ریحام خان کے سابق شوہرکے انکشافات

ik khanپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام خان کے سابق شوہر نے خاتون کے الزامات کے ایک عرصے بعد برطانوی میڈیا کو تفصیلی انٹرویو دیاہے جس میں اُنہوں نےریحام خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کئی سوالات بھی اٹھائے اور ریحام خان پر نئے الزامات لگنے کے بعد پھر تنازع کھڑاہوگیا۔

گزشتہ روز  برطانوی اخبار ”دی میل“کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر اعجاز رحمان نے کہا کہ ”ریحام رشتے میں میری کزن لگتی ہے، اس نے ہی  مجھے شادی کی پیش کش کر دی چونکہ وہ بہت خوبصورت تھی اس لیے میں نے بھی ہاں کہہ دی، اس طرح ہماری شادی ہو گئی۔“ انہوں نے کہا کہ ”ریحام خان سے علیحدگی اور اس کی عمران خان سے شادی کے بعد میں اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے خاموش رہنا چاہتا تھا لیکن ریحام خان نے ان پر تشدد اور بچوں کو خرچہ نہ دینے کے الزامات لگا کر انہیں سچ بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔“ڈاکٹر اعجاز رحمان نے انٹرویو میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ” ریحام ایک جھوٹی، چالاک اور لالچی خاتون ہے۔ اس نے برطانیہ سے پاکستان جا نے کے بعد اور بالخصوص عمران خان سے شادی کے بعد جوشرافت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے یہ سب ڈھونگ ہے ۔وہ جب یہاں یعنی لندن میں تھیں تو بعض اوقات لباس اس حدتک مختصر تھا کہ مجھ جیسے آزاد خیال شخص کو بھی شرم آتی ۔ میں اگر اس کی توجہ اس کے لباس کی طرف دلواتا تو وہ مجھ پربرہم ہو جاتی لیکن میں بچوں اور اچھی ازدواجی زندگی کے لیے برداشت کرتا تھا۔ “

ڈاکٹر اعجاز رحمان نے کہا کہ ”پاکستان جیسے ملک میں اگر تین بچوں کی ماں طلاق لے لے تو اچھا نہیں سمجھا جاتا، اسی وجہ سے ریحام خان نے مجھ پر تشدد اور بچوں کو خرچہ نہ دینے کے الزامات لگائے تاکہ وہ اس معاشرے میں لوگوں کی ہمدردی حاصل کر سکے اور وہ اس میں کامیاب رہی۔“ریحام خان کے بچوں کا خرچہ نہ دینے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اعجاز رحمان نے کہا کہ ”میں برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس میں ملازم ہوںا ورمیری ماہانہ تنخواہ 6ہزار پاﺅنڈ ہے۔ اس کا 25فیصد حصہ ریحام خان سے علیحدگی کے بعد سے چائلڈ سپورٹ ایجنسی کاٹتی رہی اور یہ رقم بچوں کے خرچے کے لیے ریحام کو ادا کی جاتی تھی۔ ریحام کی پاکستان منتقلی کے بعد بھی ایک برس بعدیعنی 2014ءتک چائلڈ سپورٹ ایجنسی میری تنخواہ سے کٹوتی کرتی رہی۔“

انہوں نے کہا کہ ”ریحام نے دھوکے اور فراڈ کے ذریعے کنگال کر دیاہے۔ 2003ءمیں ریحام خان نے مجھ سے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور 2004ءمیں وہ بچوں کو لے کر پاکستان چلی گئی۔ پھر اس وعدے پر برطانیہ واپس آ گئی کہ میں اس کے لیے ایک بڑا reham khanگھر خریدوں گا۔ میں نے وعدے کے مطابق ساڑھے 4 لاکھ پاﺅنڈ(تقریباً7کروڑ21لاکھ روپے) میں نیا گھر خرید لیا۔ اس کے باوجود 2005ءمیں ریحام نے طلاق کا دعویٰ دائرکر دیا اور وہ گھر بھی ہتھیا لیا، اس کا نئے گھر کا مطالبہ اور واپس آنے کا مقصد ہی شاید مجھ کو لوٹنا تھا۔
ڈاکٹر اعجاز رحمان نے ریحام خان کی عادات کے متعلق ”دی میل“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ جھوٹ بولنے کی عادی ہیں اور ان کی یہ عادت بہت پرانی ہے، وہ جب بھی کوئی نئی چیز خرید کر لاتی تو ہمیشہ اس کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر بتاتی تھی۔“انہوں نے کہا کہ آج ریحام پاکستانیت کا پرچار کرتے نہیں تھکتی لیکن جب یہاں تھی تو اسے پاکستان بالکل بھی پسند نہیں تھا، وہ کہتی تھی کہ وہاں ”رنگ کالا“ ہو جاتا ہے۔“
اُنہوں نے بتایاکہ برطانیہ میں جہاں ہم رہتے تھے وہاں ایشیائی لوگوں کی پارٹیاں ہوتی تھیں جہاں مرد اور خواتین الگ الگ ہوتے تھے لیکن ریحام خان اس پابندی کااحترام نہیں کرتی تھیں اور الزام لگایاکہ شادی کے بعد میری فیملی نے اسے ایک لاکھ پاﺅنڈ کے زیورات دیئے جو طلاق کے بعد وہ اپنے ساتھ ہی لے گئی۔

ریحام خان کے سابق شوہرکے انکشافات” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *