جانا سرکاری دفتر میں اور بنوانا پاسپورٹ ۔۔۔

arman yousafگیدڑ کی موت آئے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے،یہ محاورہ گھسا پٹا سا لگتا ہے۔جو کچھ ہمارے ساتھ کل بیتی تو اس یاد گار تجربے کی روشنی میں ہمارے زرخیز ذہن نے نوخیز محاورہ اگلا’جب ایک پاکستانی کی موت آتی ہے تو وہ سرکاری دفاتر کا رُخ کرتا ہے‘جی ہاں یقین مانئیے ذرا بھی جھوٹ کی آمیزش نہیں اس میں۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ پرانے کاغذات ٹٹولتے ہوئے ہمارے ہاتھ پاسپورٹ لگ گیا۔کھول کے دیکھا تو پتلی پتلی مونچھوں اور لمبی گردن والا ایک لڑکا نظر آیا۔غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ تصویر تو ہماری ہی ہے جو میٹرک کا داخلہ بھجواتے وقت ہم نے بن سنور کے بنوائی تھی۔اب تو خیر ہم وکالت کے آخری سال میں ہیں(کسی کو بتائیے گا مت کہ ہم نے ایف اے چار اور بی اے پانچ سال میں کیا جبکہ گذشتہ چار برسوں سے قانون کی ڈگری لئے جا رہے ہیں) پاسپورٹ پر نام بھی ہمارا ہی تھا’عادل نواز‘ خیر اب تو ہم یونیورسٹی ہوسٹل اور محلے میں ’چوہدری عادل نواز گجر ایڈووکیٹ ‘کے نام سے ایک مشہور شخصیت بن چکے ہیں۔
پاسپورٹ کی ضرورت کچھ یوں بھی پیش آئی کہ گذشتہ برس ہمارے ایک دوست برطانیہ چلے گئے۔آپ تو جانتے ہی ہیں کہ دوستی سرحدیں نہیں دیکھا کرتی۔ہمارے اس دوست نے برطانیہ کے پر امن حالات بتائے،وہاں کے عوام دوست اور فلاحی نظام کا ذکرکیا۔مذہبی آزادی ایسی کہ مندر، مسجد اور گُردوارے ایسی ہمسائیگی میں ہیں کہ کبھی تو مسجد کے میناروں کے سائے گرجا گھروں میں پڑ رہے ہوتے ہیں اور مندروں کی گھنٹیاں گُردواروں کے صحنوں میں صاف سنائی دے رہی ہوتی ہیں اور ہر شخص یہاں اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق من پسند عبادت گاہ میں جانے کے لئے آزاد ،خود مختار اور محفوظ و مامون ہے۔یہاں کے لوگ سوشل ایسے کہ دوسروں کی غلطی کے باوجود خود ہی ’معذرت ‘کر کے مسکرا کے آگے گزر جاتے ہیں۔زندگی کی اسائشیں اور سہولیات تک رسائی کا ذکر بھی بلا امتیاز کیا تو ہم سے بھی رہا نہ گیا۔ سوچا یہ وکالت کا کورس تو ہوتا ہی رہے گا،اب کے برس نہ سہی چند سال بعد ہی سہی وکالت کی ڈگری تو ہمیں مل ہی جانی ہے۔اور اگر ڈگری نہ بھی ہوتو کیا،ہم نے اپنے نام کے ساتھ ایڈووکیٹ لکھوالیاہے اور بہت سے لوگوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ وہ ہمیں ایڈووکیٹ بلایا کریں۔ اب تو وزٹنگ کارڈز بھی چھپنے کے لئے پرنٹنگ پریس میں جا چکے ہیں۔اور یہ بھی کہ ’ مکمل ہو یا نا مکمل‘ڈگری ڈگری ہی ہوتی ہے ‘۔
ہاں تو جی میں خیا ل آیا کہ کیوں نا ایک سفر برطانیہ کا ہی رکھ لیا جائے،جی لگ گیا تو ٹکے رہیں گے یا بصورتِ دیگر واپس آجائیں گے اور ایک نئے عزم کے ساتھ ایل ایل بی مکمل کرنے میں لگ جائیں گے۔
سفری دستاویزات کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ یار لوگوں نے ویزہ لگوانے کے لئے پاسپورٹ ضروری قرار دیا ہوا ہے۔اگرچہ الماری کھولنا، پرانے کاغذات میں سے پاسپورٹ نکالنا ہماری آرام پسند طبیعت اور مزاج کے خلاف تھامگر بالآخرچھ ماہ کی غور و فکر اور منصوبہ بندی کے بعد آج ہم نے پاسپورٹ حاصل کر ہی لیا۔پاسپورٹ کے ایک کونے میں درج تاریخ پہ نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ یہ اپنی قانونی مدت پوری کر کے زاید المیعاد ہو چکا ہے۔لہذا توسیع ضروری ہے۔سو پاسپورٹ اُ ٹھایا وقت دیکھا تو ہمارے گلیکسی موبائل نے مسکراتے ہوئے پیغام دیا کہ ابھی خاصا وقت ہے ہم متعلقہ بنک میں آج ہی فیس جمع کروا سکتے ہیں۔لو جناب ! ہم نے گاڑی نکالی اور قریبی برانچ جا پہنچے۔پتا چلا کہ دفتر کا وقت ختم ہو چکا ہے۔،لہذا کل صبح زحمت اٹھانی ہو گی۔یا خدا یہ بھی کتنے عجیب لوگ ہیں،آج ہی تو ہم تڑکے تڑکے جاگے تھے۔ہماری تو ابھی صبح بھی شروع نہیں ہوئی اور ان کی شام بھی ہو چلی۔کیسا عجیب دفتر ہے یہ بھی،کھلا بھی ہے اور بند بھی۔خیر ہم کل صبح واقعی میں جلدی جاگنے کا دل میں پکا ارادہ کر کے چل دئیے۔چلتے ہوئے یہ محسوس ہوا گویا کوئی کوئی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔مڑ کے دیکھا تو ایک صاحب نے بتیسی دکھا ئی اور کہا حضور آپ کیوں ما یوس ہو کے جارہے ہیں۔اس خادم کو موقع دیں آپ کا کام ابھی پانچ منٹ میں ہو جائے گا۔
’بھئی آپ کیسے جانتے ہیں ہمیں اور کس طرح کی خدمت کی بات کر رہے ہیں‘
ہماری یہ بات سن کر وہ شخص تھوڑا اور قریب ہوا اور جھکتے ہوئے بولا: ’چوہدری صاحب ! جیسے ہی آپ گاڑی سے اترے میں سمجھ گیا کہ آپ کو میری خدمت کی ضرورت ہو گی میں نے تو آپ کو آواز بھی دی،مگر آپ جلدی سے آگے نکل گئے۔بس میں بھی یہ سوچ کے رہ گیا کہ بالآخر آنا تو آپ نے میرے پاس ہی ہے لہذا آپ کا انتظار کیا۔‘
’دیکھئے نا چوہدری صاحب ! ہمارے ہوتے ہوئے بھلا آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔‘
ہمیں کو ئی چوہدری صاحب کہے اور وہ بھی دو ،دو بار ،بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس کی بات نہ مانیں۔مگر یہ فکر بھی دامن گیر کہ جب دفتر کا وقت ہی ختم ہو چکا ہے تو یہ آدمی کیسے ہماری مدد کر سکے گا۔
’چوہدری صاحب!سو چئے مت آپ کل پھر زحمت کریں گے،وقت اور پیٹرول دونوں ضائع کریں گے میں یہ کا م ابھی پانچ منٹ میں کروا دوں گا بس آپ کو تھوڑی اضافی رقم دینا ہو گی،زیادہ بھی نہیں بس یہی دو سو روپے‘
ایک تو ہمیں اس نے پھر چوہدری صاحب کہا اور کا م بھی کرانے کی یقین دہانی کرائی۔سو ہم نے بنک فیس بمع اضافی رقم اس کو تھما دی اور بنک کے احاطے ہی میں اس کا انتظار کرنے لگے۔کچھ ہی دیر میں وہ مسکراتا ہوا ہماری طرف آیا اور رسید تھمادی۔ہم حیران بھی تھے اور مطمئن بھی کہ چلو ایک کام تو ہو گیا۔
اب اگلا مرحلہ پاسپورٹ آفس جانے کا تھا۔اگلے روز ہی علی الصبح ہم پاسپورٹ کے قریبی دفتر چل دئیے۔وہاں جا کے دیکھا کہ خلقِ خدا کا ایک ہجوم چلچلاتی دھوپ میں قطار اندر قطار کھڑا ایک دوسرے کو کوسے جا رہا تھا۔قریب پہنچے تو قطار میں موجود لوگوں کی آوازیں بھی سنائی پڑنے لگیں۔کوئی اہلِ دفتر کی ’عزت افزائی ‘میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا تھا تو کوئی شاہِ وقت کو کھری کھری سنا رہا تھا۔قطار میں
موجود ہر ایک ہی کی یہی خواہش تھی کہ اس کاکام سب سے پہلے ہو۔جس کی وجہ سے معاملہ گالی گلوچ سے ہاتھا پائی تک پہنچ جاتامگر کچھ ہی دیر
بعد وہی لوگ بھائی بھائی بن کے شرافت سے قطار میں کھڑے ہو جاتے۔اچانک کسی کا کہیں سے دھکا لگتا تو دوبارہ جنگ کی سی فضا پیدا ہو جاتی۔ہم ابھی اسی شش و پنج میں تھے کہ آیا قطار میں لگ جائیں ،ما موں جان کو فون کریں کہ وہ ہماری سفارش کر دیں جو خود بھی ایک اہم سرکاری محکمے میں’ڈائریکٹر‘ کے عہدۂ جلیلہ پر فائض ہیں یا کل صبح دوبارہ آیا جائے۔اتنے میں ایک سرگوشی سی سنائی دی۔
’چوہدری صاحب سوچ کیا رہے ہیں،حکم کریں نا!‘
’بھئی آپ کیسے جانتے ہیں کہ ہم چوہدری صاحب ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ ہماری کیا خدمت کر سکتے ہیں‘
وہ بڑی لجاجت سے بولا:
’جی کون کہتا ہے کہ آپ چوہدری صاحب نہیں ہیں،یہ شان و شوکت،یہ قیمتی لباس اور یہ اتنا مہنگا موبائل فون،میں تو دیکھتے ہی آپ کو پہچان گیا، چھوڑئیے نا چوہدری صاحب ! آپ کیوں اس قدر طویل قطار میں جلتے سورج تلے عام لوگوں کی طرح کھڑے ہو نے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔ بس مجھے آٹھ سو روپے عنایت کیجئے ،پھر دیکھئے میں آپ کو سب سے پہلے نہ لے جاؤں تو کہئے گا،ویسے بھی صاحب آپ خود سوچئے اتنی بڑی خدمت کا اتنا سا حق تو بنتا ہی ہے نا‘
ہم ابھی اس کی باتوں پر غور فرما رہے تھے کہ جب یہ آدمی اپنا کام کروا رہا ہے تو ماموں جان کو زحمت دینے کی کیا ضرورت ہے،آٹھ سو روپے ہی کی تو بات ہے ۔
’جناب سوچئے مت ،جلدی فیصلہ کیجئے یا پھر مجھے اجازت دیجئے‘
وہ شاید کسی اور چوہدری کی تلاش میں جانا چاہتا تھا۔ہم نے ایک بار پھر لمبی قطار میں کھڑے لوگوں کو پسینہ بہاتے دیکھا۔بے ساختہ ہمارا دایاں ہاتھ جیب میں چلا گیا اور کچھ کرارے نوٹوں کے ساتھ بر آمد ہوا۔
نتیجتاً ہم سب سے آگے عین دفتر کے دروازے کے سامنے موجود تھے۔ابھی دفتر میں وقفہ تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا ، کھلی تو کھڑکی ہی تھی مگر وہ تو قطار میں لگے لوگوں کے لئے ہمارے لئے تو دروازہ ہی کھلا اور ہم اندر تشریف لے گئے۔اگر چہ کچھ نا معقول سے الفاظ بھی سننے کو ملے جو قطار میں کھڑے لوگوں کی ہرزہ رسائی تھی مگر ہم بھی کب تھے ان کی پروا کرنے والے۔ کمرے کے کم درجہ حرارت نے کچھ سکون بخشا۔یہاں ہمارا پہلا سیشن تصویر بنوانا تھا۔مگر فوٹو گرافر ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ اتنے میں چند اور لو گ بھی کمرے میں آدھمکے ۔شاید یہ بھی چوہدری صاحبان ہی تھے۔پہلے دو،پھر تین،پھر تین اور چوہدری ہمارے ساتھ کمرے میں آٹھہرے۔اس کھلے تضاد کے نتیجے میں قطار میں موجود لوگوں نے بے ہنگم آگے بڑھنا شروع کر دیا۔رہی سہی کسر گرمی نے نکال دی۔ایک ہزار افراد کے بہتے قسم قسم کے پسینے نے وہ اثر چھوڑا کہ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ مگر ہم بھی پیچھے ہٹنے والے نہ تھے،بھئی پیسہ خرچ کیا تھا آخر۔ خیر فوٹو گرافر آپہنچا۔ہم سے پہلے ہی کسی کو سٹول پر کیمرے کے سامنے بٹھا دیا گیا۔کیمرا مین بٹن دبانے ہی والا تھا کہ ایسا زور دار دھکا لگا کہ کوئی کیمرے کے سامنے بیٹھے سٹول پر آدمی سے جا ٹکرا یا۔مجبوراً کیمرہ مین رک گیا۔ چند موٹی موٹی گالیاں دیں (ہوامیں)اور دوبارا کیمرہ سیدھا کیا۔اب کے سٹول پہ بیٹھے ہوئے شخص کے ساتھ ساتھ کیمرا سکرین پر تین اور افراد بھی جلوا نما تھے،کسی کا بازو تھا تو کسی کا سر۔بار بار کی کوشش اور گزارش کے باوجود بھی معاملہ درست نہ ہوا تو کیمرا مین خفا ہو کر کہیں روپوش ہو گیا۔ڈھونڈے سے ہی نہ ملا۔
آدھا گھنٹہ یوں ہی گزر گیا۔بڑی مشکل سے اسے دریافت کر کے لایا گیا۔اسی دوران کئی اور چوہدری بھی کمرے میں آگئے۔ایک قطار سی بن گئی، ساتھ ساتھ باہر کے لوگوں کا غم و غصہ بھی بڑھنے لگا اور’مقدس کلمات ‘کا تبادلہ بھی۔اچانک ہماری نگاہ دیوار میں گڑھے ایک آئینے پر پڑی۔ پہلے تو اسے نظر کا دھوکہ سمجھ کر نظر انداز کر گئے۔مگر لاشعوری طور پر ایک بار پھر نظر پڑی۔نظر نظر میں لاکھوں سوال ابھرے۔ پھٹا ہوا کالر۔۔۔ گردن پہ رگڑ کا نشان۔۔۔ اور یہ نین نقش بھی تو ہما رے ہی ہیں مگر یہ ٹماٹر سا لال چہرہ کس کا ہو سکتا ہے، یقیناً ہمارا ہی۔
آئینہ آج سچ بول رہا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *