مولانا جلال الدین رومی اور میاں محمد نوازشریف

imam bakhshیہ حقیقت تو اب ہر طرح شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ عمرانی دھرنا اسکرپٹ کے عین مطابق فلمایاگیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت پر جس کے انتہائی برے اثرات بہت اچھی طرح واضح ہیں۔
عمرانی دھرنے کے حوالے سے چند جرنیلوں کے کردا رکے بارے میں وفاقی وزرا خواجہ آصف، مشاہداللہ خان، خواجہ سعد رفیق اور زبیر اسد گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے اپنے قائد نوازشریف ہی کی انگیخت پر اچھل کْود کررہے تھے۔ خواجہ آصف تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ’دھرنے میں دو سابق جنرلوں کا ہاتھ تھا، ضروت پڑی تو ثبوت بھی دوں گا‘۔ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہمراہی میں جرنیلوں کی چاپلوسی کے فن لطیف میں مہارت کی منزلیں طے کرنے والے وزیرِاعظم کے برادر خورد میاں شہباز شریف بھی مطالبہ کر چکے ہیں کہ دھرنے کے پیچھے کردار ادا کرنے اور فنڈزدینے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ مزید برآں پچھلے ایک سال سے نوازشریف بذات خود مشاہداللہ خان کی کہانی کا لب لباب اپنے قریبی صحافیوں کو آف دی ریکارڈ بتا رہے ہیں۔
حیرت یہ ہے کہ دھرنے کے بعد جب وزیر اعظم کا کردارسمٹ کر فقط ’پروقار شہنشاہ اعظم‘ کے سٹینوگرافر تک محدود ہوچکا ہے تو پھر منصوبہ بندی کے تحت ’آ بیل مجھے مار‘ ایسی پھرتیاں بار کیوں دکھائی گئیں؟مسلم لیگیوں کی اْچھل کْود کو دیکھ کر ہمیں باربار نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم یاد آتے رہے، جو ایسی صورت حال پر دْنیا کی میٹھی ترین سرائیکی زبان میں کہا کرتے تھے ’’ اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار‘‘۔ (ایک تو خوبصورت خاتون کو رقص فرمانے کا شوق ہے اور پھر ڈھول کی تھاپ میں غضب کی دعوت بھی موجود ہے۔)
اب جبکہ شہنشاہ اعظم نے اچانک نیند سے جاگ کر اِن گستاخیوں پرکرخت لہجے میں حدِ ادب کی وارننگ جاری کردی تو نوازشریف بھی ہڑ بڑا کر جاگ اْٹھے ہیں اور اپنی مشہورِ زمانہ منجھی ہوئی اداکاری کا سہارا لیتے ہوئے روایتی کذب کہانی، ٹال مٹول، دھوکا دہی، فریب کاری اور مغالطہ بازی کے شاہکار ٹوٹکے پیش کر کے شہنشاہ اعظم کو بہلانے کی کوشش میں ہیں۔ہمیں پورا یقین ہے کہ اِس بار بھی میاں نوازشریف اپنی فدویانہ جی حضوری اور جذبات بھری کامل اداکاری کی بدولت اپنے مقاصد میں کامیاب رہیں گے۔
مسلم لیگ (نواز) حکومت کے سربراہ کی حالیہ مہم جوئی کا مقصد شاید کبھی بھی عوام کے سامنے نہ آسکے، مگر وطن عزیز کے لیے المیے کا اصل پہلو یہ ہے کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے آخری حدوں تک جانے والے نوازشریف، جو پہلے ہی سِول حکومت کو شہنشاہ اعظم کے بْوٹوں کا تسمہ بنا دینے کا عظیم کارنامہ انجام دے چکے ہیں؛ اپنے ریکارڈ کو مزید بہتر بناتے ہوئے سول حکومت کے اختیارات کے تابوت میں یقیناً آخری کیل ٹھونکنے جارہے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی کیا سچ فرما گئے ہیں "ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک احمق کے صاحبِ اختیار ہو جانے سے ہوتا ہے۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *