ہم اور ہماری آزادی

sibte Hasanجس وقت یہ سطریں لکھ رہا ہوں ، 14اگست 2015کی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ یہ ہمارا یومِ آزادی ہے۔ یہ دن تو ہر سال آ جاتا ہے مگر آزادی۔۔۔ وہ کہاں ہے؟ ابھی تک کہیں نظر نہیں آئی۔ افتخار عارف نے ایک شعر میں پورے سفر کی کہانی کہہ ڈالی۔
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
اُنہتر سال ایک پوری عمر ہی توہوتے ہیں۔ مگر وہ منزل جس کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہنوز دلی دور است والی بات ہے۔شیخ مجیب الرحمن کہوٹہ ریسٹ ہاوس میں پابند تھے ایک دن دور سے انہیں بھٹو نظر آئے۔ کسی سے پوچھا یہ بھی یہاں ہوتے ہیں؟ بتایا گیا یہ ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ کہا جس وقت میں قائداعظم کے ساتھ آزادی کا جھنڈا اٹھا کر نعرے لگا رہا تھا۔ اس وقت جنرل یحییٰ اور بھٹو کہاں تھے؟ یہ بات تو اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس ریاست کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ لیکن آج ہم جس پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ یہ قائد اعظم کا نہیں جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کا پاکستان ہے۔ قائد کا ایک مذہب اور ایک فرقے سے تعلق ضرور تھا۔ لیکن وہ نہ مذہبی فرقہ پرست تھے اور نہ ہی وہ اس ریاست کو ایک تھیوکریٹک ریاست یعنی ملاؤں کی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ہماری بات کا یقین نہ آئے تو ڈاکٹر صفدر محمود سے پوچھ لیجیے۔اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ ان چاروں جرنیلوں میں سے کوئی بھی مذہبی بندہ نہیں تھا۔ جنرل ضیا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پابند صوم و صلوٰۃ تھے ۔ لیکن اس پابند صوم و صلوٰۃ موصوف نے اپنے مخالفین کو پابند سلاسل کرنے میں درک پایا تھاجیسا کہ ابن انشا نے ہمارے ایک نام نہاد ہیرو کے متعلق لکھا تھا۔ ظلِ الٰہی نے نہ کوئی نماز چھوڑی اور نہ ہی کوئی بھائی ۔جب جمہوریت اور جمہوری روایات کی مکمل بیخ کنی کر دی جائے اور اس کی جگہ مذہبی جنونیت کو کھلی چھوٹ دی جائے تو انجام یہی ہوتا ہے جو ہم آج بھگت رہے ہیں۔
کراچی سے لے کر وزیرستان تک ایک ہی کہانی تو ہے۔ بیچ میں قصور جیسے واقعات۔ دراصل ہماری قومی سطح کے نیچے ایک لاوا ہے جو مسلسل ابل رہا ہے۔ جو آئے روز کہیں نہ کہیں سے پھوٹ پڑتا ہے۔جب تک اس کھولتے ہوئے لاوے کا سَدِ باب نہیں ہوتا اس وقت تک یہی صورتِ حال رہے گی۔قصور جیسے واقعات مسلسل مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اصل المیہ کچھ اور ہے۔ وہ ہے ہماراآج تک مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کی بجائے اس غیر فطری جوڑ پر اصرارجس کے نتیجے میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے اور مذہب بدنام ۔جہاں جمہوریت کمزور ہو اور اس کے ادارے ٹوٹ پھوٹ جائیں وہاں معاشرے میں لاقانونیت جنم لیتی ہے۔ آج ہمارے ہاں جتنی بھی جمہوری قوتیں اور جماعتیں ہیں، جمہوری تسلسل کی پیداوار نہیں ہیں۔ ان کا خمیر کہیں اور سے اٹھا ہے۔ اسی لیے جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو رہے اور قانون کی حکمرانی کے ثمرات حاصل نہیں ہو رہے۔ جرائم پر قابو پانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ پولیس نااہل نہیں ہے ۔ بہتر نتائج دینے سے اس لیے قاصر ہے کہ خود مختار نہیں ہے۔ جب تھانیدار سے لیکر ضلعی پولیس افسر تک کی تعیناتی اس محکمے کی قیادت کی بجائے مقامی سیاست دان کریں گے تو جرائم پر خاتمے کی جو توقع رکھتا ہے وہ اپنے دماغ کا علاج کروا لے۔میں سامنے کی ایک مثال دیتا ہوں۔ وہ ہے موٹر وے پولیس ۔کیا یہ آسمان سے اُتری ہے۔ یا ان کی تربیت سکاٹ لینڈ یارڈ میں ہوئی ہے۔اس کے اردگردگھومتا ایک چرواہا بھی جانتا ہے کہ یہ اس لیے کامیاب ہے کہ سفارش اور سیاست کے عمل دخل سے بچی ہوئی ہے۔عوام اگر امن اور جرائم پر قابو چاہتے ہیں تو سیاست دانوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ پولیس کو خود مختار بنائیں۔جیسا کہ ساری مہذب دنیا میں ہوتا ہے۔
قصور کے واقعات کے پھلنے پھولنے کا سبب یہی تھا کہ ملزمان کی پشت پناہی مقامی سیاست دان کرتے تھے اور پولیس ان کے زیر اثر تھی۔جنسی جرائم پر قابو تو پایا جا سکتا ہے انہیں مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قابو پانے کے لیے موثر پولیس کے ساتھ ساتھ ان جرائم کے بارئے میں عوام کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ شروعات سکول سے ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو اجنبی لوگوں سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ ماں اور باپ کے علاوہ کوئی دوسرا ان کے جسم کے خاص حصوں کو چھوئے تو بچوں کو ماں باپ یا سکول ٹیچر کو آگاہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی نوکری کا طلب گار ہو تو اس کے کردار کے متعلق پولیس سے تصدیق کی جاتی ہے۔ جس میں اس کے اخلاقی برتاؤ اور بچوں کے متعلق کسی شکایت کا خاص کر پوچھا جاتا ہے۔ نابالغ بچوں کو ماں باپ یا کسی ذمہ دار بالغ کے بغیر ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا چھوڑنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ماں باپ بھی اگر غفلت کے مرتکب ہوں تو ریاست ان سے بچے اپنی تحویل میں لے لیتی ہے۔ ان کے بالغ ہونے تک ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے ۔ ۔ برطانیہ نے ابھی حال ہی میں یہ عمر اٹھارہ سے بڑھا کر بائیس سال مقرر کی ہے۔ اس کام کے لیے ریاست کثیر سرمایہ خرچ کرتی ہے۔ یہ ہدف اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب جمہوریت اور اس کے ادارے مضبوط ہوں۔ اس کا واحد طریقہ جمہوری تسلسل کے ساتھ عوام میں جمہوری شعور اور کلچر کا فروغ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *