رستم مقبول جان ، کاکا منّا اور میر تقی میر

husnain jamalاگلے وقتوں کے ایک بھلے شاعر کچھ ایسا سامان کر گئے کہ ہمارے پرانے ممدوح کی عینک سے دیکھیے تو وہ رستم جن کی بہادری کے ہم قصے سنتے آئے ہیں، نرے گاؤدی قسم کے عاشق نظر آتے ہیں۔ کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہو گا / جو کام کیا ہم نے وہ رستم سے نہ ہو گا۔ اب آپ ہی انصاف کیجیے، گویا رستم یہی کام کرنے میں مشہور تھے کہ پرائی بہو بیٹیوں کے گھروں میں دھما دھم چھلانگیں مارتے رہیں۔اس شعر کی تفہیم اس عینک سے کرنے کے بعد ایک تنومند و توانا مگر بے وقوف عاشق کے علاوہ کیا نقشہ بنتا ہے رستم کا۔ بلکہ اگر آپ نے قاسمی صاحب کا مشہور ڈراما شب دیگ ملاحظہ کیا ہو تو اس میں ایک کاکا منّا ہوتا تھا، اپنے رستم بھائی بھی ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اب تصور کیجئے کہ وہ رستم جن کی بہادری کے معرکے مشہور ہیں وہ اپنی محبوبہ کے گھر کے آنگن میں کاکے منّے جیسے حلیے میں چھلانگ لگاتے ہیں اور پھر بھی اتنے زور سے دھم کی آواز نہیں آن پاتی کہ جس زور سے مذکورہ بالا شاعر یہ معرکہ مار گئے۔ انا للہ وانا علیہ راجعون!
ایک عام سا مشہور شعر جس کو آپ ہم سب لوگ باآسانی سمجھ لیتے ہیں اس عینک کے نتیجے میں کیسا خراب ہوا، آپ نے ملاحظہ کیا؟
اب ایک اور شعر دیکھیے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ عینک وہی لگی رہنے دیجیے۔ مجھ کو شہوت ہوئی تیمم سے / تھی مقرر کسی چھنال کی خاک۔ توبہ ! توبہ ! توبہ! کیسے ذہن تھے بھئی ان اگلے زمانوں کے شعرا کے۔ مرے ہوؤں تک کو نہیں بخشا۔ نہ معلوم کہاں کہاں جا کر کیسے کیسے کام کرتے پھرتے تھے کہ ایسے مضامین ان کے ذہن رسا میں آ جاتے تھے۔ دماغ نہ ہوا، شیطان کی کھڈی ہو گئی۔ ایسی سوچ تو کسی جنسی بیمار کی ہو سکتی ہے۔ خدا معاف کرے!
اوہ ہو، لیجے وہ عینک پہنے پہنے ہم پر کیا پاکیزہ اشعار نازل ہو رہے ہیں دیکھیے تو ذرا؛ کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے/ تجھے ہو شرم، تو پانی میں جا کے ڈوب مرے۔۔۔ کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں! / گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں۔۔۔ اور یہ تو واللہ غضب ہی ہو گیا، یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی/ دل کو لگتی ہے بات بکری کی! بلکہ بکری پر تو کیا کیا نہیں کہا گیا، افسوس کہ دنیا سے سفر کر گئی بکری/ آنکھیں تو کھلی رہ گیءں پر مر گئی بکری۔ تو یہ چھوٹے چھوٹے مختلف نظموں کے اشعار ہی اردو ادب کا اصلی زیور ہیں اور بھیا سونا اصلی ہو تو زیور کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ لیکن سونے کی پہچان کے لیے وہ ہمارے ممدوح برانڈ کی عینک ایک کسوٹی کا درجہ رکھتی ہے۔
میاں محمد بخش کی شاعری میں حکمت کے نہ جانے کتنے موتی پوشیدہ ہیں، ولی تھے یارو، انہیں اندازہ تھا کہ آئندہ وقتوں میں لوگ عینک لگا لگا کر بزرگوں کی ٹوپیاں کیسے اچھالیں گے، پہلے ہی کہہ گئے؛ خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں مناسب کرنی۔ اس کا اگلا مصرع بھی خوب ہے، لیکن اگر ہم وہ بھی لکھ دیں تو میر تقی میر، فراق گورکھ پوری، اسیر، درد، سودا، رند، جوش، سیماب اکبر آبادی اور ہمارے حافظ شیرازی کو برا بھلا کہنے والوں اور ہم میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ ہمارے لیے بہت محترم ہیں، اساتذہ کی جگہ پر ہیں۔ ایسی گستاخی کی تاب ہم میں نہیں۔
محترم ناصر عباس نیئر کی ایک تحریر کے چند اقتباسات دیکھیے، پھر بات آگے بڑھاتے ہیں؛ "افضل و اسفل کے تصورات یعنی اقدار اپنی متعلقہ ثقافتوں میں اپنے محافظ خود پیدا کر لیتی ہیں ؛کبھی کوئی سماجی گروہ اور کبھی ریاست محافظ ہو سکتی ہے اور کبھی دونوں۔ایک عجیب و غریب مگر بے حداہم بات یہ ہے کہ محافظ طبقہ اپنی سماجی شناخت ہی ان اقدار کی حفاظت کے عمل میں قائم کرنے لگتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس کا یہ عمل بے لوث نہیں ہوتا؛وہ اقدار کی محافظت کے صلے میں کئی طرح کے مفادات کی فصل کاٹتا ہے۔لہٰذاکوئی محافظ طبقہ پسند نہیں کرتا کہ وہ جن اقدار کے تحفظ کو اپنا دین ایمان سمجھتا ہے، ان پر سوال قائم کیے جائیں۔ اسے اپنی شناخت اور اس سے وابستہ مفادات خطرے میں نظرآنے لگتے ہیں"۔
ایک اور اقتباس؛ "یہ ایک دل چسپ تاریخی واقعہ ہے کہ جب تک آرٹ ایک محدود باذوق اشرافیہ طبقے تک محدود رہا،اس میں عریانیت کے مظاہر کے باوجودان کے فحش ہونے کا مسئلہ سامنے نہ آیا؛عریاں کو فحش اورمبتذل قرار نہیں دیا گیامگر جوں ہی آرٹ تک ہر عام و خاص کو رسائی حاصل ہو ئی تو اس کے جزوی یا کلی طور پر فحش ہونے کا مسئلہ پیدا ہوا"۔
گویا، کل ملا کے مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ شاعری آرٹ ہی کا حصہ ہے وہ آرٹ جو عام لوگوں کے لیے نہیں ہے، باذوق افراد کے لیے ہے۔ قدیم یونانی، مصری اور ایرانی تہذیبوں کے آرٹ اور شاعری میں آپ کو ہم جنس پرستی کے مظاہر جابہ جا نظر آتے تھے۔ (تحقیق: عربی شاعری پر یہ اثرات نسبتاً بہت کم تھے، وہاں خواتین ہی کے نام سے بدنام ہوا جاتا تھا)۔ اب ہمارے یہاں شاعری میں غزل کی روایات چوں کہ ایران سے آیءں اور سرعام خواتین کا نام اچھالنا وہاں اور یہاں دونوں جگہ ممنوعات میں تھا تو ہمارے شعرا بیچارے بھی ان کے تتبع میں مذکر محبوب لے آئے اور جب اس کا فائدہ یہ دیکھا کہ بھئی یوں تو ایک عام سا شعر مجازی اور حقیقی دونوں معاملات کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اسی پر پکے ہو گئے اور آنے والی نسلوں میں بدنامی مول لی۔ جعفر زٹلی، چرکین، جان صاحب ریختی والے، رفیع احمد خاں، حفیظ ہوشیار پوری اور شان الحق حقی وہ چند نام ہیں کہ جن کی شاعری خدا نہ کرے کبھی ہمارے ممدوح پڑھ لیں، توبتہ النصوح میں بھی کتابیں اسی جرم میں جلائی گئیں اور شاعر و ادیب نام لے لے کر دیوار میں چنوائے گئے۔
اب اس سارے معاملے میں خیر کا جو واحد پہلو ہے اس پر گفت گو کرتے ہیں۔ ہمیں آج صبح ہی معلوم ہوا ہے کہ قصور کے نواحی علاقوں میں حافظ شیرازی اور میر تقی میر کے ایسے عشاق صادق موجود ہیں جو اتنے عرصے بعد بھی ان کے نقش قدم کو اپنا نشان راہ بناتے ہیں، ان کی جملہ شاعری حفظ کرتے ہیں بلکہ کوئی ان کی ادب دوستی پر شک کرے تو عینک درست کر کے انگلی سے وہاں لگے ایک لکڑی کے تختے پر اشارہ کرتے ہیں، جس پر درج معلومات کچھ یوں ہیں؛
شاعر کا نام: میر تقی میر
اشعار کی تعداد: 13590
امرد پرستی کو فروغ دینے والے اشعار: پورے 86 فی صد
جو اشعار امرد پرستی کو فروغ نہیں دیتے: 14 فی صد
آخری بات یہ کہ ہمارے اس تحریر کا کوئی تعلق ایک مقبول کالم نگار کے اس حالیہ شاہ پارے سے نہیں جس میں میر تقی میر اور دوسرے شعرا کو سانحہ قصور کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ما علینا الا البلاغ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *