مرد محبت میں ناکامی نہیں بھولتے

breakupبنگ ہامٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین کو کسی نامناسب شخص کے ساتھ ڈیٹ سے کافی ذہنی کوفت ہوتی ہے مگر ’بریک اپ‘ کے بعد ان کے دل کے زخم نسبتاً جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ مردوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اگر کوئی مرد مکمل طور پر کسی عورت سے اپنے جذبات وابستہ کر لے تو ایسے تعلق کے ٹوٹنے پر اسے بہت شدید ذہنی کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مرد اس نقصان کو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں اور ان پر اس کا اثر دیر تک قائم رہتا ہے۔

ریسرچ میں شریک کریگ موریز کا کہنا ہے کہ’بریک اب کے بعد مردوں کو یہ فکر کھائے جاتی رہتی ہے کہ کس طرح اس نقصان اکا ازالہ کیا جائے۔ اکثر بات اس نیتجے پر ختم ہوتی ہے کہ’ نقصان کا ازالہ ناممکن ہے‘جب کہ عورتوں میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ریسرچ کے دوران 96ملکوں کے 5705افراد سے’ بریک اپ‘ کے دکھ کے جذباتی اور نفسیاتی پہلووں کے بارے میں پوچھا گیا۔ ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ خواتین پریقیناً رومانوی تعلقات کے ٹوٹنے کا کافی حد تک منفی جذباتی ونفسیاتی اثر ہوتا ہے لیکن بعد میںان کی ذہنی اور نفسیاتی بحالی کا عمل بھی اسی تیزی سے ہوتا ہے۔
جہاں تک مردوں کا تعلق ہے تو وہ مکمل طور پر رِی کور نہیں ہو پاتے ۔ مرد حالات کے ساتھ سمجھوتا کر کے آگے ضرور بڑھ جاتے ہیں مگر ان کے دل دماغ پر ’بریک اپ‘ کے گہرے اثرات رہتے ہیں۔ موریز کاکہنا ہے کہ ہماری زندگیوں میں’ بریک اپ‘ کا ہونامعمول کی بات ہے اور عام طور پر30 برس کی عمر تک اس طرح کے حادثات کاتین مرتبہ سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جن میں سے کوئی ایک بہت بری طرح ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں لوگ اپنی ملازمتیں کھو جاتے ہیں،طالبعلم کلاسوں میں حاضری موقوف کر دیتے ہیںاور بہت سے لوگ’بریک اپ‘ کے بعد لوگ دیگر تخریبی اقدامات کرتے ہیں۔ریسرچ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ’بریک اپ‘ کے نفسیاتی وجذباتی اثرات کو بہتر طریقے سے سمجھ کر اس کے منفی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *