خراٹوں پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے؟

Man-snoringاگر آپ کو بتایا جائے کہ آپ سوتے میں خوفناک قسم کے خراٹے لیتے ہیں تو آپ کے پاس ایسی کوئی صورت نہیں کہ آپ اسے جھٹلا سکیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ آپ خود ان سے متاثر نہیں ہوتے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتا ہوا ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں توجہ دینے کی بڑی ضرورت ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ رات کو گہری نیند میں جا کر خود کو ترو تازہ کر لیں لیکن ممکن ہے کہ بیڈ کے دوسری جانب لیٹی ہوئی آپ کی ساتھی ایک پل بھی نہ سو پائے۔ دنیا بھر میں خراٹے لینے والوں کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ ان کی تعداد 30%سے 50%تک ہو سکتی ہے۔ خراٹے نہ صرف آپ کے ساتھی کی نیند کے دشمن ہیں بلکہ یہ خراٹے لینے والے کے جسم پر مضر اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔ ہمارے جسم کے لیے لازمی نیند مہیا کرنے والے اعصاب ، جن میں گردن اور اوپری حصے میں ہوا کا نظام شامل ہے، جہاں جا کر آرام کرتے وہاں دراصل یہ دس سیکنڈ تک سانس نہیں لے پاتے۔ جب جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں آپ کا جسم میں کھنچاؤ پیداہوتا ہے اور آپ زور لگا کر سانس لیتے ہیں۔ اگر یہ کام جسم میں ایک رات میں متعدد بار ہو تو اس سے دل کی بیماریوں کے امکانات میں ا ضافہ اور پھیپھڑوں کی صلاحیت میں کمی ہو جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آکسیجن میں رکاوٹ کا یہ معاملہ بچوں میں دو اور درمیانی عمر کے لوگوں میں چار فیصد تک ہوتا ہے۔ تاہم اکثریت کا مسئلہ صرف خراٹے ہی ہوتے ہیں۔ اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے روایتی طور پر ہمیں جو مشورہ سب سے پہلے دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وزن کم کیا جائے۔ لیکن یہ بات کہنی آسان اور کرنی بڑی مشکل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سونے سے پہلے الکوحل استعمال نہ کر کے خراٹوں کے معاملے میں کچھ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سوتے میں اگر آپ اپنے پاجامے کی پچھلی جیب (اگر پاجامے میں یہ سہولت دستیاب ہو تو) ایک ٹینس بال رکھ سکیں تو اس سے بھی آپ کو افاقہ ہو گا۔ اب اس سے بھی آسان کچھ حل اور ورزشیں برازیلی محققہ ونیسا ائیٹو اور ان کی ٹیم نے تجویز کی ہیں۔ ان ورزشوں کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے منہ اور گردن کے مسل اتنے مضبوط ہو جائیں کہ سوتے میں سانس لیتے ہوئے خراٹے پیدا نہ ہوں۔ اس کام کے لیے محققین کی اس ٹیم نے انتالیس رضاکاروں کے خراٹوں کو ریکارڈ کر کے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے اس کے بعد ان رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے ایک گروپ کو ورزش کرنے اور دوسرے کو نتھنوں میں لگانے کے لیے سٹرپ دی گئی۔ تین ماہ کے بعد دوبارہ ٹیسٹ لینے پر علم ہوا کہ سٹرپ والے رضاکاروں کا گروہ پہلے ہی کی طرح خراٹے لیتا تھا جب کہ ورزش کرنے والوں کے خراٹوں میں بہت بہتری آ چکی تھی اور ان کی سوتے میں آنے والی آوازیں پہلے سے بہت کم ہو چکی تھیں۔ ان ورزشوں کی ویڈیو اور ان کا استعمال بی بی سی ۲ کی ویب سائٹ پر ناظرین کے لیے موجود ہے۔ اگر آپ کا پارٹنر یا آپ خراٹوں کی وجہ سے پریشان ہیں تو یہ ویڈیو آپ کی پریشانی کو دور کر سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *