اٹلی کا سفر

jamaliat 3افسوس کہ بٹ صاحب کو نیپلز کی ’’مافیا‘‘ دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ہم نے تو بہت کوشش کی کہ ہمارے وہاں ہوتے ہوئے کوئی ’’واردات‘‘ رونما ہو جائے تاکہ بٹ صاحب کی حسرت پوری ہو لیکن اللہ کو یہ منظور نہ تھا یا شاید ان دنوں نیپلز کی مافیا بہت شریف ہو گئی تھی۔
اوپیراکی فلک شگاف موسیقی نے اتنا تھکا دیا تھا کہ واپسی میں ہم لوگوں نے ہوٹل کی راہ لی کہ کچھ آرام کیا جائے۔
مختصر سے لاؤنج میں خاصی چہل پہل نظر آئی جس کی وجہ سے خان صاحب کی ساری بوریت اور تھکاوٹ دور ہو گئی۔ انہوں نے فوراً حساب لگایا کہ ہوٹل سے رخصت ہونے والے کون ہیں اور نئے مہمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دونوں کا آپس میں موازنہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ آفاقی صاحب۔ ہوٹل میں اب جو مہمان آئے ہیں وہ پہلے مہمانوں سے کہیں زیادہ خوبصورت اور خوش ذوق ہیں۔
’’ان کے ذوق کا آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا‘‘۔ ہم نے پوچھا۔
بولے ’’ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ پڑھے لکھے کو فارسی کیا ہے۔ سب کچھ تو آپکے سامنے ہے۔ یہ دیکھئے کہ آنے والی سیاح خواتین کتنی طرح دار ہیں۔ ان کے لباسوں کے فیشن کس قدر جدید ترین اور انوکھے ہیں۔ انہوں نے کئی اچھی قسم کی خوشبوئیں استعمال کی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ بے تکلف اور آزاد خیال ہیں۔ کس تیزی سے باتیں کر رہی ہیں اور قہقہے لگا رہی ہیں۔
بٹ صاحب نے اضافہ کیا ’’اور سگریٹیں پی ری ہیں اور بیئر سے شوق فرما رہی ہیں۔ لاحول ولا قوہ۔ آپ انہیں خوش ذوق کہتے ہیں؟ ان کے لباس کی تعریف کر رہے ہیں؟ ان چیتھڑوں کو لباس کا نام دینا لباس کی توہین ہے۔ انتہائی بے ہودہ لباس پہنا ہے انہوں نے اور مجھے تو انتہائی بے شرم اور آوارہ نظر آتی ہیں۔‘‘
’’بٹ صاحب۔ خدا کا خوف کیجئے۔ آپ نے کسی تصدیق کے بغیر ہی ان نیک بیبیوں پر بے ہودگی اور آوارگی کی تہمت لگا دی۔ جانتے ہیں کہ تہمت لگانا کتنا بڑا گناہ ہے؟‘‘
’’آپ اسے تہمت کہتے ہیں؟ ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ ان کے لباس انتہائی قابل اعتراض ہیں بلکہ لباس کہلانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ جسے آپ ان کی بے تکلفی اور خوش اخلاقی کہہ رہے ہیں یہ بے حیائی اور بے شرمی ہے۔ پبلک کے درمیان میں بیٹھ کر کوئی شریف عورت اس طرح باتیں نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس طرح قہقہے لگا سکتی ہیں۔‘‘
’’بٹ صاحب۔ آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ یہاں اخلاق اور شرافت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ جس چیز کو ہم بے حیائی سمجھتے ہیں یہ اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہمارے نزدیک جو لباس عریاں اور بے ہودہ ہے وہ ان کے کلچر میں معقول اور شریفانہ ہے۔ انہیں اپنے پیمانے سے نہ ناپیں۔‘‘
’’ پیمانے تو ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ بھی کہہ دیجئے کہ عورتوں کا سرعام شراب نوشی کرنا بھی شرافت ہے۔‘‘
’’یہ سب ان کے معمول میں داخل ہے۔ یہ ان چیزوں کو برا نہیں سمجھتے۔‘‘
’’ان کے سمجھنے یا نہ سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہم تو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔‘‘
’’تو پھر سمجھتے رہیں۔ آپ کی خاطر یہ اپنی زندگی کا چلن اور رسم و رواج تو نہیں بدل سکتے۔ اگر آپ کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تو آنکھیں بند کر لیجئے۔ مت دیکھئے اور ان کے ملک آنا ہی چھوڑ دیجئے۔‘‘
یہ بٹ صاحب کا نازک پہلو تھا جس کا ان کے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا اس لیے خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہو گئے۔
’’میرا خیال ہے کہ ہمیں ابھی ایک دو دن مزید نیپلز میں رہنا چاہئے اور بے کار آوارہ گردی کرنے کی بجائے زیادہ وقت اپنے ہوٹل میں گزارنا چاہیے۔‘‘
’’یہ بھی آپ کی حماقت ہو گی۔‘‘ بٹ صاحب نے کہا۔ ’’جن کی خاطر آپ زیادہ وقت ہوٹل میں گزارنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وہ ہوٹل کی لابی میں نہیں بیٹھی رہیں گی۔ یہ لوگ یہاں سیر و تفریح کرنے آئے ہیں۔ گھر بیٹھنے نہیں۔‘‘ پھر وہ ہم سے مخاطب ہوئے۔ ’’کیوں آفاقی صاحب۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
’’کس بارے میں؟‘‘ ہم نے پوچھا۔
انہوں نے اپنا سر پکڑ لیا ’’ساری رات حضرت یوسف کی داستان سنی اور آخر میں پوچھتے ہیں کہ زلیخا مرد تھی یا عورت؟ بھائی۔ ہم مغربی کلچر کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کس خیال میں ہیں؟‘‘
ہم نے کہا ’’بٹ صاحب۔ جس ملک کا جو بھی کلچر ہے وہ ہمارے آپ کے کہنے سے یا اعتراض کرنے سے تو نہیں بدلا جا سکتا اس لیے بے کار وقت اور دماغ ضائع کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ جیسا دیس ویسا بھیس۔ اسی میں بھلائی ہے اور ہمیں کون سا یہاں مستقل طور پر رہنا ہے یا رشتے داری کرنی ہے۔ تھوڑے دن کو گھومنے پھرنے آتے ہیں پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ بلاوجہ بے کار چیزوں پر اپنا وقت اور دماغ ضائع کرتے ہیں۔‘‘
خان صاحب نے مداخلت کی ’’دیکھئے۔ آپ نے انہیں دو بار وقت اور دماغ ضائع کرنے سے روکا ہے۔ یہ اصولاً غلط ہے۔ جب دماغ ہی نہ ہو تو اسے ضائع کیسے کر سکتے ہیں۔ اس نعمت یا فالتو چیز سے تو یہ پہلے ہی محروم ہیں۔ رہ گیا وقت تو یہ ہوتا ہی ضائع کرنے کے لیے ہں۔ ہم یہاں کوئی کاروبار کرنے تو نہیں آئے۔ گھوم پھر کر وقت ضائع کرنے ہی تو آئے ہیں۔‘‘
ہم نے کہا ’’آپ لوگ اپنی بحث میں مصروف رہیں۔ ہمیں اجازت دیجئے۔ کمرے میں جا کر آرام کریں گے۔‘‘
خان صاحب کو یہ خیال پسند نہ آیا ’’ارے تھوڑی دیر تو یہاں بیٹھئے۔ اتنا اچھا موسم ہے۔ اتنا اچھا ماحول ہے۔ یہاں بیٹھ کر کچھ کھائیں گے ،پیءں گے۔آنے جانے والوں کا تماشا دیکھیں گے۔ بٹ صاحب اگر آرام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دیجئے۔ ویسے بھی یہاں بیٹھ کر لاحول پڑھنے کے سوا یہ کیا کریں گے؟‘‘
بٹ صاحب کو یہ آئیڈیا بالکل پسند نہیں آیا۔ کہنے لگے ’’میں آپ لوگوں کو کھلی چھٹی نہیں دے سکتا۔ آخر مجھے پاکستان واپس جا کر جواب دینا ہے۔‘‘
’’آپ خود بخود محتسب بن بیٹھے ہیں۔ خیر آپ کی مرضی۔ آئیے بیٹھتے ہیں۔ کیا کھانا پسند کریں گے؟‘‘
بولے ’’آئس کریم کھاؤں گا اور ملک شیک پیوں گا۔‘‘ خان صاحب ہنسنے لگے ’’بھائی۔ ان دونوں چیزوں کے نام الگ الگ ہیں مگر دراصل ایک ہی ہیں۔‘‘
’’ایک ہیں مگر ان کی شکل و صورت اور مزہ مختلف ہے اس لیے انہیں ایک نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ بٹ صاحب نے فوراً دلیل پیش کر دی۔
ہم نے کہا ’’بھئی آپ دونوں ہر وقت لڑاکا مرغوں کی طرح نہ لڑتے رہا کیجئے۔ کبھی بھائی چارے اور دوستی کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ دیکھنے اور سننے والے تو یہی سمجھتے ہوں گے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے ازلی دشمن ہیں۔‘‘
خان صاحب نے فوراً بٹ صاحب کے گلے میں ہاتھ ڈال دیے اور ان کی پیشانی چوم کر بولے ’’ارے یہ تو میری جان ہے۔‘‘
بٹ صاحب نے کہا ’’اب آپ چاہیں گے کہ میں بھی جواب میں ایسا ہی فقرہ کہوں۔ اگر میں آپ کی جان ہوں تو آپ میری روح ہیں۔‘‘
لیجئے۔ دونوں کے تعلقات استوار ہو گئے مگر تھوڑی سی دیر کے لیے۔ معلوم تھا کہ کچھ دیر بعد یہ پھر چونچیں لڑانا شروع کر دیں گے۔
نئے مہمانوں کے ہجوم میں خان صاحب اور ہم لوگ لیزلی کو بھول ہی گئے تھے جو بقول خان صاحب، اس ہوٹل کی واحد خاتون نمائندہ تھی۔ لیزلی مہمانوں کی دیکھ بھال میں بہت مصروف تھی۔ سامنے سے گزری تو خان صاحب نے اشارہ دے کر بلایا۔
’’یوس سینور؟‘‘ اس نے مسکرا کر دریافت کیا۔ اطالویوں کی یہ عادت ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ یہ ہر لفظ کو گول کر دیتے ہیں اور ’’واؤ‘‘ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ مثلاً ’’یس سینور‘‘ کو مس لیزلی نے ’’یوس سینور‘‘ بنا دیا تھا۔
لیزلی کو آرڈر دیا گیا۔ وہ چٹکی بجا کر رخصت ہو گئی۔ کافی پھرتیلی لڑکی تھی۔ پھرکی کی طرح سارے ہوٹل میں گھومتی پھرتی تھی اور ہر کام چٹکی بجانے میں کر دیا کرتی تھی۔ اس لیے بٹ صاحب نے اس کا نام ’’چٹکی‘‘ رکھ دیا تھا۔
خان صاحب نے سخت اعتراض کیا۔ ’’بٹ صاحب۔ یہ کیا بداخلاقی ہے۔ کچھ تو خیال کیجئے۔‘‘
بٹ صاحب حیران ہو گئے ’’کیا بداخلاقی کر دی میں نے؟‘‘
’’جانتے ہو چٹکی کتنی بری چیز ہوتی ہے۔ اٹلی میں آوارہ لڑکے راہ چلتی عورتوں کو چٹکی بھر لیتے ہیں۔ یہ کوئی شریفانہ نام تو نہیں ہے۔‘‘
’’ہم اس چٹکی کی بات نہیں کر رہے ۔ یہ لڑکی ہر کام کرنے سے پہلے چٹکی بجاتی ہے۔ مطلب یہ کہ چٹکی بجانے میں کام کر دوں گی۔ اس لیے ہم نے اس کا پیار کا نام چٹکی رکھ دیا۔‘‘
’’کیا کہا۔ پیار کا نام؟‘‘ خان صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’یعنی آپ اس سے چپکے چپکے پیار بھی کرنے لگے؟‘‘
بٹ صاحب شرمندہ ہو گئے۔ ’’ارے نہیں یار۔ میرا مطلب تھا ’’پیٹ نیم‘‘ گھروں میں ایسے چھوٹے چھوٹے نام رکھ لیے جاتے ہیں۔‘‘
’’مگر آپ کا اس کے گھر سے کیا تعلق ہے؟ اس کا مطلب سمجھتے ہیں؟ یعنی آپ کی اس کے گھر اور جائیداد پر بھی نظر ہے جوکہ ظاہر ہے اس کی ماں سے شادی کے بغیر آپ کو نہیں مل سکتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ آپ...‘‘
بٹ صاحب تنگ آگئے ’’لاحول ولا قوۃ۔ بند کرو یہ بکواس۔ ایسا مذاق میں بالکل پسند نہیں کرتا۔ آئندہ آپ اس طرح کا مذاق مجھ سے نہ کیجئے گا۔‘‘
اس جھگڑے کا خاتمہ اس وقت ہوا جب چٹکی ٹرے لے کر آئی۔ اس نے مسکراتے ہوئے سب چیزیں میز پر سجا دیں اور پھر پوچھا ’’گود؟‘‘یعنی سب کچھ ٹھیک ہے نا؟
ہم سب نے بیک آواز کہا ’’یوس۔ ویری گود۔ ویری گود۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *