قائداعظم کے سکیورٹی آفیسر کے تہلکہ خیز انکشافات (قسط 6 )

qaidس :بغیر سکیورٹی کے ؟
ج : بغیر سکیورٹی کے چلے گئے۔
س :لوگ جمع ہو جاتے تھے؟
ج : لوگ تو اتنا جمع ہو جاتے تھے کہ ہم روک نہیں سکتے تھے۔
س :ڈھاکہ میں جہاں جہاں سے قائداعظم گزرتے تھے؟
ج : جہاں جہاں سے گزرتے تھے۔اس کے بعد آدمی ان کے پیچھے بھاگنے لگ جاتے تھے۔ اتنا لوگوں کو تھا۔
س :بازاروں میں گھومے؟
ج : بازاروں میں گھوم کے ہم سیدھے چلے گئے۔
س :لائٹنگ جاری رہی؟
ج : لائٹنگ تو چار پانچ روز تک جاری رہی۔
س :لوگوں نے اس خوشی میں کی کہ قائداعظم وہاں تشریف لائے ہیں؟
ج : کہ قائداعظم تشریف لائے ہیں۔
س : قائداعظم کے لیے ، پاکستان کے لیے مشرقی پاکستانیوں کے جذبات کا یہ عالم تھا؟
ج : ہاں۔
س :جب قائداعظم ایسٹ پاکستان گئے تو میجر جنرل ایوب خاں وہاں جی او سی تھے۔ مشہور ہے ، قائداعظم ان سے ناراض تھے۔
ج : ڈھاکے میں پریڈ گراؤنڈ میں فنکشن تھا۔ سٹیج پر ایوب خان ان کے پیچھے کھڑا تھا۔ پتہ نہیں اس نے آگے بڑھ کر کیا بات کیا۔ قائداعظم بولا۔ ’’آپ جائیں۔ مجھے پتہ ہے‘‘۔
س :آپ نے کہا کہ صرف کاکول ایسی جگہ تھی جہاں قائداعظم پروگرام کے باوجود نہ جا سکے۔ کیوں؟
ج : کیونکہ بیمار پڑ گئے تھے اور بالکل آخری لمحے پر دورہ ملتوی ہوا۔ اس کے پیچھے وہ کئی دن تک گورنر جنرل ہاؤس میں کام کرتے رہے۔ کئی دن اوپر ہی رہے۔ نیچے نہیں اترے۔ ایک آفس اوپر ہی تھا۔ یہیں سے کوئٹہ گئے آرام کی غرض سے۔ زیارت میں بھی سارا دن اوپر ہی رہتا تھا۔ اچھاہوتے تو نیچے آجاتے تھے۔ لیکن کام جاری رہتا۔
س : بیماری کے باوجود کام جاری رہتا؟
ج : بیماری کتنی بھی زیادہ ہو جائے کام نہیں چھوڑتے تھے۔
س : کام کب چھوڑا؟
ج : جب معاملہ حل کراس کر گیا۔ 8ستمبر 48 ء تک کام کرتے رہے ۔ فائل دیکھتے رہے۔ گیارہ کو پھر فوت ہو گئے۔
س :عملے سے بھی خوب کام لیتے تھے؟
ج : کام اتنا سخت لیتے تھے، لوگ بھاگ جاتے تھے۔
س :مختلف اوقات میں ان کے اے ڈی سیز کی کیا ترتیب رہی؟
ج : پہلے بیج میں گل حسن (ملٹری )، ایس ایم احسن (نیوی) اور عطا ربانی (ایئر فورس) تھا۔ گل حسن گیا تو ان کے پیچھے اکبر حسین آیا۔ احسن صاحب گیا تو مظہر احمد آئے۔ احسن صاحب کو بہت پسند کرتے تھے۔ عطا ربانی کی جگہ آفتاب احمد آئے۔ پھر اکبر حسین کی جگہ این اے حسین آئے۔
س :آپ شروع سے اخیر تک رہے؟
ج : میں اور فرخ امین شروع سے آخر تک رہے۔ فرخ امین ان کے پرسنل اسسٹنٹ سیکرٹری تھے۔
س :کون کون لوگ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے؟
ج : ان کے پرائیویٹ سیکرٹری آئی سی ایس ہوتے تھے۔ تین بدلے۔ پہلے ہاشم رضا تھا۔ بھوڑا عرصہ رہا۔ اس کو نکال دیا۔ پھر ایم ڈبلیو عباسی آیا۔ بعد میں اسے بھی نکال دیا۔ اب کے بعد ایس ایم یوسف آئے۔ یوسف صاحب آخر تک رہے۔ کوئٹہ بھی ساتھ گئے تھے۔
س :بطور چیف سیکرٹری آفیسر آپ کے پاس کتنا سٹاف تھا؟
ج : میرے پاس بارہ تیرہ سب انسپکٹر اور تین سارجنٹ تھے۔
س :آپ کے سٹاف میں سے کوئی اور شخص زندہ ہے؟
ج : پتہ نہیں۔
س :ٹوبن اور فلی فاسکی کا پتہ چل سکا؟
ج : نہیں۔ میں نے بہت سے پوچھا۔
س :سٹاف کے ساتھ قائداعظم کی کوئی تصویر؟
ج : نہیں۔
س :چند برس ہوئے ایک شخص کا کوئٹہ میں انتقال ہوا۔ اس کے متعلق اخبارات میں آیا تھا کہ وہ قائداعظم کا باورچی تھا۔ آپ نے بھی وہ خبر پڑھی ہو گی؟
ج : ابھی کوئٹہ کے متعلق آیا ہے کہ بیرا مر گیا۔ ایک آدمی میرے پاس چٹھی لے کر آیا تھا قائداعظم کے ساتھ اپوائٹمنٹ کی۔دہلی کی چٹھی تھی۔ اس کے پاس دہلی کا سرٹیفکیٹ تھا کہ اس نے ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔ اس کو رکھا تھا۔ ابھی اس نے چھ مہینہ بھی ادھر کام نہیں کیا تھا۔ اب آرہا ہے کہ قائداعظم کا باورچی تھا۔ وہ آدمی (قائداعظم) اتنا سخت تھا یعنی اتنے ڈسپلن کا تھا۔ پرنسپل کا آدمی تھا۔ اس کے پاس زیادہ دیر آدمی رہتے نہیں تھے۔
س :مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ میں ایک امانت علی باورچی کا ذکر کیا ہے۔ ’’میں نے (زیارت میں) امانت علی باورچی مقرر کیا۔ امانت علی پیرس کے رٹز ہوٹل میں کام کر چکا تھا۔ وہ کچھ عرصہ مہاراجہ کپور تھلہ کے پاس بھی رہا تھا‘‘۔
س : آپ کو یاد ہے؟
ج : یاد نہیں۔
س :قائداعظم کا کھانا ؟
ج : کھانا سادہ ہوتا تھا، کم کھاتے تھے۔
س :کوئی خاص ڈش ؟
ج : ان کو کراچی حلوہ بہت پسند تھا لیکن تھوڑا سا کھاتے تھے۔ کھارادر سے آسو حلوائی کو بلوایا کرتے تھے۔
س : وہ اب کہاں ہے؟
ج : وہ ہندو تھا۔ انڈیا چلا گیا۔
س : قائداعظم کا پسندیدہ سگریٹ؟
ج : گولڈ فلیک۔
س :قائداعظم کے درزی؟
ج : ایک حمید تھا یہاں (کراچی)۔ کوئٹہ میں ایک درزی کو لے کے آئے تھے ۔ اس سے انہوں نے ایک دو شیروانی سلوائی تھیں۔
س :کوئٹہ کے ایک نائی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ قائداعظم کی شیو بناتا اور اس کے سر کے بال تراشتا تھا۔
ج : جب بیمار ہوتا تھا تو نائی آتا تھا شیو بنانے کے لیے ۔ تندرست ہوتا تھا تو خون بناتا تھا۔ بال تو تندرستی میں بھی نائی سے کٹواتے تھے۔
س :کوئٹہ کے حوالے سے کسی نے بتایا کہ قائداعظم وہاں اس قدر کمزور تھے کہ قدم کہیں رکھتے تھے پڑتا کہیں تھا۔
ج : نہیں۔ قائداعظم نے کوئٹہ میں ایک یا دو فنکشن اٹینڈ کیے۔ ایک تو سٹاف کالج میں۔ ایک انہوں نے گارڈن میں پارٹی دیا تھا یا پھر جو آگیا مل لیتا تھا۔ ان کی طبیعت (صحت) ہی ایسی تھی۔
س : کوئٹہ میں قیام کے دوران قائداعظم سیر کے لیے پیدل جاتے تھے؟
ج : وہ کوئٹے میں گھومنے کے لیے نکلتے تھے موٹر میں۔
س :قائداعظم کے لاہور قیام کے ذیل میں آپ نے کہا ہے کہ کمپٹرولر آف دی ہاؤس ہولڈ کریم اللہ نے سر مراتب علی سے شکایت کی۔ سر مراتب علی کا کیا تعلق تھا؟
ج : سر مراتب علی قائداعظم کا بڑا خیال رکھتا تھا۔ قائداعظم بھی مراتب علی کی عزت کرتے تھے۔ ہم لاہور گئے تو کھانا گورنر ہاؤس میں مراتب علی کے گھر سے آتا تھا۔ لاہور چھاؤنی میں گلوب سینما کے سامنے قائداعظم کی کوٹی (فلیگ سٹاف ہاؤس) کی مرمت بھی مراتب علی کی نگرانی میں ہوئی۔ قائداعظم کو ان پر بڑا اعتماد تھا۔ یہاں (کراچی میں) ان کا بلڈنگ کا کام بی ایچ دارووال کرتا تھا۔ دارووالا کی لڑکی یہاں رہتی تھی۔ اس کا خاوند کابرا جی کسٹم میں تھا یا ہے۔ دوسری کے خاوند کا نام کاؤس جی ہے۔ احسن کے بنگلے کے قریب رہتے ہیں۔
س :بی ایچ دارووالا زندہ ہیں؟
ج : فوت ہو گیا۔
س :دارووالا پارسی تھا؟
ج : پارسی تھا۔ وہ کسی کو رکھنے کے لیے عقیدہ نہیں کوالیٹیز دیکھتے تھے۔ یہ بات تھی تو انہوں نے اسمبلی کا سپیکر (جوگندر ناتھ منڈل) کو بنایا۔ اس کی موت پر شیعہ نے بھی اسے غسل دیا اور سنی نے بھی دیاچونکہ ان کا کہنا تھا کہ میں نہ شیعہ ہوں نہ سنی۔ میں مسلمان ہوں۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا یہ لوگ آپ کو کیوں برطرف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ غیر مسلم ہیں۔ اس وقت اس نے کہا ’’بلا امتیاز مذہب ہر پاکستانی کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کا حق ہے‘‘۔ ان کا مین آئیڈیا جو پاکستان بنانے کا تھا وہ تو بھلا دیا گیا جب ہندو اور دوسری اقلیتیں ان سے ملنے آتیں تو ان کا دعویٰ یہ ہوتا تھا ’’ہم ہندوستان میں اقلیت میں تھے۔ ہم برابر کے حقوق چاہتے تھے جو ہمیں نہ دیے گئے۔ چنانچہ ہمیں ایک الگ مملکت کا مطالبہ کرنا پڑا۔ ہم اقلیتوں کے حقوق کیسے غصب کر سکتے ہیں؟ ایسا کرنے سے میرا بنیادی اصول ختم ہو جائے گا۔ پاکستان میں بسنے والا ہر طبقہ پاکستانی ہے اور ہر شخص کے حقوق برابر ہیں۔ ہر باصلاحیت شخص کسی بھی عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔ اس کا مذہبی عقیدہ اس میں رکاوٹ نہیں بنے گا‘‘۔اس کے لیے تو اس نے (جوگندر ناتھ منڈل ) کو سپیکر بنایا۔ ظفراللہ خاں کو یو این او بھیجا۔ فارن منسٹر بنایا۔
س :یو این او سے بلا کر انہیں فارن منسٹر بنایا؟
ج : ظفراللہ خاں قائداعظم کا خاص آدمی تھا۔ اس نے یو این او میں جو تقریر کیا تھا اس کی فلم آئی تھی۔ وہ قائداعظم نے خود دیکھی۔
س : پیراڈائز سینما کراچی میں؟
ج : غالباً پیرا ڈائز سینما تھا۔ لیکن دیکھی ضرور تھی۔
س : جب قائداعظم انہیں وزیر خارجہ بنا رہے تھے کسی طرف سے مخالفت ہوئی؟
ج : جب ظفراللہ خاں کو فارن منسٹر بنایا تو منسٹرز خلاف تھے۔ قائداعظم نے کیبنٹ میٹنگ میں کہا کہ لیاقت علی پرائم منسٹر ہے۔ یہ یو این او میں کیسے جا سکتا ہے کیونکہ ادھر بہت کام ہے۔ ہم نے ایک فارن منسٹر چنا ہے۔ جیسا ہم نے سب منسٹر چنا ہے۔ یہ بھی چنا ہے۔ ظفراللہ کا نام پیش کر دیا اور پوچھا ’’منظور ہے‘‘۔ کوئی بولا نہیں۔ پھر یہ (قائداعظم) اٹھ کے چلا گیا۔
س :خیال تھا کہ کوئی مخالفت میں بولے گا؟
ج : منسٹرز کا خیال تھا کہ غلام محمد بولے گا۔ وہ بھی نہیں بولا۔ ظفراللہ خان شریف آدمی تھا۔ نمازی تھا۔ میں نے سگریٹ پیتے بھی نہیں دیکھا۔ میں موڈی (گورنر سندھ) کے زمانے میں بھی یہاں تھا تو ظفراللہ خاں آیا کرتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد موڈی پنجاب کا گورنر ہو کے چلا گیا۔
س :آپ کے سامنے کبھی پنجاب میں دولتانہ ، ممڈوٹ چپقلش کا ذکر چھڑا؟
ج : نہیں۔
س :گورنر سندھ سر غلام حسین ہدایت اللہ اور وزیراعلیٰ سندھ ایوب کھوڑومیں آویزش کا؟
ج : نہیں۔
س :پاکستان میں پہلے بھارتی ہائی کمشنر سری پرکاش نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’دسمبر 47 ء میں شہزادی الزبتھ (اب ملکہ برطانیہ) کی شادی میں شرکت کے لیے بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن لندن جاتے ہوئے کراچی میں ماڑی پور ایئرپورٹ پر رکے۔ قائداعظم اگرچہ اس وقت کوئٹہ میں تھے ، نہیں آئے۔ نہ کوئی وزیر ہی اسے خوش آمدید اور الوداع کہنے آیا‘‘۔
ج : مجھے نہیں پتہ۔
س : سری پرکاش نے یہ بھی لکھا ہے جب افغانستان سے شاہ ولی پاکستان میں سفیر ہو کے آئے تو اسے اطلاع دی گئی کہ قائداعظم اس کی اسناد سفارت کھڑے ہو کر نہیں بیٹھ کر وصول کریں گے۔ اس نے جواب بھیجا کہ اس موقع پر گورنر جنرل کو کھڑا ہونا چاہیے۔ پھر اسے بتایا گیا قائداعظم بیمار ہیں۔ وہ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ سفیر نے جواب دیا خواہ تندرست ہوں یا بیمار انہیں کھڑا ہونا چاہیے، نہیں تو میں اسناد پیش کرنے نہیں آؤں گا۔ تاہم اس کی بات مان لی گئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ شاہ ولی نے انہیں اس موقع کی تصویر دکھائی کہ مسٹر جناح بادل نخواستہ ہی کھڑے ہیں۔ کمر سے جھکے ہوئے ہیں اور سپورٹ کے لیے کسی نے انہیں سہارا دے رکھا ہے۔
ج : جھوٹ۔
س : جب قائداعظم نے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا آپ وہاں موجود تھے؟
ج : ہاں میں تقریب حلف برداری میں موجود تھا۔
س :پاکستان کے پہلے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عبدالرشید کی وفات پر معروف اخبار نویس میاں محمد شفیع (م ، ش ) نے لکھا کہ جب قائداعظم گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کے لیے تشریف لائے تو وہ ڈائس پر رکھی ہوئی گورنر جنرل کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ جسٹس سر عبدالرشید نے محض اس لیے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا کہ وہ حلف اٹھانے سے پہلے ہی گورنر کی مخصوص کرسی پر کیوں بیٹھ گئے۔ پروٹوکول افسر نے قائداعظم سے کہا تو وہ اس کرسی سے اٹھ کر پہلی صف میں عام کرسی پر بیٹھ گئے۔ تب جسٹس عبدالرشید نے ان سے حلف لیا۔
ج : میں ادھر تقریب میں تھا۔ میرے خیال میں یہ بنایا ہوا واقعہ ہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ بات کرے۔ وہاں ایکسٹرا کوئی کرسی نہیں تھی۔ پھر قائداعظم دوسری کرسی پر کیسے بیٹھے۔ اس موقع کی فلم بھی بنی ہے۔ وہ نہیں پروا کرتے تھے۔ وہ اتنا تھا کہ اصل میں جب کوئی ہیڈ آف سٹیٹ آتا ہے تو مکان پر جھنڈا اس ہیڈ آف دی سٹیٹ کا لگتا ہے۔ اب کامن ویلتھ کا دوسرا ٹائپ ہو گیا ہے۔ ڈیوک آف گلاسٹر آیا تو قائداعظم نے یونین جیک کے ساتھ اپنا (گورنر جنرل کا) جھنڈا بھی لہرایا حالانکہ صرف گلاسٹر کا ہی لہرانا چاہئے تھا۔ وہ (قائداعظم) کہاں پروا کرتے تھے۔وہ ایک راست گو لیڈر تھے۔ جو وہکہتے تھے ان کا مقصد وہی ہوتا۔ وہ کبھی ذومعنی بات نہ کرتے اور ہر کسی کا سامنے کرنے کو تیار رہتے تھے۔ وہ بات کر کے مطلوبہ نتائج بھی برآمد کر لیا کرتے تھے۔
س :وہ تو ہر کسی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتے تھے۔ آپ نے کوئی ایسی شخصیت یا لیڈر بھی دیکھا جو ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کر سکتا تھا؟
ج : کسی کا ہمت نہیں تھا کہ ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا۔ ہم دیکھتا تھا کہ بڑے پھنے خاں بھی ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے ڈرتے تھے۔ منسٹرز کا یہ حال تھا کہ ان سے ملاقات سے پہلے سو بار سوچتے۔ کبھی اچکن کے بٹن درست کرتے، کبھی ٹوپی کو الٹا سیدھا کر کے دیکھتے، پھر ہم سے بولتے ، صاحب کا اس وقت موڈ کیسا ہے؟ اب سبھی کہتا ہے کہ میں یہ کیا، وہ کیا۔ حالت یہ تھی کہ ان کا پیشاب نکل جاتا تھا۔
س : آپ نے کہا ہے کہ He was Tricky also ۔
ج : وہ کوئی کام کرنے سے پہلے فیلر چھوڑے تھے۔ جہاں جانا ہوتا بڑی تیاری کر کے جاتے۔ مثلاً کوئٹہ جانے سے پہلے ہم سے پوچھا کہ ان سردار لوگوں کے شکوے کیا ہیں۔ ان کی شکایات یہ تھیں کہ انہیں انگریز حکمران جو وظیفہ دیتے تھے بند ہو جائے گا۔ دوسرا ان کا نمائندہ پاکستان کی اسمبلی میں کوئی نہیں۔ ان سردار لوگوں نے پروگرام بنایا کہ جب قائداعظم جرگہ سے ایڈریس کریں گے تو ہم یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ قائداعظم نے سبی دربار میں اعلان کر دیا کہ سرداروں کو وظیفہ ملتا رہے گا۔ قائداعظم کا طریقہ کار یہ تھا کہ سرکاری افسروں سے الگ ایڈریس کرتے، مسلم لیگرز اور عوام سے الگ۔ اس موقع پر جب انہوں نے سردار لوگوں کو بلایا اور پوچھا ۔ آپ کو کوئی شکایت ہے ؟ تو ایک نواب جوگیزئی دوسرا مجھے یاد پڑتا ہے شاید اکبر بگٹی تھا۔ ان لوگوں نے شکایت کیا کہ پاکستان اسمبلی میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں۔ قائداعظم نے پہلے ان سے چھوٹی موٹی باتیں ڈسکس کیا، پھر بولا آپ کا سوال ہے کہ بلوچستان کی پاکستان اسمبلی میں نمائندگی نہیں۔ وہ لوگ بولا۔ جی ہاں۔ پھر پوچھا آپ کتنا سیٹ مانگتا۔ جوگیزئی بولا۔ کم از کم ایک ہونا چاہیے۔ قائداعظم بولا۔ آپ لوگ کس جماعت کا آدمی ہے۔ وہ بولا سر ہم مسلم لیگر ہے۔ پیچھے یہ بولا۔ آپ اپنا نمائندہ مسلم لیگ سے چنے گا یا باہر سے چنے گا۔ وہ بولا۔ مسلم لیگ سے چنیں گے۔ قائداعظم ہنس پڑا۔ آپ کا مسلم لیگر نمائندہ تو وہاں ہے۔ وہ لوگ بولا ، سر ہمارا کوئی نمائندہ نہیں تو انہوں نے بولا وزیراعظم کون ہے؟ جواب ملا، لیاقت علی خاں۔ تو بولا کیا وہ آپ کا نمائندہ نہیں۔ تو انہوں نے بولا۔ جی ہاں وہ ہمارا نمائندہ ہے۔ پھر بولا۔ میں کس کا نمائندہ ہوں۔ وہ لوگ بولا۔ سر آپ ہمارے نمائندے ہیں۔قائداعظم نے بولا کہ اگر میں ہوں تو ٹھیک ہے۔ آپ لوگ ایک کا بات کرتے تھے۔ آپ کے دو نمائندے ہو گئے۔ وزیراعظم بھی آپ کا نمائندہ اور صدر دستور ساز اسمبلی بھی آپ کا نمائندہ۔ اگر آپ کا مجھ پر بھروسہ نہیں تو میں ریزائن کرتا ہوں۔ پھر پوچھا کسی کو اعتراض ہے تو بتائے۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ قائداعظم نے بولا۔ ’’خاموشی کا مطلب ہے رضامندی‘‘۔میٹنگ برخاست ہو گیا۔ تو بعد میں وہ لوگ ایک دوسرے پر گلہ کرنے لگا کہ تونہیں بولا، تونہیں بولا۔ قائداعظم کے آگے تو بڑے بڑے نہیں بول سکتے تھے۔ دلیل ہی ایسی تھی کہ کون بولتا۔ قائداعظم کو سچوایشن کنٹرول کرنا آتی تھی۔ وہ بڑے زیرک انسان تھے۔ اس وقت سٹیٹ بن رہی تھی۔ ابھی قلات کا جھگڑا چل رہا تھا۔ آئین بھی نہیں بنا تھا۔
س :بعض لوگ کہتے ہیں قائداعظم کے لیاقت علی خان کے ساتھ کچھ اختلافات ہو گئے تھے اور وہ انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹانا بھی چاہتے تھے۔ کوئی ایسی بات آپ کے علم میں بھی آئی؟
ج : منیر صاحب، ایسا ہے کہ میں اتنا تو ان کا بات نہیں جاتا ہوں لیکن یہ جانتا ہوں کہ قائداعظم ان سے ناراض بھی نہیں تھا اور نہ ہٹانے کا بات تھا۔ لیاقت علی خان کو وہ بہت چاہتے تھے۔ ہم لاہور گئے تو وہاں جا کر لیاقت علی خاں بیمار ہو گئے۔ وہاں جانے کے بعد کشمیر کا جھگڑا بھی تھا۔ قائداعظم روز شام کو ڈسکشن کے واستے ان کی رہائش پر جاتے تھے۔ وہاں دو دوتین تین گھنٹہ ہم بیٹھے رہتے تھے۔ یہ اوپر دونوں بات کرتے رہتے تھے۔ کئی بار۔ لاہور میں قائداعظم بھی بیمار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جب ان کو پتہ چلا کہ یہ بڑا بیمار ہو گیا ہے قائداعظم صاحب تو انہوں (لیاقت علی خاں نے یہاں سے ڈاکٹروں کا بندوبست کیا۔
س : جب قائداعظم کوئٹہ میں تھے؟
ج : کوئٹہ میں تھے۔ زیارت میں تھے۔ زیارت میں آئے تھے پہلے۔ لاہور کے ڈاکٹر تھے وہ زیارت میں آئے تھے۔ کرنل الٰہی بخش تھا۔ ریاض علی شاہ تھا۔ ریاض علی شاہ ٹی بی سپیشلسٹ تھا۔ ایک تیسرا تھا کاریڈیالوجسٹ ڈاکٹر عالم۔ پتھالوجسٹ ڈاکٹر غلام محمد تھا۔ یہ بھی لاہور سے آیا تھا۔ کوئٹہ کا سول سرجن ڈاکٹر صدیقی کوئٹہ ہی کے کلینیکل پتھالوجسٹ ڈاکٹر محمود۔ اس کے بعد جب ہم کوئٹہ آئے اور ان کی طبیعت خراب ہو گئی تو یہاں (کراچی میں) ڈاکٹر محمد علی (مستری) کرکے تھا۔ ان کو بھیجا گیا۔ یہ آخر میں آئے یہ فزیشن تھے۔
س : یہ سارا انتظام وزیراعظم لیاقت علی خاں نے کیا؟
ج : ڈاکٹروں کا انتظام لیاقت علی نے کیا تھا۔ محمد علی (مستری) کا بھی لیاقت علی نے کیا تھا۔ یہ غلط ہے کہ وہ لیاقت علی سے ناراض تھے۔ لیاقت علی خاں زیارت بھی ملنے آئے تھے۔ وہاں انہوں نے دو رات نیچے والے پورشن میں قیام کیا تھا۔
س :لیاقت علی خاں کو قائداعظم کی بیماری پر تشویش تھی؟
ج : ہاں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بیمار ہے تو لاہور والے ڈاکٹر کو بھیجا تھا۔ لیاقت علی صاحب بلکہ زیارت بھی آئے تھے۔ کام کے لیے آئے تھے۔ جب ان کو پتہ پڑ گیا کہ کوئٹہ آکے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے تو انہوں نے یہاں سے ڈاکٹر محمد علی (مستری) کو بھیجا تھا۔  مطلب کہ وہ بڑا خیال کرتا تھا قائداعظم کا اور ان کو بڑی عزت دیتا تھا۔ یہ بات غلط ہے کہ قائداعظم سے ان کی بنتی نہیں تھی۔

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *