حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملیں گے ؟

razi ud din raziمیڈیاکے لئے جوضابطہ اخلاق نافذہواہے اس پرعملدرآمدکیلئے سب سے پہلے تو اخلاقیات کاہونا ضروری ہے۔ اگر اخلاقیات نام کی کوئی چڑیا معاشرے میں موجودہوتوپھرضابطہ اخلا ق کے ضرورت ہی پیش نہیں آتی، بصورت دیگرایسے ضابطے بھی رائیگاں جاتے ہیں ۔ہمارے لئے اس ضابطہ اخلاق میں اطمینان کے بہت سے پہلو ہیں پہلا تو یہی کہ ہمارا ذمہ دار میڈیا اس ضابطہ اخلاق کے بعض نکات پر پہلے ہی سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے۔ مثال کے طورپر ضابطے میں فوج اور عدلیہ کے خلاف بات کرنے سے روکا گیا ہے۔ حضور اس حوالے سے تومیڈیاپہلے ہی محتاط ہے اورضابطے کی ان شقوں سے اسے کسی قسم کی پریشانی بھی نہیں ہو گی۔ پریشان کن اوروضاحت طلب بات تو صرف ایک ہے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق اب میڈیاپرکسی کواسلام دشمن اور غدار بھی نہیں کہا جا سکے گا۔ لیجئے صاحب اب اسلام دشمنی اور غداری کی تعریف بھی ازسرنو طے کرنا ہو گی۔ اس حوالے سے ہم تو خیر کسی ابہام کا شکار ہی نہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ معاشرہ اور معاشرے کی سمت نمائی کرنے والی قوتیں اس معاملے میں خود الجھاؤ کا شکار ہیں۔ یہ معاشرہ بے شمار فرقوں اور ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور یہ سب فرقے ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ غداری اورحب الوطنی کی تعریف بھی ہردورمیں تبدیل ہوتی ہے۔ سب کے اپنے اپنے غدار اور اپنے اپنے محب وطن ہیں۔ ضبط کے پیمانے اتنے چھلک چکے ہیں کہ جب دلیل ختم ہوجائے توہمارے پاس دوسرے کو’را‘ یا ’موساد‘ کا ایجنٹ کہنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا۔وہ جو ملک دشمن ہیں انہیں گلے سے لگانا بعض اوقات ہماری مجبوری بن جاتا ہے اور جو ہمارے فیصلوں پر اعتراض کرے، جو ہماری کرپشن کی نشاندہی کرے اصل میں وہی غدار ہوتا ہے۔ یہ سوالات ہرگز ہمارے ذہن میں نہ آتے اگریہ ضابطہ اخلا ق محترم عرفان صدیقی کی سربراہی میں تیار نہ کیا گیا ہوتا۔ اسلام دشمنی اور حب الوطنی کے حوالے سے ان کے نظریات سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا پر کسی کو ملک دشمن یا غدار کہنے کی تو ممانعت ہو گی کیا کسی کو مسلمان یا محب وطن بھی کہا جا سکے گا اور اگر ایسا ممکن ہے تو ازراہ کرم ہماری رہنمائی کیجیے کہ حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ کہاں سے دستیاب ہوں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *