اکیسویں صدی کا انتشار اور حل

daniyal picجواں فکر، جواں عمردانیال طریر بلوچستان کی سنگلاخ سرزمین سے کسی ’گواڑخ‘ کی طرح پھوٹا اور اس کی وادیوں میں اپنی خوشبو بکھیر کر کینسر کے موذی دیو کے ہاتھوں جواں مرگ ہوا۔ 1980ء کو لورالائی میں جنم لینے والا یہ نابغہ فکر 31 جولائی 2015ء کی شام کوئٹہ کی مٹی میں پیوند خاک ہوا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے، جدید طرز کی نظمیں تخلیق کرتے، اپنے منفرد اسلوب میں شعر کہتے، جدیدتنقید لکھتے اور تین سال سے کینسر سے لڑتے لڑتے جو ابھی جان کی بازی ہارا ہے، وہ اس مٹی کا کیسا نابغہ روزگار تھا، اس کا صرف ایک عکس ہم تلاش لائے ہیں۔ بلوچستان کے جغرافیے کی طرح، اس کی دانش بھی ابھی نودریافت شدہ ہے۔اس کی دریافت، اس کی بازیافت سبھی روشن خیال انسانوں کا فریضہ ہے۔
عابد میر

میں سمجھتا ہوں کہ اس صدی کے آغاز کو مابعد جدید عہد کے آغاز سے تسلیم کیا جانا چاہیے جس کے آغاز کے سلسلے میں اختلاف موجود ہے اور اسے بالترتیب بیسوی صدی کی دوسری،پانچویں اور ساتویں دہائی سے اختلاف کے ساتھ تسلیم کیا جاتا ہے یعنی ایک مظہر کے طور پر اس کے آغاز کو پانچ چھ دہائیوں سے زیادہ عمر نہیں ہوئی۔ لگ بھگ یہی پانچ چھ گزشتہ دہائیاں اکیسوں صدی کے خدو خال پیدا کرنے میں بھی اساسی اہمیت رکھتی ہیں اور یہ خدو خال وہی ہیں جنہیں مابعد جدید عہد کے ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خدوخال جن واقعات، علوم اور کلامیوں کے زیر اثر تشکیل ہوئے یا ہورہے ہیں، ان کی فہرست بڑی طویل ہے جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔ تاہم اکیسویں صدی جن بنیادی حوالوں سے بیسوی صدی سے ممتاز و مختلف ہے یعنی وہ حوالے جو پانچ چھ دہائیوں پہلے دنیا کے منظر نامے پر اس طرح موجود نہیں تھے جس طرح آج نہ صر ف موجود ہیں بل کہ انسانی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں بل کہ زیادہ بہتر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی زندگی کوجہت دے رہے ہیں؛ ایک ایسی جہت جسے ’’ بے جہتی‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ان حوالوں کو بہ ہر حال نشان زد کیا جاسکتا ہے ۔
ان حوالوں میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی حوالہ ’’ نائن الیون‘‘ ہے۔جس نے دنیا کو تبدیل بھی کیا ہے اور اس جبر کی شدت میں بے پناہ اضافہ بھی جو پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی تقدیر ہے۔ ’’نائن الیون‘‘ نے ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے ایک ایسا کلامیہ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد ایک مخصوص آئیڈیالوجی کا نفاذ ہے جو بذات خود ایک ’’ وحشی ریاست‘‘ کی طاقت کا مظہر بھی ہے اور اس کے لیے مزید طاقت کے حصول کا ذریعہ بھی ،اس لیے بہت سے کلامیوں کو عدم رائج کرنے کی کوشش ہوئی ہے اور ان کے بدلے نئے کلامیے رائج کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے ہر ممکنہ ذریعے کو استعمال کیا گیا ہے اور اس طرح انسانی فکر کو تبدیل کر کے اس کی نئی تشکیل کے ذریعے اسے گرفت میں لینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے اوراسے اپنی من چاہی حدود تک محدود کر دیا گیا ہے ۔عالمی سیاسی بساط پر نائن الیون کے بعد وہ چالیں چلی گئی ہیں کہ پیادے وزیر اور وزیر پیادے میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔تمام مہروں کی حیثیت اور کارکردگی اور اس کارکردگی کا دائرہ کار بدل گیا ہے اور دنیا انتہائی غیر یقینی صورت حال کی شکار ہوگئی ہے۔ سیاسی طور پر مستحکم معاشرے عدم استحکام کا شکار ہوئے ہیں جب کہ غیر مستحکم معاشرے مزید ابتری میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔معاشی طور پر حالات بد سے بد ترہونے لگے ہیں اور غریب ریاستوں میں جہالت اور بھوک میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس نے جرائم کو ہوا دی ہے اور لا اینڈ آرڈر کے شدید مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس شدید بحرانی صورت حال میں انسانی فکر کا جو ردِ عمل متوقع تھا ،وہ سامنے نہیں آسکا اور عملی جد و جہد بھی اس بڑے پیمانے پر دیکھنے میں نہیں آئی جس کی توقع کی جاسکتی تھی۔
انٹر نیٹ، کیبل، سیل فون اور ٹی وی وغیرہ نے ان معاشروں کو کنٹرول کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے جہاں سے مثبت خطو ط پر دنیا کی تعمیر کاامکان پیدا ہوسکتا تھا۔ اس تعمیر کے امکان کی جنم دہی کے لیے جتنا وقت انسانی غور و فکر کے لیے درکار تھا وہ اس سے چھین لیا گیا ہے اور اسے بے معنی تفریحات میں الجھا کر اس کی آزادی سلب کی گئی ہے ۔وہ اپنی آواز تک سننے سے محروم ہوگیا ہے ،قتل و غارت گری کو اس کو ضمیر پر دستک کے بجائے کھیل تماشے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اسے رنگوں اور آوازوں کی ایک ایسی پر کشش دنیا کا باسی بنا دیا گیا ہے جہاں اس کے تمام ذاتی اوصاف دھندلا گئے ہیں۔ وہ دوسروں کی طرح سوچنے اور جینے پر مجبور ہوگیا ہے اور اسے فرصت تک نہیں ملی ہے کہ وہ سوچ سکے کہ وہ اس اندھے سفرپر کب، کیسے اور کیوں روانہ ہوگیا ہے ۔دنیا اس کے لیے گاؤں ضرور بن گئی ہے مگر وہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنی شناخت سے محروم کردیا گیا ہے ۔ڈبلیو ٹی اواورملٹی نیشنل کمپنیوں نیزگلوبلائزیشن وغیرہم نے جس ’’ صارفیت کلچر‘‘کو فروغ دیا ہے، اس نے انسان سے اس کے ’’اشرف المخلوقات‘‘ ہونے کا منصب چھین لیا ہے اور اسے ایک ’’صارف‘‘ کی نئی حیثیت تفویض کی ہے جس پر آٹا، چینی، دال سے لے کر عورت،کتاب اور مذہب تک سب کچھ بیچا جا سکتا ہے۔ اس کلچر نے نظام اقدار کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور پرانے نظام اقدار کی وہ بیخ کنی کی ہے کہ انسان سے وہ زمین ہی چھن گئی ہے جس میں اس کی جڑیں پیوست تھیں؛ نتیجتاََ انسان ان اشجار میں تبدیل ہوگئے ہیں جو زمین سے ہر طرح کا رشتہ توڑ چکے ہیں اور ان کے وہ تمام قویٰ مضمحل ہو چکے ہیں جن کی قوت کا انحصار زمین پر تھا۔ یہ شجر بار آوری کی صفت سے محروم اور اپنی برہنگی کو مانگے تانگے کے برگ و بار سے چھپانے کی کوشش لا حاصل میں مشغول ہیں ۔
تاہم ان پر اس لا یعنی کوشش کے کھلنے کا امکان بھی نہیں ہے کیوں کہ حقیقت کے تصور کو تشکیلی حقیقت(ہائپر رئیلٹی )سے تبدیل کر دیا گیا ہے ۔انسان اب اسی تشکیلی حقیقت(ہائپر رئیلٹی)کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔تاہم books coverوہ اپنی اس مجبوری سے بھی واقف نہیں ،سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ان سے چھینی جاچکی ہیں ۔انسانی زندگی کی یہ انفعالیت بھی سابقہ انفعالیت سے مختلف ہے جس سے نجات کی بھی کوئی صورت سر دست موجود نہیں ہے، کیوں کہ اس نے دوسروں کی تشکیلی حقیقت کو اپنی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا ہے اور فی الوقت اس طرزِ زندگی سے بے زاری کا کوئی احساس بھی ظاہر نہیں ہوا ہے۔ تشکیلی حقیقت (ہائپر رئیلٹی) سے نکلنے کی کوئی صورت اس لیے بھی نا ممکن ہے کیوں کہ حقیقت اس قدر سفاک ہوچکی ہے کہ اس کا سامنا بیدار انسانی ضمیرکے لیے قابلِ برداشت نہیں رہا۔ دوسری طرف فکری سطح پر بھی اس سے نبرد آزمائی کو انسان کے لیے ناممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تکثیریت اور بین العلومیت وغیرہ ؛ہم کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ تکثیریت نے مر کزیت کو صرف سیاسی طور پر چیلنج نہیں کیا ۔کسی واحد نظریے کی اتھارٹی چیلنج کرنا مثبت اقدام سہی مگر لا مرکزیت کی حامل ایسی تکثیریت کی راہ ہم وار کرنا جس کی کوئی انتہا نہ ہو مثبت اقدام نہیں ۔یہ راستوں کو اتنا کثیر کردینے کے مترادف عمل ہے جس میں منزل کا تصور ہی باقی نہیں رہتا ۔اسی لیے آغاز میں اس جہت کو ’’بے جہتی ‘‘ سے تعبیر کیا گیا تھا ۔ بین العلومیت نے بھی بہ ظاہر تو علوم کے دامن کو کشادہ کیا ہے اور ایک دوسرے سے استفادے کی راہ ہم وار کی ہے مگر بہ باطن علم کی اس حیثیت کو نقصان بھی پہنچا یا ہے جس کے ذریعے وہ واضح حد بندی اور فکر و فلسفہ کے معین نقطہء نظر کا حامل ہونے کے باوصف انسانی فکر کو انتشار سے بچاتا ہے اور اسے معاصر صورت حال کے مقابل اپنا مؤقف تشکیل دینے کی صلاحیتوں سے بہرہ مند بھی کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ اکیسویں صدی میں کوئی بھی مظہر شفافیت کا حامل نہیں ،ہر لفظ میں کئی الفاظ کی گونج ہے ،ہر تصویر میں کئی شبیہیں جلوہ نما اور ہر آواز میں بے شمار لہجے شامل ہیں ،ایک بے انت ہنگام اور انتشار کی سی صورت ہے ،ایک الجھی ہوئی ڈور ہے جس کا کوئی سرا نہیں ،ایک گور کھ دھندا ہے ما یا جال ہے، ایک حلقہ دام خیال ہے ،ہر طرف فریب، دھوکے اور سراب کی سی کیفیت ہے ،ایک بے معنی کھیل تماشا ہر سو جاری ہے، ایک دوڑہے جس کی نہ کوئی سمت ہے نہ کوئی منزل، ایک سیل بلا ہے جس میں سب بے دست و پا ہیں اور کوئی اپنی بے دست و پائی سے آگاہ بھی نہیں، سر دست ایک شور برپا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔جہاں معانی تعین سے پہلے ہی التوا کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس طرح کثرت معنی سے زیادہ انتشار معنی کی فضا تخلیق ہوتی نظر آتی ہے ۔۔۔وہاںیہ سوال اہم ہے کہ کیا واقعی اس بے معنویت کے سیلاب میں کوئی مظہر بامعنی بھی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہر اس مظہر کی اہمیت اور معنویت موجودہ صورت حال میں اور زیادہ بڑھ گئی ہے جس نے ہمیشہ انسان کو حوصلہ دیا ہے اور جس نے انسانی تاریخ کے طویل دورانیے میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے اور’’ ٹائم بیئررز‘‘ کو عبور کرتے ہوئے صورت حال کے مقابل اپنے مؤقف کو درست ثابت کیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *