گڈگورننس کا ڈھکوسلا

naveed chایسا ہر گز نہیں کہ بہت زیادہ لاگت والے میگا پراجیکٹس کا کوئی فائدہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے منصوبوں کے ذریعے نہ صرف پنجاب کے بڑے شہروں کی حالت سدھر رہی ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں شہری براہ راست مستفید ہورہے ہیں۔ فیروز پور روڈ کو ہی دیکھ لیں میٹرو ٹریک بننے سے قبل بھی اس شاہراہ پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی تھی، اس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ آپ مزنگ چونگی سے سفر شروع کریں تو محض چند منٹوں کے اندر لاہور کی حدود سے باہر نکل کر قصور کے نواح میں پہنچ جاتے ہیں۔ لاہور کے رہائشی اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ محض چند سال پہلے تک یہ تصور ہی چکرا دیتا تھا کہ اگر کسی کو اچھرہ یا مسلم ٹاﺅن سے قینچی سٹاپ یا جنرل ہسپتال تک جانا ہو تو وہ کم وقت میں آسانی کے ساتھ اپنی منزل مقصود پر کیسے پہنچے۔ پھر یوں ہوا کہ فیروزپور روڈ کشادہ کی گئی، بڑے بڑے پل بنائے گئے تو اس علاقے میں سفر کا عذاب ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو گیا۔ بڑے بھائی کو چند ماہ قبل تکلیف ہوئی تو علاج کیلئے جنرل ہسپتال داخل کرایا۔ تیمارداری کے علاوہ کھانا وغیرہ دینے کیلئے روزانہ آنا جانا ہوتا تھا۔ یقیناً یہ نئی فیروزپور روڈ ہی تھی کہ جس نے اس مشکل مرحلے کو نہایت آسان کر دیا۔ چونگی امرسدھو کے قریب واقع اس ہسپتال میں دیگر عزیز و اقارب بھی بغیر کسی مشکل یا رکاوٹ کے آتے جاتے رہے۔ اس وقت یہ احساس ہوا کہ چاہے جتنا بھی پیسہ لگا ہوا ہو اس سڑک کا اسی شکل میں تعمیر ہونا ضروری تھا۔اسی طرح لاہور کی میٹرو بس سروس کہ جس پر سوار ہونے کے بعد صاف ستھرے، ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں اس طمانیت کے ساتھ سفر کرنا کہ محض چند منٹوں میں ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ جائینگے اورکرایہ بھی بہت کم ، کسی مسافر کیلئے اس سے زیادہ تسکین کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ اب تو لاہور کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان بھی میٹرو بس سروس شروع ہو چکی ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ سفر کر کے رقم کے ساتھ ساتھ اپنا قیمتی وقت بھی بچارہے ہیں۔ سو ترقیاتی منصوبوں کے مذکورہ بالا تمام پہلو ہر لحاظ سے مثبت ہیں۔

بات مگر ترجیحات کے تعین کی ہے، یہ ہو نہیں سکتا ہے کہ اگر حکمران طبقہ عوام کی دیگر تمام بنیادی ضروریات کو یکسر نظر انداز کرکے محض ایک ہی شعبے پر تمام توانائیاں اور بھرپور فنڈز خرچ کر ڈالے،یوں تو اس حوالے سے حقائق کسی بھی طرح ڈھکے چھپے نہیں۔ پھر مجھے ذاتی تجربہ بھی ہوا۔ بھائی کی علالت کے دوران جہاں فیروزپور روڈ کا سفر منٹوں میں طے کر کے سہولت کا خوب فائدہ اٹھایا وہیں ہسپتال پہنچ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا کسی ٹارچر سیل میں آ گئے ہیں۔ جنرل ہسپتال کے اس وقت کے نیک نام اور عالمی شہرت یافتہ معالج ڈاکٹر انجم حبیب وہرہ درد دل رکھنے والے نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ نیورو سرجری جیسی حساس ٹریٹمنٹ کیلئے آنے والے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو خود دیکھیں۔ شاید اسی لیے ہم اس ہسپتال کی افسوسناک حالت زار کے باوجود وہاں سے علاج مکمل کرانے کیلئے رکنے پر مجبور ہو گئے۔ زیادہ تفصیل میں جانے کا یارانہیں ،پھر بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ اپنے زیر علاج بھائی کیلئے جو پرائیویٹ روم لے رکھا تھا اس کا باتھ روم بمشکل قابل استعمال تھا۔ نلکوں کی ٹونٹیاں اتری ہوئی تھیں۔ بجلی کی تاریں تک چرائی جا چکی تھیں، گویا اندھیرے کا راج تھا۔ کمرے اور بیڈ کی حالت بھی ناگفتہ بہ تھی۔ بلڈنگ مینٹی نینس نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی تھی۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ جس روز آپریشن ہونا تھا اس دن پیرامیڈیکل سٹاف نے ہڑتال کر دی۔ دور دراز سے آئے ہوئے مریض سر پٹختے رہ گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر انجم حبیب وہرہ اور ان کی ٹیم نے مگر کمال کر دیا کہ دستیاب سٹاف کے ساتھ مریضوں کے کامیاب آپریشن کر ڈالے۔ ایک تو محکمہ صحت ہسپتالوں کو فنڈز ہی بے حد کم دے رہا ہے اوپر سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرامیڈیکل سٹاف وغیرہ کی آئے روز کی ہڑتالوں نے پورے نظام کا ہی بیڑاغرق کر ڈالا ہے۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ سروسز ہسپتال میں ایک اہم عہدے پر فائز ذاتی دوست ڈاکٹر سے ملنے گیا تو ٹھٹھک کررہ گیا۔ ان کے کمرے پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔ تلاش کی تو وہ کسی دوسرے شعبے میں پناہ گزین تھے۔ استفسار پر بتایا کہ ہسپتال کے احتجاجی ملازمین نے ان کے کمرے سے تمام اسٹاف کو نکال کر زبردستی تالا لگادیا ہے۔
صحت کے ساتھ ساتھ شعبہ تعلیم بھی شرمناک عدم توجہی کا شکار ہے۔ معیار تعلیم تو خیر کیا ہوگا یہ خبر ہی لرزہ خیز ہے کہ اس سال میٹرک کا امتحان پاس کرنے والے ایک لاکھ سے زائد طلباءو طالبات کو سرکاری کالجوں میں داخلہ نہیں ملے گا۔ گویا پہلے ہی سے بے پناہ مال و دولت رکھنے والے ایجوکیشن مافیا کو مزید توانا کیا جائیگا جو پہلے ہی سے پراپرٹی اور میڈیا سمیت کئی شعبوں میں پنجے گاڑ چکا ہے۔
امن و امان کی صورتحال ناقص ہے تو پولیس کا بھی براحال ہے۔ کرپشن ہی کرپشن ،پھر یہ کہ جعلی مقابلوں میں ملزموں کو پار کرنے کی حالیہ ’سرکاری اجازت‘ کے بعد معاملات مزید خرابی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پٹواری کلچر سے چھٹکارے کا امکان نظر نہیں آرہا۔ سرکاری محکمے وفاقی ہوں یا صوبائی ، اکثر حوالوں سے عوام کیلئے اذیت کدے بن چکے ہیں۔ میرٹ پر کام ہویا نہ ہو !زیادہ تر واقعات میں یہ سامنے آیا ہے کہ رشوت وصول کر کے بھی بے عزت کیا جاتا ہے۔ گڈگورننس کا نام و نشان تک نہیں۔ یہ کہنا کہ رفتہ رفتہ نجکاری کے ذریعے بعض کارپوریشنوں کی حالت درست کر لی جائے گی محض ڈھکوسلا ہے۔ پی ٹی سی ایل جیسے اہم ادارے کی نجکاری کے باوجود آج عالم یہ ہے کہ صارفین مارے مارے پھرتے ہیں۔ یہ ثابت ہو چکا کہ مو¿ثر ریگولیٹری اتھارٹی کے بغیر نجکاری بھی صرف بے سود عمل ہی نہیں بلکہ قومی اثاثوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ تمام سرکاری محکموں کو درست ٹریک پر ڈال کر آگے بڑھانے کا عمل شروع ہونے تک گڈگورننس کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حوالے سے جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں ختم کرنا حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ اب تک کی صورتحال سے تو یہی آشکار ہے کہ پاکستانی عوام کو حقیقی تبدیلی کیلئے خاصا انتظار کرنا پڑے گا۔ خالی خولی نعرے اپنی جگہ، ٹھوس حقیقت مگر یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ خود اسٹیبلشمنٹ بھی اسٹیٹس کو پر ہی یقین رکھتی ہے۔ تبدیلی کے نعرے بلند کرنے والی تحریک انصاف کو ہی دیکھ لیں۔ عمران خان ایک جانب جسٹس وجیہہ الدین احمد جیسے باوقار جج اور حامد خان جیسے اجلے اور کھرے افراد کو باہر کا راستہ دکھارہے ہیں۔ دوسری جانب روایتی سیاست کے گھسے پٹے اور آزمودہ مہرے نکئی خاندان کیلئے پارٹی کے دروازے کھول رہے ہیں۔ اس ’کارخیر‘ کیلئے کپتان نے خود ’آستانہ نکئی‘ پر جا کر حاضری بھی دے ڈالی۔کپتان کو جہاز کی ضرورت ہے، اقتدار کی سیاست کیلئے بھاری رقوم بھی درکار، ان نادیدہ طاقتوں سے رابطہ بھی جو کرسیاں بخشتی ہیں۔ جہانگیر ترین، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی اور عبدالعلیم خان کے بارے میں کچھ بھی کہہ لیا جائے یا ثابت کر دیا جائے کپتان پر کوئی اثر نہیں ہونے والا۔ تحریک انصاف کے ذریعے فوری تبدیلی لانے کے خواہش مند معاملے کا ادراک کریں یا نہ کریں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اگر کبھی اقتدار مل بھی گیا ( جس کے فی الوقت امکانات خاصے معدوم ہیں) تو کچھ نیا نہیں ہونے والا پرانی فلم ہی چلے گی۔ اس حوالے سے ایک بھرپور شو صوبہ خیبرپختونخوا میں پہلے ہی جاری ہے۔ نااہلی کے ساتھ ساتھ کرپشن کی داستانیں بھی عام ہورہی ہیں۔
تمام تر کمی، کوتاہیوں کے باوجود عمران خان کی اب تک سیاست خاصی حد تک مو¿ثر ہے۔ یوں تو اس کی کئی وجوہات ہیں ،بعض لوگوں کا مگر یہ بھی کہنا ہے کہ کپتان کی سیاست اب تک شاید اس لیے بھی بچی ہوئی ہے کہ ’کیانی کے کالم نگار‘ کو حلقہ مشاورت سے عرصہ پہلے نکال باہر کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مذکورہ لکھاری جس کے ساتھ منسلک ہو جائے اسے اچھے خاصے معزز انسان سے ’حامد ناصر چٹھہ‘ بنا کر ہی چھوڑتا ہے۔ وہ اپنی گزشتہ کئی تحریروں سے کبھی دھونس کبھی التجا اور کبھی واسطے دیکر پھر سے بنی گالہ میں انٹری چاہتا ہے۔ کپتان مگر الرٹ ہے اور اس خلیج کو غیبی مدد جانتے ہوئے دوبارہ لفٹ کرانے پر تیار نہیں۔ کالم نگار بھی ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں۔ کپتان کی خوشنودی بذریعہ ریحام خان حاصل کرنے کیلئے ’خوش آمدید ریحام خان‘ کے عنوان سے ایک قصیدہ لکھ مارا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ محترمہ ریحام خان خوش ہو کر شوہر نامدار کو منانے میں کامیاب ہو جائیں کہ اس کالم نگار کی ماضی کی غلطیوں پر مٹی ڈال کر پھر سے موقع دیا جائے تاکہ وہ تحریک انصاف کے سربراہ، انکے اہل خانہ کے علاوہ مرکزی قیادت کے بارے میں بھی مستقل قصیدہ گوئی کرتا رہے۔ویسے حالیہ کالم پر انعام نہ سہی معافی کی تو بخشیش بہرطور بنتی ہی بنتی ہے۔عظیم شاعر احمد فراز کہا کرتے تھے کہ اپنے افسران کی خوشامد تو ماتحتوں کی مجبوری ہوتی ہے لیکن کچھ لوگ خوشامد کرتے کرتے اس ’معراج‘ پر پہنچ جاتے ہیں کہ جس کا بھی افسر سامنے آ جائے فوراً خوشامد کر ڈالتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *