیدار ہوں گے؟کیا قرآن مجید کی وہ آیت مبارکہ ایسے ہی مبلغین کے لیے نہیں ہے؟ جب ان سے کہا جاتاہے اللہ کی زمین پر فساد مت پھیلاوتو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *