واقعہ قصور کے لیے قصوروار کون؟

roshan laalاکثر دیکھا گیا ہے کہ راہوں میں گرے نشئیوں کے منہ پر مکھیاں بیٹھی ہوتی ہیں مگر وہ انہیں محسوس کیے بغیر بے سدھ پڑے رہتے ہیں۔ انہیں اٹھانے کے لیے اگر جھنجھوڑا جائے تو پہلے وہ بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولتے ہیں ، پھر منہ پر بیٹھی مکھیوں کو اڑانے کے لیے ہاتھ ہوامیں لہراتے ہیں اورجھنجھوڑنے والے کی باتیں سنی ان سنی کرکے لڑکھڑاتے ہوئے ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ ادھر ادھر اڑتی ہوئی مکھیاں غلاظت سمیت پھر سے اس وقت تک کے لیے ان کے منہ پر بیٹھ جاتی ہیں جب تک کوئی دوبارہ انہیں جھنجھوڑ نہیں دیتا ۔ بحیثیت قوم ہمارے سماجی رویے بھی راہ میں پڑے نشہ بازوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اکثر ہمارے ارد گرد غلاظت سے بھر پور واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں مگر ہم نشئیوں کی طرح بے پرواہ پڑے رہتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی غیر معمولی واقعہ ہمیں جھنجھوڑ بھی جائے تو ہماری آنکھیں صرف کچھ دیر کے لیے ہی کھلتی ہیں۔چہروں پر بیٹھنے والی غلیظ مکھیوں کے لیے ہماری ناگواری محض لمحاتی ہوتی ہے۔ وقتی ناگواری ظاہر کرنے کی حجت پوری کرنے کے بعد ہم پھر سے کروٹ بدل کر گند سے ایسے منہ پھیر لیتے ہیں جیسے اس کے ارد گرد پڑے رہنے سے ہمیں کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔ہمارے اس طرح کے کردار اور رویے کی گواہی کے لیے سو بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے جاوید اقبال کے اقبال جرم سے قصور کے واقعہ تک بکھری ہوئی کئی ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
قصور کے واقعہ پر حکومتی، انتظامی اور سماجی طور پر ہم واویلا کرتے ہوئے اس طرح سے رد عمل ظاہر کر رہے ہیں جیسے یہ ناخوشگوار واقعہ ناگہانی طور پر رونما ہو گیا ہو۔کیا کسی ایسے واقعہ کو ناگہانی تصور کیا جاسکتا ہے جس کی روک تھام کے لیے ہماری ریاست نے برسوں پہلے اقوام متحدہ سے اقرار کر رکھا ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان نے 12 دسمبر 1990 کو اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے کنونشن پر دستخط کرتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ ان کو جنسی اور دوسرے ہر قسم کے تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی سمیت تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو اقرار کیا گیا تھا بعدازاں بھی مختلف مواقع پر اس کی توثیق کی جاتی رہی مگر ہماری حالت یہ ہے کہ اس کام کے پہلے مرحلے کے طور پر لازمی قانون سازی کے لیے جو عمل درکار تھا وہ بھی درست طور پر شروع نہیں ہو سکا۔ جس صوبے میں قصور کا واقعہ رونما ہوا ہے اس کا حال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے بنائی گئی سٹیرنگ کمیٹی برائے چائلڈ رائٹس کے اجلاسوں کی تعداد ایک سال میں ایک اجلاس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والے افتخار مبارک کا کہناہے کہ اس سلسلہ میں قانون سازی سے قبل پالیسی مسودہ کی تیاری کا عمل پنجاب میں گذشتہ اڑھائی سال سے التواء کا شکار ہے۔یہاں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب قانون سازی نہ کرنے پر پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کا ذکر صرف اس لیے کیا جارہا ہے کیونکہ قصور کا واقعہ صوبہ پنجاب میں ہی رونما ہوا ہے ورنہ اس سلسلے میں دیگر صوبوں کی کارگزاری بھی پنجاب سے مختلف نہیں ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کرنے کے بعد پہلے تو 20 برس تک وفاقی سطح پر اس سلسلے میں کوئی کام نہ ہو سکااور پھر اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد بچوں کے حقوق کے ضمن میں قانون سازی جب صوبوں کے حصہ میںآئی تو تمام صوبائی اسمبلیوں اور حکومتوں کا کردار بھی اس سلسلے میں غیر تسلی بخش رہا۔
بچوں کے حقوق کے حوالے سے پنجاب حکومت کا رویہ شاید سب سے زیادہ غیر سنجیدہ ہے۔ ریکارڈ کے مطابق پنجاب ہی وہ صوبہ ہے جہاں بچوں پر جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود قصور کا واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد پنجاب حکومت کے وزیروں اور انتظامیہ نے اس کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اصل میں کچھ تشہیری مہمات سر کرلینے کے بعد پنجاب کے حکمران اس خبط میں متبلا ہیں کہ زمینی حقائق جو بھی ہوں ان کی گڈ گورننس کو دیگر تمام صوبوں کی کارکردگی کے سامنے ہر صورت بہتر نظر آنا چاہیے ۔ لہذا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ایسے واقعہ کو نمایاں نہ ہونے دیا جائے جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہو۔اس طرح کی بہت سی کامیاب کوششوں کے بعد قصور کے واقعہ کو دبانے کے ان کے تمام تر انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ گو کہ اس واقعہ کی تفتیش کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے مگر اس واقعہ کو دبانے کی پنجاب حکومت کی ابتدائی کوششوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی لوگ یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس جے آئی ٹی کی کارکردگی بھی کہیں ماڈل ٹاؤن واقعہ کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی جیسی نہ ہو۔ جے آئی ٹی میں بیٹھے لوگوں کو اس قسم کے خدشات رد کرنے کے لیے انتہائی غیر جانبداری اور فرض شناسی سے اپنا کام کرنا ہوگا۔ انہیں یہ بات مد نظر رکھنا ہوگی کہ بچوں پر جنسی تشدد کے ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد اس واقعہ کے حقیقی ہونے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔
ابہام تو اس بات میں بھی نہیں ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد صرف قصور کا نہیں بلکہ پورے ملک کا المیہ ہے۔ اس المیے کو اجاگر کرنے کے لیے ’’ سا حل ‘‘ نامی این جی او گذشتہ 18 برس سے کام کر رہی ہے۔ ’’ساحل‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود 18 سال سے کم عمر بچوں میں سے روزانہ 6 بچے کسی نہ کسی کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔چینل فور نے بچوں پر جنسی تشدد کے مسئلے پر Pakistan's Hidden Shame'' ''کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی تھی ۔پاکستان میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد پر مبنی یہ فلم اب بھی انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔ اس فلم کی ابتدا میں پشاور میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ ایک سال قبل منظر عام پر آنے و الی اس فلم پر تبصرہ کرنے والوں میں عمران خان بھی شامل تھے۔ ریحام خان جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں سے ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے فوراً قصور پہنچ گئیں ، کاش وہ وہاں ہمدردی کے بول بولتے ہوئے یہ بھی بتا دیتیں کہ پشاور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے ان بچوں کی داد رسی کے لیے کے پی کے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں جن کا ذکر مذکورہ دستاویزی فلم میں سرفہرست تھا۔ریحام خان ہی نہیں شاید نواز شریف، شہباز شریف، قائم علی شاہ، پرویز خٹک اور ڈاکٹر مالک سمیت کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ جو جنسی تشدد عشروں سے ہمارے بچوں سے ان کا بچپن چھین رہا ہے اس کے خاتمے کے لیے انہوں نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *