ہمارے پرچم پر غفلت کے رنگ ....

ghazala pervaizہمارا پرچم ، یہ پیارا پرچم ،

یہ پرچموں میں عظیم پرچم۔
عطائے ربِ جلیل پرچم
14اگست میں دو دن رہ گئے تھے اور میں جھنڈا لینے نکلی۔۔۔ ہر سال میرے میاں جی لے آتے تھے۔۔ لیکن اس سال انہوں نے میری ذمہ داری لگا دی۔۔۔
اسٹال ہی اسٹال، جھنڈے ہی جھنڈے۔۔ ہر طرف ہرا ہی ہرا۔۔۔ ملی نغموں کی کان پھاڑتی موسیقی۔۔ دمکتے خوش باش پاکستان کی محبت سے سرشار چہرے۔۔۔
ایک اسٹال پہ رکی اور جمع غفیر کے درمیان آواز لگائی۔۔۔
" بھائی ایک جھنڈا دینا "
اور جو جھنڈا میرے ہاتھ آیا اسے دیکھ کر مجھے دھچکا لگا۔۔
" بھائی یہ میرے ملک کا جھنڈا نہیں "۔۔ وہ حیران مجھے دیکھنے لگا، بلکہ سبھی پلٹ کر مجھے دیکھ رہے تھے۔۔
"نہیں باجی یہ پاکستان کا ہی جھنڈا ہے "
میں نے اسے واپس دیتے ہوئے کہا۔۔
" پاکستان کے جھنڈے پہ لاالہ االا للہ تو نہیں لکھا ہوتا ہے بھائی "
"باجی جی، ہم مسلمان قوم ہیں اور کلمہ لکھا ہے تو کیا مسئلہ ہے ؟"
" بھائی کوئی مسئلہ نہیں ، بس یہ ہمارا جھنڈا نہیں ، دوسرا ہے تو دے دو "
اب جو دوسرا ہاتھ آیا وہ ہلکے سبز رنگ کا تھا۔۔۔
"بھاءیہ سبز رنگ ہمارے جھنڈے کا نہیں ہے وہ دوسرا سبز دو "
اس نے ایک خشمگیں نظر مجھ پہ ڈالی اور خاموشی سے تھما دیا....
"جھنڈیوں کا پیک بھی دینا ".... اس نے ایک پیک اور تھمادیا....
"بھائی میں نے پاکستان کے جھنڈوں کا پیک مانگا تھا "
"اماں.... یہ پاکستان کے ہی جھنڈے ہیں "
وہ غصے میں باجی سے اماں پہ آگیا....
"یہ لال، نیلا، گلابی، جامنی.... پاکستانی جھنڈا ہے ؟ "
"اماں تمہیں چاند تارا نظر نہیں آرہا .... لوگ یہی پسند کرتے ہیں، یہی مانگتے ہیں "
میں نے ایک فیملی جو چھ آٹھ پیک لے رہی تھی ان سے کہا، ”یہ رنگین جھنڈے ہمارے تو نہیں پھر آپ کیوں لے رہے ہیں ، یہ صرف ہرے اور سفید والے کیوں نہیں ؟
"بچے رنگین جھنڈیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں " اور میں منہ کھولے انہیں دیکھتی رہ گئی
"اماں آپ کو لینا ہے؟ "
ہاں بھائی میرے جھنڈے سبز ہلالی کا پیک ہے تو دیدو "۔۔
" ہے نا، وہ بھی ہے، ہمارے پاس تو ہر طرح کے کسٹمر آتے ہیں، لوگ تو کلمے والے اور رنگ برنگے مانگ کے خریدتے ہیں۔ "
میں افسوس سے سر ہلاتے اور دکھ سے لوگوں کے ہاتھوں میں رنگین جھنڈیاں دیکھ کر اور کلمے کے جھنڈے ہلاتے مسرور بچوں کو دیکھتی ہوئی واپس ہونے کے لئے پلٹی۔
ایک جھنڈیوں کا پیک نیچے گر پڑا اور ہوا نے جھنڈے بکھیر دیے۔ اسٹالوں پہ رش ،لوگوں کا ہجوم اور جھنڈے پاو¿ں تلے.... میں گھبرا کے زمین سے جھنڈے چننے لگی۔ ایک سن رسیدہ بزرگ جو زمین پہ چادر بچھائے ہرا اور سفید پرچم بیچ رہے تھے بھاگے ہوئے آئے اور میرے ساتھ جھنڈیاں لوگوں کے پاوں تلے سے سمیٹنے لگے.... ہم دونوں کھڑے ہوئے تو میں انہیں دیکھ کر مسکرائی اور وہ بولے
”بیٹی میں اتنی دیر سے تمہیں دیکھ رہا ہوں اور سن رہا ہوں.... یہ لوگ جھنڈے کو کیا جانیں نہ اِنہوں نے جھنڈے کی خاطر بازو کٹائے اور نہ کٹتے دیکھے اور نہ ملک کے لیے گردن کٹتی دیکھی۔ بنا جدوجہد کے آزادی مل گئی تو کیا قدر جانیں ۔ ہم سے پوچھو نا جھنڈے کی قدر"
میں نے بزرگ کے رعشے سے کپکپاتے ہاتھ کو جس میں جھنڈے تھے اپنے ہاتھوں میں تھاما اور چوم لیا۔
"بابا.... پاکستان زندہ باد "
"سایہ خدائے ذوالجلال.... سلامت رہو بٹیا۔ اپنی اولاد کو اس کی قدر سکھانا۔ وہ مستقبل ہیں پاکستان کے "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *