کیا پاکستان کے مسائل کی جڑمذہب ہے ؟

Mustufa Kamalپاکستان ایک نیم جمہوری اور نیم مذہبی ریاست ہے جس کی بنیاد سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر مذہب کی بیساکھیوں پر رکھی گئی تھی۔برصغیر کے مسلمان رہنماؤں کے پاس ایک ملک حاصل کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے یہاں کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بنیاد بنایا جائے۔ جب مسلسل سات برس تک پاکستان کی آزادی کی تحریک مذہبی بنیاد پر چلی تو یہ بات فطری تھی کہ اس ملک کا آئین بھی مذہبی بنیادوں پر بنایا جاتا۔ اور پھر وہی ہوا۔ قرارداد مقاصد سے لے کر بھٹو کے آئین تک جتنی بھی مذہبی شقیں آئین کے اندر ڈالی گئیں انہیں جواز اس مذہبی تحریک نے فراہم کیا جس کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا۔
پاکستان کو اس وقت گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن بنیادی مسائل میں سے دو اہم ترین مسئلے ریاستی بدانتظامی اور مذہبی دہشگردی ہیں۔اس بات کا تعین ضروری ہے کہ ریاست کی اندر موجود ان دومسائل کی وجہ کیا واقعی مذہب ہے۔ جس کی طرف بعض سیکولر لکھاری اور علم دوست حضرات ہمہ وقت اشارہ کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان کے اندر مذہبی شدت پسندی کا آغاز مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہوا۔دولتانہ حکومت میں احمدیوں کے خلاف جلسے جلوس ہوں یا کہ تہتر کے آئین میں انہیں غیر مسلم قرار دیا جانا ہو، حافظ سعید کا لشکر طیبہ ہویا اس قبیل کے جہادی گروہوں کی تشکیل ہو یا طالبان کامعرض وجود میں آنا ہو، ان سب کے پیچھے پس پردہ محرکات میں مذہب سے زیادہ سیاست کا عمل دخل تھا۔اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا ایک مذہبی پہلو ہے مگر اس سے زیادہ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ مذہب نہیں ہے۔
مثلاً قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والی حالیہ درندگی کو دیکھ لیں۔ یہ ایک انتظامی نااہلی تھی جس کی وجہ سے چار سال تک معصوم بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سیاسی لوگ ہی ہیں جو اپنی حکومت بچانے کی خاطر اس اندوہناک واقعے کے وجود ہی سے انکار کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت لاہور کے مختلف ہوٹلوں پر چھاپہ مار کارروائیوں میں مصروف ہے اور جس طرح کی تصویریں سامنے آ رہی ہیں انہیں دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستانی عوام کو کھانے کے نام پر زہر کھلایا جاتا رہا ہے۔اس حرکت کے پیچھے بھی مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ پولیس اور فوڈ کنٹرولنگ اتھارٹی کی نا اہلی ہے۔
یقینی طور پر نہ تو مذہب ملاوٹ کی ترغیب دیتا ہے اور نہ ہی بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان مسائل کا موجود ہونا ریاستی مشینری کی نااہلی ہے جس کا ملبہ ریاست کے مذہبی تشخص پر ڈالا جاتا ہے۔
پاکستان کے اندر لبرل طبقے کے اکثر لوگ پاکستان کے تمام مسائل کی وجہ مذہب کوہی سمجھتے ہیں جو کہ ایک بحث طلب امر ہے۔ تمام ملکی مسائل کی ذمہ داری مذہب کے کندھوں پر ڈال کر ہم ریاستی انتظامیہ کی نااہلی اور کرپشن کے خلاف کوئی موثر بیانیہ پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔یہاں اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں آج تک جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں وہ مذہبی جماعتوں کی نہیں بلکہ نسبتاً سیکولر جماعتوں کی تھیں۔ اگر ضیاء کے دور میں مذہبی عناصر معاشرے میں سرایت کر گئے تو ان کے بعد آنے والی حکومتیں بھی اس مذہبی جنونیت کے متبادل کے طور پر کوئی منظم سوچ اور ٹھوس پالیسی مرتب نہیں کر سکیں۔ہماری تان ضیاء سے شروع ہو کر ضیاء پر آکرٹوٹتی ہے۔ مگر ہم ان کے بعد آنے والی حکومتوں کی ناکامیوں کو جمہوریت کے فوائد میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کے اندر قبائلی علاقوں میں پولیو کے خلاف مہم مذہبی بنیادوں پر چلائی گئی مگر اس کے علاوہ ملک میں ہسپتالوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار مذہب نہیں ہے 150 مذہبی تعلیم کے پس منظر میں مذہبی عنصر کار فرما ہے مگر ملک کے سرکاری سکولوں میں تعلیم کی دگرگوں حالت مذہب کی وجہ سے نہیں ہے۔اسی طرح پولیس گردی ، دیگر اداروں کی کرپشن اور عدلیہ کی طرف سے سالہا سال سے انصاف کی عدم فراہمی کو مذہب کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔
پاکستانی مذہبیت کی طرح پاکستانی سیکولرازم بھی انتہاپسند ہے۔ جس طرح مذہبی عناصر ملک کے اندر سیلاب اور زلزلوں کی وجہ ملک میں (بقول ان کے ) بڑھتی ہوئی بے پردگی اور سیکولرازم کو ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے سیکولر اصحاب علم بھی ہر خرابی کی جڑ مذہب میں ڈھونڈتے ہیں۔مارک ٹوائن نے کہا تھا کہ 'آدمی یہ سوچتا ہے کہ وہ انتہائی اہم سیاسی سوالات کے متعلق سوچتا ہے۔ مگر وہ آزادی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے ساتھ سوچتا ہے'۔ پاکستان جیسے دو انتہاؤں کے بیچ گھرے ملک میں پارٹی کے ساتھ سوچنے کے بجائے آزادی کے ساتھ سوچنے کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ ایک متوازن بیانیے کی تشکیل ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *