یومِ آزادی:14یا 15 اگست؟

akhtar Balochہمارے پیارے دوست جناب سید شمس الدین صاحب ایسے لوگوں سے بہت شاکی رہتے ہیں جو وقت کی پابندی نہیں کرتے۔وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے لیے کہتے ہیں کہ انھیں ہاتھ پر گھڑی باندھنے کے بجائے کیلنڈر باندھنے چاہئیں تاکہ وہ صحیح وقت پر نہیں تو کم از کم صحیح تاریخ پر ہی پہنچ جائیں۔ ہمارے استاد محترم حسین نقی صاحب بھی وقت کی پابندی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ اس بات سے وہ تمام لوگ بہ خوبی واقف ہوں گے جن کی ان کے ساتھ نشست و برخاست رہی ہو یا انھوں نے ان کی زیرِ نگرانی انسانی حقوق کی تربیت کے حوالے سے کسی تربیتی ورکشاپ میں حصہ لیا ہو۔ یہ غالباً 2002 کی بات ہے جب ہم حیدرآباد میں تھے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام لاہور میں ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔حیدرآباد سے مجھ سمیت ہمارے دوست احمد رضا، امر گُرڑو ،حلیمہ سومرو،شبانہ چنا اور رؤوف چانڈیو نے شرکت کی۔ جب کہ کوئٹہ سے معروف صحافی ایوب ترین اور پشاور سے جمشید باغ وان بھی شامل تھے ۔کراچی سے ڈان کے رپورٹربھگوان داس تھے۔ خیر، غالباً ورکشاپ کے دوسرے یا تیسرے دن ، ورکشاپ کے دوران ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی امتیاز عالم ہال میں داخل ہوئے اور نقی صاحب سے بولے، ’’مجھے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا لیکن یہاں تو وہ لوگ ہی نظر نہیں آرہے‘‘۔ نقی صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور اپنے تمباکو والے پائپ کی راکھ ، راکھ دان میں جھاڑتے ہوئے بولے، ’’ امتیاز صاحب ! آپ صرف چوبیس گھنٹے تاخیر سے پہنچے ہیں اور ہاں اب ہماری سمجھ آیا کہ سُرخ انقلاب کیوں وقت پر نہیں آیا۔ ان کے اس تبصرے پر امتیاز صاحب اور نقی صاحب کے درمیان خوش گوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں اس تمہید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مختصر جواب یہ ہے کہ ایک تاریخی مغالطے کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہیں۔ یہ ایک عمومی تاثر ہے کہ پاکستان 14اگست کو وجود میں آیا لیکن تاریخی حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں۔نام ور مورخ کے۔کے عزیز اپنی کتاب ’’تاریخ کا قتل‘‘(Murder Of History) کے صفحہ نمبر 179 پر ’’قیامِ پاکستان کی تاریخ‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:
’’ یہ ایک عمومی اور مستحکم تاثر ہے کہ پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست ہے جو درست نہیں ہے۔انڈین انڈیپینڈنس بل جو 4جولائی 1947 کو متعارف کرایا گیا تھا، 15 جولائی 1947 کو قانون بن گیا جس کے مطابق انڈیا اور پاکستان 14اور 15اگست کی درمیانی شب ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے۔دونوں مملکتوں کو اقتدار شاہ برطانیہ کے انڈیا میں نمائندے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے منتقل کرنا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی اس موقعے پر بہ یک وقت انڈیا اور پاکستان میں موجودگی ممکن نہیں تھی۔ یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ 15اگست کی صبح اقتدار انڈیا کو منتقل کرتے اور فوراً ہی کراچی پہنچ جاتے۔کیوں کہ اس وقت وہ انڈین ڈومینین(Dominion) کے گورنر جنرل ہوتے۔ عملی طور پر یہ ممکن تھا کہ وہ وائسرائے کی حیثیت سے وہ پاکستان کو اقتدار کی منتقلی 14 اگست کو کرتے کیوں کہ اس وقت تک وہ انڈیا کے وائسرائے کے عہدے پر رہتے۔ لیکن اس کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ پاکستان 14اگست کو آزاد ہوا تھا ۔انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
حکومتِ برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ ’’Legislation.co.uk‘‘ پر موجود انڈین ایکٹ کی دفعہ نمبر 1 (I) سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ایکٹ کے مطابق ’’ 15 اگست 1947 کو دو آزاد خود مختار ریاستیں انڈیا میں تشکیل پائی ہیں جو انڈیا اورپاکستان کہلائیں گی‘‘۔
بات صرف انڈیپینڈنس ایکٹ تک ہی محدود نہیں۔ سابق وزیرِ اعظم پاکستان چوہدری محمد علی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب جو پہلی بار 1967 میں ’’ Emergence Of Pakistan‘‘ کے نام سے شایع ہوئی اور اس کا ترجمہ 1981میں بشیر احمد ارشد نے کیا اور یہ مکتبہ کارواں لاہور کے زیرِ اہتمام شایع ہوئی تھی۔کتاب کے اردو ترجمے کے صفحہ نمبر 287 پر درج ہے کہ ’’15اگست 1947 ، رمضان المبارک کے آخری جمعہ کا بابرکت اور مقدس دن تھا اس مبارک دن قائد اعظم نے پاکستان کے گورنر جنرل کا منصب سنبھالااور کابینہ نے حلف اٹھایا۔ستارہ و ہلال والا قومی پرچم لہرایا گیا۔پاکستان منصہ شہود پر آگیا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’15 اگست کو قائد اعظم نے اہلِ پاکستان کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ:’’ اس عظیم موقعے پر مجھے سب سے زیادہ وہ بہادر مجاہد یاد آرہے ہیں ، جنھوں نے ہمارے نصب العین کی خاطر سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی خوشی سے قربان کر دیں تاکہ پاکستان قیامِ عمل میں آجا ئے ‘‘۔
ہندوستان میں رہنے والے چار کروڑ مسلمانوں کے لیے خیر خواہی تھی اور مسلسل تشویش بھی۔ جیسا کہ قائداعظم نے کہا: ’’ ہمارے ان بھائیوں کو جو اب ہندوستان میں اقلیت میں ہیں، پورا یقین ہونا چاہیے کہ ہم کبھی نہ انھیں نظر انداز کریں گے اور نہ فراموش۔ مجھے تسلیم ہے کہ یہ اس برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبے ہی ہیں، جنھوں نے سبقت لے کر ہمارے دل و جان سے عزیز نصب العین پاکستان کے حصول کا پرچم سر بلند رکھا‘‘۔ اب انھیں نئے اور مشکل حالات سے مطابقت کرنی پڑے گی، کیونکہ پاکستان کی حمایت کرنے کے باعث وہ ہندوؤں کی نگاہ میں مبغوض تھے۔ قائد اعظم نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ جس مملکت میں ہیں، اس کے غیر متزلزل طور پر وفادار رہیں۔
چوہدری محمد علی نے یہ کتاب قیامِ پاکستان کے تقریباً 22 سال بعد لکھی 1980 تک وہ بقید حیات بھی رہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنے اس بیان کی تردید نہیں کی گو کہ ان کی زندگی میں ہی پاکستان کا یومِ آزادی 15 سے 14 اگست کو ہو گیا۔ ان کے اس بیان کی تصدیق ایک اور ذریعے سے بھی ہوتی ہے ۔1989 ء کو پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے شعبے فلم اور مطبوعات کے زیرِ اہتمام شایع ہونے والی کتاب ’’قائدِ اعظم محمد علی جناح تقاریر و بیانات بہ حیثیت گورنر جنرل پاکستان 1947۔1948‘‘کے صفحہ نمبر 55پر ’’پُر امن بقائے باہمی‘‘ (Peace Within, and Peace Without) کے عنوان سے لکھا ہے: ’’15اگست 1947 کو پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کے افتتاح کے موقع پر قوم کے نام نشری پیغام۔
’’میں انتہائی مسرت و شادمانی کے ساتھ یہ تہنیت آپ کی نذر کرتا ہوں۔15اگست آزاد اور خود مختار پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔‘‘
’’قائدِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ: آخری دو سال‘‘ نامی کتاب کے مصنف منصور احمد بٹ جنھیں ان کی کتاب کے صفحہ اول پر لکھی تحریر کے مطابق وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی بھی عطا ہوا ہے، قائدِ اعظم کی 15 اگست کی تقریر کے حوالے سے انکشاف کرتے ہیں کہ:
’’ 14اگست 1947 کو پاکستان کے قیام اور ایک آزاد خود مختار مسلم مملکت کے معرضِ وجود میں آجانے کے اعلان رات بارہ بجے کے بعد لاہور کراچی اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشنوں سے ہوا۔ان تاریخ ساز اور بے حد متبرک لمحات میں تلاوتِ قران کریم اور ملی ترانوں کے بعد قائد اعظم کی ایک تہنیتی تقریر نشر کی گئی۔ یہ تقریر قیامِ پاکستان کا فیصلہ ہواجانے کے بعد اور آخر جولائی میں دہلی میں ہی ریکارڈ کر لی گئی تھی۔ اس اہم ترین تقریر کے تین ریکارڈ لاہور اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشنوں کے معتمد افراد کے ذریعے پہلے ہی متعلقہ جگہوں پر پہنچا دیے گئے تھے۔یہ تقریر جو قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم کی اولین ریڈیائی تقریر ہے۔جناب انصار ناصری (ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان) نے اردو میں ترجمہ کر کے ریڈیو پاکستان پشاور سے سامعین تک پہنچائی۔اور وہی اس اہم تقریر کو تحریری شکل میں اپنے ایک طویل مضمون کے ساتھ پہلی بار منظرعام پر لائے۔ ‘‘۔
بٹ صاحب اپنی تحریر میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ تقریر رات بارہ بجے کے بعد نشر کی گئی تھی ۔وہ شاید اس بات سے لاعلم ہیں کہ بارہ بجے کے بعد نیا دن شروع ہوجاتا ہے۔بٹ صاحب کی تحریر میں اس پوری کہانی کا کوئی حوالہ نہیں البتہ انھوں نے کتاب کے آخر میں 45 ایسی کتابوں کی فہرست دی ہے جن کی مدد سے انھوں نے کتاب تحریر کی ہے۔’’اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘۔ مجھے گمان ہے کہ شاید وہ ہمارا یہ بلاگ پڑھ کر ہماری رہنمائی کریں، نہ صرف وہ بلکہ کوئی بھی ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی 14اگست 1947 ہے یا 15اگست ، تاریخی دستاویزات ، تقاریر اور کتابوں سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کا یومِ آزادی 15 اگست ہے۔ انڈیا کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سوانح نگار فلپ زگلر اپنی کتاب ’’Mountbatten: The Official Biography‘‘ میں بھی پاکستان کی آزادی کے حوالے سے یہی لکھتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی کا دن 14اگست نہیں بلکہ 15اگست ہے۔
پاکستان کا یومِ آزادی 15سے14اگست قائدِ اعظم کی وفات کے بعد ہوا۔پاکستان کے ایک سابق وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی اپنی یادداشتوں میں یومِ آزادی 15اگست کو قرار دیتے ہیں۔1989 میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے قائداعظم کی تقریر اور بیانات پر مشتمل کتاب میں بھی یومِ آزادی 15 اگست ہے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سوانح عمری میں بھی آزادی کی تاریخ 15 اگست ہے۔ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 میں بھی آزادی کی تاریخ 15 اگست ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے جو15اگست 14اگست ہو گئی اور آہستہ آہستہ ہم پاکستانیوں نے اسے قبول بھی کر لیا۔میں تاریخ کا ایک معمولی سا طالبِ علم ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں کسی مورخ سے یہ معلوم کروں کیا دنیا میں کوئی ایسے دو ممالک ہیں جو انڈیا اور پاکستان کی طرز پر کسی ایک سامراجی طاقت کے تسلط سے مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں آزاد ہوئے ہوں۔ ایسا ہے تو میں آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں۔ وگرنہ یہ اعزاز صرف انڈیا ور پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔

یومِ آزادی:14یا 15 اگست؟” پر ایک تبصرہ

  • اگست 15, 2015 at 12:35 AM
    Permalink

    محترم اختر بلوچ صاحب تاریخ پر عبور رکھتے ہیں۔ ان تمام باتوں اور حوالوں سے تاریخی طور مفر ممکن نہیں۔ پاکستان اور انڈیا کا بٹوارا ١۵ اگست ١۹۴۷ کا وقت شروع ہوتے ہی قانونی طور پر عملی صورت وجود میں آیا۔ اور یہ بھی بات کم از میری معلومات میں نہیں برطانیہ نے انڈیا کے علاوہ کہیں اور بٹوارا کیا ہو۔ البتہ شمالی امریکا، کئناڈا، افریقا کی کالونیز میں ایسی مثال مل سکتی ہے کہ دو یا دو سے زائد حصوں کو ملاکر ایک کرکے آزاد کردیا ہو مگر کسی ایک کالونی کو جسے انگریزوں نے مختلف مراحل، مختلف اوقات اور مختلف مہموں کے ذریعے مختلف بادشاہوں، راجاؤں، اور حکمرانوں سے چھین کر کالونی میں شامل کیا، دلی، سندھ وغیرہ وغیرہ، اسے باٹ کر دو ملک بنادیا، وہ فقط انڈیا تھا۔ سریلنکا اور برما الگ ملک تھے اور الگ ملکوں کی ہی حیثیت سے آزاد ہوئے۔ البتہ سندھ اپنی الگ شناخت برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کے اسباب کیا بھی تھے اور یہ کیونکر ممکن ہوا؟ یہ الگ قصہ ہے۔ اس کے علاوہ صرف فلسطین کا بٹوارا ہے مگر وہ بٹوارا برطانوی بادشاھت نے نہیں کیا۔ فلسطین اور اسرائیل کے معاملے کو اقوام متحدہ کے حوالے کیا، جس نے دنیا میں پھیلے یھودیوں کے دعوا کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کا بٹوارا کرکے اسرائیل اور فلسطین کے قدیم تر ناموں سے ١۹۴۸ میں دو ملک بنادئیے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *