سیاسی مکالمے کی کمزوریا ں کیسے دور کی جائیں ؟

Timojan Mirzaہمارے ہاں سیاسی منظر نامہ کی تصویر کشی ہمیشہ مخاصمت اور محاذ آرائی کی کیفیت ہی سے کی جا سکتی ہے اور حیرانی کی بات ہے کہ ہم لوگ اس سب کو سیاسی جدوجہد کا نام دینے والوں کا ہمیشہ سے ساتھ دیتے آئے ہیں اور دیتے رہنے کے ہی آثار نظر آتے ہیں۔ جمہوری عمل جس ارتقاءکا نام ہے وہ ناپید رہنے کی بنیادی وجہ یہی انداز سیاست ہے جو ہمارے خطّہ میں رہنے والے جبلی طور پر پسند بھی کرتے ہیں۔ جلاو، گھیراواور شور مچاو سیاست کے بڑے ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ بلکہ ایک خیال کے مطابق نوجوان نسل کے نزدیک زندگی کے تمام پہلووں میں یہ خصائص اعلی اور جرات مندی کی علامت سمجھے جاتے ہیں- صحافیوں سے لے کر جنرلوں تک نام نہاد شعلہ بیانی (حالانکہ شعلہ بیانی اور لچر پن میں فرق ہوتا ہے) کی خصوصیت سے بھرپور لوگ ہی محب وطن سمجھے جاتے ہیں جبکہ دھیمے لہجے میں بات کرنے والے، حقائق پیش کر کے مدلّل جواز پیش کرنے والے اور جنگ سے گریز کرنے کی اہمیت پر زور دینے والے بزدل اور اکثر غدار قرار دیے جاتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ جنگ ایسی نہیں ہوتی جیسے فلم میں دکھائی جاتی ہے اور دو سے تین گھنٹے میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے بلکہ کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ دس گھنٹے بجلی نہ آنے، ٹارگٹ کلنگ اور پانی کی کمیابی پر شور مچانے والے اسی جوش و خروش بلکہ اس سے بھی زیادہ شد و مد سے جنگ پر تیار ہوتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جناب جنگ میں تو بجلی آتی ہی نہیں اور پانی کا حصول جوئے شیر لانے سے ذرا زیادہ ہی مشکل ہو سکتا ہے جبکہ کلنگ میں سے ٹارگٹ کا سابقہ ہٹا کر بے دریغ اور مسلسل کا سابقہ لگ جاتا ہے- لیکن کیا کہئے کہ باتوں باتوں میں ہم نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر سب فتح کر لیتے ہیں اور اس میں برا بھی کیا ہے، قوم بھی کچھ دیر کو اس رومان میں کھو جاتی ہے اور جرات و ہمت کا احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے اس سے قطع نظر کہ جب امریکہ (امریکہ اس لئے کہ عام طور پرجو کرتا ہے امریکہ ہی کرتا ہے) کا دل کرتا ہے وہ کھل کھیلتا ہے اور آپ تب باتیں بھی نہیں کر پاتے- طرّہ یہ کہ پھر کتابیں لکھ کر ببانگ دہل آپ کے تمام بیانات اور دعوﺅں کی نفی کرتے ہوئے سب کہ ڈالتے ہیں اور کوئی تردید کرنے کی جرات بھی نہیں کرپاتا-

خیر جرات و ہمت کے دعووں سے قطع نظر، بات تھی ہمارے سیاسی رویوں کی- گو پچھلے کچھ برسوں سے سیاسی عمل میں بہتری آئی ہے اور سیاسی قوتیں بھی کسی حد تک بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے پر مجبوراً تیار ہو رہی ہیں، جمہوریت بہرحال تنے ہوئے تار پر بازیگری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیسے تیسے چلتی جا رہی ہے- افسوسناک بات یہ ہے کہ سیاسی قوتوں اور عوام کے لئے اب تک سب سے بڑے مسائل انتخابی عمل میں ہو چکی بے قاعدگیاں اور ایک فریق کے لئے کرسی ہلانا اور دوسرے کے لئے بچانا ہی ہیں۔ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی چٹ پٹی خبر جو انہی مسائل سے متعلق ہوتی ہے زینت زبان و بیان بنی نظر آتی ہے، لفاظی اور علم و فضل کے دریا بہائے جاتے ہیں، عوام سوشل میڈیا اور اصل زندگیوں میں ایسی ہی باتوں پر دست و گریبان نظر آتے ہیں جبکہ سیاسی معاملات میں مہارت تو اب صرف ماو¿س ہلانے ہی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ رہے عوامی مسائل تو بھیا وہ تو ہمیشہ سے ہیں، اصل بات تو یہ ہے کہ ملک میں حکومت کس کی ہونی چاہیے- کسی بھی جگہ سیلاب یا کسی اور مشکل کو صرف سیاسی مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے اور جدید ذرائع ابلاغ نے تو اس عمل کو مزید نکھارعطا کیا ہے کہ بھوک سے بگڑی ہوئی شکلوں، پانی سے بھرے ہوئے گلی کوچوں، تباہ حال غریبوں اور ٹوٹے ہوئے بندوں کی تصاویر ان گنت بار دکھا دکھا کر شاید بے حسی ہی کو فروغ دیا جاتا ہے کہ ہر سال یہی سب دیکھنے کے باوجود ان جذباتی لمحات کو چھوڑ کر بنیادی سوال اقتدار میں بیٹھے ہوئے اشخاص اور ان کے ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہی رہتا ہے۔ ہم کھانا کھاتے ہوئے بے گھر، بے در اور بھوکوں کو دیکھ کر چچ چچ کرتے ہوئے بھوک کی سختیوں کا بلیغ اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے پر ملنے والے اجر کا ذکر کرتے ہوئے دوبارہ لقمے توڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور صرف چند لمحات بعد اسی چینل پر چلنے والی کسی چٹ پٹی خبر پر ہمیں وہ اجر بھی بھول جاتا ہے اور وہ افسوس بھی جبکہ قہقہہ ایسا ہوتا ہے کہ حلق سے نیچے جاتا لقمہ دکھائی دیتا ہے- یہ اور بات ہے کہ اس موقعہ پر ہمدردی میں کہے گئے فقروں کا چٹخارہ اتنا زبردست ہوتا ہے کہ ہم کھانا ختم کرنے کے بعد بھی انہیں یاد کر کر کے اپنی بلاغت کے لطف میں بار بار کھو جاتے ہیں اور اس یاد کرنے کے عمل میں ہمارے ’تقویٰ‘ کو نفس اور شیطان مردود سے جو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس پر بار بار توبہ بھی کرتے ہیں اور سب کے سامنے غیر اضطراری طور پر کانوں کو ہاتھ لگا کر ارد گرد والوں کو بھی اس معصومانہ عمل تیقن میں شریک کر لیتے ہیں- جرات ایمانی، ایثار اور انسانیت دوستی کے اس بے مثال مظاہرہ کے بعد ہم اپنی ذہانت کا اطلاق بین الاقوامی مسائل، ان کے ہمارے ملک پر اثرات اور ترقی یافتہ ممالک کی قیادت کے دیسی قیادت سے موازنہ کے بعد اقتدار کی منتقلی کے تمام امکانات پر کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں- خارجہ امور اور ان پر ہماری کمال گرفت بھی دوران گفتگو یا فیس بک پر دوران تحریر مد نظر رہتی ہے-
لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب سے سے عوام کو خود کیا حاصل؟ کیا اس تمام عمل اور سوالات صرف رموز حکمرانی تک ہی محدود رہنے سے کیا تمام بنیادی مسائل حل ہو سکتے ہیں یا یہ شترمرغ کی طرح ریت میں سر دیے رہنے اور سب خود ہی ٹھیک ہو جانے کی خواہش کا بالواسطہ اظہار ہے؟ جب تک عوام تمام بنیادی مسائل کو حقیقی نظر سے دیکھ کر حکمرانوں سے ان پر بات کرنے یا ان کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کرانے کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے، یقین رکھیے اس سمت میں کوئی بہتری شاید ہی دیکھنے میں آئے گی اور آنے والی حکومتوں کی ترجیح بھی یا تو نظروں کو دکھنے والے اور کم از کم عرصہ میں معیار کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر بننے والے مہیب منصوبوں یا زبانی دعوو¿ں تک ہی محدود رہے گی۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بنیادی ڈھانچہ یا انفراسٹرکچر بنانا واقعی اہم ہوتا ہے لیکن ان کی آڑ میں تعلیم، صحت اور فلاح عامہ کے دوسرے منصوبوں کو نظر انداز کر دینا بھی ترقی معکوس ہی کا سبب بنتا ہے۔ ترقی کے یہ سب عوامل پہلو بہ پہلو ہی ایک ترقی یافتہ، مہذب، تعلیم یافتہ اور کسی حد تک مطمئن معاشرہ اور ممالک کو جنم دیتے ہیں- ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ حکمرانوں کے مسائل ہمارے اصل مسائل نہیں بلکہ بیان کردہ دوسرے پہلو ہماری توجہ کے مکمل طور پر حامل ہونے چاہییں اور ہماری بحثیں، باتیں اور بیٹھکیں ان سب پر حقیقی اور عملی تبادلہ فکر پر مشتمل ہونی چاہییں۔ یاد رکھیے کہ مقتدر طبقہ یہ کبھی نہیں چاہتا کہ آپ کی توجہ ان مسائل کی طرف جائے کیونکہ اس سب سے ان کی جیب میں جانے والا حصّہ، بلا سوال حکمرانی کا استحقاق اور بغیر کام کیے تمام تحسین کے حقدار ہونے کو کاری زک پہنچتی ہے- یہ بات بھی قابل غور اور انتہائی اہم ہے کہ یہ تمام عمل عام طور پر فروغ پذیر جگت بازی، اظہار خیال میں دشنام طرازی اور مدلّل گفتگو سے بیزاری کے رجحانات سے پاک ہونا چاہیے۔ ایسا ہو سکتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہی سب جاری رکھیے، کم از کم آپ کا مزہ تو کر کرا نہیں ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *