مسلمان طالبعلم کو ’اشلوک‘ نہ پڑھنے پر سزا

boyبھارت میں اسکول کی خاتون پرنسپل کی جانب سے ایک 15سالہ مسلم طالبعلم کو سنسکرت کے ’اشلوک‘ نہ پڑھنے پر سزا دینے کے معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ واقعہ شمالی بنگلور کے اسکول میں رواں مہینے میں پیش آیا۔ بھارتی اخبار کے مطابق جب اس مسلمان لڑکے کو پرنسپل نے دیکھا کہ وہ اشلوک نہیں پڑھ رہا تو اسے مائیک تھما کر اسٹیج پر اشلوک پڑھنے پر مجبور کیا گیا۔طالبعلم کا موقف ہے کہ ’مجھے 1200طلباءکے سامنے ذلیل کیا گیا اوراس طرح میرے بنیادی قانونی حقوق مجروح ہوئے ہیں۔مجھے جب سب کے سامنے بلند آواز میں اشلوک پڑھنے پر مجبور کیا گیا تومیں کئی اشلوکوں کا صحیح تلفظ بھی نہ کر سکا‘۔

طالبعلم کی ماں نے سول رائٹس کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی مدد سے پرنسپل سے رابطہ کیااور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوشش بھی کی ہے۔دوسری جانب پرنسپل پدماجا مینون نے استفسار پر کہا کہ’مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہے ہیں۔میرے خیال میں یہ دعائیہ کلمات طلباءمیں نظم وضبط جیسی اچھی اقدار کے فروغ کے لئے اہم ہیں۔‘
اسکول کی پرنسپل کو انتباہ کیا گیا کہ بھٹکل نامی مسلم علاقے سے تعلق رکھنے والایہ طالبعلم اس اقدام کی وجہ سے ’بنیاد پرست‘ مسلمان بھی بن سکتا ہے۔بعد ازاں اس طالبعلم کو اسمبلی کے اوقات میں کلاس روم میں ہیٹھنے کی اجازت دے دی گئی ہے مگر طالبعلم اس سے خوش نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اس کلاس میں32میں سے سولہ طلباءمسلمان ہیں اور اسکول کے 30فی صد طلباءکا تعلق مذہب ِاسلام سے ہے۔مذکورہ طالبعلم اسکول کا ’ہیڈبوائے‘ بھی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ’ اشلوک پڑھنے سے انکار کے واقعے کے بعد میں پریشانی کا شکار ہوںاور اس معاملے میں کئی ہندو لڑکے بھی میری حمایت کر رہے ہیں۔
اسکول کی پرنسپل پدماجا مینون اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اشلوک پرھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔یہ دعائیہ کلمات ہیں جن میںہندو خداوں براہما،وِشنو اور مہیش کا ذکر ہے‘۔پرنسپل نے کہا کہ ’برہما کائنات کے خالق ہیں۔ ان کا نام لینے میں بھلا کیا حرج ہے؟‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *