توپ کاپی کے تبرکات

khalid masood khanترکی پہلی بار آنا ہوا ہے۔ آنے سے بہت پہلے یہ سنا ہوا تھا کہ ترکی شاید دنیا کے ان معدودے چند ممالک میں سے ہے جہاں پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت ہے وگرنہ ہر جگہ بھائی بندوں نے بڑی محنت سے معاملات خراب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ استنبول ایئرپورٹ پر اترنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی دل میں شبہ سا پیدا ہوا کہ ممکن ہے یہ عزت والی خبر محض افواہ ہو؟ یا ممکن ہے، خبر پرانی ہو اور اب تک معاملات تبدیل ہو چکے ہوں۔ سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ ترک خاتون اول کا ہار غائب کرنے والی گیلانی صاحب کی حرکت کے بعد تو ہم پاکستانیوں کی عزت یقینی طور پر مرحوم و مغفور ہو چکی ہو گی، مگر خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ترک میڈیا کی سستی و کاہلی یا خود ترکوں کی خبروں سے لاتعلقی کی وجہ سے یہ خبرعام ترک باشندوں تک نہیں پہنچی تھی، لہٰذا معاملات حسب سابق درست چل رہے تھے۔ ہم جونہی ایئرپورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے چار امیگریشن افسر دروازے پر کھڑے پاسپورٹ چیک کر رہے تھے۔ میرے آگے کوئی پاکستانی نہیں تھا۔ دو چار مختلف رنگوں والے پاسپورٹ تھامے مردوخواتین اپنے اپنے پاسپورٹ چیک کروا رہے تھے۔ جونہی میری باری آئی افسر نے ہم تینوں کے پاسپورٹ پر پاکستان کا نام دیکھا، اشارہ کیا کہ ہم گزر جائیں۔ پھر دوبارہ میرا پاسپورٹ پکڑا اور اسے اوپر کرکے آنے والے مسافروں کو دکھاتے ہوئے اونچی آواز میں اعلان کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے مسافر بائیں جانب سے ہوتے ہوئے سیدھے امیگریشن کائونٹر پر چلے جائیں۔ پھر پاسپورٹ مجھے پکڑایا اور مسکرا کر آگے جانے کا اشارہ کردیا۔ عرصے بعد پہلی خوشگوار حیرت تھی جو کسی غیرملکی ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے بطور پاکستانی محسوس ہوئی۔

گرینڈ بازار سے واپس آتے ہوئے ایک بزرگ ترک نے اسد کو روکا اور ترکی زبان میں کچھ کہا۔ باقی تو ہمیں کچھ سمجھ نہ آیا بس ''پاکستانی‘‘ سمجھ میں آیا۔ اسد نے سر ہلاتے ہوئے اس بزرگ کو کہا کہ ہاں پاکستانی ہوں۔ بزرگ نے بڑے تپاک سے پہلے اس 
سے ہاتھ ملایا پھر اس کا ہاتھ بڑی محبت سے بھینچا اور ایک لمبا سا جملہ بولا ۔ ہمیں اس جملے کی سمجھ تو نہ آئی مگر محبت، تپاک اور گرمجوشی کا سارا تاثر پوری شدت سے محسوس ہوا۔ پھر اس نے لپک کر مجھ سے اسی محبت اور گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور ''برادر، برادر‘‘ کہا۔ اس کی محبت دیکھ کر ایک لمحے کے لئے میں سن ہو کر رہ گیا۔ میںایک ہرجائی شخص ہوں، چیزوں کے مثبت پہلو پر غور کرتا ہوں، بہتر اور خوشگوار نتائج کی امید رکھتا ہوں اور مایوسی کو باقاعدہ کفر سمجھتا ہوں، تاہم ایک لمحے کے لئے دل میں خیال آیا کہ یہ محبت ، گرم جوشی اور تپاک کب تک چلے گا؟ آج کل ہماری ترکوں سے بڑی محبت چل رہی ہے، کاروبار ہو رہے ہیں، لین دین عروج پر ہے، بڑے بڑے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ لوگوں کے ہاں ادھار محبت کی قینچی ہے، ہمارے ہاں صرف کاروبار ہی محبت کی قینچی بن جاتا ہے کہ اس کی بنیاد ایمانداری کے بجائے دھوکہ دہی پر ہوتی ہے۔ شبہ سا پیدا ہوا کہ یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی، خدا خیر کرے۔
بچوں کے نزدیک ترکی کی صورت کچھ اور تھی اور میرے نزدیک بالکل مختلف۔ بچوں کا ترکی سے سارا تعارف ڈرامہ ''میرا سلطان‘‘ کے حوالے سے تھا اور میرا صدیوں پر محیط۔ بچے توپ کاپی محل جانا چاہتے تھے اور میں بھی جانا چاہتا تھا مگر بچوں کیلئے اس محل میں پہلی دلچسپی یہ تھی کہ انہوں نے سلطان سلیمان کا کمرہ، حورم سلطان کا کمرہ اور وہ حصہ دیکھنا تھا جہاں یہ ڈرامہ بنا تھا۔ ان کی تاریخ سے دلچسپی اسی قسم کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ محل سلطان سلیمان نے بنوایا تھا۔ عثمانی ترکوں کے چھ سو چوبیس سالہ دور حکومت میں یہ محل تقریباً چار سو سال تک ترک عثمانی حکمرانوں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اس محل کا سرکاری نام ''توپقاپوسرائی‘‘ ہے۔ میری بنیادی بے چینی ان زیارات کے لئے تھی جو یہاں محفوظ ہیں۔ توپ کاپی محل 1985ء سے عالمی ورثہ قرار پا چکی ہے۔
توپ کاپی کی تعمیر 1459ء میں سلطان محمد دوم یعنی سلطان محمد فاتح کے دور میں شروع ہوئی۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ ہے اور ایک طرف شاخ زریں یعنی گولڈن ہارن (سنہرا سینگ)۔ اس جگہ مرمرہ ختم ہوتا ہے۔ ایک طرف شاخ زریں ہے اور سامنے آبنائے باسفورس۔ شروع میں اس محل کا نام ''نیا محل‘‘ (پے نی سرائی‘‘ تھا۔ بعد میں دروازے پر لگی توپ کی وجہ سے اس کا نام توپ کاپی یعنی ''توپ دروازہ‘‘ محل پڑ گیا۔ بعدازاں یہ دروازہ تو ختم ہوگیا مگر نام وہی مشہور ہو گیا۔ صدیوں تک گاہے گاہے اس محل کی تعمیرات ہوتی رہیں۔ 1509ء کے زلزلے اور 1665ء میں لگنے والی آگ کے باعث جو تباہی ہوئی اس کے بعد کی تعمیرات آج اس محل کی بیشتر عمارات ہیں۔ سترہویں صدی عیسوی کے بعد توپ کاپی کی اہمیت بتدریج کم ہوتی گئی اور عثمانی حکمرانوں نے اپنا بیشتر وقت باسفورس کے کنارے بنائے گئے نئے محلات میں گزارنا شروع کردیا۔ سلطان عبدالمجید اول 1856ء میں باقاعدہ طور پر اپنے نئے ڈولماباچی محل میں منتقل ہوگیا؛ تاہم شاہی خزانہ، لائبریری اور ٹکسال توپ کاپی میں ہی رہ گئے۔
1923ء میں ترک عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو توپ کاپی محل کو عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا اور اس کا انتظام و انصرام وزارت ثقافت و سیاحت کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ بلا مبالغہ سینکڑوں کمروں پر مشتمل اس محل میں اس کے عروج کے دنوں میں چار ہزار لوگ رہائش پذیر رہے۔ محل عثمانی طرز تعمیر کی نادرمثال ہے۔ اس میں مقدس نوادرات جس میں رسول اکرم ﷺ کی تلواریں، چھڑی مبارک، ریش مبارک کے بال، جبہ اوردانت مبارک کے علاوہ آپﷺ کے پائوں مبارک کا نشان اور آپﷺ کا دستخط شدہ خط شامل ہیں‘ میرے لئے ایک عرصہ سے استنبول جانے کے لئے وجہ کشش تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیالہ، حضرت یوسف علیہ السلام کی پگڑی، حضرت دائود علیہ السلام کی تلوار اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے علاوہ چاروں خلفاء کی تلواریں، حضرت بی بی فاطمہؓ کی عباء، حضرت امام حسینؓ کا کرتا اور بوقت شہادت تلاوت کیا جانے والا حضرت عثمانؓ کا قرآن مجید۔ یہ سب توپ کاپی میوزیم کے اسلامی نوادرات والے حصے میں موجود ہیں۔ خانہ کعبہ کی چابیاں، خانہ خدا کا پرنالہ اور دیگر اشیاء۔ ایک سونے کے بکس میں حضور اکرم ﷺ کا خرقہ مبارک جس کے بارے میںروایت ہے کہ یہ وہ چادر مبارک ہے جو آپﷺ نے حضرت کعب بن زہیر کو قصیدہ سنانے پر عطا کی تھی۔
آپ کی بعثت سے قبل عرب کے مشہور شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ نے خواب دیکھا۔ وہ عرب لٹریچر میں انتہائی بلند مقام پر فائز شاعر ہے۔ عربی شاعری میں زہیر کا طویل قصیدہ اپنی شاعرانہ خوبیوں اور زبان و بیان کے اعتبار سے ایک بے مثال ادبی تخلیق سمجھا جاتا ہے۔ زہیر ان شعراء میں سے تھے جن کی شاعری خانہ کعبہ میں لٹکائی جاتی تھی۔ یہ شاعری ''معلقات‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور زہیر کا قصیدہ انہی معلقات کا اہم حصہ ہے۔ زہیر ابن ابی سلمیٰ نے خواب دیکھا کہ وہ ایک رسی کو پکڑنا چاہتا ہے مگر اس کا ہاتھ اس رسی تک نہیں پہنچ پا رہا۔ اسی اثنا میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ خواب کی یہ تعبیر نکلی کہ ایک رسول آئے گا مگر زہیر اسے دیکھ نہ پائے گا۔ زہیر اس رسول کی آمد سے قبل یا اس کی بعثت سے قبل وفات پا جائے گا۔ زہیر نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس صورت میں کہ وہ دنیا سے رخصت ہو چکا ہو‘ اس رسول کی آمد کا سنیں تو وہاں جائیں، اس کی بیعت کریںاور اس کوبتائیں کہ ان کا باپ بھی اس پر ایمان لاتا مگر زندگی نے مہلت نہ دی اور وہ اس سعادت سے محروم رہ گیا۔ زہیر ابن ابی سلمیٰ کا انتقال 609ء عیسوی میں ہوگیا۔ حضور اکرمﷺ کے دیدار اور آپ پر ایمان لانے سے محروم رہ گیا۔ اب اس کی وصیت کو پورا کرنے کی ذمہ داری اس کے بیٹوں پرآ گئی۔
زہیر کے بڑے بیٹے نے جب آپﷺ کا بعثت کا سنا تو آپﷺ کے پاس آیا اور ایمان کی دولت سے سرفراز ہوگیا۔ دوسرا بھائی کعب بن زہیر جو خود بھی نہایت اعلیٰ شاعر تھا گستاخی پر اتر آیا اور آپﷺ کی ہجو لکھ دی۔ رحمت اللعالمین کی ناراضگی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے حکم دیا کہ کعب جہاں بھی نظر آئے اسے قتل کر دیا جائے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ خوفزدہ کعب چھپتا پھرتا رہا۔ پھر ایک روز علی الصبح چادر کی بکل مارے اپنی شکل چھپائے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شعر سنانے کی اجازت طلب کی۔ آپؐ نے اجازت دی۔ کعب نے قصیدہ سنانا شروع کیا۔ آپؐ نے قصیدہ کے اختتام پر اپنی چادر اتار کرشاعرکے کندھوں پر ڈال دی اور کعب سے کہا کہ کیا مانگتے ہو؟ اس نے کہا اگر میں آپ سے کعب کی جان کی امان طلب کروں؟ آپؐ نے فرمایا وہ بھی دے دی جائے گی۔ کعب نے اپنا چہرہ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں ہی بدبخت کعب ابن زہیر ہوں۔ آپ نے اسے معاف فرما دیا۔ یہ ''قصیدہ بانت سعاد‘‘ ہے۔ توپ کاپی میں وہی چادرمبارک محفوظ ہے۔ 1517ء میں سلطان سلیم نے بغداد کی عباسی سلطنت کو ختم کرکے عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھی تو چادرمبارک متوکل سوئم نے سلطان سلیم اول کو دی

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *