12 اکتوبر، ڈکٹیڑ پھر بچ نکلے گا؟

OLYMPUS DIGITAL CAMERAپاکستان کی تاریخ کا چوتھا مارشل لاء گزشتہ تین مارشل لاؤں سے مختلف تھا۔ مشرف نے دو بار آئین توڑا۔ پہلی بار 12 اکتوبر 1999 کو ، اور دوسری بار 3 نومبر 2007 کو، اور دونوں بار کوئی ’’اعلیٰ قومی مصلحت‘‘، کوئی ’’بالا تر قومی مفاد‘‘ پیشِ نظر نہیں تھا۔ پہلی بار اپنی (اور کارگل مس ایڈونچر میں شریکِ جرم اپنے دو تین ساتھیوں کی )نوکری بچانا مقصود تھا تو دوسری بار مزید 5 سال اپنی غیر آئینی صدارت کا تسلسل مطلوب تھا۔ اسے خطرہ تھا کہ سپریم کورٹ اس کے باوردی صدارتی انتخاب (5 اکتوبر ) کو کالعدم قرار دے دے گی۔ چنانچہ 3 نومبر کے پی سی او کے ذریعے افتخار محمدچودھری والی اعلیٰ عدلیہ پر شب خون مارا گیا۔ مزید دلچسپ بات یہ کہ گزشتہ تینوں مارشل لاؤں میں اقتدار ان جرنیلوں نے سنبھالا جو فوج کے سربراہ تھے اور چوتھی بار اقتدار پر اس شخض نے قبضہ کیا جسے وزیرِ اعظم اپنے آئینی اختیار کے تحت برطرف کر چکے تھے۔ چیف جسٹس سعیدالزمان صدیقی والی سپریم کورٹ سے 12 اکتوبر کے غیر آئینی اقدام کی توثیق کا امکان نہ پا کر مشرف نے (پہلا) پی سی او جاری کیا۔ جنابِ سعیدالزمان صدیقی اور ان کے پانچ برادر جج پی سی او کے تحت حلف سے انکار پر ریٹائرڈ قرار پائے اور چیف جسٹس ارشاد حسن خاں کی عدالت نے ظفر علی شاہ کیس میں 12 اکتوبر کے اقدام کی توثیق کر دی۔ اکتوبر 2002 کے انتخابات میں جنم لینے والی پارلیمنٹ نے بھی 17 ویں ترمیم کے ذریعے اسے انڈمنٹی دے دی جسے 2008 والی پارلیمنٹ نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا۔ 12 اکتوبر کا اقدام اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ پرائم منسٹر کی گرفتاری کے لئے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود خود پرائم منسٹر ہاؤس آئے۔ 4 جولائی 1977 کی شب بھٹو صاحب کی گرفتاری کے لئے ایک جونیئر افسر کی زیرِ قیادت فوجی دستہ آیا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس کے ٹیلیفون کاٹے جا چکے تھے۔ بھٹو صاحب نے گرین لائن پر ضیاء الحق سے رابطہ کیا، جنرل ! یہ کیا ہو رہا ہے؟۔۔۔ سر ! اب اس کے سوا ہمارے لئے کوئی آپشن نہیں رہا۔ بھٹو صاحب کا استفسار تھا کہ کیا وہ رات پرائم منسٹر ہاؤس میں گزار سکتے ہیں؟ ضیاء الحق نے جواب دیا، سر! کیوں نہیں۔ آپ آرام سے رات یہیں گزاریئے۔ صبح ناشتہ بھی یہیں کیجئے، جس کے بعد آپکو مری ریسٹ ہاؤس پہنچا دیا جائے گا۔ اسی رات پی این اے کے لیڈر بھی حفاظتی حراست میں لے لئے گئے تھے ۔ آٹھ، دس روز بعد جنرل ضیأالحق نے زیرِ حراست سیاسی قیادت سے رابطوں کاآغاز کیا۔ وہ بھٹو صاحب سے ملاقات کے لئے مری بھی گئے اور انہیں یقین دلایا کہ وہ نوے روز کے اندر انتخابات کروا کے واپس چلے جائیں گے۔ بھٹو اور ضیاء الحق میں کشیدگی کا آغاز کب اور کیسے ہوا یہ ایک الگ کہانی ہے۔
12 اکتوبر کی شام جنرل محمود کی زیرِ قیادت، سنگینوں کے سائے میں وزیرِ اعظم نواز شریف کو پرائم منسٹر ہاؤس سے لیجا کر ایک تنگ و تاریک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ رات گئے آزمائش کا ایک اور مرحلہ درپیش تھا۔ جنرل محمود تین باوردی جرنیلوں کے ساتھ آئے اور وزیرِ اعظم کے سامنے کچھ کاغذات رکھ دیے۔ ان میں مشرف کی برطرفی کا حکم واپس لینے، وزارتِ عظمیٰ سے مستعفیٰ ہونے اور وزیرِ اعظم کے صوابدیدی اختیار کے تحت پارلیمنٹ توڑنے کے ’’فیصلے‘‘ درج تھے۔ جنرل محمود نے وزیرِ اعظم سے ان پر دستخطوں کے لئے کہا۔ وہ کیرٹ اینڈ سٹِک کے تمام حربے آزما رہے تھے۔ سر! ان پر دستخط کر کے آپ بھی سکھی رہیں گے اور ہم بھی مزید زحمت سے بچ جائیں گے، براہِ کرم آپ بھی مشکل میں نہ پڑیں اور ہمیں بھی مشکل میں نہ ڈالیں۔ وزیرِ اعظم آمادہ نہ ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت ان کاغذات پر دستخط نہیں کریں گے۔ Over my dead body کے الفاظ کے ساتھ یہ میٹنگ اختتام کو پہنچی۔ جنرل محمود جاتے ہوئے کہہ گئے تھے کہ اب اپنے انجام کے لئے تیار رہیے۔ غالب نے کہا تھا، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ یہی معاملہ اس قیدِ تنہائی کا بھی تھا۔ سورج کب چڑھا، کب غروب ہوا، رات کب آئی اور صبح کب طلوع ہوئی۔ تنگ و تاریک کوٹھڑی کے مکین کوکچھ پتہ نہ چلتا۔ وہ نمازیں بھی اندازے سے ادا کرتا۔ کھانے کے لئے تھوڑا سا دروازہ کھلتا اور ایک فوجی اہلکار ٹرے رکھ کر لوٹ جاتا۔ کوئی مہینہ بھر گزر گیا تھا جب بیرونی دنیا سے اس کا پہلا رابطہ ہوا ۔ایک میجر نے دروازہ کھولا اور موبائل فون تھماتے ہوئے کہا، آپ کی کال ہے۔ دوسری طرف اباجی تھے۔ محکم ومستحکم لہجے میں ان کا کہنا تھا، نواز گھبرانا نہیں، ہم مقابلہ کریں گے۔ یا پھر ایک روز تلاوت کی مانوس سے آواز سنائی دی تو اندازہ ہوا کہ حسین نواز بھی یہاں قریب ہی نظربند ہیں۔ ادھر 12 اکتوبر کی شام جاتی عمرہ کے مکینوں پر کیا گزری؟ بیگم صاحبہ بتاتی ہیں کہ ہمارے گھر میں رات کا کھانا جلد کھا لیا جاتا ہے۔ اس روز بھی ہم معمول کے مطابق رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنی دونوں بیٹیوں مریم، اسماء، بہو سائرہ اور بڑے میاں صاحب کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی۔ ہم گھر کی بالائی منزل میں تھے۔اچانک شور سنائی دیا۔ کچھ باوردی لوگ ریلنگ پھلانگ کر ہمارے گھر میں داخل ہو رہے تھے۔ پھر کسی نے ٹھوکر مار کر کمرے کا دروازہ کھولا اور ایک باوردی میجر نے کہا کہ کوئی اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی دو فوجی بڑے میاں صاحب کو تقریباً گھسیٹتے ہوا ہمراہ لے گئے۔ ان کے گھٹنے میں تکلیف تھی اور وہ چلنے میں دقت محسوس کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی گھر کے دیگر دروازوں پر ٹھوکریں پڑنے اور زبردستی کھلوانے کی آوازیں سنائی دیں۔ ہمارے ملازمین کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔ 12 اکتوبر سے 19 نومبر تک تک ہم اپنے ہی گھر میں اپنے اپنے کمروں میں زیرِ حراست تھے۔ اس سے باہر ہمیں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے سسر اور ساس کو بھی ان کے کمروں میں قید کر دیا گیا تھا۔ ٹیلیفون کاٹ دیے گئے تھے اور بیرونی دنیا سے ہمارا رابطہ منقطع تھا۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن بھی ہٹا دیے گئے تھے۔ گھریلو ملازمین کمروں میں کھانا پہنچا دیتے تھے لیکن انہیں بھی ہم سے بات چیت کی اجاز ت نہیں تھی۔ سب کی کڑی نگرانی کی جارہی تھی۔ حسین کے ساس ، سسر اور مریم کے سسر بھی اس شام ہمیں ملنے آئے تھے۔ وہ بھی ہماری طرح نظربند کر دیے گئے۔
آخر 38 روز بعد ہمیں اس قید سے رہائی ملی۔ مشرف، نواز شریف کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیتا تھا۔ اس نے ایڈیٹروں کی ایک محفل میں بھی یہی الفاظ کہے تھے۔ اپنے بے تکلف دوستوں میں وہ کہا کرتا کہ وہ اپنے دشمن نمبر ایک کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے تباہ اور ذہنی و اعصابی طور مفلوج کر کے رکھ دے گا۔ اس کے لئے اس نے اپنے زیرِ حراست دشمن کے ساتھ اذیت رسانی کے کیا کیا طریقے اختیار کئے، یہ ایک پوری کتاب کا موضوع ہے۔ جدہ میں جلاوطنی کے دوران سرور پیلس میں مغرب کے بعد کی محفل یا عشا کے بعد کھانے کی میز پر حاضرین کے اصرار کے باوجود ، میاں صاحب اس کا کم کم ہی ذکر کرتے۔ کوئی ایک آدھ واقعہ بیان کر کے کوئی اور بات شروع کر دیتے۔ ماحول کی افسردگی کو کم کرنے کے لئے وہ کسی لطیفے کا سہارا بھی لیتے۔ڈکٹیٹر کا کہنا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے نواز شریف کی وطن واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ آئے گا تو پھر میں یہاں نہیں ہوں گا۔ و ہ اسی طرح کے الفاظ محترمہ کے لئے بھی کہتالیکن قدرت کے اپنے کھیل ہوتے ہیں۔ وہ محترمہ کے ساتھ این آر او پر مجبور ہوا۔ وہ وطن واپس آئیں تو نواز شریف کی راہ روکنا بھی ناممکن ہو گیا۔ اور پھر قدرت نے ڈکٹیٹر کے اپنے کہے کو یوں سچ کر دکھایا کہ نواز شریف اپنے وطن لوٹ آیا تھا اور ڈکٹیٹر اقتدار سے محروم ہو کر ملک چھوڑ گیا تھا۔ وہ واپس آیا تو چک شہزاد کا بنگلہ اس کے لئے قیدخانہ بن گیا۔ تین مقدمات میں ضمانت پر رہائی کے بعد وہ بیرون ملک پرواز کے لئے تیار تھا کہ غازی عبدالرشید اور ان کی والدہ محترمہ کے قتل (سانحہ لال مسجد و جامعہ حفصہ)کے الزام میں دھر لیا گیا۔ قیاس یہی ہے کہ زود یا بدیر اس مقدمے میں بھی اس کی ضمانت ہو جائے گی اور وہ باقی ماندہ زندگی بیرون ملک گزارنے کے لئے پرواز کر جائے گا۔ شاید ہمارا سیاسی و جمہوری نظام اتنا مستحکم نہیں ہوا کہ ڈکٹیٹر کو کیفرِ کردار تک پہنچا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *