اسلام میں مختلف نظام ہائے حکومت کی گنجائش

Rai Mohd hussain kharal (1)اعتدال ہمیشہ دوانتہاؤں کے درمیان ہی ہوا کرتی ہے۔ سوچ انکارِ خلافت کی ہو یا کہ قومی ریاستوں کو خلا ف اسلام جاننے کی، دو طرفہ انتہا پسندی ہی ہوگی نا کہ راہِ اعتدال ۔ خلافت کا انکار نہیں ، کہ نصوص سے ثابت ہے۔
لیکن ’’ون اُمہ ون اسٹیٹ‘‘(ایک امت ، ایک ریاست )ہی عین اسلام اور قومی ریاستوں کے وجود کو خلاف اسلام جاننے کا نظریہ ، اپنی تاریخ سے ہی نہیں ، اجماعِ صحابہؓ سے بھی طوطا چشمی ہے ۔
طبری میں ہے کہ جنگ صفین کے بعد امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کو خط لکھاکہ آپ اگر پسند فرمائیں تو عراق آپ کے اور شام میرے پاس رہے۔ تا کہ مسلمانوں کا خون نہ بہے ۔ حیدر کرارؓ نے اسے قبول کر لیا ۔ (تاریخ طبری جلد پنجم صفحہ 140عن زیاد بن عبداللہ )
اسی مصالحت کا ذکر شاہ معین الدین احمد ندوی نے تاریخ اسلام جلد اول صفحہ 279پر بھی کیا ہے ۔
اس کے بعد طرفین کا اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہو جانا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کا اس معاہدے کو تسلیم کرنا۔ اجماع صحابہ۔
حیدر کرارؓ کے دورِ خلافت میں امیر معاویہؓ کی ریاست کے وجود کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کا اور بنو عباس کے دور میں بنو امیہ کی اندلس میں الگ خلافت کو امام اعظم اور امام مالک کا خلاف اسلام نہ گرداننا ثابت ہے۔ جی ہاں ریاست نہیں خلافت ، کہ عبدالرحمن الداخل بن معاویہ بن ہشام بن عبدالملک نے الگ خلافت قائم کی ۔ بلکہ عبدالرحمن الداخل کے جانشین اموی خلیفہ ہشام کے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ روابط، امام مالک کا اس کی مدح کرنا ، اور ہشام کی امام مالک سے عقیدت ، موطا امام مالک کا اندلس میں نفاذ ، امام مالک ؒ کا ان سے نذرانہ قبول کرنا ۔
امام مالک ؒ ، قاضی ابو یوسف ؒ کے خلافت عباسیہ کے قاضی القضاۃ بھی تھے اور امام محمد ؒ ایسے لوگوں کے دور حیات میں خلافت عباسیہ سے شمالی افریقہ (مراکش اور الجزائر) کی دولت ادارسہ کی علیحدگی ۔
امام شافعی اور امام ابن حنبل کے سامنے خلافت عباسیہ سے ریاستوں کی یوں علیحدگی جیسے تسبیح کے ٹوٹ جانے پر دانوں کا بکھرنا۔ حکمرانوں کے سامنے ڈٹ جانے والے فقہاءَِ امت ، امت کے اس ابتلا ء گمراہی پر کیوں خاموش رہے ؟
حتیٰ کہ اسلامی سیاست اور قانون ایسے موضوع پر امام ابو یوسف ؒ کی کتاب الخراج اور امام محمد کی ا لسیر الکبیر جیسی تصنیفات میں اس موضوع پر نکیر تک نہ کرنا ۔
راہِ اعتدال کی مناسبت اظہر من الشمس ہے کیونکہ بہ نسبت طرز حکومت کے مقاصد شریعت اہم ہیں۔ وگرنہ تو ایوبی سے لے کر غزنوی ، غوری ، ملک شاہ سلجوق اور شاہ خوارزم تک امت کے وہ ہیرو ( جن کے کارِ ہائے نمایاں کے تذکرے جناب کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے) گمراہ ٹھہرے۔ انہی ادوار میں بقید احیات امام طحاوی ، امام رازی ، ابنِ جوزی ، امام غزالی ، برہان الدین مرغینانی م 593ھ (صاحب ہدایہ )ایسے لوگوں کو کتمانِ حق کا مرتکب ٹھہرانا ممکن نہیں۔
اسلامی دنیا کا دو حصوں میں اس طرح تقسیم ہونا کہ ایک حصے میں حضرت علی ؒ کو اور دوسرے حصے میں حضرت امیر معاویہؒ کو باقاعدہ خلیفہ مانا اورامیر المومنین کہہ کر پکارا جانا ، کیاان مقدس ہستیوں کا جنہیں زبان نبوت ؐہدایت کے ستارے قرار دے، کسی ایسے حکم کے ترک پر اجماع ہو سکتا ہے جو فرض یا واجب ہو ؟ نہیں اور یقیناًنہیں ۔تو پھر ماننا پڑے گا کہ پور ی اسلامی دنیا کا ایک امیر اور ایک ریاست کے تحت ہونا فرض یا واجب ہرگز نہیں ۔ ہاں اگر یہ ممکن ہو تو ایک مستحسن صورت ضرور ہو سکتی ہے ۔ لیکن اس صورت کے حصول کے لئے امت میں خون ریزی ، جنگ و جدل ، قتل وغارت سراسر باطل ٹھہرے گی ۔
اگر ’ایک امت ایک ریاست‘ والی بات مان لی جائے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی بنتا ہے کہ اسلام کا تصور حکومت اپنے دور عروج میں بھی ناقابل عمل ٹھہرا ۔ تاریخ سے عدمِ واقفیت کی بنا پر کسی کے حیطہ خیال میں گھر کر جانے والا یہ ایک وہمہ تو ہو سکتا ہے کہ دورِ خلافت میں امت ایک ہی امیرکے تحت رہی لیکن حقیت کو اس سے کوئی علاقہ نہیں ۔ کیونکہ دور خلافت کی ان پونے چودہ صدیوں میں ، جن میں خلافت راشدہ کی چوتھائی صدی ، خلافت بنو امیہ کی ایک صدی، بنو عباس کی ساڑھے چھ صدیاں اور خلافت عثمانیہ کی چھ صدیاں شامل ہیں ۔ ایک امیر کے تحت قائم رہنے والی ایک عالمگیر ریاست کا دورانیہ صرف ایک سو سولہ سال ہی رہا ۔
لیکن کیا کیجئے گا داعیانِ خلافت کا کہ ایک امت ایک ریاست یعنی ایک عالمگیر خلافت کے سوا کسی بھی اور نظام پر اسلام کے در مقفل کیے بیٹھے ہیں۔ گویا کہ اسلام ذاتی جاگیر ہو ۔ جب کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر فقہائے امت تک کسی نے بھی اس در پر قفل چڑھائے نہ انہیں غیر اسلامی جانا کہ خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک کی تقریباََ چودہ صدیو ں میں ماسوائے 116سال کے مختلف امارتوں ، سلطنتوں اور ایک سے زائد خلافتوں کے نظام رائج رہے ۔
ان سلطنتوں کا نظام مختلف ہونے کے باوجود چونکہ اسی نظریہ پر استوار رہا جو شریعت کی بالا دستی کا قائل ہے۔ اور فرمانروا جو خلیفہ ، سلطان ، ملک اور امیر وغیرہ خواہ کسی بھی نام سے ہو ، کو پابند کرتا ہے کہ وہ حاکم اعلیٰ کے خلیفہ ہونے کے ناتے اسی کی نیابت کرتے ہوئے اسی کے تفویض کردہ اختیارات کو اسی کے اوامر و نواہی (احکامات ) کی روشنی میں یا شارع علیہ الصلوٰۃ و السلام کے خلیفہ ہونے کی بنا پر احکام شریعہ کو نافذ کرے ۔
وگرنہ شاہی کو اسلام سے کیا نسبت؟ اسلام کے نظم حکمرانی کی اساس شورائیت (اجتماعیت ) پر ہے نا کہ مطلق العنانیت (شخصیت ) پر ۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے لا خلافۃ الا عن مشورہ (کنز العمال ج 3ص139) ۔ لیکن فقہائے امت متفق ہیں کہ ہیت ہو یا کہ عرفیت ، بدل جانے پر احکامات بدل جاتے ہیں اور چونکہ یہاں بھی شورائیت کسی نا کسی صورت میں موجود رہی ۔ جبھی فقہاء کی بیعت اطاعت نے سندِ جواز بخشی اور یہ نظم ہائے حکومت نہ صرف جائز ٹھہرے بلکہ خلافت سے الگ ہونے کے باوجود ان تمام ریاستوں کے اسلامی ہونے پر اجماع امت پایا جاتا ہے۔
اگر ’’ون امہ ون اسٹیٹ ‘‘ والے تصور خلافت کے برعکس یہ امارتیں ، سلطنتیں ، مملکتیں اور ایک سے زائد خلافتیں ، خلافت اسلام تھیں تو کیا فقہاء و مجتہدین امت انہیں حالاتِ اضطراری کے تحت قائم ہونے والے عبوری دورانیے کے نظام ہائے حکومت گردانتے تھے ۔ ہرگز نہیں۔
بلکہ علامہ قرطبی تفسیر قربطی سورۃ البقرہ آیت 30کی تفسیر میں امام الحرمین علامہ جوینی ؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ میرے نزدیک دو آدمیوں کو امام بنانا اگر ایک ہی ملک میں ہوں جس کے علاقے مختصر ہوں تو یہ ناجائز ہے ۔ اور اس پر اجماع منعقد ہو چکا ۔ البتہ اگر فاصلے دور کے ہوں اور دونوں اماموں کے درمیان مسافت بعید ہو تواس کا تحمل کرنے کی گنجائش ہے اور یہ مسئلہ قطعیات میں داخل نہیں۔ علامہ عبدالعزیز فرہاری ؒ نے النبراس علی شرح العقائد ص 513میں اسی کو راجح قرار دیا ۔
علامہ عبدالقادر بغدادی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں دو واجب الاطاعت امام کا ہونا جائز نہیں البتہ اگر دو شہروں کے درمیان ایسا سمندر حائل ہو جو ایک کی مدد دوسرے کو پہنچنے میں مانع ہو تو یہ جائز ہے کہ ہر علاقہ کے لئے الگ الگ امام مقرر کر لیے جائیں ۔ (اصول الدین ص274)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *