کہکشاؤں کے ٹکراؤ سے بننے والی بیل کی آنکھ

bul eyeسائنس دانوں نے کائنات میں کہکشاؤں کا ایک ایسا ٹکراؤدیکھا ہے جس سے پیدا ہونے والی روشنی بیل کی آنکھ سے مشابہت رکھتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپیکٹیکلر رِنگ اس وقت تخلیق ہوا جب ایک جیسی ہئیت اور جسامت رکھنے والی کہکشاؤں کی آپس میں ٹکر ہوئی۔ سائنسدانوں نے ابتک کہکشاؤں کے ٹکراؤ کااس سے قریبی مشاہدہ نہیں کیا۔اب تک ہم صرف ۲۰ مکمل کہکشاؤں کے بارے میں جان پائے ہیں۔
یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر قوئنٹین پارکر اور یونیورسٹی آف مانچیسٹر کے پروفیسر البرٹ زسترانے اس دریافت کے بارے میں تازہ ترین معلومات معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کہکشائیں ٹکراؤ کے بعد ’’ کیتھرئن چکر‘‘کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔پروفیسر زسترا کے مطابق’’اکثر ہم ابجیکٹ کو نام نہیں دے پاتے کیونکہ ہم اسے کسی خاص شکل میں نہیں دیکھتے۔ لیکن میرے خیال میں کیتھرائن چکر زیادہ موزوں نام ہے۔‘‘نئی دریافت شدہ کہکشاں ہماری زمین کے ۷ گنااور ’’کارٹ چکر ‘‘ کے ۴۰ گنا زیادہ قریب ہے۔پروفیسر پارکر کے مطابق’’ یہ چکرنا صرف خوبصورت ہے بلکہ ہمارے مشاہداتی مطالعے کے زیادہ قریب ہے۔اس چکر کی ماہیئت چند ہزار سورجوں اورایک فیصد ملکی وے سے بہت کم ہے۔لہٰذا یہ اب تک کی سب سے چھوٹی کہکشاں ہے۔کیتھرین کی وہیل اس وقت دریافت کیا گیا جب خاص بڑے ستاروں خصوصا جنوبی کہکشاؤں کا یوکے شمٹ ٹیلی سکوپ کے ذریعے آسٹریلیا میں مطالعہ کیا جا رہا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *