دائروں میں قید

*

  آپ کو مذہب سے دلچسپی ہے، آپ پابند صوم و صلوۃ ہیں، تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ چلہ بھی لگا لیتے ہیں۔ غرض آپ پوری طرح ایک ایماندار، شریف اور مذہبی آدمی ہیں۔ دوسری حیثیت میں آپ ایک سرکاری ادارے میں کسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔ آپ کے ادارے میں ایک آسامی خالی ہوتی ہے، نوکری کے لیے درخواستیں جمع کرائی جاتی ہیں، آپ امیدواران کو انٹرویو کے لیے بلا لیتے ہیں۔ آپ انٹرویو لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، دروازہ کھلتا ہے اور ایک خاتون کمرے میں داخل ہوتی ہیں۔ ٹخنوں سے اوپر تک ٹراوزر، جلد کے اندر دھنستی ہوئی شرٹ نما قمیص، دوپٹے کے نام پہ ایک پتلا سا کپڑا کندھے پہ لٹکائے۔۔۔ وہ آ کر کرسی پہ بیٹھتی ہیں، اپنا سی وی آپ کے سامنے رکھتی ہیں۔۔۔ لیکن ایک منٹ۔۔۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ سی وی دیکھنے اور انٹرویو کی مشق کرنے سے پہلے کیا آپ کا دل یہ فیصلہ نہیں دے چکا کہ آپ نے اس خاتون کو نوکری نہیں دینی؟ اب منظر تبدیل ہوتا ہے۔۔۔ آپ وہی ہیں، مذہبی شخصیت، سنت کے مطابق داڑھی سے سجا ہوا چہرہ، اپنی تہذیب اور کلچر کے مطابق سفید شلوار قمیص میں ملبوس، شلوار آپ کی بھی ٹخنوں سے اوپر لیکن نیت سنت رسول ادا کرنے کی۔ اْسی ادارے میں آپ اپنے ڈپارٹمنٹ کی سربراہی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے ادارے سے ایک اعلی افسر کی مدت ملازمت ختم ہوتی ہے اور وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اْن کی جگہ کون لے گا؟ ادارہ فیصلہ کرتا ہے کہ چاروں ڈپارٹمنٹس کے سربراہوں میں سے کسی ایک کو ترقی دے کر اْن کی جگہ دیتے ہیں، انٹرویو کی تاریخ کا اعلان ہو جاتا ہے۔ انٹرویو والے دن آپ کمپنی کے ہیڈ آفس جاتے ہیں، شیشے سے بنی بلند و بالا عمارت، سلیقے سے سجے دفاتر کسی کے حسن ذوق کا پتا دیتے ہوئے۔ انٹرویو لینے والے صاحب چند ماہ قبل امریکہ کی کسی یونیوسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کر کے واپس تشریف لائے ہیں۔ اْن کا پس منظر آپ سے بالکل مختلف۔۔۔ آپ کمرے میں داخل ہوتے ہیں، اپنا سی وی اْن کے سامنے رکھتے ہیں، انٹرویو کی مشق ہوتی ہے اور باوجود اس بات کے کہ قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پہ آپ کا کیس باقی امیدواروں سے زیادہ مضبوط تھا، آپ کو ترقی نہیں ملتی۔۔۔ کیوں؟ کیونکہ آپ کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی 'رجیکٹ' ہو چکے تھے بالکل اْس خاتون کی طرح جسے آپ نے دروازے سے داخل ہوتا دیکھ کر رجیکٹ کر چھوڑا تھا۔ مسئلہ کہاں ہے؟ حضور۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی حوالے سے اپنے اپنے تعصبات کے دائروں میں قید ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ تعصبات ارادی یا شعوری ہوتے ہیں اور اکثر غیر ارادی یا غیر شعوری ۔ کبھی یہ الفاط کے قالب میں ڈھل کر بیان کا روپ دھار لیتے ہیں اور اکثر ان کہے رویے کی صورت میں معاشرے کے لب و رخسار پہ بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ اور عرض کروں کہ غیر شعوری تعصبات، شعوری تعصبات سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہوتے ہیں۔ یہ غیر شعوری تعصبات ہیں جو مجھے میرے مذہب و مسلک کے لوگوں سے قریب کر دیتے ہیں اور دوسرے مذہب و مسلک کے لوگوں سے دور کر دیتے ہیں، یہ غیر شعوری تعصب ہی ہے کہ میں اعوان خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اعوانوں سے زیادہ جلدی دوستی کر لیتا ہوں جبکہ غیر اعوانوں سے تھوڑی دیر میں۔ یہ بھی غیر شعوری تعصبات کی ہی ایک قسم ہے کہ میں اپنے جیسی سیاسی وابستگی رکھنے والوں کے ساتھ بریشم کی طرح نرم اور مخالف سیاسی جماعت کے لیے فولاد ہے مومن والا رویہ اختیار کرتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان تعصبات کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ میرا جواب ہے کہ نہیں۔۔۔ تعصبات ختم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں لیکن تعصبات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ مان لینا چاہیئے کہ تعصب کی کوکھ سے بڑا آدمی جنم نہیں لے سکتا اس لیے ان کو محدود کرتے کرتے ختم کر دینا ہی مسئلے کا حل ہے لیکن جب تک یہ موجود ہیں اْس وقت تک یہ بات ذہن میں رہے کہ مجھے یہ حق ہے کہ میں اپنی ذاتی زندگی میں اعوانوں سے دوستی رکھوں یا غیر اعوانوں سے، مجھے یہ بھی حق ہے کہ میں پردہ کرنے والے خواتین کو پسند کروں یا پردہ نہ کرنے والی، مجھے یہ بھی حق ہے کہ میں شلوار قمیص پہننے والوں کی عزت کروں یا نہ کروں۔۔۔ لیکن مجھے یہ حق کسی نے نہیں دیا کہ میں اپنے تعصب کی بنیاد پہ میرٹ کا قتل کروں۔ کسی کو نوکری پہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ، کسی کو داخلہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ، کسی کی مدد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ، کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے یا کرنے کا فیصلہ اپنے ذاتی تعصب کی بنیاد پہ کروں۔ آخری بات، چونکہ شعوری تعصبات کے حوالے سے ہم لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں اس لیے اْن کے اظہار سے ڈرتے ہیں لیکن غیر شعوری تعصبات ہمیں بتائے بغیر اپنے حصے کی نفرتیں بکھیر رہے ہوتے ہیں اور ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں کسی دوسرے کے غیر شعوری تعصب کا شکار ہوتے ہیں یا کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *