الوداع جنرل صاحب!

Ayaz Amirجنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب کی طرف سے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ ایک بروقت فیصلہ ہے کیونکہ اگر اس کا اعلان جلد نہ کیا جاتا تو ہمارے گفتار کے غازی اور اس جنس کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں ہے، جنرل صاحب کے جانے یا کوئی اور عہدہ لینے کے بارے میں اتنی چہ میگوئیاں کرتے کہ جنرل صاحب کی شہرت کو دھچکا لگنے کا اندیشہ تھا۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن ہم پوجا ہمیشہ چڑھتے ہوئے سورج کی کرتے ہیں ۔جب کوئی شخصیت ارفع عہدے پر جلوہ فگن ہوتی ہے تو ہم تعریف و ستائش کے پل باندھ دیتے ہیں۔ ہماری چشم ِ رسا ان اصحاب میں ایسی ایسی خوبیاں دریافت کر لیتی ہے کہ ان کی والدہ بھی ان سے لاعلم ہوتی ہے تاہم جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو ان کے اچھے کاموں کے ذکر سے ہماری زبان کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کمانڈر ان چیفس کی تین اقسام ہیں: (1) وہ جنرل جنہوں نے جمہوری حکومتوں پر شب خون مارا اور بڑے طمطراق سے حکومت کی۔ ان میں ایوب خاں، یحییٰ خاں، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کا نام آتا ہے۔ ان چاروں کے ادوار نے پاکستان کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا۔ 2)) دوسرے گروہ میں وہ جنرل شامل ہیں جنہوں نے جنگ میں شکست کھائی اور ملک کے لئے ہزیمت اور تباہی کا باعث بنے۔ ایوب خاں 1965 کی جنگ، یحییٰ خاں 1971 کی جنگ اور مشرف کا کارگل کا ’’معرکہ‘‘۔ 3) (تیسرے گروہ میں ان جنرل صاحبان کا نام آتا ہے جنہوں نے نہ تو جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا اور نہ ہی کوئی جنگ لڑی(چنانچہ شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا)۔ یہ آصف نواز جنجوعہ، وحید کاکڑ اور جہانگیر کرامت ہیں۔ اس طرح ان 66سالوں میں ہماری تاریخ کے صفحات پر صرف ایک چیف آف آرمی اسٹاف کا نام رقم ہے جنہوں نے کامیاب فوجی آپریشن کئے اور یہ نام صرف اور صرف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ہے۔ ہم اس بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں، ہم حالت ِ جنگ میں ہیں۔ ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس سے ہمارے وجود کو بھارت سے بھی زیادہ خطرہ لاحق ہے اور اس کے ہاتھوں فوج نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ ستم یہ ہے کہ قوم بھی فوج کے پیچھے متحد نہیں کھڑی ہے۔ اس بات نے فوج کے کام کو مزید دشوار بنا دیا ہے تاہم موجودہ حالات کے باوجود کیانی صاحب نے قیادت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے فوج کا مورال بلند رکھا۔
کارگل کی ہزیمت اور اس سے پہنچنے والے نقصان اور مشرف دور میں کی گئی دیگر حماقتوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاک فوج کا مورال خاصا گر چکا ہے اور اب یہ جنگ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ الزام یہ رہا ہے کہ اس کی زیادہ تر توجہ کاروبار پر مرکوز ہے تاہم دو وجوہات کی بنا پر فوج نے کھوئے ہوئے بال و پر حاصل کر لئے۔ ایک وجہ طالبان تھے، جنہوں نے ہم پر جنگ مسلط کرکے فوج کو ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کر دیا اور دوسری وجہ کیانی صاحب کی ولولہ انگیز قیادت تھی۔ ان سے پہلے جب مشرف نے فاٹا میں فوج کشی کی تھی تو فوج اس آپریشن کے لئے تیار نہ تھی چنانچہ نیم دلی سے لڑنے والے فوجی دستوں کو طالبان کے ہاتھوں خاصی زک اٹھانا پڑی۔ اس سے فوج کا مورال گرگیا۔ اس خستہ حال فوج کی بحالی کیانی صاحب کا وہ کارنامہ ہے جسے سنہری حروف میں لکھا جائے گا پھر یہی فوج تھی جس نے جنوبی وزیرستان اور سوات میں کامیاب آپریشن کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران کیانی صاحب پس منظر میں نہیں رہے بلکہ اُنہوں نے باقاعدگی سے اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور لڑنے والے جوانوں کی ہمت بندھائی۔ اسی دوران اُنہوں نے قوم کو بھی یاد دلایا کہ فوج ان کے لئے کیا قربانیاں دے رہی ہے۔ اس طرح اُنہوں نے فوج اور قوم کو ایک پیچ پر لاکھڑا کیا ۔ ان سے پہلے، سوات پر سے عملاً پاکستانی ریاست کی عملداری ختم ہوچکی تھی۔ یہ بات درست ہے کہ اگر فوج اور اس کے خفیہ ادارے عقل سے کام لیتے تو سوات کے جنگجو مولانا فضل اﷲ کی خود سری اور اس کے ایف ایم ریڈیو پر شعلہ بار خطابات کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہاں ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہم اس ضمن میں بھارت یا موساد کو مورد ِ الزام کیوں ٹھہراتے ہیں؟ وہ ’’بیچارے‘‘ ہمارے خلاف اتنی سازشیں نہیں کرسکتے جو ہم خود اپنے خلاف کرلیتے ہیں۔ جس ملک میں فضل اﷲ جیسے دندناتے ہوئے پھرتے ہوں تو… ’’دشمن اُس کا آسمان کیوں ہو‘‘۔ لال مسجد کے واقعے کو دیکھیں، اگر حکومت اس کو شروع سے ہی کنٹرول کرنا چاہتی تو اس کے لئے کسی فوجی لشکر کی ضرورت نہیں تھی بلکہ آب پارہ تھانے کا پولیس افسر بھی اس سے آسانی سے نمٹ سکتا تھا لیکن مشرف نے اس معاملے کو بگڑنے کا موقع دیا یہاں تک ایک مسجد میدان ِ جنگ میں بدل گئی۔ اس سے لگنے والا زخم ہنوز رس رہا ہے۔
سوات کا معاملہ کیسے بگڑا، یہ ایک لمبی تفصیل ہے اسے جانے دیں لیکن یہ کیانی صاحب تھے جنہوں نے سوات پر پاکستان کی رٹ قائم کی، جنوبی وزیرستان اور فاٹا کے دوردراز مقامات پر لڑنے والے فوجی دستوں کو حوصلہ دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابھی طالبان کو شکست نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت وہ اپنی اوقات سے بڑھ کر بات کررہے ہیں۔ اس کے لئے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طالبان کو شکست دینے کے لئے صرف فوجی دستے بھیجنے کافی نہیں ہیں، اس لئے پاکستان کی سرزمین سے انتہاپسندانہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ طالبان کو سرزمینِ پاکستان سے نکالنے سے زیادہ ضروری ہے کہ اُنہیں پاکستانی ذہنیت سے نکالاجائے ۔ یہ کاوش سیاسی عمل کا حصہ ہونی چاہئے اور اس کے لئے ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جواس بات کو سمجھتی ہو لیکن اس وقت پاکستانی قیادت کے طرزِعمل سے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ اس کی صفوں میں طالبان کے ہمدرد زیادہ ہیں۔ اگر پاکستان کو انتہا پسندوں سے بچانا ہے تو فوج اور سویلین قیادت کی سوچ میں یکسانیت کی ضرورت ہے لیکن فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھی عجیب ہے۔ وہ ہمارا اتحادی ہے لیکن جس طرح وہ ہمیں استعمال کرتا ہے، وہ ہمارے لئے مزید درد ِ سر بن جاتا ہے۔ گزشتہ حکومت کے دوران امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ڈور زیادہ کیانی صاحب کے ہاتھ ہی تھی۔ اُنہوں نے خاص طور پر ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد اور سلالہ کے بعد، امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب کئے بغیر پاکستان کی سرزمین پر سے امریکی اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہیں کتنی تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑتا تھا… امریکیوں اور ان کے خدشات سے نمٹنا، آصف زرداری کو برداشت کرنا، طالبان سے لڑنا جبکہ کچھ، جیسا کہ حقانی گروپ، سے روابط رکھنا، ایک آنکھ افغانستان پر جبکہ دوسری بھارت پر رکھنا اور اس دوران بلوچستان کے رستے ہوئے ناسور کا علاج کرنے کی بھی کوشش کرنا۔ کہا جا سکتا ہے کہ فوج ان تمام معاملات کو درست طریقے سے نہیں نمٹا سکی، اسے بعض معاملات میں ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا لیکن ان تمام معاملات کو ہاتھ میں رکھتے ہوئے بگاڑ کو ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ ان میں سے بہت سے معاملات میں سول حکومت کو آگے بڑھ کر ذمہ داری اٹھانا چاہئے تھی لیکن اس کے مشاغل کچھ اور تھے۔ چنانچہ سیکورٹی کا تمام تر بار کیانی صاحب کے کندھوں پر رہا ہے۔
کیانی صاحب نے کچھ سیاسی کاموں میں بھی خود کو الجھانا مناسب سمجھا۔ معزول عدلیہ کی بحالی، جیسا کہ کہا جاتا ہے، کئے جانے والے لانگ مارچ سے زیادہ فوجی قیادت کی بروقت مداخلت کا نتیجہ تھی۔ لانگ مارچ سیاسی جماعتوں اور وکلاء کی طرف سے ہی کیا گیا تھا لیکن فیصلہ کن وزن فوجی قیادت کے ’’مشورے‘‘ کا ہی تھا۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اگر فوج زرداری صاحب کی حامی ہوتی تو نواز شریف گھر کی جیل سے نکل کر جی ٹی روڈ پر احتجاجی جلوس لے کر نہیں آسکتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اچھے اچھوں سے غلطی ہوجاتی ہے چنانچہ جنرل پاشا اورنواز شریف میمو گیٹ پر غلطی کر گئے تاہم کچھ دیر بعد نواز شریف کو غلطی کا احساس ہو گیا کہ منصور اعجاز کا مقصد صرف جھوٹی شہرت کا حصول ہے تو پھر وہ معاملے سے پیچھے ہٹ گئے۔
ایک بات ماننا پڑے گی کہ جنرل کیانی کو مدتِ ملازمت میں توسیع ملنا اچھا اقدام نہیں تھا۔ اگر وہ اُس وقت انکار کردیتے تو ان کا قد مزید بلند ہوجاتا۔ اُس وقت ایسا لگتا تھا کہ صدر زرداری آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کو بڑھاتے ہوئے اپنے بچائو کا سامان کر رہے ہیں۔اُس وقت لگتا تھا کہ وہ پی پی پی کو سہار ا دے رہے ہیں لیکن دراصل اُنہوں نے خود ہی اپنی جماعت کی تباہی کا سامان کر لیا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جس طرح زرداری صاحب کے ہاتھوں پی پی پی تباہ ہوئی ،اس کے دشمن بھی ایسا کرنے نہیں سوچ سکتے تھے۔ کیانی صاحب پر کچھ ایسے الزامات بھی رہے ہیں کہ فوج کاروبار میں مزید الجھ گئی ہے۔ کیانی صاحب ذاتی طور پر ان معاملات میں یقینا ملوث نہیں ہوں گے لیکن ایسی باتوں سے ان کی شہرت متاثر ضرور ہوئی ۔
ان تمام باتوں کے باوجود، کیانی صاحب کی قیادت نے فوج کے مورال کو جس طرح بلند کیا ہے اور اسے نامساعد حالات میں لڑنے کا حوصلہ دیا ہے، یہ ناقابل ِ فراموش کارنامہ ہے۔ ان کی طرف سے یہ تسلیم کرنا کہ پاکستان کو خطرہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی عوامل سے ہے، ایک بہت بڑی پیشرفت تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت میں فکری تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ اس وقت پاکستان ایک کشمکش کے مرحلے سے گزررہا ہے۔ اس کشمکش نے اسے ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ایک طرف مذہبی انتہا پسندی اور دقیانوسیت ہے تو دوسری طرف اقبال اور جناح کا پاکستان ہے۔ ان مشکل وقتوں میں جس چیز نے پاکستان کے وجود کو قائم رکھا ہوا ہے وہ کوئی نظریہ نہیں بلکہ مضبوط فوج ہے۔ اگر ملک کے خدوخال سے فوج کو نکال دیں تو باقی کنفیوژن اور افراتفری کا امنڈتا ہوا سیل ِ رواں ہوگا اور طالبان ہوں گے۔ کیانی صاحب نے اپنا کردار خوب نبھایا ہے، اب دیکھنا ہے کہ ان کے جانشین کس طرح ان کٹھن راہوں سے گزرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *