اقبال کا خواب ، قائد کی تقریر اور ہماری تعبیر

Timojan Mirzaقائد اعظم کیا چاہتے تھے؟ علامہ کا کیا خواب تھا؟ کیا کیا بحثیں چلتی ہیں، تقاریر پیش کی جاتی ہیں، اصرار کیا جاتا ہے کہ جناب تقریر تو یوں تھی، ووں کر دی گئی اور مطلب یہ تھا، وہ کر دیا گیا۔ بھیا اس سب کا نتیجہ نکل بھی آئے تو کسے پروا ہے؟ چلئے ایک لحظے کو مان لیتے ہیں قائد ایک مکمل شرعی ریاست چاہتے تھے تو بتائیے کیا آپ سب شریعت پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں گے؟ جناب ہماری قوم تو ایک دن کیبل ٹی وی پر موسیقی کے نام پر جو بے ہودگی دکھائی جاتی ہے، وہ نہ دیکھ پائی تو شریعت پرعمل سے تائب ہو جائے گی۔ اب چلئے دوسری طرف۔ دین سے قطع نظر معاملات مملکت پر عمل کرنے والی حکومت بنا دی جائے تو یہی بے ہودگی دیکھنے والے چینل بدلتے ہوئے کسی نیوز چنیل پر چوری کی خبر دیکھتے ہوئے کہیں گے، کاٹنا تو ہاتھ ہی چاہیے جناب، دیکھنا چور اور چوری کا نام و نشان نہ رہے گا- اور اس حدیث کا حوالہ بھی دیں گے جس میں بیٹی کی ہم نام ہونے پر پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ ہم نام تو کیا، خود فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی ہوتی تو ایسا ہی ہوتا- پھر ایک طرف سے فرمان جاری ہو گا- اصل نظام شریعت ہی ہے اور تھوڑی دیر بعد سلمان خان کی نئی پکچر دیکھتے ہوئے کہا جائے گا، نام کا ہی مسلمان ہے، غیرت ایمانی تو ہے ہی نہیں- دیکھو تو سہی کیسے سونڈ والے دیوتا کے سامنے ناچ رہا ہے۔ جی ہاں وہ شاہ رخ خان کے گھر میں بھی مندر ہے، یہ بات اور ہے کہ مندر کا لفظ بھی بہ وزن بندر ادا کیا جائے گا۔

اب ایک اور منظر ملاحظہ کیجئے۔ ایک مولانا صاحب اور ایک دین پر’تنقیدی‘ نظر رکھنے والے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھے ہوئے داڑھی منڈے صاحب کمال کی عالمانہ بحث کر رہے ہیں جس میں اقبال کی شاعری پر تنقیدی جائزہ اور جاگتے تو چھوڑئیے،علامہ نے سوتے میں بھی جو خواب دیکھے انہیں من و عن بیان کیا جا رہا ہے- الفاظ کی رنگین پچکاریاں، نکات کی سب رنگ ہوائیاں اور فکاہت کے شاندار مظاہرے، سب آپ کو کچھ ہی لمحات میں دیکھنے کو مل جائیں گے اور ارد گرد کے افراد واہ واہ کے ڈونگرے برساتے کوئی نہ کوئی عالمانہ لقمہ بھی ساتھ کے ساتھ اور ہات کے ہات دیئے جائیں گے۔ آسمان سے رنگ و نور کی برسات جاری ہو گی، فرشتے محو حیرت اور جنات انگشت بہ دنداں کہ اچانک رنگوں کی پچکاریاں، تھوک کے فواروں اور پیک کی بوچھاڑ میں تبدیل ہو جائیں گی، آپ جناب کے سابقے و لاحقے تو تڑاخ میں بدل جائیں گے، حاضرین ایک خواب خوش رنگ سے ہڑبڑا کر نکل آئیں گے، فرشتے تو جیسے تھے ہی نہیں اور جنات اپنی عزت بچانے کو اڑن چھو ہو جائیں گے- بس بات اتنی سی ہوگی کہ کوئی بھی فریق یہ ماننے کو تیار نہ ہو گا کہ علامہ کے اشعار ان کے بعد تمام معانی، مطالب و تشریحات کے ساتھ فریقین میں سے کسی پر نازل نہیں ہوئے۔ اب صرف نزول کی ہی تو بات ہے، اس میں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت جناب؟ لیکن کیا کہئے کہ روحانیت کے اعلیٰ مدارج پر فائز اور مزید سفر سلوک طے کرتے ہوئے فریقین کا پہلا سبق حق الیقین ہوتا ہے اور حاضرین محفل بھی کسی نہ کسی درجہ کے واقفان حقیقت ہوتے ہیں اور اپنی پرواز کے اسباق کچھ ایسے بے ضرر انداز میں داخل در معقولات و بحث کرتے ہیں کہ یقین کی منازل و مدارج لمحات میں طے ہو کر ایسی کیفیات پر منتج ہوتے ہیں-
تو جناب ایسی روشن ضمیر قوم کو قائد اور علامہ کے اقوال و مقاصد سے کیا علاقہ؟ یہاں تو ہر شخص خود علامہ اور بزعم خود حقیقی ترجمان قائد ہے- حیرانی کی بات یہ ہے کہ چھے عشرے گزر جانے پر بھی عوام تو عوام، قوم کے دانشور بھی آج تک اس بحث کو تمام کرنے پر آمادہ نہیں اور ہر دوسرے ہفتہ قائد کے ایمان اور علامہ کے پیغام کو اپنے اپنے رنگ میں ہم تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان علمی موشگافیوں میں عوام اور اس ملک کے مسائل کا ایسا کون سا حل چھپا ہے کہ انہیں پڑھنے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہر شخص کو عزت کی روزی روٹی کے ساتھ زندگی گزارنے کے بہترین مواقع ملنے لگ جائیں گے؟ عوام شد و مد کے ساتھ ان بحثوں کے حوالے دیتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ جس دن ان کے پسندیدہ فرد کے اخذ کردہ پیغام کے مطابق نظام کا نفاذ ہو گیا سب کچھ اچانک ٹھیک ہو جائے گا- عمومی طور پر تاریخ سے نابلد افراد اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی تقریباً تمام خرابیوں کی بنیاد رکھنے کو ان میں سے کئی افراد کے پسندیدہ دانشوروں اور ہیروز نے اپنا کردار پوری طرح ادا کرنا شروع کر دیا تھا اور آج برگزیدہ اور پاکیزہ سمجھے جانے والے کئی افراد جو موجود ہیں اور جو گزر گئے، عملی طور پر اس ملک کی اجتماعی سوچ کو بدلنے میں کلیدی کردار رکھتے ہیں- ایسے لوگوں کی کتابیں، مقالات اور بیانات بہت شوق سے پڑھے اور سنے جاتے ہیں اور عام طور پر رائج مطالب سے اختلاف رکھنے والے یا اس سب کو تاریخ اور عقل کے تناظر میں پرکھنے والوں کو علم اور روحانی سمجھ سے نابلد قرار دے دیا جاتا ہے۔
تو سوال پھر وہی رہا کہ قائد اورعلامہ کیا چاہتے تھے؟ ہمیں اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ پاکستان کب کا بن چکا اور اس بات پر بھی یقین ہونا چاہیے کہ بحث طلب نظریات اور خوابوں کے علاوہ یہ خیالات تو دونوں کے دلوں میں ضرور ہونگے کہ پاکستان ترقی کرے، اس میں موجود افراد سکون سے زندگیاں بسر کریں، تعلیم حاصل کریں، انہیں تمام حقوق حاصل ہوں اور ایک دن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ان کی جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے ملک کا نام آئے- تو ہمیں چاہیے کہ ہم لایعنی بحثوں کو چھوڑ کر کسی نہ کسی حد تک اس ملک کے لئے کارآمد ثابت ہوں- اپنے اردگرد دیکھئے، بہت کچھ ایسا نظر آئے گا جسے ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے اور بہت کچھ ایسا ہے جسے بہتری کی ضرورت ہے- کم از کم اپنی گلی یا محلے کی حد تک دیکھئے کہ کیا ہو سکتا ہے- اگر آپ کے پاس وسائل نہیں ہیں تو ان مسائل کا ذکر کیجئے، شاید کوئی شخص ایسے وسائل رکھتا ہو کہ ان میں سے کچھ نہیں تو ایک آدھ مسئلہ ہی حل ہو جائے- اگر حل نہ بھی ہوں گے تو عوام میں ان مسائل کے حوالہ سے آگہی تو بڑھے گی اور شاید ان میں سے چند ان مسائل کو مزید سنگین کرنے سے گریز کریں گے- اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھئے، اگر کوئی املاک کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اسے شائستگی سے ایسا کرنے سے روکئے، اگر ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو عمومی طور پر اپنے اردگرد کے افراد کو ایسا نہ کرنے کی تلقین کیجئے-اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہے جو کرنے یا جس کا پیغام پہنچانے کا فیصلہ آپ ذاتی طور پر بہتر کر سکتے ہیں- ضروری نہیں کہ ہم مابعدالطبیعات کی بحثوں میں الجھ کر عملی طور پر بہتری کی کاوشوں سے دستبردار ہوتے رہیں اور ملک کے مذہبی یا غیر مذہبی نظام کے نفاذ کے لئے دست و گریباں رہیں- ملک کو بہتر بنانے کی طرف قدم بڑھائیے، نظام کا فیصلہ کرنے تک تباہی کی طرف بڑھتے چلے جانا کہیں ایسے مقام تک نہ لے جائے کہ واپسی کا سفر ناممکن تو نہیں لیکن کئی نسلوں پر محیط ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *