سمندر پر ابھرتا سورج اور ماں کی لاش

meher zaidiشاعری،موسیقی،قہہقہے اور سمندر کی موجیں۔۔۔ چالیس سال پہلے ہم بچے اپنی بیڈفورڈ وین میں بیٹھے ناظم آباد نمبر چار سے سفر شروع کرتے تھے۔ کشادہ سڑکیں لسبیلہ سے ہوتے ہوے بندر روڈ پر مڑتیں پھر ہم بندو خان کو چھوڑتے ہوے صدر پار کرتے۔ ٹرام کی گھنٹیوں کی گونج میں ایک عجیب سا جوش محسوس ہوتا۔ کلفٹن پہنچتے ہی ہمیں پیاس لگنے لگتی جو ٹی عباس کی نکڑ والی دکان کی ٹھنڈی بوتلوں سے ہی بجھتی۔ پھر ہم چپلیں ہاتھوں میں پکڑے کوٹھاری پریڈ سے بھاگتے سمندر کنارے پہنچ جاتے۔ یہاں صاف و شفاف پانی ہمارا خیر مقدم کرتا اور ہم مست ہو کر کھیلتے۔ کبھی وھیل مچھلی بھی دور سے تیرتی نظر آتی۔
منظر بدلتا ہے ۔۔۔ سنہ 2015ء ۔سمندر کے اطراف کا علاقہ اب ایک بدنما بھیڑ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ غریب لوگوں کا تو مت پوچھیں متوسط طبقات کے لئے بھی کوئی تفریحی سہولتیں میسر نہیں۔ وہ تو جناب عارف حسن جیسے کراچی کے عوام سے حقیقی محبت رکھنے والوں کا بھلا ہو کہ ان کی جد و جہد سے چھوٹے خوانچے لگانے والے عام عوام کو خورد و نوش کی اشیا اور چھوٹے چھوٹے ٹھیا لگانے والے بچوں کے چپس،ٹافیاں اور چیونگ گم بیچ کر ان کی تفریح کو دو بالا کر دیتے ہیں۔ اطراف کی زمین پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے تسلط اور پلاٹوں کی فروخت کے بعد یہ پورا علاقہ ایک انتہائی مہنگا علاقہ بن گیا ہے۔یہاں کسی بھی کاروبار کو چلانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔اسی سبب یہاں تمام دکانوں میں عام چیزیں دوگنے بلکہ تگنے دام بکتی ہیں۔ ان دکانوں میں کوئی عام آدمی نہ خرید سکتا ہے نہ کھانا کھا سکتا ہے۔مگر سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے مہنگے کاروبار چلانے اور ان امیر گاہکوں کی حفاظت کے انتظامات انتہائی ناقص بلکہ نا ہونے کے برابر ہیں۔ پچھلے ہفتہ ایک مہرین نامی خاتون شہری کا ڈاکوؤں کے ہاتھوں سفاکانہ قتل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ کراچی کے امن و امان کی صورتِ حال صرف کم مدتی آپریشن سے حل نہیں ہوں گے۔ ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقوں میں اب بھی چور اور قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ڈیفنس اتھارٹی کو پہلے بھی وہاں کے رہایشی اپنی تنظیموں کے زریعے بارہا اپنے مسائیل سے آگاہ کر چکے ہیں مگر لگتا ہے کہ وہاں کی مقتدر شخصیتیں کوئی نئی حکمتِ عملی بنانے سے قاصر ہیں۔
دو باتیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے امن و امان کے لئے بہت اہم ہیں۔ اول جیسے تمام اٹھارہ ٹاؤن کو ایک میئر کے دائرہ اختیار میں دیا گیا تھا اور اس وقت کے میئر کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ ایک ہی کمانڈ اور کنٹرول ہونا چاہیے۔اس میں ڈی ایچ اے جیسے علاقے بھی نئی مردم شماری کے بعد شامل کر لیے جانے چاہئیں۔ اس سے تمام شہر ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت چلایا جا سکے گا۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ شہر کی آبادی کو خواہ کتنے ہی اختلافات ہوں سیاسی عمل سے جس میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ ٹاؤ ن پلاننگ کے فیصلے ہیں اور جس کی مثال ماضی میں کے ایم سی تھی، اس میں شامل کرنا چاہیے۔ یہ عمل جب لوکل لیول پر مثلا لوکل گورنمنٹ کے طور پر فیصلے کا عمل ہو گا تب ہی ایک شفاف حکمتِ عملی طے ہو گی اور اس سے امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوگی۔
کراچی کے فیصلے ایک شفاف سیاسی عمل کے تحت ہی لوگوں کو تحفظ دے سکتے ہیں۔ اس بات کی سچائی کا ثبوت کراچی کے امیر ترین علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن کی بے انتہا غیر محفوظ شہری زندگی سے ہے جہاں شروع ہی سے ریٹائیرڈ فوجی افسروں پر مشتمل غیر سیاسی حکمرانی ہے۔ کیونکہ یہ علاقے کراچی کور کمانڈر کے براہِ راست دائرہ اختیار میں آتے ہیں ان کے تھنک ٹینک کو اس گھمبیر صورتِ حال اور اس کے فوری تدارک کی راہ نکالنے پر غور کرنا چاہیے۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اب تک یہ اتھارٹی وہاں کے شہریوں سے ریگولر تجاویز لیتی ہے لیکن اب یہ بات ثابت ہے کہ یہ کافی نہیں۔امید ہے کراچی کی مقتدرہ قوتیں اس پر فوری غور کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *