شوگر اور دل کی بیماریوں کا اصل سبب کیا ہے؟

sehatمکھن، گائے کے گوشت اور کریم میں موجود چکنائی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دل کی بیماریوں، سٹروک اور شوگر کا سبب بنتی ہے لیکن اب سامنے آنے والی ایک جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ چکنائی ان بیماریوں کا سبب نہیں بنتی البتہ مصنوعی مکھن(مارجرین) کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ قاتل ہے۔ عموماً ہمارے غذائی ماہر ہمیں مکھن اور گوشت وغیرہ میں پائی جانے والی چربی سے بچنے کی ہدایت کرتے ہیں لیکن اب تک کی سب سے بڑی تحقیق بتاتی ہے کہ مارجرین، مصنوعی مکھن، جیسی خوراک موت کے خطرے میں چونتیس فیصد اضافہ کر تی ہے۔ میک ماسٹر یونی ورسٹی کینیڈا کے ایپی ڈمالوجی اور بائیو سٹیٹکٹس کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اس تحقیق کے بڑے محقق ڈاکٹر رسل ڈی سوزا نے کہا ہے کہ ’’سالہا سال سے ہر کسی کو ئی نصیحت کی جا رہی ہے کہ وہ چربی سے بچے، لیکن در حقیقت مصنوعی چربی (ٹرانس فیٹ وغیرہ) جن سے ہمیں کوئی صحت مند فوائد حاصل نہیں ہوتے وہ دل کے لیے نمایاں خطرے کا سبب ہیں تاہم جانوروں سے حاصل ہونے والی چربی کے بارے میں ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ ہمارا موقف یہ نہیں کہ اپنی روزانہ کی خوراک میں مکھن، گائے کے دودھ یا اس کے گوشت یا انڈے کی زردی میں اضافہ کیا جائے تاہم ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ صحت کے لیے نقصان دہ عناصر مارجرین، سنیک فوڈ اور پیک کیے گئے تلے ہوئے کھانوں میں پائے جاتے ہیں۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ قدرتی چربی توانائی کا دس فیصد جب کہ مصنوعی ایک فیصد ہونی چاہیے تاہم دس لاکھ سے زائد لوگوں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ قدرتی چربی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘
حالیہ تحقیق نے کیمبرج یونی ورسٹی کی اس تحقیق کی تصدیق بھی کی ہے جس کے مطابق دودھ سے بنی اشیاء میں پائی جانے والی چربی شوگر کے خلاف ہماری حفاظت کر سکتی ہے۔ گزشتہ کئی برس سے ماہرین اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ صحت کے بارے میں معلوماتی کتابچوں میں قدرتی چربی کے بارے میں دی جانے والی ہدایات کو بدلا جائے۔ قدرتی چربی کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی کے ڈانڈے پچاس کی دہائی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے جا ملتے ہیں۔ اس تحقیق میں بائیس ملکوں میں سے سولہ کا ڈیٹا اس لیے قابل غور نہیں سمجھا گیا کیوں کہ وہ محققین کے مفروضے سے مختلف نتائج ظاہر کر رہا تھا۔ اب سامنے آنے والی تحقیق نے دہائیوں سے موجود اس غلط فہمی کو رد کر دیا ہے کہ قدرتی چربی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *