کامیابی اور ہمارا رویہ

atif rehmanطویل سے طویل سفر کا آغاز پہلے قدم سے ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی جنگ اپنے آخری معرکہ پر ختم ہوتی ہے۔ یہ آخری معرکہ پتہ نہیں کب اور کہاں ہوگا چنانچہ ہر معرکہ کو آخری معرکہ سمجھ کر لڑنا چاہیے۔ ہم سب ایک دن میں کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں لیکن اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے اپنا قدم نہیں بڑھاتے بلکہ خوابوں میں اور باتوں میں ہر چیز فتح کر لیتے ہیں۔ دراصل ہم سچ سے بھاگتے ہیں اور اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں اور پھر کامیاب بننا چاہتے ہیں۔ بقول ٹالسٹائی:

”بعض لوگ اچھا بننے کے لیے اتنی کوشش نہیں کرتے جتنی کہ اچھا نظر آنے کے لیے کرتے ہیں۔“
جب ہم اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں تو دراصل کامیابی سے دور ہوتے جاتے ہیں کیونکہ غلطیاں ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہیں۔ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور پھر جا کر کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ ”میرے پروفیسر عابد تہامی صاحب بتاتے ہیں کہ کامیاب انسان بننا کوئی ایک دن کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ ایک سادہ صفحہ لیں اور روز اس پر ایک نقطہ لگا دیں ایک مہینہ کے بعد دیکھئے اس سادہ صفحے پر بے شمار نقطے لگے ہوں گے۔ “اس طرح منزل پر پہنچنے کے لیے ہر روز اس کے لیے محنت کرنا بہت ضروری ہے۔ مستقل مزاجی اور مسلسل جدوجہد ہی کامیابی کا واحد اور بہتر راستہ ہے۔ کامیابی کے لیے صرف حکمت عملی کا ہونا ضروری ہے۔ نپولین ہل نے اپنی معروف کتاب Think and Grow Rich میں لکھا ہے: ”انسانی دماغ جو کچھ سوچ سکتا ہے جس پر یقین رکھتا ہے وہ حاصل کر سکتا ہے۔“
کامیابی حاصل کرنے کے لیے کامیابی کی خواہش بہت ضروری ہے۔ کامیابی کی شدید خواہش ہی مقصد کو آسان بنا دیتی ہے۔ خواہش کے بعد اس کام کے لیے کمٹمنٹ بہت ضروری ہے۔ زندگی کیسے بھی حالات سے گزر رہی ہو کامیاب افراد اپنی کمٹمنٹ کبھی نہیں بھولتے۔ کچھ لوگ خود بخود سب کچھ ہو جانے کے انتظار میں ساری عمر گنوا دیتے ہیں۔ جبکہ کامیابی کے لیے احساس ذمہ داری بہت اہم مقام رکھتی ہے۔ شدید محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنا ہی منزل کے قریب تر کر دیتا ہے۔ کامیابی کبھی بھی حادثاتی طور پر حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے بہت سی تیاری ذہانت و محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیابی کے لیے مثبت سوچ کا ہونا ناگزیر ہے۔مثبت سوچ اپنی ذات پر کامل یقین اور بھروسہ کا نام ہے۔ جتنے زیادہ مثبت ہو گے اتنا ہی زیادہ کامیابی کے قریب ہوں گے۔ سب سے اہم کہ اپنی کارکردگی پر خود کو شاباش دینا بھی کامیابی کا ایک حصہ ہے۔ کامیابی ہر انسان کے اندر ہے بس اس کو مثبت سوچ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *