اپنی مرضی سے کرکٹ نہیں چھوڑی، ریٹائر ہونے پر مجبور کیا گیا: حنیف محمد

H 1ممتاز ادیب سعادت حسن منٹوان کی بیٹنگ دیکھنے کے آرزومندرہے۔بیمارپڑے تو خیریت دریافت کرنے لتا منگیشکر تشریف لائیں۔ انتہاپسند بال ٹھاکرے نے انھیں شاندا رلفظوں میں خراج تحسین پیش کیا۔مایہ ناز اداکار نصیرالدین شاہ کے بچپن کی یادوں میں سے ایک اَن مٹ یاد، حنیف محمد کی ٹرپل سنچری بھی ہے۔
ادیبوں کی تحریروں میں ان کا ذکرآتارہا۔معروف فکشن نگار انتظارحسین نے کئی عشرے قبل ایک تحریرمیں لکھا تھا ’’ہم نے جتنے بڑے کرکٹراپنی تاریخ میں پیدا کئے ہیں،اتنے بڑے افسانہ نگارابھی تک پیدا نہیں کرسکے۔‘‘چند دن قبل ہم نے ان سے پوچھا ، جب یہ بات انھوں نے لکھی توان کے ذہن میں کن کرکٹروں کا نام تھا تووہ بولے کہ ان کی مراد حنیف محمد اورفضل محمود سے تھی۔
حنیف محمد کا ذکرتاریخ کرکٹ کی بہت سی کتابوں میں آیاہے لیکن ہم کوہندوستانی تاریخ دان رام چندرگوہاکی کتاب میں ایک خاص حوالے سے ان ذکرسب سے پسند آیا،جس سے پتا چلتا ہے، حنیف محمد کے کھیل نے کس قدروسیع ترحلقے کو متاثر کیا۔ گوہاکی کتاب ‘‘A Corner of a Foreign Field’’ جسے معروف ویب سائٹ ’’کرک انفو‘‘نے اپنے ایک سروے میں کرکٹ پر تحریر کردہ بہترین کتابوں میں دوسرے نمبرپررکھا،اس میں مشہور سوشلسٹ لیڈر رام منوہرلوہیا کا ذکرہے۔
جنھیں کرکٹ سے خدا واسطے کا بیرتھا،اوروہ اسے نوآبادیاتی دورکی یادگار قرار دیتے۔ 1960ء میں پاکستان ٹیم ہندوستان گئی، توان صاحب نے بمبئی میں ہونے والے ٹیسٹ کے پہلے روز کرکٹ کے خلاف دھواں دھارپریس کانفرنس کی۔صحافی تتربتر ہو گئے، توہوٹل سے باہر آئے۔ قریب میں پان کی دکان پر پہنچے، پان لیااورپھراسے چباتے ہوئے ،دکاندارسے پوچھا ’’ حنیف آؤٹ ہو گیا کیا؟‘‘ اس سوال کا جواب،انھیں نفی میں ملاکہ حنیف محمد تواگلے روز 160 رنزپررن آؤٹ ہوئے۔
پاکستان ٹیم نے بین الاقوامی کرکٹ میں آتے ساتھ ہی جس عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا،اس کا زیادہ تر کریڈٹ فضل محمود اورحنیف محمد کو جاتا ہے۔ فضل محمود نے جس طرح بولنگ کا بوجھ اٹھا رکھا تھا، اسی اندازمیں حنیف محمد لڑکھڑاتی بیٹنگ لائن اپ کا سہارا بنے۔ فاسٹ بولرجارح مزاج ہوتا ہے۔مخالف ٹیم پرحملہ آورہوتا ہے،اس لیے ٹیم کے لیے مزاحمتی ہیروکے رول میں حنیف محمد جیسا باہمت بیٹسمین ہی فٹ بیٹھتاتھا۔ ویسٹ انڈیزکے خلاف 337 رنز بنا کر ٹیسٹ کی طویل ترین اننگزکھیل کرانھوں نے سب کوحیران کردیا۔ 57برس گزرجانے کے بعد اپنے ملک سے باہر اور دوسری اننگزکا اب بھی یہ سب سے بڑا اسکور ہے۔اس اننگزسے حنیف محمد مزاحمت کی علامت بن گئے۔اپنے لیے اس رول کا تعین انھوں نے اس وقت کرلیاتھا، جب پاکستان ٹیم پہلی بار1952ء میں میدان میں اتری اوراس نے پہلی اننگز میں 150 رنز بنائے، جس میں حنیف محمد 51رنزبناکرٹاپ اسکورررہے اوراپنے ملک کی طرف سے پہلی نصف سنچری بنانے کا اعزازبھی حاصل کر لیا۔ سترہ برس کے بین الاقوامی کیریئرمیں وہ جس طرح اپنی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردارنبھاتے رہے،اس کی مثال ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔
اس اعتبار سے حنیف محمد کے مقابلے میں معروف کرکٹ لکھاری سٹیورٹ وارک نے بلیک بریڈمین جارج ہیڈلی کا نام پیش کیا لیکن ساتھ میں وضاحت کی کہ ہیڈلی ویسٹ انڈیزکو ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے دوبرس بعد ٹیم میں شامل ہوئے جبکہ پاکستان ٹیم کا پہلا ٹیسٹ حنیف محمدکابھی اولین ٹیسٹ تھا۔ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اننگزمیں کسی ٹیم کی طرف سے واحد سنچری بنانے والے بیٹسمینوں میں وہ اوسط کے اعتبارسے سب سے آگے ہیں۔بارہ میں سے دس ان کی سنچریاں ایسی ہیں،جب اننگزمیں کوئی دوسرا ساتھی یہ اعزازحاصل نہ کرسکا۔جس میچ میں حنیف محمد نے سنچری بنائی،اس میں ان کی ٹیم میچ ہاری نہیں۔
حنیف محمدکوعظیم بنانے میں اس بات کوبھی دخل ہے کہ وہ صرف گھرکے شیرنہیں تھے،ان کی بہترین اننگزوہ ہیں، جوملک سے باہر کھیلی گئیں۔بیٹنگ اوسط ان کا اندورن سے زیادہ بیرون ملک ہے۔
آج ہمارے بیٹسمینوں پرسب سے زیادہ تنقید اس لیے ہوتی ہے کہ وہ احساس ذمہ داری سے عاری ہیں۔حنیف محمد کے کھیل کی بنیاد ہی کھلاڑی کی حیثیت سے ذمہ داری قبول کرلینا تھا۔کپتان بنے تو ذمہ داری کا احساس اوربھی زیادہ بڑھ گیا۔ بطور کپتان 11 ٹیسٹ میچوں میں ان کا بیٹنگ اوسط 58رنزفی اننگزکا ہے جو مجموعی ا وسط سے 14رنز زیادہ بنتا ہے۔ حنیف محمد کی شہرت کا ایک پہلو کرکٹروں کے عظیم خاندان سے تعلق بھی ہے۔
ان کے بھائی وزیر محمد، مشتاق محمد اورصادق محمدبھی ٹیسٹ کرکٹر بنے۔پاکستان کے پہلے 57ٹیسٹ میچوں میں سے 55میں حنیف محمد شریک رہے۔ پاکستان ٹیم کے پہلے 101 ٹیسٹ میچوں میں سے 100، میں محمد برادران میں سے کوئی نہ کوئی بھائی ضرور شامل رہا۔بین الاقوامی دنیا میں ان کے ہم عصروں نے ان کی عظمت کو مانا۔ جان آرلٹ نے لکھا جب وہ ٹیم میں آئے توانھیں بچہ (Bambino) کہا گیا لیکن بعد میں کرکٹ میں اپنی مشاقی کی بنا پر ماسٹر کہلائے۔
حالیہ برسوں میں جس پاکستان کھلاڑی کا ذکر غیر ملکی لکھنے والوں کی تحریروں میں سب سے زیادہ جگہ پارہا ہے، وہ حنیف محمد ہیں۔ 1952ء میں دورہ بھارت کے دوران کمنٹیٹروزیانگرم نے ان کولٹل ماسٹرکا خطاب دیا جو کرکٹ میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔
**
h2تقسیم کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں ایسے بھی تھے، جو اْدھر کسمپرسی کی زندگی بسرکررہے تھے، اِدھر آئے تولوٹ مارکرکے راتوں رات امیر بن گئے۔دوسری طرف آسودہ حال وہ لوگ تھے، جنھیں حالات کے جبرنے گھر بار چھوڑنے پرمجبورکیااورانھوں نے نئے وطن میں آن بسیراکیا تو انھیں پہلے پہل بڑی دشواریوں کا سامنا رہا۔یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دونمبری کرنے کی بجائے تنکا تنکا جمع کرکے اپنا آشیانہ بنایا۔ایسوں میں حنیف محمد کا خاندان بھی تھا۔جونا گڑھ میں جن کے ہاں لہربہرتھی۔والد شیخ اسماعیل انڈین آرمی سے ریٹائر ہوکرایک فیکٹری میں منیجر کی حیثیت میں کام کررہے تھے، اور ساتھ میں جماجمایاکاروباربھی تھا۔1947ء میں اس ہنستے بستے گھرانے کی زندگی میں اس وقت زہرگھل گیا جب یہ پتا چلا کہ حنیف محمد کے والد کوکینسرہے۔اس بیماری کے ساتھ وہ پاکستان پہنچے۔1949ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔
ایسے میں امیربی نے بچوں کوسنبھالا۔ایک مندرکے ہال میں کچھ عرصہ ان کا ٹھورٹھکانہ رہا۔ کرکٹ کا جنون یہ بھائی جونا گڑھ سے لے کرچلے تھے،جس کو کراچی کی آب وہوا بھی خوب راس آئی۔ باپ دادابھی اس کھیل کے شیدائی تھے۔ حنیف محمد کی والدہ امیربی کوبھی اسپورٹس سے گہرا شغف تھا۔
حنیف محمد پرزندگی میں جس کسی نے کرم فرمائی کی اس کے وہ تہہ دل سے ممنون ہیں۔ایسوں میں سب سے بڑھ کرکفیل الدین احمد کا نام لیتے ہیں،جنھوں نے انھیں سب سے پہلے نوکری دی اور گھر بنانے کے لیے زمین بھی۔ حنیف محمد کے بقول: ’’ کفیل الدین احمد کا شکرگزار ہوں،جنھوں نے مجھے1951ء میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں روڈ انسپکٹرکی نوکری دی۔مشرقی پاکستان سے تعلق تھا، بڑے اچھے آدمی تھے۔ان کی وجہ سے مجھے معاشی پریشانی سےh4 نجات ملی۔ائیرمارشل(ر) نورخان نے جب مجھے پی آئی اے میں نوکری کے ساتھ گھردینے کی آفردی تومیں کفیل صاحب سے پوچھنے گیاتوکہنے لگے، ضروراس موقع سے فائدہ اٹھاؤ،پی آئی اے میں تمھارا مستقبل زیادہ روشن ہوگا۔یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی۔ نورخان کا بھی احسان مند ہوں۔رفتہ رفتہ پی آئی اے میں آگے بڑھتا رہا۔صحیح آدمی مل جائے توبندہ ترقی کرتا چلاجاتا ہے۔‘‘
حنیف محمد کا معاملہ ہونہاربروا کے چکنے چکنے پات جیسا ہے۔ اپنے کھیل سے دیکھنے والے کوفوراً متاثر کر لیتے۔ ماسٹرعزیزنے انھیں کلب میچ میں کھیلتے دیکھ کرسندھ مدرسۃ الاسلام سے جڑنے کی صلاح دی۔اسکول کے زمانے میں لاہورآئے تومخالف ٹیم کے بولریاورسعید کوان کے کھیلنے کا اندازبہت اچھا لگا۔گھرجاکراپنے والد میاں محمد سعید کوبتایا،جوپاکستان کے پہلے غیرسرکاری ٹیسٹ میچ میں کپتان اورمعروف کرکٹرتھے،انھوں نے اس ہونہار کو گھر کھانے پربلایا۔کرکٹ سے متعلق بات چیت ہوتی رہی۔ میاں سعید کی ایک بات جوانھوں نے تمام عمر پلے باندھے رکھی وہ یہ تھی کہ کیسی ہی عمدہ پرفارمنس کیوں نہ ہوکبھی اپنے کالرکھڑے نہ کرنا۔حنیف محمد کا کہنا ہے ، اب توکھلاڑی بہت جلد اپنے آپے سے باہرہوجاتے ہیں، جس کووہ مستحسن رویہ نہیں جانتے۔موجودہ دورکے منکسر المزاج کھلاڑیوں میں یونس خان کا نام لیتے ہیں۔پاکستانی کھلاڑی انگلینڈ میں معروف کرکٹ کوچ الف گورسے کوچنگ لینے کے واسطے گئے تواس نے، حنیف محمد کے بارے میں کہا کہ انھیں ٹریننگ کی ضرورت نہیں ،کہ یہ نیچرل کرکٹرہیں۔
h5حنیف محمد اور ان کے تین بھائی وزیرمحمد،مشتاق محمد اورصادق محمد، ٹیسٹ کرکٹربنے۔محمد برادران میں رئیس محمد وہ واحد ہیں، جوٹیسٹ کرکٹرنہ بن سکے۔رئیس محمد ہفتے میں ایک باربھائی کوملنے ضرورآتے ہیں،دنیاجہان کی باتیں ،ماضی کے قصے تازہ ہوتے ہیں۔ دونوں بھائی کیرم بھی ضرور کھیلتے ہیں۔رئیس محمد کے ٹیسٹ کرکٹرنہ بننے کا انھیں رنج ہے، اورسمجھتے ہیں کہ وہ ہرطرح سے پاکستان کی نمائندگی کے حقدارتھے لیکن بعض لوگوں کویہ بات کھلتی تھی کہ اتنے بھائی ٹیسٹ کرکٹرزہیں۔حنیف محمد نے بتایا: ’’1954ء کے دورۂ انگلینڈ کے لیے بہاولپورمیں ٹیم سلیکشن کے لیے کیمپ لگا،اس میں وہ تھے۔ٹرائل میچ بھی کھیلے۔رنزبھی کئے۔آؤٹ بھی کئے۔ ریلوے کے لیگ اسپنرمحمد امین بھی تھے۔انھوں نے بھی آؤ ٹ کئے۔لیکن سلیکشن ہوئی تو نہ رئیس بھائی اس میں تھے نہ ہی محمد امین بلکہ خالد حسن کومنتخب کرلیاگیاکیونکہ وہ بیوروکریٹ کے بیٹے تھے۔ 1955ء میں انڈیا کی ٹیم آئی توڈھاکا میں جس روز ٹیسٹ ہونا تھا، اس رات کوعبدالحفیظ کاردارنے رئیس بھائی سے کہا کہ مقصود فٹ نہیں، اس لیے وہ کل ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں،اب وہ ذہنی طور پر تیار ہوگئے توصبح مقصود احمد نے کہا کہ میں فٹ ہوں، تو انھیں بارھواں کھلاڑی بنادیا گیا۔‘‘سب سے بڑے بھائی وزیرمحمدکے ساتھ وہ قومی ٹیم میں کھیلتے رہے۔ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کپتانی میں کھیلے۔وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کراچی کی طرف سے بہاولپور کے خلاف اپنی 499 رنزکی اننگزکا کریڈٹ وزیرمحمد کودیتے ہیں۔ کہتے ہیں’’وہ ٹیم کے کپتان تھے۔میں نے تین سوکرلیے توکہنے لگے ، تم نے بریڈ مین کا ریکارڈتوڑناہے۔میں نے کہا ابھی ڈیڑھ سوباقی ہیں، یہ کیسے ہوگا، کہنے لگے کہ جیسے کھیل رہے ہوتم کرلوگے۔میں فٹ اورریلکس رہوں، اس کے لیے میری مالش کرتے۔مجھے یاد ہے، اس اننگزمیں لیگ اسپنرکی گیند پرایک ہی ایسا شاٹ کھیلا جوہوا میں گیا۔اسکور بورڈ پردرج میرااسکوراصل سے دورنزکم تھا،دن کے آخری اوورکی دو گیندوں پرمیں h6نے چاہا چاررنزبناکرپانچ سوکرلوں، لیکن اس کوشش میں رن آؤٹ ہوگیا۔بعد میں پتاچلا کہ میں نے 499 رنز بنائے، تواصل میں میرااسکور498تھا جسے اسکور بورڈ 496 دکھا رہا تھا،جس کی وجہ سے میں نے جلدی کی اوررن آؤٹ ہو گیا اگر چار کے بجائے دورنزکرنے ہوتے تومیں جلدبازی نہ کرتا۔‘‘
عام طورپرحنیف محمد کوریورس سویپ کا موجد سمجھاجاتا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں، یہ مشتاق محمد کی ایجاد ہے،گوکہ وہ بھی اس شاٹ کوکھیلتے رہے لیکن اولیت کا شرف وہ چھوٹے بھائی کودیتے ہیں۔مشتاق محمد کا ذکرچھڑاتوہم نے ان سے پوچھا کہ سنتے ہیں، جب انھوں نے پندرہ برس کی عمرمیں ویسٹ انڈیزکے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا اورانھیں ویزلے ہال کا سامنا کرنا پڑا توآپ کی والدہ نے اس ویسٹ انڈین بولرکی خبرلی تھی تو انھوں نے بتایا: ’’جب باہرسے ٹیم آتی توکھلاڑی ہمارے گھرآتے۔1955ء میں ہندوستان کے کھلاڑی بھی آئے تھے۔ویسٹ انڈیزکے کھلاڑی بھی ہمارے ہاں آئے، ان میں ویزلے ہال بھی تھا۔والدہ نے اس سے کہاکہ تم نے میرے بیٹے کوباؤنسرکیا تومیں تیری خبرلوں گی۔وزیربھائی نے والدہ کی بات ہال کوبتائی تووہ خوب ہنسا۔ ‘‘
1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ صادق محمد کا پہلا جبکہ حنیف محمد کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔دونوں بھائیوں نے اس میچ میں اوپننگ کی، پہلی اننگزمیں 55 رنز اور دوسری اننگز میں 75رنز کا اسٹینڈ دیا۔حنیف محمد سے ہم نے کہا کہ آپ نے بطور سینئر اوربھائی کے صادق محمد کوکیا نصیحت کی تووہ بولے ’’وہ وکٹ بہت خراب تھی۔صادق سے میں نے یہی کہا کہ میرے کودیکھتے رہنا۔ وکٹ پررکوگے تورنزبنتے رہیں گے۔ صادق بہت اچھا کھیلا۔ پہلی h7اننگزمیں اس نے69اسکورکیا۔ دوسری اننگزمیں 37 رنز پر رن آؤٹ ہو گیا۔‘‘ حنیف محمد سے ہم نے میٹنگ وکٹ پرکھیلنے کے تجربے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ میٹنگ پرکھیلنا بہت مشکل تھا لیکن اسکول کے زمانے سے کھیلنے کی مشق تھی، تواس لیے میرا ریکارڈ اس پربھی اچھا رہا۔ 1952ء میں لکھنو میں پاکستان ٹیم کی ٹیسٹ میں پہلی جیت کوزندگی کا یادگارلمحہ سمجھتے ہیں۔1954ء میں اوول ٹیسٹ میں کامیابی کی یاد آج بھی جی خوش کردیتی ہے۔ انگلینڈ کے آخری بیٹسمین کوکور سے تھرو پھینک کررن آؤٹ کرنے والے فیلڈربھی حنیف محمد ہی تھے۔ پی آئی اے میں بیتے وقت کوبھی یاد کرتے ہیں۔پی آئی اے کولٹس اسکیم کا حوالہ دیتے ہیں، جس کے ذریعے کئی ایسے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے، جنھوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔کرکٹ سے ان کا ناتا ’’دی کرکٹر‘‘کے چیف ایڈیٹرکی حیثیت سے بھی رہا۔شروع شروع میں وہ یہ ذمہ داری لینے سے پہلوتہی کرتے رہے لیکن آخرکار ریاض احمد منصوری نے ان کوقائل کرلیا۔کہتے ہیں، یہ تجربہ بہت اچھا رہا۔ حنیف محمد نے کینسرکے مرض میں مبتلا اپنے والد کوآخری دنوں میں قریب سے دیکھا۔اب وہ خود اس موذی مرض کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔دوران گفتگودوائی کھانے کاوقت ہوا اورایک گولی نگلنے سے پہلے بتایا کہ اس کی قیمت آٹھ ہزارروپے ہے، توہم نے کہا کہ حنیف صاحب! اتنی توآپ کوکبھی میچ فیس بھی نہ ملی ہوگی توکہنے لگے کہ ہزارکی بات کرتے ہیں، پہلے پندرہ روپے ملتے رہے، پھر سو ایک سو بیس۔ اس سے زیادہ نہیں۔ مجموعی طورپرزندگی سے مطمئن ہیں۔ زندگی میں جو خوشیاں ملیں، اس پرخدا کا شکرادا کرتے ہیں۔کہتے ہیں، کھیل سے ہمیشہ انجوائے کیا۔
2002ء میں انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرپل سنچری بنائی توانھیں کرکٹ بورڈ نے دس لاکھ روپے انعام دیا۔اس پرحنیف محمد نے بورڈ کے چیئرمین کوخط کے ذریعے یاد دلایاکہ انھوں نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹرپل سنچری بنائی تھی،اس لیے وہ بھی انعام کے حقدار ہیں، توبورڈ اس پرٹس سے مس نہ ہوا اور یہ کہہ کرانھیں ٹرخادیاکہ یہ پرانی بات ہے۔اس پرحنیف محمد کوکرکٹ کے ارباب بست وکشاد سے گلہ ہے۔ حنیف محمد کی کرکٹ کے بارے میں بڑی منجھی ہوئی رائے دیتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’کرکٹروں میں گیری سوبرز آل ٹائم فیورٹ ہیں۔اس عظیم کھلاڑی کووہh8 فوران ون قرار دیتے ہیں۔ عظیم بلے باز۔عمدہ فاسٹ بولر۔بہترین سلوبولر۔ذہین کپتان۔آدمی بہت اچھے ہیں۔میری کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا۔‘‘ ویوین رچرڈزکے بھی مداح ہیں۔کہتے ہیں، وہ اس اندازمیں کھڑا ہوتا، جیسے پاؤں کا وزن زمین پرنہیں،باکسرکی سی پھرتی سے آگے پیچھے ہوتے۔سنیل گواسکربھی پسند ہیں، جنھوں نے ان سے کہا ’’حنیف صاحب مجھے بھی لوگ لٹل ماسٹرکہتے ہیں لیکن اصل لٹل ماسٹرآپ ہیں۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ ایسے بیٹسمین بھی ہوتے ہیں، جن کی تکنیک کوئی نہیں ہوتی مگراسکوروہ کرتے ہیں، اس ضمن میں آسٹریلیوی بلے باز وارنر کا نام لیا۔دورجدید میں ویرات کوہلی اورڈویلئیرکی بیٹنگ بھی اچھی لگی لیکن سب سے بڑھ کروہ جیک کیلس کے قائل ہیں،جوان کے خیال میں ’’غلط شاٹ بہت کم کھیلتا۔بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ گیئر بدل لیتا تھا۔جب ون ڈے کھیلنے جارہا ہوتا تواس کوذہنی طورسے خبرہوتی کہ آج میں ون ڈے کھیل رہا ہوں۔ ٹیسٹ ہوتا تواس کے مطابق ذہن کوترتیب دے لیتا۔دونوں طرزکی کرکٹ میں اس کے جتنی اچھی مطابقت کسی اورمیں نہیں دیکھی۔‘‘ پاکستان بیٹسمینوں میں سلیم ملک کو تکنیک کے اعتبارسے بہترین بیٹسمین قرار دیتے ہیں۔ صبرکووہ اچھے بیٹسمین کی بنیادی خوبی مانتے ہیں، اوریہ وہ عنصر ہے، جوان کوآج کل کے بیٹسمینوں میں کم دکھتا ہے، جس کی وجہ وہ ون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کوقراریتے ہیں، جس سے ان کی دانست میں کرکٹ میں پیسہ اورمزاتوآیا لیکن اس کھیل کو نقصان ہوا۔وہ سمجھتے ہیں کہ بیٹسمین کی اصل صلاحیتوں کا امتحان اب بھی ٹیسٹ ہی میں ہوتا ہے،جس میں کامیابی کے لیے تکنیک کا اچھا ہونا ضروری ہے۔
h9حنیف محمدنے 17سالہ بین الاقوامی کیرئیر میں بڑے بڑے بولروں کا سامنا کیا۔ سب سے زیادہ انھیں ویسٹ انڈیز کے گلکرسٹ خطرناک لگے۔ اس نے کس طرح ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، کہانی کچھ یوں بتاتے ہیں: ’’1958ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز کے پہلے ٹیسٹ میں تو میں نے ٹرپل سینچری بنائی اور وہ مجھے آؤٹ نہ کر سکا۔ پورٹ آف اسپین کے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگزکے دوران اس نے خطرناک باؤنسرکیا، میں بروقت پیچھے ہٹ نہیں سکا اور گیند میرے ناک کے بالکل قریب سے گئی اورمیں اس سے بچتے ہوئے دہرا ہو گیا، سب کو لگا جیسے مجھے بال لگ گیالیکن میں بال بال بچ گیا۔اس سے میر ااعتمادمتزلزل ہوا۔ اس کے بعد جوٹیسٹ ہوئے، میں ان میں اوپننگ کے بجائے مڈل آرڈرمیں بیٹنگ کرنے گیا۔ گلکرسٹ کے علاوہ رماکانت ڈیسائی کوکھیلنے میں دشواری ہوئی۔‘‘
حنیف محمد کو 1960ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملا۔ 1968ء میں وزڈن کرکٹرآف دی ائیرقرارپائے۔2009ء میں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔1959ء میں شادی ہوئی۔ دو بیٹے اورایک بیٹی ہے۔حنیف محمد کواپنے بیٹے شعیب محمد سے ہونے والی ناانصافی کا گہرا رنج ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ شعیب کوان کا بیٹا ہونے کی سزا ملی اور انھیں صلاحیت کے مطابق مواقع نہیں دیے گئے۔
***
45 ٹیسٹ کھیلنے والے شعیب محمد کا بیٹنگ اوسط اپنے والد اور ٹیسٹ کھیلنے والے ان کے تینوں بھائیوں سے زیادہ h3ہے۔ شعیب محمد سے حنیف محمد اوران کے ساتھ کرکٹ میں جو ناانصافی ہوئی،اس کے بارے میں ہماری جوگفتگو ہوئی اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: ’’میں نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی، جہاں کرکٹ زندگی کا محورتھی۔بچپن میں ڈیڈی کی تصویریں بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ میرے بچپن میں جب ورلڈ الیون پاکستان آئی تواس وقت ڈیڈی کوکھیلتے دیکھا۔ان کے ساتھ پی آئی اے کی پریکٹس سیشن میں بھی چلا جاتا۔اسکول کے زمانے میں لوگ یہ نہیں پوچھتے تھے، پاکستان کے لیے کب کھیلو گے، بلکہ کہتے والد کے ریکارڈ کب توڑو گے؟ یہ باتیں میرے لیے حوصلے کا باعث بنتیں۔ڈیڈی نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ پہلے فرسٹ کلاس میچ میں سنچری بناڈالی توپھرتوقعات بڑھ گئیں۔ 1981ء کے سیزن میں سات میچوں میں چارسنچریاں کیں، جس پر کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا گریڈ کرکٹ کھیلنے بھجوادیا تواس تجربے سے بہت فائدہ ہوا۔ 1983ء میں ٹیسٹ کیپ مل گئی۔پاکستان ٹیم میں آنے سے قبل ہی میری بہت مخالفت ہورہی تھی، جس میں بعدازاں اوربھی تیزی آگئی۔ ایسے میں ڈیڈی یہی کہتے، مزید محنت کرو۔ سارے کیرئیر میں میرے ساتھ ناانصافی ہوتی رہی، h11اچھی کارکردگی کے باوجود ڈراپ کردیا جاتا۔ 1988ء میں ویسٹ انڈیزمیں میری پرفارمنس دیکھ کرعمران بھائی میرے قائل ہوئے۔میری فیلڈنگ سے بہت خوش تھے۔ ایک بارجب مجھے سلیکٹ نہیں کیا گیا تو انھوں نے کپتانی سے انکار کر دیا۔یہ میرے لیے بڑی اہم بات ہے۔ 1992ء میں جب میں ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ پرتھا ، جاوید میانداد کی کپتانی میں انگلینڈ کے خلاف پہلے چارٹیسٹ میچوں میں نہیں کھلایا گیا۔ پانچویں ٹیسٹ میچ میں موقع ملنے پر میں نے نصف سنچری اسکور کی۔دوسری اننگزمیں باری نہیں آئی۔اس کے بعد ویسٹ انڈیزکے لیے ٹیم نے جانا تھا تومجھے ڈراپ کردیا گیا۔ 1994ء میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آئی تومجھے پھرٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جس سے بہت دکھ ہوا۔ ڈیڈی کو میرے بیٹے ایان سے بہت محبت تھی جو اکتوبر 2013ء میں برین ٹیومر کی وجہ سے ہم سے جدا ہو گیا۔ اس کو بہت مِس کرتے ہیں۔ میں نے گھرمیں اپنے کمرے کے سوا اس کی تصویر کہیں نہیں لگائی کہ ڈیڈی کی نظرپڑے گی تودکھی ہوں گے۔ ایان کو کرکٹ کا بہت شوق تھا۔بڑے اچھے انداز میں ٹانگ آگے نکال کر سیدھے بلے سے کھیلتا۔ امید تھی بڑا ہونے پراچھا کرکٹربنے گا لیکن اللہ کویہ منظورنہیں تھا۔ اس وقت میرا بیٹا شہزر محمد پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا ہے۔‘‘
بال ٹھاکرے نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغازکارٹونسٹ کی حیثیت سے کیا۔یہ سفرزیادہ لمبا نہ کھنچا اورجلد ہی انھوں نے 1966ء میں انتہا پسند ہندوجماعت شیوسیناکی بنیاد ڈالی اورپھراس کے ذریعے مرتے دم تک نفرت کا بیوپارکیا۔ 1960ء میں پاکستان ٹیم بھارت کے دورے پرگئی توبال ٹھاکرے نے کھلاڑیوں کے کارٹونوں پرمبنی کتابچہ شائع کیا تواس میں حنیف محمد کاکارٹون بھی شامل تھا۔ بال ٹھاکرے نے حنیف محمد کوایسا لٹل ماسٹرقراردیا،جوبھارت کے لیے سنگ گراںh12 (stumbling block)ثابت ہوگا۔ٹھاکرے نے پاکستانی بیٹسمین کے ضبط وتحمل کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ حنیف محمد کسی گھاگ کھلاڑی کی طرح میدان میں اترتاہے، اورصورتحال کواپنے قبضے میں کرلیتاہے۔
ہیرے کو تراشنے والے 133ماسٹر عزیز
کرکٹ میں ہمارے زوال کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مقامی سطح پرکھلاڑیوں کے ساتھ جان مارنے والے کوچ نہیں رہے۔ ایسوں میں ماضی میں ہمارے ہاں سب سے معتبرنام ماسٹرعبدالعزیزکا رہا،جنھوں نے پاکستان کوحنیف محمد جیسا ہیراتراش کردیا۔ حنیف محمد نے ماسٹرعزیزکے بارے میں بتایا ’’ماسٹرصاحب سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ٹودی پوائنٹ بات کرتے۔مثلاً یہ پیرادھرنہیں،ادھرجانا چاہیے۔بیوی سے علیحدگی کے بعد وہ ذہنی الجھنوں میں گھر گئے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آگئے اورخود کوکرکٹ کے لیے وقف کردیا۔ مجھے ایک دفعہ کلب کی طرف سے کھیلتے دیکھا، تو متاثرہوئے،اورمجھے سندھ مدرسۃالاسلام کی ٹیم میں شامل ہونے کی دعوت دی،جس کے وہ کوچ تھے، یوں میں گھروالوں کے مشورے سے اس اسکول میں داخل ہوگیا اورمجھے ماسٹرصاحب نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ گالف کی گیند سے وہ مجھے ہک کی پریکٹس کراتے۔میچوں میں امپائرکھڑے ہوتے تواس حیثیت میں اپنے شاگردوں سے رعایت برتتے، ان کے جلد آؤٹ ہونے پر گیند کونوبال قراردے دیتے۔مجھ سے کہتے آخری پیریڈ میں ٹیچرکوگگلی کروا کرآجایا کرو تاکہ میں تمھیں پریکٹس کرواؤں۔گگلی سے مراد تھی، میں نظربچاکرنکل آؤں۔ چھوٹے سے کمرے میں رہتے،تنخواہ h13وہ ہفتے بھرمیں ختم کر لیتے، سارے پیسے شاگردوں کی ضروریات پرصرف ہوتے،کسی کوگلوزدلارہے ہیں،کسی کوپیڈزخرید کردیتے۔پیسے ختم ہو جاتے اورجب انھیں بھوک لگتی تولڑکوں سے بن اورچائے کے لیے کہتے،کھانے میں بس یہی چیزیں انھیں پسندتھیں۔بڑے مست آدمی تھے۔‘‘
پولیس ہی حنیف کووکٹ سے ہٹاسکتی ہے
حنیف محمد نے اپنے کیریئرمیں بہت سی یادگار اننگز کھیلیں۔ ہم نے ان کی اپنی نظروں میں پسندیدہ اننگزکا پوچھاتوبے تامل انھوں نے 1967ء میں کپتان کی حیثیت سے لارڈز میں 187رنزناٹ آؤٹ کی اننگزکا نام لیا۔ان کے بقول: ’’یہ اننگز بڑے مشکل حالات میں کھیلی۔ لارڈزکرکٹ کا ہیڈکوارٹرہے وہاں سنچری بنانا بڑے اعزازکی بات ہوتی ہے۔انگلینڈ کے پہلے بھی دودورے کئے ،جس میں سنچری نہ بنا سکا تو اس دورے میں یہ کام میں نے کردیا اوراس طرح میں نے ہر اس ملک کے خلاف ٹیسٹ سنچری بنالی جس کے خلاف میں نے میچ میں حصہ لیا۔ 556گیندوں کا سامناکیا۔542منٹ وکٹ پررہا۔ ایک اخبارنے لکھا کہ صرف پولیس ہی حنیف محمد کوہٹاسکتی ہے، ساتھ میں کارٹون دکھایا گیا جس میں دوپولیس والے مجھے گراؤنڈ سے باہر لے جارہے ہیں۔‘‘
حنیف محمد سے گفتگومیں ان کی انگلیوں کا بھی ذکرآیا،جن پرانھوں نے بڑے وارسہے۔ایک موقع پرجب انھوں نے اپنی مڑی انگلی دکھائی تواسے ہمارے فوٹوگرافراشرف میمن نے فوراً ہی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا۔ حال ہی میں نامور برطانوی مصنف پیٹرابورن نے پاکستان کرکٹ پراپنی عمدہ کتاب ‘‘Wounded Tiger: a History of Cricket in Pakistan’’میں حنیف محمد کی انگلیوں کے بارے میں لکھا ہے ’’بیس سال کرکٹ کھیل کرحنیف کی انگلیاں کسی پرانے درخت کی شاخوں سے مشابہ نظرآتی ہیں،مڑی ،جھکی اور ٹوٹی ہوئیں۔جن دنوں وہ کھیلتے تھے اس وقت ایکسرے کا استعمال عام نہ تھااورٹوٹی ہوئی انگلیوں کواس خیال سے بے علاج چھوڑ دیا جاتاتھا کہ وہ خود بخود ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘
منٹوبھی حنیف کی بیٹنگ دیکھنے کے مشتاق h10
اردوکے مایہ نازافسانہ نگارسعادت حسن منٹوکے بھانجے حامد جلال کوان کے انتقال کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ کمنٹری کررہے تھے۔حامد جلال نے اپنے خاکے’’منٹوماموں‘‘میں منٹوکے گزرجانے کی اطلاع ملنے پراپنے جوتاثرات بیان کئے، ان میں حنیف محمد کا ذکر بھی آیا ہے۔کس حوالے سے؟یہ جاننے کے لیے یہ اقتباس پڑھیں:’’ بہاولپورمیں پاکستان اورہندوستان کے درمیان کرکٹ کا دوسراٹیسٹ میچ ہورہا تھااورمیں ڈرنگ اسٹیڈیم میں بیٹھاطالع یارخاں کومیچ کا چشم دیدحال نشرکرنے میں مدد دے رہا تھاکہ لاہورسے میرے نام پرایک ٹرنک کال آئی اورمجھے بتایاگیاکہ آج صبح سعادت حسن منٹوکا انتقال ہوگیا۔۔۔جب میں اپنی جگہ پرواپس آگیاتومیچ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے والے ساتھیوں نے اشاروں سے پوچھاکہ کیا بات ہے۔میں نے ایک کاغذ پریہ جملہ لکھ دیا: ’’امپائرنے سعادت حسن منٹوکوآخرآؤٹ دے ہی دیا۔ آج صبح ان کا انتقال ہوگیا۔‘‘ منٹوماموں کوآوٗٹ دینے کے لیے امپائرسے کئی باراپیلیں کی جاچکی تھیں لیکن ہرباراپیل مسترد کردی گئی تھی۔اب ان کی بے صبراورڈانوں ڈول اننگزختم ہوگئی تھی۔ وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہوتے تومیں یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ وہ کبھی حنیف محمد کی طرح ہوشیاراورمحتاط کھلاڑی نہیں بن سکتے تھے جسے وہ لاہورکے تیسرے ٹیسٹ میچ میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کے بے حد مشتاق تھے۔ اس کا علم مجھے ان کی موت کے چوبیس گھنٹے بعد گھرپہنچ کرہوا۔درحقیقت ان کی زندگی کی آخری دوخواہشوں میں سے ایک خواہش یہ بھی تھی۔ اپنی موت سے ایک دن پہلے انھوں نے ایک ریستوران میں اپنے دوستوں سے کہا تھا: ’’حامد جلال کوواپس آجانے دو۔میں اسی کے ساتھ ٹیسٹ میچ میں حنیف کا کھیل دیکھنے جاؤں گا۔‘‘
۔۔۔۔مینوں ویکھیں، میں کس طراں کھیڈناں واں
پاکستان کی پہلی اوپننگ جوڑی نذرمحمد اورحنیف محمد کی تھی۔نذرمحمد حادثے کا شکار ہوکربازوتڑوابیٹھے اورصرف پانچ ٹیسٹ کھیل سکے۔ حنیف محمد نے اپنے اس ساتھی کے بارے میں بتایا۔ ’’نذرمحمد میری بڑی ہمت بندھاتے۔میں اسکول بوائے تھا،اس لیے بڑابن کرحوصلہ بڑھاتے۔پنجابی میں کہتے ’’گھبرانا نئیں۔مینوں ویکھیں، میں کس طراں کھیڈنا واں۔‘‘ گلی کے بہت اچھے فیلڈرتھے۔ گانا گاتے رہتے۔ بہت اچھی صحبت رہی ان کے ساتھ۔افسوس!ان کے ساتھ حادثہ ہوگیا، اوروہ اپنا کیرئیرجاری نہیں رکھ سکے،وہ کسی ماہرڈاکٹرکے پاس علاج کے لیے گئے نہیں، عطائی کے پاس چلے گئے،جس نے ہڈی غلط جوڑ دی، اوربعد میں ہاتھ سیدھا نہیں ہوسکا۔آنے والے برسوں میں ان کے بیٹے مدثرنذراورمیرے بیٹے شعیب محمد نے پاکستان کے لیے اکٹھے اوپننگ کی۔‘‘
****
h14ٹیسٹ میں ٹیم کو ہار سے بچانے کی عظیم ترین کوشش کے بارے میں چند باتیں
حنیف محمدنے1958ء میں برج ٹاؤن میں337رنزکی اننگزکھیلی، 970منٹ کریزپررہ کرٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے لمبی اننگزکھیلی۔ ستاون برس گزرنے پربھی یہ ریکارڈ ٹوٹ نہیں سکا۔اس کوٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اپنی ٹیم کوہارسے بچانے کی سب سے عظیم ترین کوشش سمجھاجاتا ہے۔ ویسٹ انڈیزکی پہلی اننگز579کے جواب میں پاکستان ٹیم106رنزبناکرآؤٹ ہوگئی اوراسے فالوآن کا سامنا کرنا پڑا۔473رنزاتارنے تھے، اورساڑھے تین دن سے زائدکا وقت بچاپڑاتھا۔ایسے میں امید پرست سے امید پرست آدمی کوبھی میچ بچتا دکھائی نہ دیتاتھا۔چھٹے روزحنیف محمد نے اپنی ٹرپل سنچری مکمل کی اوروہ یہ اعزازحاصل کرنے والے برصغیرکے پہلے بیٹسمین بن گئے۔ 337رنزبناکراٹیکنسن کی گیند پروکٹ کیپرکے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے تو شکست کے منڈلاتے بادل چھٹ چکے تھے۔ٹیم کا اسکوراس وقت 626تھا۔ اس تاریخی اننگزسے جڑی کچھ یادوں کوتازہ کرتے ہوئے بتایا:’’وکٹ تیزتھی۔ ہک اورپل کھیلنے میں دشواری ہوتی۔اس زمانے میں ہیلمٹ ،تھائی پیڈ اورچیسٹ گارڈ کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔گلکرسٹ جیسے خطرناک بولرکا سامناتھا۔اس کوچوکا ماروتووہ قریب آکرگھورتاتھا۔پہلی گیند اس نے شاٹ کی تومیں دیکھتا رہ گیااوروہ وکٹ کیپرکے اوپرسے گزرگئی۔ہک کرنے کی میری عاد ت تھی،میں نے یہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تووہ مجھ سے صحیح طرح لگی نہیں۔ایسے میں والکاٹ جوسلپ میں کھڑے تھے، میرے پاس آئے اورکہنے لگے ’گلکرسٹ بہت تیزہے۔اس لیے اسے ہک نہ مارو۔‘میں سوچ میں پڑگیاکہ یہ مخالف ٹیم کا کھلاڑی ہے،نجانے درست ایڈوائس دے بھی رہا ہے یانہیں،پھرمیں نے کہا کہ ’اوہو!یہ تووالکاٹ ہے،جوبڑے مشہورکھلاڑی ہیں‘تومیں نے خود سے کہا کہ یہ بات ٹھیک کررہے ہیں، اس پرمیں نے باؤنسرز کوچھوڑنا شروع کردیا اورخود کوہک کرنے سے بازرکھا۔ویسٹ انڈیز میں تماشائی درختوں پرچڑھ کرمیچ دیکھتے ہیں۔ایسا ایک تماشائی میری بیٹنگ بہت پسند کرتا تھا۔اس کی مخصوص آوازتھی۔وہ درخت پربیٹھا بیٹھا مجھ کوگائیڈ کرتا۔زورسے آوازدیتا، ’بولرباؤنس کرے گا۔دھیان سے کھیلنا۔‘وقفے کے دوران وہ میرے ہاتھ پاؤں دباتا۔ایک روزوہ درخت سے میچ دیکھتے ہوئے گرگیا۔وہ ہسپتال داخل ہوگیا۔جب وہ ہوش میں ا?یاتواس نے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ ’’کیا میرا دوست حنیف ابھی کھیل رہا ہے؟‘ہسپتال سے فارغ ہوکروہ واپس پلٹا تومیرا کھیل دیکھنے پھردرخت پرچڑھ گیا۔‘‘
وولمربھی کیا عجب تماشائی تھا
1959ء میں حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 499 رنز بنا کر بریڈ مین کا سب سے زیادہ 452رنزکا ریکارڈ توڑا ،1994ء میں یہ ریکارڈ برائن لارا نے 501رنزبناکراپنے نام کرلیا۔حنیف محمد اور لارا کی اننگزکے درمیان 35برس کا وقفہ ہے۔حیرانی کی بات ہے کہ دنیا میں ایک ایسا تماشائی ضروررہا ہے ، جواس وقت بھی اسٹیڈیم میں موجود تھا، جب حنیف محمد کراچی میں تاریخ رقم کررہے تھے اوراس وقت بھی جب لارا نے ایجبسٹن میں پانچ سوکا ہندسہ عبورکیا۔یہ واقعات ایک ہی شہریا ملک میں ہوتے تب بھی حیرانی کی بات نہ تھی لیکن یہاں تومعاملہ ہی دوسرا تھا۔ یہ منفرد تماشائی باب وولمرتھے۔حنیف محمد کوانھوں نے عام تماشائی کے طورپرکھیلتے دیکھا جبکہ لارا کی بیٹنگ h15واروکشائرکاؤنٹی کے کوچ کی حیثیت میں ملاحظہ کی۔ایجبسٹن میں وولمرکی موجودگی کی وجہ توصاف ظاہرہے۔ذہن میں سوال یہ اٹھتاہے کہ حنیف محمد نے جب ریکارڈ قائم کیا،اس وقت وہ کراچی میں کیوں موجود تھے۔بات یہ ہے کہ وولمرکے والد عراق میں ملازمت کرتے تھے،1958ء کے اواخرمیں ادھرسیاسی صورت حال اتھل پتھل ہوئی تو انھیں وہاں سے نکلنا پڑگیا اوروہ کراچی آگئے۔ایک روزدفترجاتے ہوئے وولمرکے باپ نے گیارہ سالہ بیٹے کومیچ دیکھنے اسٹیڈیم میں چھوڑ دیا،بس یہی وہ دن ٹھہراجب حنیف محمد نے تاریخ سازکارنامہ انجام دیاتھا۔مشتاق محمد نے بھی باب وولمروالا اعزازحاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کی لیکن ناکام رہے۔حنیف محمد نے جب ریکارڈ بنایا تومشتاق محمد بھائی کی ٹیم کا حصہ تھے،1994ء میں وہ برمنگھم میں موجود تھے،انھیں جب یہ اطلاع ملی کہ لارا نے 450کا ہندسہ عبورکرلیا ہے توگاڑی دوڑاتے ایجبسٹن کی طرف روانہ ہوئے تاکہ حنیف محمد کا ریکارڈ ٹوٹتے دیکھ سکیں لیکن ان کے پہنچے سے قبل معرکہ سرہوچکا تھا۔حنیف محمد اور وولمرکے درمیان واحد ملاقات 2005 ء میں پاک بھارت کرکٹ سیریزکے دوران بنگلورمیں ہوئی۔
محمد برادران نے کرکٹ میں جوسربلندی حاصل کی،اسے ان کی والدہ کودیکھنے اورفخرکرنے کا موقع ملا لیکن افسوس ! ان کے والد شیخ اسماعیل کواولاد کی کامیابیاں دیکھنا نصیب نہ ہوئیں۔کرکٹ کے وہ شیدائی تھے،کلب کرکٹربھی رہے۔لنڈسے ہیسٹ ان کے فیورٹ بیٹسمین تھے،اوروہ بیٹوں کوکھیل میں اس کی پیروی کا درس دیتے۔ 1965ء میں حنیف محمد کی قیادت میں پاکستان ٹیم آسٹریلیاگئی توواحد ٹیسٹ میچ میں حنیف محمد نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔پہلی اننگزمیں104 جبکہ دوسری اننگزمیں93رنزبنائے۔انھیں دوسری اننگزمیں غلط اسٹمپ دیا گیا۔حنیف محمد کے بقول: ’’جب وکٹ کیپر نے بیلز اڑائیں تو گیند اس کے گلوز میں نہیں تھی۔ سب کچھ ایک دم سے ہوا،مجھے چاہیے تھا کہ وکٹ کیپرسے کہتاکہ وہ امپائرکوسچ سچ بتادے، جیسے کیچ لیتے ہوئے گیند زمین کوچھوجائے تووہ خود ہی امپائرکوبتادیتا ہے تواسی طرح وکٹ کیپرکومجھے سوری کہنے کے بجائے امپائرکواصل بات بتانی چاہیے تھی۔میں کپتان بھی تھا، اس لیے کھیل کی اسپرٹ برقراررکھنے کے لیے بغیراحتجاج پویلین لوٹ گیا۔ اگلے روزکے اخبارات میں مجھے غلط آؤٹ دیے جانے پرتنقید کی لیکن میرے رویے کوسراہا گیا۔‘‘حنیف محمد کے لیے آسٹریلیا میں کارکردگی کا اصل انعام یہ ٹھہرا کہ نامورکرکٹ تجزیہ کاررے رابنسن نے ان کے بیٹنگ اسٹائل کواسی بیٹسمین سے مشابہ قراردیا،جوان کے والد کا پسندیدہ تھایعنی کہ لنڈسے ہیسٹ۔اس سے بھی بڑی بات اس وقت ہوئی جب ہیسٹ بنفس نفیس انھیں ملنے ڈریسنگ روم آئے۔حنیف محمد کی بیٹنگ کی تعریف کی۔حنیف محمد نے انھیں بتایاکہ ان کے والد کوان کا کھیل بہت پسند تھا۔بعدازاں وہ میلبورن میں ہیسٹ کی کھیلوں کے سامان کی دکان پربھی گئے اوروہاں سے اپنے لیے بوٹ خریدے۔ اس دورے میں ان کی ملاقات ڈان بریڈ مین سے ہوئی،تو انھوں نے بھی حنیف محمد کی بیٹنگ کو بہت سراہا۔
لانے والے بھی کاردار، نکالنے والے بھی کاردار
عبدالحفیظ کاردارکا حنیف محمد کے کیرئیرمیں بڑا اہم کرداررہا۔ ان کی کپتانی میں انھوں نے ٹیسٹ کیرئیرکا آغازکیااورپھربے شمارکارنامے انجام دیے۔ عبدالحفیظ کارداربھی حنیف محمد کی بطوربیٹسمین ہی قدرنہیں کرتے تھے بلکہ انھیں کرکٹ کے معاملات میں ان کی سوجھ بوجھ پربھروسہ بھی بہت تھا۔ ان کو وہ Mr. Concentrationکہتے۔ حنیف محمد نے بتایاکہ جب میچ میں نازک صورت حال ہوتی تووہ مشورے کے لیے ان کی طرف دیکھتے اورکہتے! ’’ہاں! ماسٹراب کیا کریں۔‘‘دونوں کے درمیان تعلقات میں رخنہ اس وقت آیا جب عبدالحفیظ کاردارنے انھیں ریٹائرمنٹ لینے پرایک طرح سے دھمکی دے کرمجبورکیا۔حنیف محمد، کاردارسے زیادہ ان کے ساتھی سلیکٹروں کو ٹیم سے اخراج کا ذمہ دارجانتے ہیں، جنھوں نے ان کے بقول، کاردارکوگمراہ کیا۔کاردارکے یہ ساتھی جن کا حنیف محمد نے ذکرکیا ، ان کے پرانے ٹیم میٹ تھے۔ان کے بقول’’وہ مجھ سے حسداس لیے کرتے تھے کہ وہ کب کے ریٹائرہوچکے تھے، اورمیرا اب تک کھیلنا اورپرفارم کرنا ان سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔انھیں لوگوں نے میرے خلاف کاردارکے کان بھرے۔ 1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف جوٹیسٹ میرا آخری ٹیسٹ ثابت ہوااس میں کاردارنے وزیرمحمد سے جوسلیکٹرتھے، مجھے ریٹائرمنٹ لینے پرآمادہ کرنے کے لیے بھیجنا چاہا تووزیرنے انکارکردیااورکہا کہ ابھی میں تین چارسال کرکٹ کھیل سکتا ہے۔ اس پرکاردارنے اخبارنویسوں کوڈریسنگ روم میں بھیج دیا کہ حنیف کچھ کہنا چاہ رہے ہیں، جب وہ میرے پاس آئے تومیں نے کہا کہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔اس کے بعد کاردارخود میرے پاس آئے اورکہنے لگے کہ ایک دن سب کوریٹائرہونا ہے، اس لیے مجھے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہیے،میرے دو چھوٹے بھائی بھی ٹیم میں ہیں تومجھے ان کا بھی خیال کرنا چاہیے،یہ ایک طرح سے دھمکی تھی کہ اگرمیں نے ریٹائرمنٹ نہ لی تومیرے بھائیوں کا کیرئیرمتاثرہوسکتاہے۔کاردارکے رویے سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ مجھے قومی ٹیم میں لانے والے بھی وہی تھے اور اب نکال بھی وہی رہے تھے۔‘‘
***
h16عیادت کے لیے لتاکی آمد
حنیف محمد خوش قسمت ہیں کہ 1960ء کے دورہٗ بھارت میں وہ ان فٹ ہوئے توانھیں دیکھنے کے لیے آنے والوں میں لتامنگیشکر بھی شامل تھیں۔ حنیف محمد کے بقول’’ایک روزمیں کرکٹ کلب آف انڈیا میں اپنے کمرے میں ٹیپ ریکارڈز پر نورجہاں کے گانے سن رہاتھا۔ دروازے پردستک ہوئی،تومیں نے اندرآنے کوکہا تودیکھا کہ ایک خاتون کریم ساڑھی میں ملبوس ، ماتھے پربندیالگائے داخل ہوئی اورنمستے کہہ کراپنا نام لتا منگیشکر بتایا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔میں ان کا پرستارتھا اوروہ میرے سامنے تھیں۔ بات چیت ہوئی توانھوں نے بتایاکہ نورجہاں کو استاد مانتی ہیں۔ انھوں نے میری والدہ اورماموں کو ریکارڈنگ اسٹوڈیوکا دورہ کرنے کی دعوت دی، اورجب وہ ادھرگئے توبڑے تپاک سے ملیں۔‘‘

بشکریہ ایکسپریس

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *