شدت پسندی اور اعتدال

Timojan Mirzaمعلوم تاریخ میں شاید ہی کوئی وقت اور دور ایسا گزرا ہو جس میں کسی نہ کسی انداز میں دہشت گردی یا مسلح جدوجہد موجود نہ رہی ہو۔ ایسی تحریکوں کے لئے کسی نہ کسی مقصد کو تشکیل دیا جاتا ہے، تشکیل اس لئے کہ غالب طور پر ایسی جدوجہد کے ڈانڈے ان طبقات کے مفادات سے ہی ملتے ہیں جو اصلاً جدوجہد کرنے والے افراد اور طبقات کا استحصال کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا مقصد تشکیل دینا پڑتا ہے جسے سامنے دیکھ کر انسان میں لڑنے اور قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہو- غور طلب بات یہ ہے کہ استحصال کرنے والے طبقات انسانی نفسیات اوررجحانات پر شروع سے ہی اتنا عبور رکھتے ہیں کہ ایک سے زیادہ بار ایک ہی نمونہ استعمال کر کے وہ اپنے مفادات کے لئے عوام کو استعمال کرتے رہے ہیں- اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک معاشرہ کے رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہی طرح کے ’مقاصد‘ تشکیل دیے جاتے ہیں- عام طور پر محروم معاشروں کے افراد بے چینی اور کچھ کر دکھانے کے نامعلوم سے اضطراب میں مبتلا ہوتے ہیں تاکہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی معاشرہ میں رہتی دنیا تک ان کا نام روشن رہے- اس اضطراب کو مزید بڑھاوا دینے کو ہر معاشرہ میں ہر طرح کے مافوق الفطرت کردار تشکیل دیے جاتے ہیں تاکہ مختلف رجحانات رکھنے والے افراد کے لئے کوئی نہ کوئی نمونہ موجود ہو- ان مافوق الفطرت افراد یا ہیروز کے کارناموں کو عقلی انداز پر پرکھ کر دوسروں کے لئے نمونہ بنانے کی بجاے مخصوص انداز میں بیان کیا جاتا ہے تاکہ ان کے بارے میں تنقیدی مکالمہ تو درکنار بات کرنے سے پہلے بھی کئی بار سوچا جائے اور یوں ایک مستقل فضا قائم رکھی جاتی ہے جس میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ذہنی رجحانات کی آبیاری کی جا سکے-

ہمارے معاشرہ میں اسی اضطرابی کیفیت میں مبتلا طبقہ بھی شدت کی جانب چل پڑتا ہے- اب وہ شدت مذہبی جذبات میں ہو یا مذہب سے بیزاری کی صورت میں، اسے اس مخصوص زمانہ میں موجود حالات، ماضی قریب کی تاریخ و واقعات اور ان کے نتیجہ میں افراد کے انفرادی، ان کے خاندانوں کے مجموعی تجربات اور ان کے حلقہ احباب کی آراءمتعین کرتی ہیں- حتّی کہ تاریخ کو اس کے اصل تناظر میں پڑھنے، جانچنے اور جاننے کے رجحانات رکھنے والے لوگ بھی اس شدت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور ان کے رویے اور تجزیے بھی ایک انتہائی سمت کی جانب میلان رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں- اس میں رائے کا اظہار کرنے پر ہونے والے تجربات اور ان کے ذاتی حلقوں سے لے کر عمومی ردعمل بھی عمل انگیز کا کام دیتے ہیں- ہمارے جیسے معاشروں میں مذہب سے بیزاری کی جانب مائل رجحانات کا اظہار تو مکمل طور پر نہیں کیا جا سکتا اور ان رجحانات کی حوصلہ افزائی بھی آسانی سے نہیں ہو سکتی، جبکہ ایسے گروہوں کے سرخیل بھی عموماً معاشرہ میں زیادہ نمایاں طور پر اپنے خیالات کا پرچار کرنے سے گریز ہی کرتے ہیں- اگر کچھ پس پردہ ہوتا بھی ہے تو عوام میں ایسے گروہوں سے بیزاری کے رجحانات ہی پائے جاتے ہیں.
دوسری طرف مذہبی رجحانات کی غلط سمت کو فروغ دینے کے لئے ایک سے زیادہ گروہ موجود اور ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں-اگر کوئی شخص مذہب کی طرف میانہ رو بھی ہو تو معاملات یا راے زنی کے لمحات میں مخالف گروہ کے مذہبی خیالات رکھنے والے افراد کے ردعمل میں وہ شخص بھی آہستہ آہستہ شدت کی جانب مائل ہوتا جاتا ہے یا کم از کم مخصوص اوقات اور حالات میں شدت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ مذہبی علم تفصیل سے حاصل کرنا بھی کسی اور سند کے حاصل کرنے کی طرح ایک مکمل اور وقت طلب عمل ہے تو کم علمی کا متبادل جوش اور شدت سے کسی خیال اور عقیدہ کا اظہار ہی ہے تاکہ مخالف کو دبایا یا ہراساں کیا جا سکے اور مکالمہ کسی پسندیدہ مقام پر منتج ہو سکے- فتح کا سرور اور اپنا "جائز" موقف منوا کر آخرت میں سرخرو ہونے کی خواہش اتنی قوت رکھتی ہے کہ کسی ٹھنڈے مزاج کے شخص کو بھی متشددانہ رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے- اپنے گروہ سے بچھڑ کر دوسرے گروہ کا سامنا کرنے کا ڈر بھی ایک ایسا خیال ہے جو ایسے رویوں کی ترویج کرتا ہے اور انسان بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے اور عقلی طور پر اپنے عقیدہ کے کسی پہلو کو غلط جانتے ہوئے بھی اپنے گروہ کی تائید اور ساتھ حاصل کرنے کی خاطر اس پہلو پر ڈٹ جاتا ہے-اس میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ جب کوئی مذہبی گروہ ایسی قوت رکھتا ہے کہ بزور دلیل نہ سہی بزور بازو اپنی بات اور اپنا موقف دوسرے گروہوں سے منوا سکے تو اس کے پیرو نہ چاہتے ہوئے بھی بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر تشدد کے رنگ میں رنگتے جاتے ہیں-
ایسے رجحانات کی حوصلہ افزائی ایک مخصوص طریقہ سے کی جاتی ہے اور معاشرہ میں کئی ایسے طبقات پیدا ہو جاتے ہیں جو عملی طور پر نہ سہی، دلی طور پر اس سب کے ساتھ ہوتے ہیں اور اگر کسی کو جسمانی گزند نہیں بھی پہنچا سکتے تو ایسا کرنے والوں کے بارے میں مثبت اور عقیدت مندانہ خیالات و جذبات رکھتے ہیں- ایسے لوگ بہت مواقع پر مسلح شدت پسندوں کے لئے معلومات فراہم کرنے سے لے کر پناہ فراہم کرنے والوں کا کردار بڑی شد و مد سے ادا کرتے ہیں- جب ایک معاشرہ تعلیم اور برداشت کی کمی کی وجہ سے ایسے رنگ میں رنگا جا رہا ہوتا ہے تو مذہبی طور پر مقتدر طبقے اسے ایک ایسی کھیتی سمجھتے ہیں جس کی پرورش اور آبیاری سے مفادات اور زبردست نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں- مذہبی رہنما جانتے ہیں کہ سوال کرنے کی گنجائش کی عدم موجودگی مزید جہالت کو جنم دیتی ہے اور متشددانہ رویے مزید سپاہی پیدا کرتے ہیں- ایسی سپاہ تیار کر کے مقتدر قوتوں سے معاملات طے کیے جاتے ہیں اور امیر بن کر سپاہی بہترین قیمت پر بیچے جاتے ہیں- اور جناب ایسے امیر تو بہتر قیمت پر کسی کے لئے بھی کام کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں- اس تمام کھیل میں قومی اور بین الاقوامی قوتوں کی موجودگی کی وجہ سے بہت سے ایسے راز جنم لیتے ہیں جن کو راز رکھنے کے لئے ان رہنماو¿ں کو چھیڑا نہیں جاتا مبادہ کئی پردہ نشینوں کے نام افشا نہ ہو جایئں- اس کھینچا تانی میں ایسے گروہ طاقتور سے طاقتور ہوتے جاتے ہیں اور مزید کئی مافوق الفطرت کردار جنم لیتے ہیں جن کے رومان میں مبتلا ہو کر نوجوان شدت پسندی کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں- ان کی دانست میں انسان کا خون انسانی نہیں بلکہ ایک ایسی اکائی کا ہوتا ہے جو ان کے اکابرین، ہیروز اور عقائد سے اختلاف رکھتی ہے اور اس خون کو بہانے سے عقیدت مندی اور وجود کا حق ادا ہوتا ہے۔ نہ صرف متحارب بلکہ بے قصور افراد جن میں بوڑھے، عورتیں اور بچے تک شامل ہوتے ہیں کا خون مباح سمجھ کر بہایا جاتا ہے اور یہ سب طمانیت کا سبب اور اس بے چینی کا مداوا ہوتا ہے جو بے کاری اور ناکارہ ہونے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ ناکارہ ہونے کا احساس صرف بیروزگاری سے ہی نہیں بلکہ زندگی کے کسی بھی مقام پر کسی بھی ناکامی سے پیدا ہو سکتا ہے- پھر چاہے وہ شخص ظاہری طور پر کامیاب ہی کیوں نہ ہو، ایسا احساس پیچھا نہیں چھوڑتا اور شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے کے عوامل پیدا کرتا ہے- مذہب کو سکون کے لئے اختیار کرنے والا شخص پھر مزید مقام چاہتا ہے اور اس فرد کی اس خواہش کو استعمال کر کے شدت پسند مذہبی گروہوں کے سرخیل اپنے پسندیدہ انداز میں اس شخص کو استعمال کرتے ہیں جب کہ عقیدت میں ڈوبا ہوا فرد شاید ہی کبھی سوچ پاتا ہو کہ اس کے مذہب میں اس سب کی گنجائش ہے بھی کہ نہیں۔
یہ نہیں کہ صرف مذہبی شدت پسند گروہوں کے رہنما ہی اس انداز میں افراد کو استعمال کرتے ہیں، بظاھر معتدل رویے رکھنے والے اور لادین افراد بھی عموماً اسی طرح افراد کو متاثر کن نظریات پر مائل کرنے کے بعد یہی کرتے دکھائی دیتے ہیں- اور اس سب میں ضروری نہیں کہ خون ہی بہایا جائے، سوچ کی مجموعی تبدیلی سے لے کر بظاھر اس مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے متصادم خیالات کی ترویج بھی اس میں شامل ہے- اس کشاکش میں کئی مذہبی گروہوں کے ساتھ ساتھ دو ایسے گروہ بھی (مذہبی اور لادین) جنم لیتے ہیں جو فکری اورعملی طور پر مکالمہ کی بجاے تصادم کو ہی ترجیح دیتے ہیں- لادینیت کا مظاہرہ معتدل انداز میں کرنے کی بجاے مذھب سے بیزاری کی صورت میں کیا جاتا ہے اور وہ سوچ عملی طور پر دم توڑ جاتی ہے جو اعتدال کا پرچار کرنے والوں کا بنیادی وصف بتا کر لوگوں کو متاثر کیا جاتا ہے- لفاظ تو اطراف کے سرخیل ہوتے ہی ہیں پر اس لفاظی کو سدھار کی بجاے بگاڑ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ میں تعلیم کو فروغ دیا جائے، مکالمہ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور متشددانہ رویے رکھنے والے افراد کو خاص طور پر اس طرف مائل کیا جائے۔ یہ پڑھے لکھے طبقہ کا ہی فرض ہے کہ اس تمام عمل کو اپنائے اور اس کی ترویج کرے- اگر تعلیم یافتہ طبقہ اسی طرح غیر متعلق ہو کر وقت گزارنے کو ترجیح دیتا رہے گا تو شدت پسندی کی ہی آبیاری ہو گی-اپنا وقت غیر ضروری اشغال میں صرف کرنے کی بجائے باقاعدہ مطالعہ، تحقیق اور تعلیم و مکالمہ کی ترویج کی طرف لگانا تعلیم یافتہ افراد کو فرض کی طرح نبھانا چاہیے کیونکہ معاشرہ کی بہتری ایک بتدریج عمل ہے اور آنے والی نسلوں کو اس شدت پسندی اور غیر عقلی رویوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کام ابھی سے شروع کرنا ہوگا۔ یہ نہ سوچا جائے کہ کوئی سمجھے گا نہیں بلکہ یہ سوچا جائے کہ ایک مثبت عمل کی شروعات سے مجموعی سوچ میں بتدریج تبدیلی کا آغاز ہوگا جو بالآخر ایک ایسے معاشرہ کو جنم دے گا جس میں تعلیم، تحقیق، مکالمہ اور برداشت بنیادی خصوصیات کی حیثیت رکھتی ہوں گی- یہ تمام عمل تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی بہت حد تک ایسے احساسات سے بچاے رہنے کا سبب ہو گا جو بیکاری اور ناکارہ ہونے کی سوچ کو جنم دیتے ہیں اور اس طرح سوچنے کی صلاحیت رکھنے والے افراد نہ صرف ناکارہ ہونے سے بچیں گے بلکہ حقیقی طور پر کارآمد ثابت ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *